کچھ باتیں شعیب بن عزیز کی

لاہور کن کن نعمتوں سے محروم ہوا۔ انہی میں سے ایک مال روڈ کا شیزان ریستوران بھی ہے۔ اس کے جلنے کے ساتھ ہماری مل بیٹھنے کی اک تہذیبی روایت بھی جل گئی۔ چلو اچھا ہی ہوا۔ اب یاروں کو فرصت بھی کہاں رہی ہے۔ وہ فرصت فارغ البالی کے ٹھنڈے میٹھے زمانے اور تھے۔ اب نہ وہ لوگ رہے اور نہ ہی وہ فرصت اور نہ ہی آپس میں انس و محبت اور رواداری۔ ”تھے کتنے اچھے لوگ کہ

Read more

یہ دسترخوان پر پہلا لقمہ خود اٹھاتے ہیں

کیا یہ سچ نہیں کہ اس ملک کے لوگ پیشانی ٹیکنے کی جبلت لے کر پیدا ہوئے ہیں، جس پتھر کو چاہیں خدا بنا لیں۔ مرشد اقبالؒ نے سمجھایا تھا: یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات لیکن ہم بدبخت سمجھے بھی تو کیا سمجھے۔ ایک خدا کو ماننے کی بجائے کوئی نہ کوئی خدا ماننا ضروری ٹھہرا۔ لیکن اس میں سارا قصور ہمارا بھی نہیں۔ سنتے جائیں۔ یہ بھی تو

Read more

آمریت میں وکیل نہیں، جج بولتا ہے

کیا آپ تک حضرت جون ایلیا کا یہ فرمان پہنچا ہے؟ ”ہم ایک ہزار سال سے تاریخ کے دستر خوان پر حرام خوری کے سوا کچھ نہیں کر رہے“ ۔ نکل جاتی ہو سچی بات جس کے منہ سے مستی میں فقیہ مصلحت بیں سے وہ رند بادہ خواہ اچھا ادھر ہم نے تاریخ بھی اپنی من مرضی سے لکھی ہے۔ یہی سنتے آئے ہیں کہ مغل بادشاہ اورنگزیب کی پرہیزگاری کا یہ عالم تھا کہ وہ ٹوپیاں سی کر

Read more

عام آدمی کے میرٹ کا تذکرہ اور جاگیرداری

میرٹ کا بُت حسن انتظام کے عوامی کعبے سے نکال پھینک دیا گیا تھا۔ اللہ بھلا کرے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی کا، انہوں نے اسے دوبارہ وہاں لا رکھا تو ہے، دیکھئے اب ہمارے جاگیردار، جرنیل، سیاستدان اور بیورو کریٹ اسے وہاں ٹکنے بھی دیتے ہیں یا نہیں۔ ان کے ایک تازہ تاریخی فیصلے کے مطابق ریاست کی زمین اشرافیہ کیلئے نہیں۔ اس طرح انہوں نے ججز اور بیورو کریٹ کیلئے

Read more

کچھ باتیں شعیب بن عزیز کی

لاہور کن کن نعمتوں سے محروم ہوا۔ انہی میں سے ایک مال روڈ کا شیزان ریستوران بھی ہے۔ اس کے جلنے کے ساتھ ہماری مل بیٹھنے کی اک تہذیبی روایت بھی جل گئی۔ چلو اچھا ہی ہوا۔ اب یاروں کو فرصت بھی کہاں رہی ہے۔ وہ فرصت فارغ البالی کے ٹھنڈے میٹھے زمانے اور تھے۔ اب نہ وہ لوگ رہے اور نہ ہی وہ فرصت اور نہ ہی آپس میں انس و محبت اور رواداری۔ ”تھے کتنے اچھے لوگ کہ

Read more

سوشلزم، اسلامی سوشلزم اور پیپلز پارٹی

وزیر خارجہ بھٹو صدر ایوب کی کنونشنل مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری بھی تھے۔ صدر ایوب سے الگ ہو کر ابتدا میں بھٹو کا خیال کونسل مسلم لیگ میں شمولیت کا تھا۔ مگر ڈاکٹر مبشر حسن اور جے اے رحیم جیسے دوستوں کا رحجان ایک نئی سیاسی جماعت کی تشکیل کی طرف تھا۔ وہ ایک نئی طرح کی غیر روایتی سیاسی جماعت کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔ ان کا اندازہ تھا کہ ایسی نئی جماعت کی پذیرائی بھی بہت ہوگی۔

Read more

سیاسی جماعتوں کی گمشدگی

معروف اخبار نویس مقصود بٹ نے وفاقی دارالحکومت میں امور مملکت کے حوالے سے پائے جانے والے تذبذب کو بیان کرتے ہوئے لکھا کہ بیشتر حکومتی عہدیدار اس کو سیاسی گمشدگی کی فضا میں محسوس کر رہے ہیں۔ ایک سیاسی جماعت دراصل اپنے سیاسی موقف سے ہی پہچانی جاتی ہے۔ سیاسی موقف میں سماجی، تہذیبی، اقتصادی اور کسی حد تک مذہبی موقف بھی شامل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قومی مستقبل کا واضح ادراک رکھنا بھی ایک سیاسی مستقبل کا

Read more

عورت کا المیہ

عدلیہ سے تعلق رکھنے والے حفیظ خاں کی لکھی ”تن من سیس سریر “ میں تمام کہانیوں کا محور عورت ذات ہے ۔ عورت کی بے کسی اور بیچارگی ڈسکس کی گئی ہے۔ کہانی اور افسانہ میں کیا فرق ہے ؟شاید کہانی افسانہ کی طرح ساری من گھڑ ت نہیں ہوتی۔ اس کتاب کا دیباچہ سرائیکی بیلٹ کی ممتاز علمی ادبی شخصیت شمیم عارف قریشی نے لکھا۔ بیس صفحات پر مشتمل اس سیر حاصل تحریر میں انہوں نے عورت کی

Read more

قاری ہوں، لکھنا میری پہلی ترجیح نہیں

لکھنے میں من کی موج ہوتی ہے۔ لیکن رائٹر سے زیادہ ریڈر ہوں۔ پھر قاری بھی ایک خاص انداز اور مزاج کا ہوں۔ بہت سی چیزیں صرف ایک مرتبہ پڑھنے کی ہوتی ہیں۔ ایسی کتابوں کو جمع کرنا اچھا نہیں لگتا۔ انہیں بیچنا بھی اچھا نہیں لگتا۔ پہلے دوست ملاقاتیوں کو گفٹ کیا کرتا تھا۔ کئی مرتبہ سیشن کورٹ گوجرانوالہ مرتضیٰ کمال میموریل لائبریری میں بھجواتا رہا ہوں۔ پچھلے دنوں ایک انبار چوہدری محمد انور کمبوہ ایڈووکیٹ لے گئے۔ یہ

Read more

پلاٹ بخشیاں۔۔۔ عدلیہ اور انصاف کا بول بالا

انور مسعود کی سنجیدہ شاعری ان کی مزاحیہ شاعری کے پیچھے چھپ گئی ہے۔ اس شعر میں وہ اپنی مزاحیہ شاعری میں سنجیدہ اور رنجیدہ معنوں کی بھی اطلاع دے رہے ہیں۔ بڑے نمناک سے ہوتے ہیں انور قہقہے تیرے کوئی دیوار گریہ ہے تیرے اشعار کے پیچھے کچھ لطیفے ایسے بھی ہیں کہ اگر ان کو نچوڑا جائے تو ان سے آنسو ٹپک پڑیں۔ ایک ایسی ہی پرمزاح بات جنرل اسلم بیگ نے سنائی۔ جرنیلوں کو ”اقتدار کی مجبوریاں

Read more

طاہر انوار پاشا ”نیل کے سنگ “

شاعر سعود عثمانی بھی کچھ نہ کچھ ٹھیک ہی کہتے ہونگے کہ کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے اور یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی۔ اگر اسے بالکل درست بھی مان لیا جائے پھر بھی اس صدی کا ابھی اکیسواں برس ہی شروع ہوا ہے۔ ابھی اس صدی کو ختم ہونے میں بہت عرصہ چاہئے۔ پھر عشق روٹھ بھی جائے تو عشاق میں ایک عرصہ تک وضع داریاں ضرور برقرار رہتی ہیں۔ سو ابھی کتابیں

Read more

گئے ہوﺅں کی خیر

اگر استاد یحییٰ آفندی شاہجہاں کو دستیاب نہ ہوتا تو کیا تمام شاہی وسائل کے باوجود تاج محل آگرہ کی تعمیر ممکن تھی؟ کئی تعمیراتی فن پارے کسی ”شاہجہاں“ سے ٹاکرا نہ ہونے کے باعث فنکاروں کے دل و دماغ میں ہی رہ جاتے ہیں۔ استاد یحییٰ آفندی نے تاج محل بیس ہزار مزدوروں، ہنرمندوں کی مدد اور کثیر لاگت سے بائیس برس میں مکمل کیا۔ باون ایکڑ رقبہ پر مشتمل یہ عمارت شاہجہاں اور ملکہ ممتاز کا مدفن ہے۔

Read more

عطا محمد لغاری نے اپنے مزارعوں کو کیا خوشخبری دی؟

ایک مرتبہ انٹر نیٹ پر یورپ کے کسی ملک کے ایک خوبصورت گاؤں کی تصویر تھی۔ یہ گاؤں صرف پچاس ہزار ڈالر میں برائے فروخت تھا۔ اتنی ارزانی کی وجہ یہ تھی کہ اس گاؤں پر جنات کا سایہ تھا۔ میں سوچنے لگا کہ ہمارے ہاں کے ”جنات“ کو اپنے ”زیرسایہ“ گاؤں مفت کے مول مل جاتے ہیں۔ انہیں چند ڈالر بھی نہیں خرچنے پڑتے۔ ڈالر تو یورپی جنات کو بھی نہیں خرچ کرنے پڑتے۔ لیکن یہ بیچارے محض سایہ

Read more

وزیر آباد کا نباض حکیم اور ہمارے کپتان

معروف رائٹر حفیظ خاں سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اک عمر عدلیہ میں گزری۔ زندگی کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا۔ ان کے اک ناول کا نام ”انواسی“ ہے۔ تیسرا حصہ ناول پڑھنے پر بھی جب لفظ انواسی کے معنی پلے نہ پڑے تو صاحب کتاب سے رجوع کیا۔ وہ اس لفظ کے معنی بتانے لگے۔ یہ لفظ سنسکرت سے ہندی میں آیا ہے۔ وہاں سے یہ اردو میں پہنچا۔ اس کے معنی مسلسل جنسی زیادتی کی شکار عورت

Read more

ہمارے لوگ مرتے جا رہے ہیں

اسد محمد خاں نے اپنی کتاب ”یادیں“ میں اپنے گزری صدی کے دوستوں کی واقعات قلمبند کیے ہیں۔ زندہ دل لوگوں کے تذکرے بھی زندگی سے بھر پور ہوتے ہیں۔ لیکن موت کی گمنام وادیوں کو روانہ ہوئے۔ ان شگفتہ لوگوں کا ذکر کرتے کبھی کبھی ہچکیاں بھی عود کر آتی ہیں۔ کتاب کے آخر میں سات وداع کی نظمیں ہیں۔ ان سات نظموں میں سے ایک نظم میں کئی بار پڑھ چکا ہوں، زیر لب بھی اور با آواز

Read more

”ہائبرنیشن“ کی پاکستانی شکل

پہلے شہزاد نیئر کی نظم پڑھ لیں۔ بات پھر آگے بڑھے گی۔ ”ہائبرنیشن“ میں صدیوں سے تنہا گھٹن میں گندھے حبس تاریک میں سانس روکے پڑا ہوں بدن کے غلیظ اور سیلن زدہ دل میں بے حس و حرکت نومولود مٹی میں لتھڑا ہوا ہوں نہ جانے میں زندہ ہوں اک تنگ تاریک مسکن میں ساکن میرے سرد سینے میں آدھا تنفس نہ پتلی میں حرکت نہ آنکھیں ہی روشن بدن کے اسی غار میں نیم مردہ میری ذات ہے

Read more

پھر صدر ایوب کے ساتھ ہوا کیا؟

عمران خان کے خیر خواہوں کی تعداد دن بدن گھٹتی جا رہی ہے۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اپنے دشمنوں کی صف میں عمران خان خود بھی کھڑے ہیں۔ کہنے والے یہ کہتے سنے گئے۔ اب نون لیگی کارکن بے شک اپنے گھروں میں آرام کریں۔ چین کی نیند سوئیں۔ تحریک انصاف کی حسن کارکردگی ہی نون لیگ کے لئے کافی و شافی ہے۔ جب اقرار نامے اور نکاح نامے کے

Read more

معاہدہ عمرانی اور کارکنوں کا جیالا پن

دیوان سنگھ مفتون ایڈیٹر اخبار ”ریاست“ اردو صحافت میں ایک بڑا نام ہے۔ ان کا اخبار ہندوستانی ریاستوں کے معاملات مہاراجوں، مہارانیوں، راجکماریوں اور راجکماریوں کے سکینڈلوں سے بھرا پڑا ہوتا۔ یہ چٹپٹے واقعات بڑی دلچسپی سے پڑھے جاتے تھے۔ اب نہ ہی ریاستیں رہیں، نہ ہی اخبار ’ریاست‘ اور نہ ہی اس کے ایڈیٹر دیوان سنگھ مفتون۔ ان کی معلومات کے ذرائع بڑے وسیع تھے۔ پاکستان میں کسی اخبار نویس کو علم نہ ہو سکا کہ حضرت قائد اعظمؒ

Read more

”کھیچل“

اردو بازار گوجرانوالہ کے شروع میں جہاں ان دنوں فائر بریگیڈ اسٹیشن ہے وہاں ایک چٹیل میدان ہوا کرتا تھا۔ اس میدان کے ایک جانب مولانا محمد اسماعیل سلفی کی مسجد تھی اور دوسری جانب سوختنی لکڑی کا ٹال۔ پاکستان میں اس وقت ابھی سوئی گیس دریافت نہیں ہوئی تھی۔ سوئی گیس کی بدولت جلانے والی لکڑی کے ٹال ختم ہو گئے ہیں۔ اب اس میدان میں لکڑی کا ٹال نہیں رہا۔ البتہ مسجد موجود ہے۔ سڑک پار اک دار المطالعہ تھا۔ یہاں سبھی اخبارات اور رسائل پڑھنے کے لئے میسر رہتے۔

