میرے بچپن کی یادوں کے قاتل سنو
لیکن ایک ایسا شہر جہاں ٹارگٹ کلنگ کا راج رہا ہو وہاں ہم سب بھی سہہ سہہ کر ویسے ہی بن گئے، ہاں ہم ٹارگٹ کلر بن گئے جنھوں نے چن چن کر کسی کے بچپن کی یادوں کا قتل کیا، تو کسی نے بچوں سے ان کے سایہ دار پارک چھینے، کسی نے گھر کی عورت جس کا محور وہ محلے کا پارک ہوتا تھا جہاں وہ چند لمحوں کے لئے جاکر دن بھر کی تھکان کو گہری سانس لے کر زائل کرتی تھی ہم نے اس عورت سے وہ سکون کا ایک لمحہ بھی چھین لیا، ہم نے محنت کش سے گہری نیند چھینی، ہم نے درختوں کی اوٹ میں چھپنے والے مسکراتے چہروں سے مسکان چھینی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم اتنے ظالم ہوگئے کہ جن پرندوں کی چہچہاہٹ سے درختوں پر محفلیں جما کرتی تھیں ان کے گھر ان سے چھین کر ہم انھیں فٹ پاتھ پر لے آئے ویسے ہی جیسے کسی گھر کا سربراہ نہ ر ہے تو اس کیبیوہ اور یتیموں کو ظالم سڑک پر لے آتے ہیں۔ تب ہی تو ہم نے سڑک پر مٹی کے بڑے بڑے پیالے رکھے ان میں دانہ پانی ڈالا اور پرندوں کو کہا کہ یہ ہے اب تمہارا ٹھکانہ بیچ سڑک پر، خبردار جو اب تم نے گھونسلہ بنانے یا کسی ٹہنی پر بیٹھ کر گیت گانے کی جرات کی۔
جب جب اس شہر میں گرمی پڑتی ہیں اور خبر کے لئے محکمہ موسمیات کی جانب سفر ہوتا ہے تو کئی ایسی سڑکیں راستے میں استقبال کرتی ہیں جہاں سے پیدل چلنے والے بنا کسی سائے کے گزر رہے ہوتے ہیں اور بار بار التجائی نظروں سے آسمان کی جانب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ان ہی مصروف شاہراہوں کے درمیان معصوم سے پرندے خیرات میں دیا دانہ پانی ہونے کے باوجود چونچ کھولے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ کبوتر سر جھکائے بیٹھے نظر آئیں تو مجھے گمان ہوتا ہے کہ جیسے وہ جاں بلب ہوں کہیں ان کی آہ اس شہر کو نہ لے ڈوبے تو کبھی چڑیوں کی چہکار مجھے سہانی نہیں کوسنے محسوس ہونے لگتی ہے۔ ہم نے کس کس کی آہ سمیٹی کس کس کی بد دعا لے لی ہم جانتے ہی نہیں ہمیں تو بس ایک بات معلوم ہے۔ اس شہر کو کنکریٹ کو جنگل بنادو، بڑے بڑے عالیشان مال اور پلازہ کھڑے کردو، گرین بیلٹ ختم کر کے اربوں کے منصوبے شروع کردو ان سب کو استعمال کرنے اور ان سے فائدہ اٹھانے والے کو ایک ایسا ماڈل شہر فراہم کردو جس میں عمارتیں بے شمار ہیں لیکن سایہ ڈھونڈنے سے بھی نہ مل سکے۔
کیا سب دوسروں کی ذمہ داری ہے؟ کیا ہم اس قابل ہی نہیں کہ اپنی زندگی اور سانس لینے کے لئے کوئی حل نکال سکیں، کیا ہم اتنے مجبور ہیں کہ ایک سائے کےلئے بھی حکومت کی جانب دیکھیں گے؟ کیا ہم اتنے غریب ہیں کہ ہم شاپنگ کے نام پر ہزاروں روپے ائیر کنڈیشنر مالز میں خرچ کر سکتے ہیں، کسی ریسٹورنٹ میں ہزاروں کھانے کے نام پر لٹا سکتے ہیں لیکن چند روپے کا ایک درخت اپنے محلے کے پارک یا فٹ پاتھ پر نہیں لگا سکتے ہیں نہ اس کیدیکھ بھال اور حفاظت کرسکتے ہیں؟ ہم یہ نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے نزدیک نیکی وہ ہے جس میں تشہیر ہو جس میں نام ہو۔ بھلا درخت کیا دیگا ہمیں؟ یہ وہ نہیں سوچ سکتے جنھوں نے درختوں کو گاتے سنا ہو، ہوائیں چلنے پر ناچتے دیکھا ہو، چودہویں کے چاند پر دوسرے درخت سے سرگوشی کرتے دیکھا ہو، چلچلاتی دھوپ میں کھیلتے بچوں کو ماں کے آنچل کی طرح سایہ دیتے دیکھا ہو، گھونسلوں سے پھسلتے ننھی چڑیا کو اپنی ٹہنی سے ماں کے آنے تک پناہ دیتے دیکھا ہو۔ بھلا ظالم کیا جانے ایک درخت کا دکھ، بھلا خود غرض کیا جانے ایک درخت کی سخاوت۔

