تحریک انصاف اور جہانگیر ترین کا ’’مال پانی‘‘


بہت سے سوالات ہمیشہ جواب طلب رہتے ہیں۔

یہ جناب شیخ کا فلسفہ میری سمجھ میں نہ آ سکا

جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے

یہ سوال بھی کچھ ایسا ویسا ہی ہے۔ اگر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ سے میاں نواز شریف تاحیات نااہل قرار پاتے ہیں تو پھر اسی سپریم کورٹ کے فیصلہ سے جہانگیر ترین تاحیات نا اہل کیوں نہیں سمجھے جاتے؟ آپ کیا فرماتے ہیں اس سوال کے جواب میں؟ ٹھہرئیے ! پہلے جہانگیر ترین کی سن لیجئے۔ انہوں نے بھی اس ضمن میں کچھ کہا ہے۔ وہ بھری مجلس میں ڈنکے کی چوٹ پر کہہ رہے ہیں: ’’اس پارٹی پر سارا ’’مال پانی‘‘ ہمارا لگا ہوا ہے‘‘۔ بتائیے! اب آپ کیا کہتے ہیں ؟ بنی گالہ میں جہانگیر ترین کی یہ بات سن کرسبھی کو چپ سی لگ گئی تھی۔

جہانگیر ترین کے اس طرح تحریک انصاف پر احسان دھرنے اور جتانے پر مجھے ٹاٹا اور بِرلا یاد آگئے۔ یہ دونوں ہندوستان کے چوٹی کے صنعتکار تھے۔ ان کے مال و دولت کا ہمارے جہانگیر ترین سے کوئی تقابل ہی نہیں۔ انہوں نے اپنی اپنی چیک بکس دستخط کر کے مہاتما گاندھی کے حوالے کی ہوئی تھیں۔ ہندوستان کی جنگ آزادی کیلئے جتنی چاہیں اور جب چاہیں رقم بھر کر چیک کیش کروا لیں۔ پھر نواب بہاولپور، راجہ صاحب محمود آباد اور نواب اسمٰعیل جیسے بہت سے صاحب حیثیت لوگ اپنی جان و مال سمیت مسلم لیگ کیلئے حاضر تھے۔ کسی نے بھی کبھی کاہے کو ایسا جتایا ہو گا کہ کانگریس اور مسلم لیگ ہمارے سرمایے سے چلتی ہیں۔

ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ایک بالا خانے میں ناچ گانا ہو رہا تھا۔ اس بالا خانے کو آفس ہی کہیے۔ آجکل ارباب نشاط اپنے چوبارے کیلئے آفس کا لفظ ہی استعمال کرتے ہیں۔ وہاں اک تماش بین کو کچھ زیادہ چڑھ گئی۔ وہ آئوٹ ہوگیا۔ اب لگا وہ واہی تباہی بکنے۔ سبھی بہت بدمزہ ہوئے۔ نائکہ نے پہلے تو اسے شائستگی سے روکا ٹوکا۔بولی! ’’ہم عزت دار لوگ ہیں۔ ہمارا اس محلہ میں اک مقام ہے۔ ہم یہ ’’کھپ رولا‘‘ ایفورڈ نہیں کر سکتے ‘‘۔ لیکن وہ تماش بین ہوا کے گھوڑے پر سوار تھا۔ وہ کوٹھے پر ادھر اُدھر دیکھ کر بولا۔’’یہ سب ہمارا ہی ’’مال پانی‘‘ لگا ہوا ہے۔ ہم جو چاہیں گے سو کریں گے۔ کون ہے ہمیں روکنے والا؟‘‘۔ برداشت کی آخر ایک حد ہوتی ہے۔ نائکہ غصے میں آگئی۔ اس نے اپنے ملازموں کو یہ کہتے ہوئے اسے باہر اٹھا کر باہر پھینکنے کا کہا: ’’اگر مال خرچ کیا ہے تواس کے بدلے میں عیش بھی تم بہت کر چکے ہو‘‘۔ خیر یہ کوٹھے کا معاملہ کوٹھے والے جانیں۔

دکھ اس بات کا ہورہا ہے کہ جہانگیر ترین کے ’’طعنوں مینوں‘‘کا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا گیا۔ عمران خان نے مٹی پائو پالیسی پر ہی عمل کیا۔ یہ سچ ہے کہ ہر دم نفع نقصان ذہن میں رکھنے والے لوگ، محبت نہیں تجارت کرتے ہیں۔ سیاست محبت ہے۔ محبت میں خسارہ بھی نفع ہوتا ہے۔ یار لوگوں نے سیاست کو تجارت بنا لیا ہے۔ تجارت میں صرف نفع ہی نفع ہوتا ہے۔ صدیق سالک نے لکھا تھا۔’’ہمارے ملک کی انڈسٹری بیمار ہو گئی ہے اورہم نے ہسپتالوں کو ہی انڈسٹری بنا لیا ہے‘‘۔ ایک زمانہ سے ہماری انڈسٹری بیمار کیا ہوئی کہ پھر اس کے روبہ صحت ہونے کی کوئی صورت ہی نظر نہیں آرہی۔

ہماری منڈی بری طرح مندے کا شکار ہے۔اب ملک میں دو ہی کاروبار رہ گئے۔ تجارتی ، رہائشی پلاٹوں اور کسی مقبول سیاسی جماعت کے انتخابی ٹکٹوں کی خریدو فروخت کا کاروبار۔ 2013ء میں تحریک انصاف سنٹرل پنجاب کے معاملات ’’حسن اعجاز‘‘ سے ایک کائیاں بندے کے ہاتھوں میں تھے۔ اس پر ٹکٹوں کی فروخت کے خوب الزام لگے۔ آخر ان الزامات میں کچھ صداقت بھی تو ہوگی۔ اس زمانہ میں ایک واقعہ کا بڑا چرچا رہا۔ میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں تحریک انصاف کے انتخابی ٹکٹوں کے فیصلے کیلئے پارٹی اجلاس ہو رہا تھا۔ گوجرانوالہ سے ایک امیدوار کو پچاس لاکھ روپوں کے ساتھ پہنچنے کا کہا گیا۔ وہ جھٹ پٹ نوٹوں کی گڈیوں سے تھیلا بھر کر اسلام آباد روانہ ہو گیا۔ میریٹ ہوٹل کے قریب پولیس چیک پوسٹ پر سپاہی نے ڈگی کی تلاشی لیتے ہوئے اس سے پوچھا۔’’اس تھیلے میں کیا ہے ‘‘؟بولا!’’کرنسی نوٹ ہیں‘‘۔ اس پر سپاہی بے ساختہ بولا۔’’اچھا تو آپ بھی میریٹ ہوٹل جا رہے ہیں؟ وہاں جو بھی جا رہا ہے نوٹوں سے لدا پھندا جا رہا ہے۔ نجانے وہاں کیا کاروبار ہو رہا ہے ؟‘‘۔ الیکشن گزر گیا لیکن ٹکٹوں کی خرید و فروخت پر ایک عرصہ تک لے دے ہوتی رہی۔

سنٹرل پنجاب کی قیادت کی جانب سے اس سلسلہ میں وضاحتیں بھی بہت آتی رہیں۔ فارسی زبان جاننے والی نسل اب نہیں رہی۔ لیکن کئی فارسی شعر محاوروں کی طرح ابھی تک ہمارے ہاں اردو تحریروں اور تقریروں میں مستعمل ہیں۔ انہی شعروں میں عرفی ؔکا وہ شعر بھی شامل ہے جس میں وہ اپنے آپ سے کہتا ہے کہ تمہیں دشمنوں کے شور شرابے کی مطلق پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ گلی کے کتوں کے بھونکنے سے گداگر کا رزق کبھی کم نہیں ہوتا۔ دو تین تقریروں میں اس فارسی شعر کی تکرار پر ایک کالم نگار نے اس مقرر سے پوچھا۔’’حضور! گلی کے کتے میں زیادہ لالچ ہوتا ہے یا گداگر میں‘‘؟ اس کا یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔

تحریک انصاف کے مخالفین طنزاًجہانگیر ترین کو عمران خان کا اے ٹی ایم کارڈ کہتے ہیں۔ جہانگیر ترین نے تحریک انصاف پر اپنے مال پانی کا ذکر کر کے مخالفین کے موقف کو تقویت پہنچائی ہے۔ کچھ باتیں بالکل کہنے کی نہیں ہوتیں۔ جون ایلیا کے لفظوں میں ’کچھ سخن تو زباں کے تھے ہی نہیں‘۔ سو انہیں زبان پر کبھی نہیں لانا چاہئے۔ ہم غریب لوگ بھی کیا قسمت لے کر پیدا ہوئے ہیں۔ ہم اپنی غربت دور کرنے کے لئے عمران خان کے تبدیلی والے قافلے میں شامل ہوئے تھے۔ ہم اپنے حالات میں تبدیلی چاہتے تھے۔ لیکن یہاں بھی ہماری غربت کا وہی مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ تبدیلی کیلئے بنائی گئی سیاسی جماعت بھی ہمارے سرمایے کے بغیر نہیں چل سکتی۔ مجھے ساحر لدھیانوی کی مشہور زمانہ اردو نظم ’’تاج محل‘‘ سے ایک شعر یاد آرہا ہے۔

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر

ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق

Facebook Comments HS