ایک بڑے سے کمرے میں اک بڑی ساری میز کے ارد گرد کرسیوں پر بیٹھے بہت سے لوگ مطالعہ میں مصروف دکھائی دیتے۔ ان دنوں ابھی کتابوں، رسالوں، اخباروں کے رقیب پیدا نہیں ہوئے تھے۔ یہ ٹی وی اور فیس بک سے پہلے کا زمانہ تھا۔ اب یہ دار المطالعہ بھی نہیں رہا۔ وہ فرصت کا زمانہ تھا اور وقت لوگوں کے پاس وافر۔ ہوٹل، قہوہ خانے، چوپال آباد تھے۔ لوگ اک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہتے۔ اسی زمانہ کی روئداد فیض کی زبانی سنیے۔

Read more

شوگر مافیا، کورونا اور آن لائن یوم مئی

ایک مرتبہ افیون کے تمام ٹھیکے کسی مذہبی تقریب کی بناء پر بند تھے۔ ایک افیونی اس روز افیون کی تلاش میں کئی میل کی مسافت طے کر کے ایک گاؤں پہنچا۔ لیکن وہاں بھی ٹھیکہ بند تھا۔ اسے بتایا گیا کہ یہاں سے تین میل کی دوری پر ایک گاؤں میں ٹھیکہ بند نہیں۔ وہ بیچارہ گرتا پڑتا جب وہاں پہنچا تو ٹھیکے کا جلتا بلب دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی۔ قدم تیز ہو گئے۔ وہاں پہنچ کر اک عجیب امید اور سرخوشی کے عالم میں اس نے ٹھیکیدار سے پوچھا۔

افیون ہے؟ ٹھیکیدار نے کہا۔ ہاں۔ اور آپ کو کتی (کتنی) چاہیے؟ اس استصواب سے مست ہو کر وہ خوشی سے اچھل پڑا۔ جوش ملیح آبادی نے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھا۔ وہ افیونی ”تیری کتی کے قربان۔ تیری کتی کے قربان“ کہہ کر ناچنے لگا۔ چشم فلک نے اسی طرح 1970ء کے زمانہ میں جیالوں کو مست و رقصاں دیکھا ہے۔

Read more

جیسی لگی تھی دل میں آگ ویسی غزل بنی نہیں

ڈسکہ میں جیتنے والے اور ہارنے والے دونوں خوش ہیں۔ جیتنے والے ہارنے والوں کے گھر مٹھائی بھجوانے کو تیار ہیں اور ہارنے والے خوشدلی سے اس کے منتظر۔ پی ٹی آئی کے امیدوار علی اسجد ملہی پہلی مرتبہ نہیں ہارے۔ ان کے ہاں ہارنے کی ایک لمبی کہانی ہے۔ موصوف 2008 میں ہارے، 2013 میں ہارے، 2018 میں ہارے۔ فروری 2021 میں ہارے، پھر اپریل 2021 میں بھی۔ اس مرتبہ وہ ہار کو باعزت سمجھتے ہیں۔ علم سیاسیات کا

Read more

زندگی کی واپسی

مارچ کا کوئی دن تھا۔ میرا بیٹا بیرسٹر وقاص فاروق مجھے لے کر لاہورپروفیسرڈاکٹر عاطف کے ہاں پہنچا۔ بہت سے ٹیسٹ لئے گئے۔ سینے کا سی ٹی اسکین ہوا۔ ناک میں روئی ڈال کر کرونا ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن ان ٹیسٹوں کے نتائج آنے سے پہلے ہی پروفیسر صاحب نے کرونا کا اعلان کر دیا۔ 73 سالہ بوڑھے کے لئے کرونا کا یہ اعلان موت کی خبر تھی۔ میں نے ڈرائیور سے گاڑی اپنے شہر گوجرانوالہ موڑنے کو

Read more

میاں نواز شریف: ایک لوہار کی

شاعری اور موسیقی میں اردو کی دو غزلیں کچھ وکھرا ذائقہ رکھتی ہیں۔ پہلی فیض کی یہ غزل ہے۔ ’مجھ سے پہلی سے محبت مرے محبوب نہ مانگ‘ ۔ اسے ملکہ ترنم نے کچھ ایسے گایا کہ داد میں فیض نے یہ غزل اسے ہی بخش دی۔ پھر تو فیض سے بھی اس غزل کو سننے کی فرمائش ملکہ ترنم والی غزل کہہ کر کی جاتی رہی۔ دوسری غزل سید زادے عدمؔ کی ہے۔ ’وہ باتیں تری وہ فسانے ترے‘

Read more

شریف اشرف اور کچھ سوالات

خورے کیہڑا بی لا بیٹھے آں محل اگے کنکاں دی تھاں ترجمہ : کھیتوں میں گندم کے پودوں کی بجائے محل اگ آئے ہیں۔ حیران ہوں کہ میں نے زمین میں کون سا بیج بو دیا تھا؟ یہ شعر ہے ذہین فطین کالم نگار محمد شریف اشرف کا۔ جو ایک اخبار میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ موصوف پیشہ ور شجر کار بھی ہیں۔ بنجر زمینوں میں سرسبز جنگل اگاتے ہیں۔ تبھی انہیں سریا، سیمنٹ، ریٹ، بجری کے جنگل اچھے نہیں

Read more

بھٹو سے گیلانی تک: جمہوریت کی جنگ

سیاست آئین کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ آئین کی محافظ عدلیہ ہے۔ اب اس کی مرضی حفاظت کرے یا نہ کرے۔ فوجی آمروں کے نزدیک عدالتوں کی اہمیت محض اتنی کہ ایوب خان کے بنائے ہوئے شہر اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں عدالتوں کے لئے کوئی جگہ ہی نہیں رکھی گئی۔ پھر یہ بھی تاریخ کی ستم ظریفی کہ ادھر آئین بنتا ہے ادھر کوئی نہ کوئی فوجی مارشل لاء کا گرز لئے اس کا سر کچلنے کو

Read more

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟

حجرہ شاہ مقیم میں اک جٹی عرض گزار تھی : ’پیر جی ایک بکرانذر کروں گی اگر میری سر کے سائیں سے جان چھوٹ جائے‘ ۔ لیکن صرف شوہر کی موت سے اس کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تھا۔ اس کی عرضداشت خاصی لمبی تھی۔ وہ اپنی گلی کے فقیر کی کتیا کی موت بھی چاہتی تھی۔ وہ اس کی ہر دم کی چاؤں چاؤں سے نالاں تھی۔ وہ اپنی گلی کے کریانہ فروش کی ہٹی کو بھی آگ میں

Read more

تحریک انصاف اور مجلس احرار ایک پیج پر

اک زبان سے دوسری زبان میں معنوں کی نقل مکانی کو ترجمہ کہتے ہیں۔ معنوں کے اس سفر میں بہت کچھ راہ میں رہ جاتا ہے۔ چشموں کا شفاف پانی پہاڑوں سے اتر کر سمندر کو چل پڑتا ہے۔ اپنے اس سفر میں راستوں کی مٹی کے اثرات اپنے من میں سموتا ہوا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سمندر تک پہنچتے پہنچتے اس کا رنگ روپ تاثیر اور سے اور ہو جاتی ہے۔ اسی طرح مذہب، نظریات، اشیائے خوردنی تک

Read more

ندیم افضل چن کا سیاسی مستقبل

پچھلے دنوں سابق امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں نے جدید دنیا میں جمہوریت کے ”ماما“ ہونے کے دعویدار امریکہ کی جمہوریت کو تماشا بنا کر رکھ دیا۔ ایک عرصہ سے اس نے اپنی اسی جمہوریت پرستی کے زعم میں پوری دنیا کے کمزور ملکوں کا ناک میں دم کیے رکھا ہے۔ 2020 کے امریکی صدارتی الیکشن میں ٹرمپ، بائیڈن سے ہار گیا تھا۔ انتخابی قواعد کے مطابق اسے باوقار انداز میں انتقال اقتدار کے بعد وائٹ ہاؤس سے رخصت ہونا تھا۔ لیکن ٹرمپ نے اپنے مزاج کے عین مطابق ایسا نہ کر کے اپنے آخری صدارتی ایام میں وائٹ ہاؤس میں جمہوری تماشا رچا لیا۔

Read more

وزیر آباد کا ضمنی انتخاب اور مہنگائی

بے شک کشمیر میں رنگ ہوتا ہے، روپ ہوتا ہے۔ خدو خال بھی ہوتے ہیں مگر حسن نہیں ہوتا۔ کشمیری کو کشمیر سے نکال کر پنجاب میں لے آﺅ۔ اسے پنجاب کی ہوا لگنے دو۔ کوئی دن اسے یہاں کا پانی پینے دو۔ پھر دیکھو عورتیں، مرد، بچے، بوڑھے سبھی حسن سے کیسے لد پھند جاتے ہیں۔ صدیوں سے سہمے، د بکے، کشمیر جنت نظیر کے کشمیریوں کو پنجاب بڑا راس آتا ہے۔ میاں شریف فیملی ضلع امرتسر میں کشمیر

Read more

بی بی رانی بینظیر بھٹو کی کہانی

کہانی کراچی کے پنٹو ہسپتال سے شروع ہوتی ہے۔ یہیں نصرت بھٹو نے گلابی چہرے اور لانبی انگلیوں والی اک خوبصورت پیاری بچی کو جنم دیا۔ وہ بیشک ایک بینظیر بچی تھی۔ سو اس کا نام بھی بینظیر ہی رکھا گیا۔ ذو الفقار علی بھٹو ان دنوں لندن میں بیرسٹری کی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف تھے۔ پھر بہت کچھ ہوا۔ لاڑکانہ کے اس جاگیردار گھرانے میں اقتدار آیا بھی اور چھینا بھی گیا۔ یہ 19 ستمبر 1977 کا ایک

Read more

برطانوی جمہوری معاشرے کے خدو خال

ضمیر جعفری نے ” جمہوریت کی ماں “برطانیہ کا ایک سفر نامہ لکھا۔ کرونا اسیری میں یہ کتاب” سورج میرے پیچھے“ دوبارہ ہاتھ آ گئی۔ جی چاہا کہ اپنے کالم میں ایک جمہوری معاشرے کے خدو خال بیان کر دوں۔ یہ کافروں کی بنائی ہوئی اس دنیا میں جنت ہے۔ اس کتاب میں سے پانچ اقتباسات، ان میں قرآنی حکم پر عمل کرتے ہوئے تفکر کرنے والوں کیلئے بہت کچھ موجود ہے۔ فرانس نے جرمنی کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے

Read more

کرونا، موسم، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان

 سیدہ عابدہ حسین نے لکھا۔ ”ہمیں کراچی میونسپل کارپوریشن کے پرانے دفاتر سے باہر باغیچے میں ایک شامیانہ تلے لنچ کیلئے لے جایا گیا۔ لکھنو کا بہترین مصالحے دار کھانا بھاری مقدار میں کھانے کے بعد میں نے یخ بستہ ٹھنڈی سیون اپ نوش کی ۔ اب میں واش روم کی تلاش میں ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔ میں نے عظیم طارق سے اس کا ذکر کیا لیکن وہ کہنے لگا۔ سب نے کھانا ختم کرلیا ہے اس لئے اب ہم

Read more

پاکستان پیپلز پارٹی کا المیہ

پہلی مرتبہ ذو الفقار علی بھٹو نے حیدر آباد سندھ میں میر رسول بخش تالپور کے گھر ایک نئی پارٹی کی تشکیل کی بات کی۔ یہ 16 ستمبر 1967ء کی اک خوشگوار صبح تھی۔ بھٹو نے اس موقع پر جمع اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا۔ ”ایک نئی سیاسی پارٹی کی تشکیل ہی وہ تنہا سبیل ہے جو انہیں منزل مقصود تک پہنچا سکتی ہے“ ۔ منزل مقصود سے ان کی مراد خوشحال پاکستان اور امن انصاف، مساوات

Read more

کہیں یہ کفر تو نہیں؟

زندگی سالہا سال اپنے اسلوب ایک سے نہیں رکھتی۔ یہی زندگی کا حسن ہے۔ ہر نیا آنے والا دن نئے مسائل لے کر آتا ہے۔ نیا سورج نئے سوالات لئے طلوع ہوتا ہے۔ یہ حضور کے زمانے کا سوال نہیں۔ خلا میں قبلہ رو کس سمت ہو گا؟ وہاں نماز کیسے ادا ہو گی؟ وہاں سجدہ کدھر کیا جائے گا؟ زمین پرے رہ گئی۔ اللہ کا گھر اُدھر رہ گیا۔ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل جاتا ہے۔ کبھی کبھی

Read more

ووٹ کو عزت یا غریب کی روٹی

معرکہ کوئی بھی ہو پہلا تیر چلانے والے کی کچھ اپنی اہمیت ہے۔ اس سلسلہ میں پہلی بلند آواز جاوید ہاشمی کی تھی۔ پھر قومی اسمبلی کی سیٹ سے استعفیٰ کوئی معمولی بات نہیں۔ انہیں کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد۔ جاوید ہاشمی کو اس جرات رندانہ کی جاتی عمرہ سے داد بھی نہ ملی۔ انہوں نے چڑیوں ہاتھ سندیسے, کاگوں ہاتھ سلام، سب جتن کر دیکھ لئے۔ ادھر سے کوئی بلاوا نہ آیا۔ ایک مرتبہ جاوید ہاشمی

Read more

صفدر حسین سندھو کا ملال: ہم قانوناً آزاد ہیں مگر؟

ضلع کچہری شیخوپورہ کی حدود کے آخری کونے میں اک بندگلی میں ایک وکیل صاحب کا دفتر ہے۔ یہاں تک پہنچتے پہنچتے کچہری کی ساری رونق، گہما گہمی اور زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ دفتر والوں کو حال سے زیادہ مستقبل کی فکر لگتی ہے۔ سو اس دفتر کو تعمیر کرتے ہوئے اس کی ”کرسی“ بہت اونچی رکھی گئی ہے تاکہ کل کلاں فرش ”نیواں“ نہ ہو جائے۔ یہ کچھ اور اونچی اس لیے دکھائی دیتی ہے کہ گلی میں

Read more

سوالات میں گھرا ہوا تخت لہور

’’اسیں باغی تخت لہور دے‘‘۔ یہ نعرہ ملتان سے ہے، گوجرانوالہ سے نہیں۔ ہمارا تخت ہماری مرضی۔ پھر گوجرانوالہ اس کا باغی کیوں ہووے؟ پچھلے دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب سے پوچھا گیا۔ کیا پنجاب کی حکومت کو آپ کی بجائے گوجرانوالہ سے ایک میاں بیوی چلا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا۔ نہیں۔ بالکل نہیں۔ میری ان سے ملاقات کو بھی پونے دو برس ہو چکے ہیں۔ یہ ملاقات سپریم کورٹ کی بلڈنگ میں ہوئی تھی۔ پھر انہوں نے اس ملاقات

Read more

فیضؔ کی زندگی کے چند مخفی گوشے

آصف جیلانی نے اپنی صحافتی ز ندگی کا آغاز 1952ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی سے کیا۔ پھر وہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ میں چلے گئے۔ 1959ء میں ’جنگ‘ کے نامہ نگار کی حیثیت سے ان کا دلّی میں تقرر ہوا۔ وہ بیرون ملک میں کسی پاکستانی اردو اخبار کے پہلے کل وقتی نامہ نگار تھے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں وہ دلی سے گرفتار کر لئے گئے۔ انہوں نے قیدیوں کے تبادلے تک تہاڑ جیل میں قید تنہائی کاٹی۔ رہائی پر

Read more

…وہ جگنو بھی نہیں نکلا

رات کے پچھلے پہر نا شناس کی آواز نے کالم نگار کے دکھ کو اور بڑھا دیا۔ سہگل اور حبیب ولی محمد کے اسلوب کا یہ گائیک اپنی آواز میں ایک الگ ذائقہ رکھتا ہے۔ اس کی آواز طبلے سارنگی کے درد کو دوچند کر رہی تھی۔ وہ گا رہا تھا: آج کی رات غم دوست میں شدت ہے بہت جس سے الفت تھی بہت اس سے شکایت ہے بہت اب وطن عزیز میں تبدیلی کے متوالوں کے دل میں

Read more

بابا جی! اک بہشتی دروازہ اور چاہئے

 ادھر خلق خدا بے حال ہو چکی۔ زبان حال سے یوں پکار رہی ہے۔ یہ رات کی طوالت اور بے خوابی کا ہی مسئلہ نہیں، ذرا میری تقدیر کی خبر لائو۔ وہ کہاں سوئی پڑی ہے ؟مجھے آلو 80 روپے کلو ملتے ہیں۔ کچھ نیک بخت زرعی زمین 20 روپے مرلہ پاتے ہیں۔ مجھے نوکری سے جواب ہو چکا ہے۔ کچھ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی 32 لاکھ ماہوار کی نوکری لئے بیٹھے ہیں۔ کچھ مردوں کو تدفین کی جگہ

Read more

اب عمران خان ایمانداری چھوڑ کر دیکھیں

کالم نگار عمر عزیز کے73 ویں برس یہ سوچ رہا ہے۔ جس دن جگمگائے گا شبستاں ہم نہیں ہوں گے۔ پھر ’کہیں ہم کو دکھا دو اک کرن ہی ٹمٹماتی سی‘ والی خواہش بھی اس کے دل میں موجود ہے۔ عمر خیام نے اس دکھ کا رونا اپنی ایک فارسی رباعی میں رویا۔ ایک مچھلی نے ایک بط سے مخاطب ہو کر کہا۔ کیا خشک ہو جانے کے بعد پانی کی روانی پھر پلٹ کر آئے گی؟ اس نے کہا،

Read more

ہمارا بنیادی سیاسی مسئلہ: ’’کوئز لنگ لیگ‘‘

2020ء کے پانچ جولائی نے پھر وہی سوال دہرایا ہے۔ کیا سیاستدانوں کی نا اہلی کے باعث وردی والے آتے ہیں یا پھر وردی والوں کی نا اہلی کے باعث اہل سیاست کو موقع مل جاتا ہے۔ 1950ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں کی امریکی سفارتخانہ کی خفیہ خط و کتابت ایوب خاں کی اقتدار کی شدید خواہش ظاہر کرتی ہے۔ ایک موقع پر وہ امریکی سفیر سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکے۔ ہم اس ملک کو سیاستدانوں کے

Read more

فواد چوہدری اور ادھر کا اشارہ

آج پاکستان میں سب سے اہم سوال یہی ہے: کیا نا اہلیت کرپشن سے زیادہ نقصان دہ ہے؟ اس واقعہ میں آپ کو اس سوال کا جواب سمجھنے میں آسانی ہو جائیگی۔ امریکہ میں مقیم ایک کنبے کی پاکستان میں تین ٹیکسٹائل ملیں ہیں۔ ایک ہی شخص ان تینوں کا جنرل منیجر ہے۔ وہ ملز کے ہر گاہک سے 0.50 فیصد کمیشن وصولتا ہے۔ ملز مالکان کے ایک قریبی عزیز کو اس کمیشن کی بہت تکلیف تھی۔ ایک مرتبہ مالکان

Read more

عمران خان کی تبدیلی اور سائیں مرنا کا اکتارہ   

بحیرہ احمر کے کنارے عقبیٰ کے مقام پر شاہی محل میں امریکی خاتون اول ہیلری کلنٹن کی سالگرہ منائی جا رہی تھی۔ وہ ان دنوں وہاں سرکاری دورے پر تھیں۔ جب اردن کی ملکہ نور کیک پر لگی موم بتیوں کو پھونکوں سے بجھانے میں ناکام رہیں تو اردن کے شاہ حسین نے ان کو بجھانے میں کا ساتھ دینا چاہا۔ مگر وہ بھی ناکام رہے۔ہیلری کلنٹن نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا کہ شاہ حسین کی سانس پھول گئی

Read more

کامریڈ چوہدری فتح محمد۔۔۔ اک چراغ اور بجھا

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی کہانی بڑی مختصر ہے۔ جس جگہ اس وقت ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ریلوے اسٹیشن ہے اس کے پاس ہی پانی کا ایک ٹوبہ ہوا کرتا تھا۔ اس پر ادھر اُدھر کے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاتے تھے۔ خود ان کے لئے وہاں پانی کا کوئی بندوبست نہیں تھا۔ یہ علاقہ ابھی آباد نہیں ہوا تھا۔ ایک درویش منش بوڑھا ٹیک سنگھ اس ٹوبہ کے کنارے آبیٹھا۔ وہاں اس نے جھگی ڈالی اور رہنا شروع کر

Read more

زوال میں کمال کے چند جزیرے ممکن نہیں

کہیں ایک بڈھا بڑ بڑا رہا تھا۔ اے خدا !کچھ اپنے سسٹم کی بھی اصلاح کر لے۔ تو جوڑے بنا کر آسمانوں پر آرام سے بیٹھ رہا ہے ۔ یہاں کڑی منڈے کے غریب والدین کو ان کا جوڑ میل کروانے میں بڑی خجل خواری ہے ۔اس بوڑھے کو چھوڑیں ۔کالم نگار کی یہ مجال نہیں کہ وہ نظام کبریا پر معترض ہو۔ البتہ وہ اپنی ”کار سرکار“ میں کڑھنے اور رونے دھونے کا حق ضرور رکھتا ہے ۔شاید ہماری

Read more

جسے میں چاند سمجھا تھا وہ جگنو بھی نہیں نکلا

سب سے بڑا خواب عام آدمیوں کی زندگی میں تبدیلی کا خواب ہے۔ ”اخوت “ بھی تبدیلی کا ایک خواب ہے۔ یہ خواب ڈاکٹر امجد ثاقب نے دیکھا تھا۔ شعیب بن عزیز شاعر ہیں۔ انہوں نے ایک خواب دیکھا۔سو دیکھ لیا۔ قصہ ختم۔ اب آنکھ لگے یا نہ لگے اپنی بلا سے اک خواب ضروری تھا سو وہ دیکھ لیا ہے لیکن ڈاکٹر امجد ثاقب شاعر نہیں تھے۔وہ سندھ ہاری رپورٹ لکھنے والے مسعود کھدر پوش کی طرح اک انقلابی

Read more

شہزاد نیئر کی ”خوابشار“

برسوں پہلے شہزاد نیئر کو پہلی مرتبہ اپنے شہر گوجرانوالہ میں سننے کا موقع ملا۔ سچی بات ہے کہ اس محفل میں انہوں نے اپنی نظم ”سیاچین“ سنا کر کالم نگار سمیت سبھی سننے والوں کو مبہوت کر کے رکھ دیا تھا۔ اس نظم میں سیاچین گلیشیئر کی ٹھٹھرتی بلندیوں کی ساری ٹھنڈک اور ویرانی موجود تھی۔ یہ ٹھنڈک اور ویرانی سننے والوں کو اپنے رگ و پے اور دل و دماغ میں اترتی محسوس ہوئی تھی۔ پوری نظم کالم

Read more

اخبار نویس کا گھر اور گوجرانوالہ کے ٹھگ

ایک اخبار نویس نے لاہور کے پوش علاقہ میں ایک گھر بنایا۔ نئے گھر کی خوشی میں اس نے ایک ضیافت کا اہتمام کیا۔ وہاں صاحب خانہ ہر مہمان کو ایک کہانی پوری تفصیل سے سنا رہے تھے۔ ”میں یہ گھر کیسے بنانے میں کامیاب ہوا؟“۔ اس کی کہانی وزیر اعلیٰ پنجاب حنیف رامے کے شاعروں، ادیبوں اور صحافیوں کے کوٹہ سے دیئے ہوئے دس مرلہ کے رہائشی پلاٹ سے شروع ہوتی تھی۔ کہانی ہاﺅس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے قرضے

Read more

جمہوریت سے عشق اور نیب کا ہانکا

کالم نگار وجاہت مسعود جمہوریت پسند نہیں جمہوریت پرست ہیں۔ پرستش میں سرے سے پرسش کا کوئی باب نہیں ہوتا۔ اسی باعث موصوف سیاستدانوں کو کئی خون معاف کرنے کوتلے رہتے ہیں۔ مالی کرپشن ہمارے سیاستدانوں کے جرائم میں سرفہرست ہے۔ ہمارا مہلک ترین قومی مرض بھی یہی ہے۔ آئینے کی طرح صاف شفاف وجاہت مسعود آئینے کی طرح ہی ظاہر بین پائے گئے ہیں۔ آئینے کو کیا خبر اس بھید کی ایک چہرہ جسم کے اندر بھی ہے حالانکہ

Read more

وزیر اعظم کن سے مشورہ کرتے ہیں؟

ایک تصویر میں ناصر بشیر اور وصی شاہ لائٹر کے ایک شعلے سے اپنا اپنا سگریٹ سلگا رہے ہیں۔ یہ دونوں عمر چور شاعر بچے سے دکھائی دے رہے ہیں۔ معصومیت ان کے چہروں سے ٹپک رہی ہے۔ انہیں دیکھ کر کالم نگار کو بہت کچھ یاد آگیا۔ 1965سے 1995 کے عرصے تک کالم نگار نے جی بھر کے سگریٹ پئے ہیں۔ اختر شیرانی نے کہا تھا۔ حد ہے پینے کی کہ خود پیر مغاں کہتا ہے اس بری طرح

Read more

کج امید اے زندگی مل جائے گی

گوجرانوالہ میں ہر برادری نے رفاہی ہسپتال بنا رکھے ہیں۔ ایک ایسے ہی ہسپتال کی تعمیر شروع کرنے کے لئے اس برادری کے معززین چندہ اکٹھا کرنے کی مہم پر نکلے ہوئے تھے۔ یہ قافلہ اپنی برادری کے ایک امیر کبیر شخص کے ہاں جا رکا۔ اس بندے کی شہرت ایک تنگ دل اور کنجوس آدمی کی تھی۔ اس سے چندہ کی اپیل کی گئی۔ چندہ دینے کی بجائے اس نے یہ سوال اٹھایا کہ ہسپتال کی تعمیر کرنا سرے

Read more

مراد سعید بھی ڈاکٹر بابر اعوان کے نقش قدم پر

مرا د سعید کی تقریر سنتے ہوئے بلوچستان کے علی احمد کرد یاد آجاتے ہیں۔ وہی جو ش و جذبہ، وہی لفظ لفظ میں زندگی، وہی بجلی کی سی گرج کڑک۔ دونوں کی تقریر کا ایک ہی آہنگ ہے۔ سنبھلو، جھپٹو، اٹھو، دوڑو اور لو وہ ٹوٹی زنجیریں۔ دونوں ہی مجمع کو آگ لگانا جانتے ہیں۔ علی احمد کرد وکلا سیاست کی راہ سے شہرت کی بلندیوں تک پہنچے۔ مراد سعید نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز طلبا سیاست سے

Read more

بوٹی کے بغیر بریانی کی پلیٹ

چند برس پہلے شعیب بن عزیز نے کہا تھا۔  عشاق خالی ہاتھ ہی لندن سے لوٹ آئے   زار ا پہ سیل تھی نہ سپنسر پہ سیل تھی پچھلے دنوں شعیب سنگا پور اپنی بیٹی کے ہاں پہنچے۔ وہاں سے یہ کشادہ دست خالی ہاتھ نہ لوٹے۔ ہاں خالی جیب ضرور لوٹے ہونگے کہ وہ صرف کالم نگار کے بیٹے بیرسٹر وقاص فاروق کے لئے ہی زارا کی ایک بڑھیا جیکٹ لے آئے۔ پھر لاہور اس شاعر کے دوستوں سے

Read more

کرپشن اور بے شرمی کی حد تک بے پناہ کرپشن

’ عشق‘ علامہ اقبالؒ کے کلام میں ایک مرکزی مضمون ہے۔ سنئیے۔ اگر ہو عشق تو ہے کفر بھی مسلمانی نہ ہو تو مرد مسلماں بھی کافر و زندیق جوش ملیح آبادی کو اس پر اعتراض ہے کہ قرآن پاک میں تلقین عشق کی نہیں، محبت کی ہے۔ خیر اندیشی، دوست داری اور صلح رحمی کی تلقین ہے نہ کہ قیس اور فرہاد کے جنونی حال کی۔ اس طرح سونامی اس سمندری طوفان کو کہتے ہیں جس میں خوشگوار تبدیلی

Read more

غلام فریدا میں مر گئی آں

پھل، مکھن، گوشت، سبزیوں کی طرح تعلیم بھی غریبوں کی زندگی سے نکال لی گئی ہے۔ تعلیم منڈی میں پہنچا دی گئی ہے۔ وہی خریدے گا جس کی گرہ میں مال ہوگا۔ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ ایک مہنگے تعلیمی ادارے کے نمائندے نے کہا۔ ” اگر آپ کے خیال میں تعلیم مہنگی ہے تو جہالت آزما کر دیکھ لیں“۔ اب انہیں کون بتائے کہ مہنگی سستی ہونے کا مسئلہ نہیں۔ تعلیم حاصل کرنا ہر شہری کا حق

Read more

اب قبر بھی عیاشی میں شمار ہوتی ہے

سید قطب شہید بیسویں صدی کے دو تین بڑے مسلم سکالروں میں سے ہیں۔ ان کی تفسیر اور تحریروں نے عرب دنیا میں ایک تہلکہ مچا رکھا تھا۔ مصر کے صدر جمال ناصر کے دور میں اخوان المسلمون کے اس رہنما کو پھانسی کا حکم سنایا گیا۔ پھر جس بے خوفی سے یہ سوٹڈبوٹڈ عالم دین اپنے قدموں پر چل کر فائرنگ اسکواڈ کے سامنے جا کھڑے ہوئے، وہ کچھ اللہ والوں سے ہی خاص ہے۔                 تیرے خوش پوش

Read more

حکمرانوں کے ”بچے سقے“ اور نعشوں کی بے حرمتی

ملزم کو پھانسی کا پھندا پورا نہیں آرہا تھا۔ دربار سے دوبارہ رابطے پر حکم پہنچا۔ ”شاہی حکم کی تعمیل لازم ہے۔ پھانسی چڑھانے کے لئے کوئی اور بندہ ڈھونڈ لیا جائے“۔ ایک اور بندہ ڈھونڈ کر مہاراجہ کے حضور لایا گیا۔ نو گرفتار پوچھنے لگا۔ ”میرا قصور کیا ہے؟ میں بے گناہ ہوں“۔ اسے بتایا گیا۔ ” مہاراجہ گنہگار کی طرح کسی بے گناہ کو بھی پھانسی دینے کا پورا اختیار رکھتے ہیں“۔ مطلق العنان بادشاہت اسی کا نام

Read more

غمزدہ کائرہ کیلئے دعائے صبر

گاڑی ”بے آب دریا“ چناب کے پل سے گزر رہی تھی۔ کالم نگار اس زمانے میں پہنچ گیا جب دریا سے پانی سنبھالا نہیں جاتا تھااور اس کے کنارے پر کھڑی سسی گلہ گزار تھی۔ ’پار چناواں توں کیوں ڈیرہ لا لیا او مجیں والیا ‘۔ سرائیکی زبان کے شاعر اسلم جاوید نے پنجاب کی سب سے بڑی سچائی اپنی کتاب کے نام میں سمو دی ہے۔ ’میکوں آکھ نہ پنج دریائی‘۔ آج ہمارے پنجاب میں پانچ دریا کہاں ہیں؟

Read more

صاف پانی اور گورنر پنجاب کا مال پانی

درختوں سے پتے خزاں میں گرتے ہیں۔ نظروں سے گرنے کا کوئی موسم نہیں۔ تو کیا گورنر پنجاب بھی…؟ ویسے نئے گورنر پنجاب کے لئے رائے عزیز اللہ اور اسحاق خاں خاکوانی کے نام سننے میں آرہے ہیں۔ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آنے والے چار ماہ کے دوران جانے والے ہیں۔ جاوید ہاشمی پر کرپشن کا کوئی خاص الزام نہیں۔ ان کے خلاف نیب میں

Read more

عمران خان کا آئینی ترمیم کا شوق

فیض اپنی پنجابی نظم میں اللہ میاں سے یوں گلہ گزار ہیں :’’ربّا سچیا توں سے آکھیا سی ‘ جا اوئے بندیا جگ دا شاہ ایں تو‘‘۔ پھر اسی مضمون کو سائیں اختر لہوری نے یوں مکمل کیا:’’اللہ میاں تھلے آ‘ اپنی دنیا ویہندا جا‘‘۔ اک روز یہی سائیں اختر لہوری چندہ برائے تعمیر مسجد والی صندوقچی دیکھ کر بول اٹھے تھے :’’مینوں گھر تے دے نئیں سکیا‘ اپنا گھر تے آپ بنا ‘‘۔ شاعری شاعروں کی اللہ میاں سے

Read more

اپنے سوہنے رب سے ملاقات

کالم نگار کی تاریخ پیدائش بزرگوں نے 29 فروری 1948 بتائی۔ ان دنوں بٹوارے کو ابھی صرف چھ ماہ ہوئے تھے۔ لوگ ابھی اتنے سنبھلے کہاں تھے کہ ایک مہاجر کنبہ اپنے بچے کی تاریخ پیدائش یاد رکھتا۔ لیپ کا سال تھا اور فروری کی 29 تاریخ، اسی لئے انہیں صحیح تاریخ یاد رہ گئی ہوگی۔ بہر حال کالم نگار امسال فروری ختم ہونے پر بہترویں برس میں داخل ہو گیا ہے۔ فیس بک پر ہمارے مرشد پروفیسر فضل حسین

Read more

عمران خان کی تبدیلی میں نیا کیا ہے؟

اندھیر نگری چوپٹ راج۔ پڑھتے جائیے اور سر پیٹتے جائیے۔ گذشتہ پندرہ برسوں میں ملک بھر میں پاکستان ریلوے کی زمین 33مختلف مقامات پر پٹرول پمپوں کے لئے گیارہ ارب اٹھائیس کروڑ اور چوہتر لاکھ روپوں کے عوض سرکاری چہیتوں کو لیز پر دی گئی۔ 33سال کیلئے لیز پر دی گئی اس اراضی کی کل قیمت میں سے ابھی تک صرف نوے کروڑ اور پچپن لاکھ روپے وصول کئے جا سکے ہیں۔ یعنی سوا گیارہ ارب سے زائد رقم میں

Read more

گورنر چوہدری سرور، ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ڈپٹی کمشنر اور کوٹلی مقبرہ، گوجرانوالہ

  دلیل ہر بندے کے پاس ضرور ہوتی ہے۔ ابن انشا روایت کرتے ہیں۔ بغل میں چھری لئے ایک صاحب اپنی چھری کی یوں وضاحت پیش کرنے لگے۔ "ہمارا خیال تھا کہ ہمارے علیل دوست کے پاس تیمار داروں کا لایا ہوا وافر پھل فروٹ تو ہوگا ہی۔ اسی لئے ہم اس کی عیادت کو گئے، چھری ہمراہ لیتے گئے۔” اب اگر برطانیہ میں بزعم خود صرا ط مستقیم والی سیاست کرتے ہوئے گورنر چوہدری محمد سرور پاکستان پہنچ کر

Read more

اوکاڑہ کے سیاسی کارکن رانا محمد اظہر کی یاد داشتیں

  وہ زمانہ نہیں رہا جب ملازم بچوں کو بھولپن میں کہنا پڑتا تھا کہ صاحب کہتے ہیں، میں گھر پر نہیں ہوں۔ اب دروازے کی کال بیل کی بجائے سیل فون کا زمانہ ہے۔ لیکن مزے کی بات ہے کہ سیل فون سے رابطہ کرنے پر ویسا ہی جواب ملتا ہے، میں میٹنگ میں ہوں۔ حنا جمشید ساہیوال ڈگری کالج میں اردو ادبیات پڑھاتی ہیں۔ کالم نگار ان سے ملا تو نہیں۔ ان کی کچھ تصویریں اورتحریریں ضروردیکھی ہیں۔

Read more

رحمان فارس کی ”عشق بخیر“

شاعر سعد اللہ شاہ کہیں سے عمران خان کیلئے یہ نیک مشورہ ڈھونڈ لائے ہیں ۔ان کے مطابق عمران خان کو چاہئے کہ وہ جتنا وقت ورزش میں گزارتے ہیں اتنا وقت مطالعہ کیلئے بھی نکالیں۔ یہ مشورہ عمران خان تک پہنچتا ہے یا نہیں ؟ پھر وہ اسے مانتے بھی ہیں یا نہیں ؟ اسے چھوڑیں ، کالم نگار اپنے آج کے کالم میں ایک شاعر اور اس کی کتاب کو لے آئے ہیں۔ رحمان فارس ہماری نوجوان نسل

