کرائے پر گلے لگانے کی سروس اور کنگلے جاپانی
ابھی ایک رپورٹ نظروں سے گزری جس کے مطابق جاپان میں اکیلے رہنے والے لوگوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ وہ اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں، اکیلے کھانا پسند کرتے ہیں، یہاں تک کہ خود اپنے آپ سے شادی کرنا بھی پسند کرتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ انسان اکیلے رہنے پر کب سے آمادہ ہو گیا؟ ہم تو سنتے تھے کہ انسان ایک سوشل جانور ہے اور سماج خاندان یا رشتے داروں وغیرہ سے ہی ہوتا ہے۔
سوشل سے دماغ میں فوراً سوشل میڈیا کا لفظ اتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایشائی ممالک میں جاپان میں سماجی ذرائع ابلاغ کا استعمال دوسرے ملکوں کی نسبت کہیں زیادہ ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جس ملک میں لوگ اکیلے رہنے کو کسی کے ساتھ رہنے پر فوقیت دیتے ہوں وہاں سماجی ذرائع ابلاغ کا استعمال اتنا زیادہ کیوں ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں؛ ایک تو یہ کہ لوگ اپنے آپ کو سکرین کے پیچھے زیادہ محفوظ محسوس کرتے ہیں، دوسرا یہ کے شاید ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ نہا دھو کر اچھے کپڑے پہن کر کسی سواری میں بیٹھ کر کسی سے ملنے جائیں ۔ چلو یہ بات بھی سمجھ میں اتی ہے، اس سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوتی ہے، لیکن وہ کیا مائنڈ سیٹ ہے جس کے تحت لوگ اپنے آپ سے شادی کر رہے ہیں؟
اس کی وجہ نفسیاتی بھی ہو سکتی ہیں اور شاید یہ کہ لوگ کسی بھی تعلق اور رشتے میں بندھنے سے اجتناب کرنے لگے ہیں لیکن پھر بھی رشتہ ازدواج سے منسلک ہونا چاہتے ہیں چاہے وہ اپنے آپ سے ہی کیوں نا ہو ۔ چلیے مان لیا لیکن دوسری طرف یہی لوگ سوشل میڈیا پر شہزادے ہیری کی میگھن مارکل سے شادی کی تصاویر اور ویڈیو شیئر کر کر کے اور ہارٹ والا ایموجی دے دے کر نہیں تھکتے۔ اس دوہرے رویے سے ثابت یہ ہوتا ہے کہ انسان فطری طور پر اکیلا رہنا پسند نہیں کرتا لیکن بہت سی نفسیاتی اور معاشرتی وجوہات کی بنا پر انسان کا انسان سے تعلق بنانا مشکل ہو چکا ہے ۔ ان میں سب سے بڑی وجہ خوف ہے ۔اس سلسلے میں خوف بھی دو تین طرح کے ہو سکتے ہیں۔ ایک ذمہ داریوں کا خوف ، ایک پرائیویسی میں خلل کا خوف اور ایک اس بات کا خوف کہ اگر کوئی تعلق بنا لیا اور وہ انسان چھوڑ کر چلا گیا تو کیا کریں گے؟ دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ کسی کے ساتھ تعلق بنانے کے لیے آپکی جیب بھری ہوئی ہونی چاہیے، رہنے کو گھر ہو وغیرہ وغیرہ۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ آج کل کوئی بھی عمل چھپنا یا چھپانا مشکل ہو گیا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا میں ہونے والے عجیب و غریب واقعات کی خبر ہم تک فوراً پہنچ جاتی ہے ۔ جیسا کہ حال ہی میں ایک رپورٹ تھی جو کڈل سروس(Cuddle Service) کے بارے میں تھی ۔ اب کڈل سروس کیا ہے اسے یوں سمجھ لیجیے کہ ایک انسان جو اپنے اپکو اکیلا محسوس کر رہا ہو وہ وقتی طور پر کسی کڈل سروس پروائیڈر کو پیسے دے کر کہیں بھی آرام دہ جگہ پر بلاتا ہے اور کچھ دیر اس کے ساتھ گلے ملتا ہے جس سے اسے دماغی اور جسمانی راحت محسوس ہوتی ہے ۔ یہ رپورٹ دیکھ کر مجھے تو سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا کہ ہنسوں کہ رو دوں۔ میں بس یہ سمجھنا چاہ رہی ہوں کہ وہ کونسے عوامل ہیں کہ جن کی وجہ سے انسان اس ذہنی پستی کی طرف جا رہا ہے؟ ایسا لگ رہا ہے کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے اس دور میں قربت بھی آرٹیفیشل بلکہ مارکٹ ایبل ہو چکی ہے۔ یعنی موجودہ دور کا انسان در حقیقت کسی دوسرے انسان کے ساتھ رابطہ تو چاہتا ہے لیکن لمبے عرصے کے لیے نہیں اور اپنی مرضی کی شرائط پر ۔ وہ آزاد رہنا چاہتا ہے بندھنا نہیں چاہتا۔ شاید وقت ، جگہ اور حالات نے انسان کی نفسیات پر گہرا اثر ڈالا ہے اور اس اثر کی وجہ سے انسان کو عجیب باتیں بھی صحیح لگنا شروع ہو گئی ہیں ۔
میں جس ملک میں رہتی ہوں وہاں تو اب اس بات پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ ماں اپنے بچے کا لنگوٹ اپنی مرضی سے بدلے یا بچے کی مرضی سے کیونکہ جسم بچے کا ہے اور جس ماں نے اپنے رحم میں نو مہینے رکھا وہ شاید اسکا اپنا تھا ہی نہیں یا شاید اتنے مہینے ماں کو اپنے ہی جسم پر کوئی حق نہیں تھا۔ یعنی کہ اب یہ نوبت آ گئی ہے کہ دنیا کا واحد رشتہ جو ہر طرح کی ملاوٹ سے پاک ہے اسے بھی متاثر کیاجائے ۔ ان تمام مندرجہ بالا عوامل کی طرف نشاندہی کرانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اس بات پر غور کریں بلکہ یقین کر لیں کہ انسان کی خوشی رشتے بنانے میں ، دوستی میں اور رابطوں میں پوشیدہ ہے ۔ اور اگر اس کے اندر سماج کے ساتھ رابطے کی خواہش ختم ہوتی جا رہی ہے تو اسے کسی نفسیاتی امراض کے ڈاکٹر سے مل کر اپنا مسئلہ ڈسکس کرنا چاہیے۔
اگر کوئی بھی انسان کرائے کا رابطہ خرید کے تھوڑی دیر کی خوشی تلاش کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کا نتیجہ وہ ڈیپریشن ہی ہو گا جو آج کل کسی وبا کی طرح پھیل رہا ہے ۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ سب ابھی پاکستان میں اتنا عام نہیں ہے۔ میری نظر میں اس کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان میں اب بھی لوگ ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں، ایک دوسرے سے ملاقات کو جاتے ہیں، دوستیاں کرتے ہیں اور رشتے داریاں بھی ۔ ہم پاکستانی جب بیرونِ ملک ہجرت کر کے جاتے ہیں تو سب سے پہلا احساس اس رابطے کی کمی کا ہوتا ہے ۔ کوئی دوست مل بھی جائے تو وہ کچھ مہینوں بعد کسی دوسرے شہر شفٹ ہو جاتا ہے اور پھر ملنا ملانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ وٹس ایپ اور فیس بک کے ذریعے رابطہ تو رہتا ہے لیکن وہ بات نہیں رہتی ۔ اس لیے انسان کو رابطوں سے بھاگنا نہیں چاہیے کیونکہ اس کو اس طرح بنایا ہی نہیں گیا کہ وہ سماج سے کٹ کر زندگی گزارے۔ فیس بک وٹس ایپ کا استعمال ضرور کریں لیکن انکو حقیقی ملاقات کا نعم البدل نہ بنائیے ۔


