حمل اور ذیابیطس
ایک پڑھی لکھی خاتون جو پرہیز علاج سے بہتر ہے کے مقولے پر یقین رکھتی تھیں، اپنے پہلے بچے کے حمل کے دوران لیڈی ڈاکٹر کو دکھانے گئیں۔ انتظار گاہ میں اور بھی کئی خواتین براجمان تھیں جو ایک دوسرے کے ساتھ گفت و شنید میں مصروف تھیں۔ ان میں سے ایک خاتون نے ان سے پوچھا کہ انہیں کیا تکلیف ہے؟ ان کو کسی اجنبی کا اپنی زاتی زندگی میں ایک اجنبی کا ٹانگ اڑانا ٹھیک تو نہیں لگا لیکن پھر بھی انہوں نے جواب دیا کہ مجھے کوئی تکلیف نہیں ہے، میں بس چیک اپ کروانے آئی ہوں۔ یہ سن کر سوال کرنے والی خاتون کچھ حیران سی ہو گئیں کہ اگر کوئی تکلیف نہیں تو ڈاکٹر کو دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ کچھ سوالات بھی ایسے ہوتے ہیں جو دوسرے لوگوں کے گرد موجود دائرے سے گذر جاتے ہیں۔
یہ محض ایک انفرادی واقعہ نہیں۔ میں نے پاکستان میں اپنی میڈیکل ٹریننگ کے دوران کافی سارے ایسے کیسز دیکھے جن میں مریضاؤں کو تبھی ہسپتال لایا گیا جب وہ موت کے منہ میں جا پہنچی تھیں۔ ایک نوجوان لڑکی کو کسی گاؤں سے لائے تھے جس کا ڈیلیوری کے دوران دو دن سے بچہ پھنسا ہوا تھا۔ اس کی ہسپتال میں جب ڈیلیوری ہوگئی اور وہ مرا ہوا پیدا ہوا تو اس کے ساتھ جو دو خواتین آئی تھیں وہ اس کو اپنے ساتھ چلا کر لے جاتے ہوئے یہ کہتے ہوئے سنی گئیں کہ چلو آج اس سے کوئی کام نہیں کرائیں گے۔
چونکہ اوکلاہوما میں مرزا نام بہت عام نہیں ہے، کئی مریضوں نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ کیا ثانیہ مرزا میری کزن ہیں؟ میں نے ان سے یہی کہا کہ دنیا میں بہت سے لوگوں کا نام مرزا ہے اور ہم سب آپس میں رشتہ دار نہیں ہیں۔ حال ہی میں یہ خبر پڑھی کہ ثانیہ مرزا کو حمل کے دوران ورزش کرتے دیکھ کر لوگ حیران پریشان ہوگئے کہ حمل کے دوران بھی ورزش کی جاسکتی ہے۔ آج کے مضمون میں اپنی کتاب کے پہلے ایڈیشن "وہ سب کچھ جو آپ کو ذیابیطس کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے” کے باب ہفتم سے اقتباسات لکھوں گی۔ یہ چیپٹر حمل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس سے متعلق ہے۔
میں نے اپنی امی اور ساس میں یہ بات دیکھی کہ وہ سب لوگوں کا خیال رکھتی ہیں سوائے اپنے۔ حالانکہ اگر آپ کی اپنی صحت ٹھیک نہیں ہوگی اور آپ خود اپنی زندگی میں خوش نہیں ہوں گی تو اپنی فیملی کا بھی اچھی طرح سے خیال نہیں رکھ پائیں گی۔ ماں کی صحت ٹھیک نہ ہو تو اس کے بچوں، پورے خاندان اور پھر معاشرے پر اس کا منفی اثر مرتب ہوتا ہے۔ آج کے مضمون میں ہم سیکھیں گے کہ حمل میں ہوجانے والی ذیابیطس کیا ہے اور اس سے کیا پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں؟ ہم یہ بھی سیکھیں گے کہ حمل میں ہوجانے والی ذیابیطس کو کیسے تشخیص کرتے ہیں اور یہ بھی کہ اس کا علاج کیسے ہوتا ہے؟
حمل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس ان مریضوں میں حمل سے پہلے موجود نہیں ہوتی، یہ ذیابیطس حمل کے دوران ہی پیدا ہوجاتی ہے اور اکثر بچے پیدا ہوجانے کے بعد ٹھیک ہوجاتی ہے۔ کچھ مریضائیں جو پہلے سے ذیابیطس ہونے کے خطرے میں ہوں، ان میں یہ ذیابیطس مستقل بھی ہوسکتی ہے۔ حمل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس کا حمل کے 24 سے لے کر 28 ہفتے کے دوران ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ اگر آپ کی عمر 25 سال سے زیادہ ہے، آپ کی فیملی میں ذیابیطس کی ہسٹری موجود ہے یا آپ کا پہلے سے ایک بچہ ہوچکا ہے جس کا وزن 9 پونڈ سے زیادہ تھا تو آپ کو حمل کے دوران ہوجانے والی ذیابیطس کا خطرہ ہے۔ ویسے تو تمام خواتین کو 24 سے 28 ہفتے کے دوران ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے گلوکوز برداشت کرنے والے ٹیسٹ سے چیک کیا جاتا ہے لیکن اگر کسی مریض میں اوپر بیان کیے گئے خطرے کے اشارے موجود ہوں تو ان کو حمل کے شروع میں ہی چیک اپ کروالینا چاہئیے۔ ہم ریسرچ سے جانتے ہیں کہ جن خواتین میں حمل کے دوران ذیابیطس ہوجاتی ہے ان میں اگلے دس سال میں ذیابیطس ہوجانے کی شرح 60 فیصد ہے۔ اس لیے یہ ایک سنہری موقع ہے جس میں زندگی گذارنے کے طور طریقوں میں مناسب تبدیلیاں لا کر مستقبل میں اس سنجیدہ بیماری سے خود کو بچایا جاسکتا ہے۔
حمل کے دوران بچے اور ماں کو ہونے والی پیچیدگیاں مندرجہ زیل ہیں۔
بچے میں پیدائش کے بعد شوگر انتہائی کم ہوجانا
بچے میں پیدائشی جسمانی خرابیاں
بچے کا وزن زیادہ ہوجانا
ماں میں بچے کی پیدائش کے لیے بڑے آپریشن کی ضرورت
ماں میں مستقبل میں ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جانا
ماں میں پری ایکلیمپسیا کا خطرہ بڑھ جانا
حمل کے دوران کتنا وزن بڑھنا مناسب ہے؟
کافی سارے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ موٹا ہونا صحت مند ہونے کی نشانی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اگر کسی خاتون کا وزن حمل سے پہلے مناسب دائرے میں ہو تو وہ حمل کے دوران 25 سے 35 پونڈ تک بڑھنا ٹھیک ہے۔ اگر کسی کا وزن کم ہو تو 28 سے 40 پونڈ تک بڑھنا مناسب ہوگا۔ ایسی خواتین جن کا وزن زیادہ ہو تو ان میں 15 سے 25 پونڈ سے زیادہ وزن نہیں بڑھنا چاہئیے۔ جن خواتین کو مٹاپے کی بیماری ہوتو ان میں 15 پونڈ سے زیادہ اضافہ مناسب نہیں ہوگا۔
باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے


