اردو بازار گوجرانوالہ کے شروع میں جہاں ان دنوں فائر بریگیڈ اسٹیشن ہے وہاں ایک چٹیل میدان ہوا کرتا تھا۔ اس میدان کے ایک جانب مولانا محمد اسماعیل سلفی کی مسجد تھی اور دوسری جانب سوختنی لکڑی کا ٹال۔ پاکستان میں اس وقت ابھی سوئی گیس دریافت نہیں ہوئی تھی۔ سوئی گیس کی بدولت جلانے والی لکڑی کے ٹال ختم ہو گئے ہیں۔ اب اس میدان میں لکڑی کا ٹال نہیں رہا۔ البتہ مسجد موجود ہے۔ سڑک پار اک دار المطالعہ تھا۔ یہاں سبھی اخبارات اور رسائل پڑھنے کے لئے میسر رہتے۔
ایک بڑے سے کمرے میں اک بڑی ساری میز کے ارد گرد کرسیوں پر بیٹھے بہت سے لوگ مطالعہ میں مصروف دکھائی دیتے۔ ان دنوں ابھی کتابوں، رسالوں، اخباروں کے رقیب پیدا نہیں ہوئے تھے۔ یہ ٹی وی اور فیس بک سے پہلے کا زمانہ تھا۔ اب یہ دار المطالعہ بھی نہیں رہا۔ وہ فرصت کا زمانہ تھا اور وقت لوگوں کے پاس وافر۔ ہوٹل، قہوہ خانے، چوپال آباد تھے۔ لوگ اک دوسرے کے دکھ درد میں شریک رہتے۔ اسی زمانہ کی روئداد فیض کی زبانی سنیے۔
Read more