مظہر کلیم: اک دور تھا جو ختم ہوا، اک سحر تھا جو ٹوٹ گیا


شاید چوتھی پانچویں جماعت میں سیاروں ستاروں کی سیر کرنے والے چلوسک ملوسک، جادوگروں اور جنوں پریوں سے ٹکر لیتے عمرو عیار، چھن چھنگلو اور اس کے مرشد بندر بابا اور ٹارزن سے ہمارا پالا پڑا تھا۔ ان کتابوں کو پڑھنا بھی آسان تھا اور پلاٹ بھی دلچسپ ہوتے تھے۔ لیکن جو کردار ہمیں سب سے زیادہ پسند آئے وہ آنگلو بانگلو کے تھے۔

آنگلو بانگلو جڑواں بھائی تھے۔ ”آنگلو کا سر بے حد چھوٹا اور جسم بے حد موٹا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا جیسے ایک بہت بڑے تربوز کر کسی نے خوبانی رکھ دی ہو۔ اور بانگلو کا سر بہت بڑا اور جسم بے حد پتلا دبلا اور چھوٹا سا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے کیلے کے اوپر تربوز رکھ دیا ہو۔ “

ان کے ملک کا بادشاہ ہنسنے ہنسانے کا شوقین تھا۔ اس نے آنگلو بانگلو کی حماقتوں سے لطف اٹھانے کے لئے دربار میں جگہ دے کر رہنے کے لئے محل دیا ہوا تھا۔ ان دونوں کی واحد آرزو یہ تھی کہ ان کی شادی ہو جائے لیکن ان کی شکل صورت کی وجہ سے کوئی لڑکی تیار نہ ہوتی تھی۔ آنگلو بانگلو کی کہانی کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے۔

ایک دن بادشاہ نے نوٹ کیا کہ آنگلو اور بانگلو بہت سنجیدہ ہیں۔ بادشاہ نے پوچھا ”آنگلو بانگلو کیا بات ہے، آج تم دونوں سنجیدہ بیٹھے ہو“۔
”ہم سوچ رہے ہیں حضور اور ہم نے سنا ہے کہ سوچنے کے لئے سنجیدہ بننا پڑتا ہے۔ اس لئے ہم سنجیدہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں“ دونوں نے بیک وقت جواب دیا۔
”اس کا مطلب ہے کہ تم واقعی سنجیدہ نہیں ہو بلکہ سنجیدہ بننے کی کوشش کر رہے ہو“۔

”جی ہاں حضور۔ ویسے ہمیں سنجیدہ بننے کے لئے بڑی تکلیف اٹھانی پڑ رہی ہے“۔ آنگلو نے دانت نکالتے ہوئے کہا۔
”کیسی تکلیف“۔ وزیراعظم نے پوچھا۔

”جی میرے دانت باہر نکلے ہوئے ہیں اور سنجیدہ بننے کے لئے انہیں چھپانا ضروری ہے۔ چنانچہ جتنی میں انہیں چھپانے کی کوشش کرتا ہوں اتنے ہی باہر نکل آتے ہیں“۔ آنگلو نے دانت چھپانے کی کوشش میں ہونٹ گول دائرے کی صورت میں بنائے اور اس کی شکل اتنی عجیب و غریب بن گئی کہ سب کی بے اختیار ہنسی چھوٹ گئی۔

”اس کے تو دانت باہر ہیں حضور، اور میرے کان باہر ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ انہیں کس طرح چھپاؤں تاکہ سنجیدہ بنوں“۔ بانگلو نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
”بانگلو کان تو سب کے باہر ہوتے ہیں“۔ بادشاہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
”نہیں حضور مرغیوں کے کان اندر ہوتے ہیں اس لئے وہ ہمیشہ سنجیدہ ہی رہتی ہیں۔ آپ نے انہیں کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ہو گا“۔ بانگلو نے فوراً دلیل دی۔

بس ایسی ہی لاجواب دانش سے یہ کام لیتے تھے۔ اسی طرح سوچ کر یہ بظاہر کوئی نہایت احمقانہ کام کر دیتے تھے مگر قسمت کے ایسے دھنی تھے کہ وہ کام ان کا بیڑہ پار کر دیتا تھا۔ یہ کام وہ شادی کروانے کے لئے کرتے تھے۔ پرستان کی شہزادی، ناگ شہزادی، سمندر کی شہزادی وغیرہ سے شادی کرنے کے لئے انہوں نے وہ چیلنج قبول کر کے پورے کیے جو کوئی انسان نہیں کر سکتا تھا۔ مگر شرط پوری کرنے کے بعد شہزادی ان کو اپنے سے خوبصورت شہزادی کا پتہ بتا کر اپنی جان چھڑا لیتی تھی اور یہ لنڈورے ہی رہ جاتے تھے۔

