حمل اور ذیابیطس


حمل کے دوران ذیابیطس کے کنٹرول کے ہدف کیا ہیں؟

حمل کے دوران شوگر کا کنٹرول ٹائپ ون یا ٹائپ ٹو ذیابیطس سے مختلف ہے۔ ان مریضاؤں‌ میں‌ شوگر کو مزید سخت دائرے میں‌ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ماں‌ اور اس کے بچے کو ذیابیطس کی پیچیدگیوں‌ سے بچایا جاسکے۔ ان مریضاؤں‌ میں‌ ہیموگلوبن اے ون سی 6فیصد سے کم ہونی چاہئیے، صبح نہار منہ خون میں‌ شوگر 60 سے 90 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر ہونی چاہئیے، کھانے کے ایک گھنٹے کے بعد 130 ملی گرام سے کم اور دو گھنٹے کے بعد 120 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہونی چاہئیے۔ ان مریضاؤں میں‌ خون میں‌ شوگر 60 سے کم نہیں‌ ہوجانی چاہئیے۔

خون میں‌ شوگر کم ہوجانے کی چند علامتیں مندرجہ ذیل ہیں۔

چڑچڑاہٹ محسوس کرنا

اچانک بھوک لگنا

سر میں‌ درد ہونا

پسینہ آنا

کپکپی طاری ہونا

دل زور زور سے دھڑکنا

چکر آنا

تھکن طاری ہونا

خون میں‌ شوگر کی کمی کا علاج کیسے کریں؟

اگر شوگر 60 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہوجائے تو اس کا علاج 15 گرام کارب سے کیا جاتا ہے۔ 15 گرام نشاستے کی چند مثالیں‌ یہ ہیں۔ چار اونس اورنج جوس، چار اونس کوک یا چکنائی نکالے ہوئے دودھ یا چار گلوکوز کی گولیاں۔ اس کے 15 منٹ کے بعد پھر سے شوگر چیک کریں‌ کہ بہتر ہوئی یا نہیں۔ اس بات پر بھی غور کرنا ضروری ہے کہ خون میں‌ شوگر کیسے کم ہوگئی۔ کیا دوا ضرورت سے زیادہ لی تھی یا کھانا نہیں‌ کھایا۔ جو بھی وجہ ہو، اس کو دور کرنے سے آئندہ اس پیچیدگی سے بچت ہوگی۔

ذیابیطس کا علاج

غذا اور ورزش ذیابیطس کے علاج کی اہم بنیادیں‌ ہیں۔ حمل انسانی جسم اور دماغ پر گہرے اثر ڈالتا ہے اور اس کے دوران ماں‌ اور بچے دونوں‌ کی صحت اور نشونما پر توجہ کی اہم ضروت ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں‌ بچے کی پیدائش کے دوران ماؤں کی موت کی شرح دیگر ممالک سے زیادہ ہے اور ان نوزائیدہ بچوں میں‌ موت کی شرح‌ بھی دیگر ممالک سے زیادہ ہے۔ مسلمان خواتین میں‌ بچے کی پیدائش کے دوران موت کی شرح‌ غیر مسلم خواتین سے زیادہ ہے اور ان کے بچوں‌ میں‌ موت کی شرح‌ بھی غیر مسلم خواتین کے بچوں‌ سے زیادہ ہے۔ میرے اپنے اندازے کے مطابق ایسا ان کے لائف اسٹائل کی وجہ سے ہے جس میں‌ موسم اور صحت کی پروا کیے بغیر جسموں‌ کو چھپانے پر ضرورت سے زیادہ دھیان ہے اور کھیل کود، چہل قدمی اور تیراکی وغیرہ کی طرح‌ کی سرگرمیوں‌ کی باقاعدہ حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ورزش خواتین کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ چلنا پھرنا، بھاگنا دوڑنا، سائکل چلانا یا اسپورٹس میں‌ حصہ لینا تمام بچوں کی تعلیم و تربیت کا اہم حصہ ہے۔ میرے بیٹے کو باسکٹ بال پسند ہے اور بیٹی کو باکسنگ۔ ہماری خوش قسمتی ہے کہ کونن نے نارمن میں‌ باکسنگ سینٹر کھولا ہے جہاں‌ وہ بچوں‌ کی تربیت کرتا ہے۔ کونن دنیا میں‌ کک باکسنگ کا چار مرتبہ چیمپین ہے۔ بچے جو بھی کھیل پسند کریں‌، انہی میں‌ جنسی تعصب سے بلند ہوکر ان کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

حمل سے پہلے ہی وزن دائرے میں‌ رکھنا اور باقاعدہ ورزش کرنا تمام خواتین کی زندگی میں‌ اہم ہے اور ان کو زیادہ تر خواتین میں حمل کے دوران بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ اگر کچھ ایسا مسئلہ ہو جس میں‌ بستر میں‌‌ آرام کا مشورہ دیا جائے تو ان مریضاؤں کے لیے ورزش مناسب نہیں‌ ہوگی۔

حمل کے دوران ذیابیطس کا دواؤں سے علاج

اگر باقاعدہ ورزش اور غذا سے ذیابیطس کنٹرول میں‌ نہ آئے تو دوا سے علاج کیا جاتا ہے۔ حمل کے دوران ہمارے کلینک کے مریض گلوکوفاج، گلابیورائڈ اور انسولین لیتے ہیں۔ میں‌ ان مریضاؤں‌ کو مہینے میں‌ ایک مرتبہ دیکھتی ہوں‌ جب تک ان کی ڈیلیوری ہوجائے۔ کئی اسٹڈیز سے یہ سامنے آیا کہ انسولین پمپ استعمال کرنے سے حمل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس کا بہتر علاج ممکن ہے۔ اس کے علاوہ نئے سی جی ایم آلے جن سے مستقل بلڈ شوگر چیک کرنا ممکن ہوا ہے، یہ بھی ذیابیطس کے بہتر کنٹرول میں‌ مدد گار ہیں۔ کس مریضہ کو کون سی دوا لینی ہے، کتنی لینی ہے اور کتنی بار لینی ہے اور کتنی بار شوگر چیک کرنی ہے، یہ ان کی انفرادی صورت حال پر مبنی ہے۔

امید ہے کہ اس مضمون سے قارئین کی معلومات میں‌ اضافہ ہوا ہوگا۔ انفرادی علاج کے لیے اپنے فیملی ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2