Read more

جناح ہاﺅس سے چیئرمین سیکرٹریٹ تک

کسی خوش چہرہ سے سیالکوٹی نوجوان کو دیکھ کرفلم ”چن وے “ میں گایا ہوا ملکہ ترنم کایہ گانا ضرور یاد آجاتا ہے۔ ”تیرے مکھڑے دا کالا کالا تِل وے۔ میرا کڈھ کے لَے گیا دل وے۔ وے منڈیا سیالکوٹیا“۔ کالم نگار پی ٹی آئی کے لاہور چیئرمین سیکرٹریٹ میں بیٹھا سیالکوٹ سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی سنٹرل پنجاب کے صدر عمر ڈار کا معصوم چہرہ تک رہا تھا۔ وہاں کوئی تِل نہیں تھا جو دکھائی دیتا۔ البتہ

Read more

کیا وکلا پاس ہو گئے ہیں؟

سیشن کورٹ گوجرانوالہ میں نئی بلڈنگ کی افتتاحی تقریب تھی۔ سینئر سول جج کے کمرہ عدالت میں مٹھائی سے لدی پھندی میز کے گرد سیشن جج ریاض الحسن علوی اپنی عدلیہ اور کچھ وکلا ءسمیت موجود تھے۔ کالم نگار نے سیشن جج سے عرض کی۔ حضور! یہاں لڈو پیڑوں کی وافر موجودگی سے عدلیہ کے پاس ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ کیا ججز واقعی پاس ہو گئے ہیں؟ ابھی تک اس سوال کا جواب نہیں آیا کہ اک اور سوال

Read more

عمران خان اور پولیس آفیسر ذوالفقار احمد چیمہ

ریٹائرڈ بیورو کریٹ عابد سعید کی بیٹی کی شادی کی تقریب تھی۔ وہاں ایک شخص نیاز مندی اور قدرے تفاخر کے ملے جلے جذبات میں لیجنڈ پولیس آفیسر ذوالفقار احمد چیمہ سے کہنے لگا۔ ’سر!میرا بیٹا فلاں ضلع میں ایڈیشنل سیشن جج مقرر ہو گیا ہے۔ آپ کا بچہ ہے۔ آپ اسے بلا دھڑک ’حکم احکام‘ بھجوا سکتے ہیں ‘۔ ذوالفقار احمد چیمہ چونک کر بولے۔ ’لیکن میں عمر بھر کسی جوڈیشل افسر کو کبھی سفارش کا سوچ بھی نہیں

Read more

نئے پاکستان میں قبضہ گروپوں کی نئی فہرست سازی

غلام حسین پارک جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے کونے میں ایک پٹرول پمپ ہوا کرتا تھا۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ کیا اسی پمپ کی وجہ سے اوور ہیڈ برج چھوٹا نہیں رہ گیا تھا ؟ ہاں بھئی ! رہ گیا تھا۔ اب بات پرانی ہو گئی۔ اب آپ یہ کہے بنا بھی نہیں رہیں گے کہ 1986 سے اس پمپ کی اراضی کی لیز کی کوئی منظوری نہیں تھی، گویا اس وقت سے غیر قانونی۔ ہاں یہ بھی ٹھیک

Read more

مولانا ابو الاعلیٰ مودودی، جماعت اسلامی اور حسین مودودی

”جب ہمارے والد صاحب نے جماعت اسلامی بنانے کا ارادہ باندھا تو مولانا ابو الکلام آزاد نے اس کا مینی فیسٹو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔  چنانچہ مولانا عبدالسلام نیازی کے ترکمان گیٹ دلی والے حجرے میں انہوں نے فراہم کردہ مینی فیسٹو کا بغور مطالعہ کیا اور پھر ٹھنڈی آہ بھر کر کہا۔ ‘ ’ابو الاعلیٰ!  اخلاص نیت کے باوجود اس مینی فیسٹو کی روشنی میں جو جماعت معرض وجود میں آئے گی وہ ایک فاشسٹ جماعت ہوگی۔

Read more

گورنر پنجاب: برادری ازم سے دوست نوازی تک

ووٹ کا حق ہر بالغ کو مل جاتا ہے۔ بات سمجھنے کیلئے ذہنی بلوغت چاہئے۔ کھڑی شریف کے عارف ”خاصاں دی گل عاماں اگے“ کہنے کو اسی لئے مناسب نہیں سمجھتے تھے۔ ہم ابھی تک برادریوں کے چنگل سے باہر نہیں نکل سکے۔ پھر اس چنگل میں گرفتارہمارا ذہن برادری ازم کے خلاف کوئی معقول بات سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کرتا۔ 1934ءمیں لاہور اچھرہ میں امیدوار صوبائی اسمبلی حکیم الامت علامہ اقبالؒ سے ایک ووٹر نے پوچھا تھا۔ ”

Read more

کرایے دار مرنے سے باز رہیں

بے گھروں کیلئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر شروع ہونے والی ہے۔ ہر برس دس لاکھ گھر تعمیر کئے جائیں گے۔ نئی حکومت بے گھر افراد کو گھروں کی فراہمی کے وعدے کی تکمیل کیلئے پرعزم ہے۔ پڑوسی ملک ہندوستان سے ناول نگار ارون دتی رائے نے اپنے ایک ناول کا انتساب ”جن کا دکھ نہیں بانٹا گیا “ کے نام کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا دکھ بانٹنے والی نہیں۔ ان گھروں کی تعمیر میں

Read more

جب تعیناتی سے قبل چیف جسٹس سے بطور ضمانت استعفیٰ مانگا گیا

جسٹس فخر النسا مجھے چہرے بشرے سے پہلے ہی ملتان سے زیادہ گوجرانوالہ کی رہنے والی لگتی تھیں۔ ان کی تازہ کتاب ”وکالت عدالت اور ایوان تک“ میں لکھے ہوئے ایک واقعہ نے میرے اس شبے کو مزید تقویت پہنچائی ہے۔ ان دنوں جسٹس فخر النسا  یونیورسٹی لاءکالج لاہور میں پڑھتی تھیں اور فرح بی بی کہلواتی تھیں۔ ایک شام گراﺅنڈ سے کھیل کر ہاسٹل پہنچیں تو بھوک سے نڈھال ہو رہی تھیں۔ کھانے کی انچارج اماں جی کو گوشت

Read more

یہ سول بالا دستی کی جنگ نہیں ہے

مارشل لاء مہذ ب انسانوں اور قوموں نے کبھی براداشت نہیں کیا۔ حضرت مجید نظامی کا فرمان ہے کہ مارشل لاء نہ ہی کوئی قانون ہوتا ہے اور نہ مارشل لاء کورٹ کوئی عدالت۔ پاکستان میں مارشل لاء ایوب خاں نے لگایا۔ اس کی دہشت اور دبدبہ کچھ زیادہ ہی تھا۔ ملک بھر میں اک سکوت مرگ طاری ہو گیا۔ حبیب جالب کے لفظوں میں ’خوف کے مارے پتہ بھی نہیں ہلتا تھا۔ ان کڑے دنوں میں جسٹس ایم آر

Read more

تحریک انصاف اور جہانگیر ترین کا ’’مال پانی‘‘

بہت سے سوالات ہمیشہ جواب طلب رہتے ہیں۔ یہ جناب شیخ کا فلسفہ میری سمجھ میں نہ آ سکا جو وہاں پیو تو حلال ہے جو یہاں پیو تو حرام ہے یہ سوال بھی کچھ ایسا ویسا ہی ہے۔ اگر سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلہ سے میاں نواز شریف تاحیات نااہل قرار پاتے ہیں تو پھر اسی سپریم کورٹ کے فیصلہ سے جہانگیر ترین تاحیات نا اہل کیوں نہیں سمجھے جاتے؟ آپ کیا فرماتے ہیں اس سوال کے جواب

Read more