ہماری رائے میں بچوں کی اس سے بہترین کوئی دوسری کہانی اردو میں نہیں لکھی گئی۔ زبان بھی اچھی ہے، خیال بھی اور مزاح بھی۔ لیکن مظہر کلیم نے زیادہ نام عمران سیریز لکھ کر کمایا۔ ان کی عمران سیریز میں چلوسک ملوسک کا سائنس فکشن، چھن چھنگلو کی روحانیت اور جادوگری اور ٹارزن کی مار دھاڑ جمع کر کے انہیں اس طرح گھولا گیا تھا کہ ابن صفی کے عمران سے بالکل مختلف عمران سامنے آیا تھا۔

مظہر کلیم کی عمران سیریز کے ہر ناول کا کوئی ساٹھ ستر فیصد پلاٹ ایک جیسا ہوتا تھا۔ عمران جو دنیا کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا اور ذہن سائنسدان تھا۔ اس کے علاوہ وہ مار دھاڑ میں بھی سب سے بڑھ کر تھا۔ اس کے ساتھی دماغ استعمال کرنے کی بجائے لات گھونسہ استعمال کرتے تھے۔ دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم کا باس جو معمولی تعریف پر بے انتہا خوش ہو جاتا تھا اور معمولی سی بات پر غصے میں آ کر ہوش کھو بیٹھتا تھا۔ وہ اتنی شراب پیتا تھا جتنا بندہ بشر پیٹ کی محدود گنجائش کی وجہ سے پانی بھی نہیں پی سکتا۔ اس کے علاوہ اس باس کی انگریزی بھی پریشان کن ہوتی تھی اور جس آدمی پر اسے غصہ چڑھتا تھا اسے ”یو نان سینس“ کہہ کر ڈانٹ دیتا تھا۔ معتوب کوئی مزید غلطی کرتا تھا تو باس انگریزی کی مزید ٹانگ توڑ کر اسے ڈرا دیتا تھا کہ بچہ اگلا نمبر تیرا ہے۔ ان سب حماقتوں کے باوجود وہ دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم بنانے میں کامیاب ہو جاتا تھا۔ عمران اور اس کے ساتھی صرف قسمت کے زور پر اس کے مشن ناکام بناتے تھے۔

اس عمران سیریز میں خاص بات اس کے سائنسی ہتھیار تھے۔ گلی محلے کے بدمعاش کے پاس بھی ایسے کیپسول یا میزائل فائر کرنے والی گنز ہوتی تھیں جو جس گھر کے لان میں فائر کی جاتی تھیں، صرف اسی کے مکینوں کو بے ہوش کرتی تھیں اور گلی محلہ محفوظ رہتا تھا۔ ان ناولوں میں مقامی لوگ نہایت شریف تھے اس لئے بدمعاشی کرنے تمام غنڈے ولایت سے آتے تھے جو یہاں آتے ہی ہوٹل کھول کر اسے اپنا ہیڈکوارٹر بنا لیتے تھے۔ مختصر یہ کہ آنگلو بانگلو، چھن چھنگلو اور چلوسک ملوسک کے تمام عناصر یکجا کر کے عمران سیریز بنائی گئی تھی۔

لیکن اس کے باوجود ان کے ناول پڑھے جاتے تھے۔ خود ہم بھی جب اردو فکشن کی بیشتر اہم کتابیں پڑھنے کے بعد انگریزی کی دنیا میں چلے گئے تو مظہر کلیم کو پھر بھی پڑھتے رہے۔ ہمارا پسندیدہ تھرلر رائٹر رابرٹ لڈلم ہے۔ پیچیدہ پلاٹ لیکن صفحے کے بعد صفحہ پلٹنے پر مجبور کر دینے والا ویسا ہنرمند کوئی دوسرا نہیں پایا۔ لیکن اس کے باوجود جب بھی دوران سفر کسی ہلکی پھلکی کتاب کی ضرورت پڑی تو مظہر کلیم کی کتاب اٹھاتے ہوئے سوچنا نہیں پڑا۔

پلاٹ اور ندرت خیال میں مظہر کلیم کی عمران سیریز کا ابن صفی سے کوئی تقابل ہی نہیں تھا۔ لیکن یہ بات ماننی پڑتی ہے کہ ابن صفی کی وفات کے بعد مظہر کلیم واحد رائٹر تھے جنہوں نے پاپولر فکشن تخلیق کیا اور ایک بڑی تعداد میں نوجوانوں کا کتاب سے رشتہ جوڑا۔ مظہر کلیم کے بعد اردو دنیا میں بچوں اور نوجوانوں کا کوئی دوسرا مقبول مصنف دکھائی نہیں دیتا۔ ایک دور تھا جو ختم ہوا۔ اک سحر تھا جو ٹوٹ گیا۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar