مریم نواز الیکشن میں مسلم لیگ نواز کیلئے "ایکس فیکٹر” ہیں
اب صورتحال کچھ یوں ہے کہ نواز شریف کی جانشین قدرتی طور پر مریم نواز بن چکی ہیں۔ ان کے مقابل حمزہ شہباز گو انتخابی سیاست کی جوڑ توڑ کے ماہر تصور کئیے جاتے ہیں لیکن ان کا انداز سیاست موجودہ دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ حمزہ شہباز شاید قدامت پسند اور کم پڑھے لکھے ووٹ بینک کو تو متاثر کر سکتے ہیں لیکن پڑھے لکھے ووٹ بنک یا نوجوانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کی صلاحیتوں کا ان میں فقدان نظر آتا ہے۔ اس کی مثال کچھ ایسے ہی ہے جیسے شہباز شریف اپنی تمام تر اچھی کاوشوں اور محنت کے باوجود بھی آج تک ایک لیڈر کے طور پر ابھر کر سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ یعنی شہباز شریف دہائیایں گزر جانے کے باوجود بھی اس پوزیشن پر نہیں آ سکے جہاں کارکن یا ووٹر انہیں بلا چون چرا نواز شریف کا جانشین سمجھ لیں۔ اس کے برعکس مریم نواز چند برسوں ہی میں ووٹرز, کارکن حتی کہ مخالفین تک کو یہ باور کروانے میں کامیاب ہو چکی ہیں کہ نواز شریف کی جانشین وہ ہیں۔
اس وقت لاہور اور دیہی پنجاب سے مریم نواز کی شدید مخالفت جماعت کے اندر موجود تو ہے لیکن ایسا کوئی فارمولا کسی کے پاس بھی نہیں ہے کہ جس کو لاگو کر کے مریم نواز کو روکا جا سکے۔ نواز شریف اس وقت قطعا روایتی سیاست کرنے کے موڈ میں نظر نہیں آتے۔ اس وقت تک مریم نواز کو جو فری ہینڈ ملا ہوا ہے وہ بھی نواز شریف کی وجہ سے ہے جس کا مطلب صاف اور واضح ہے کہ نواز شریف اپنے سیاسی جانشین کے طور پر مریم نواز کو منتخب کر چکے ہیں۔ مریم نواز اس وقت بھی عملی طور پر پارٹی کو لیڈ کر رہی ہیں۔ ان کی سیاست کا مزاج وقتی طور پر روایتی مسلم لیگ کے طاقت کے حصول کیلئے ایسٹیبلیشمنٹ کے تلوے چاٹنے والا نہیں ہے۔ مریم نواز کی پارٹی امور پر گرفت کا شاید وقتی طور پر تو مسلم لیگ نون کو نقصان ہو گا لیکن آگے چل کر یہی انداز سیاست ان کی جماعت کی سیاسی فتح کا باعث بنے گا۔
وقتی طور پر شاید مریم اور ان کے والد کی ایسٹیبلیشمنٹ مخالف پالیسی کی وجہ سے بہت سے ایسے پارٹی ممبران اڑان بھر جائیں گے جن کی سیاست کا مقصد صرف طاقت کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنا ہوتا ہے لیکن آنے والے وقتوں میں مسلم لیگ نون ایک نظریاتی اور اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ جماعت بن کر ابھرے گی۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز شاید پرانی تنخواہ پر ہی کام کرنے کو ترجیح دینا چاہتے ہیں اور کم سے کم پنجاب کی صوبائی حکومت کو ایسٹیبلیشمنٹ سے ڈیل کر کے اہنے پاس دوبارہ رکھنا چاہتے ہیں لیکن مریم نواز شاید اس پر راضی نہیں ہیں۔ یہ انفرونی اختلاف کس کو کمزور کرے گا اس ضمن میں بینظیر بھٹو کے انداز سیاست سے اختلاف کرنے والے ان کے چچا ممتاز بھٹو کی مثال موجود ہے اور ان کا سیاسی انجام سب کے سامنے ہے۔
مریم نواز کی سیاست کا انداز بھی بینظیر کی مانند ہے اور ان کے والد بھی ذوالفقار بھٹو کی مانند اس وقت ایسٹیبلیشمنٹ کے شکنجے میں ہیں۔ کیا مریم نواز مستقبل کی بینظیر ثابت ہوں گی اس کا جواب آنے والا وقت دے گا۔ البتہ عصر حاضر کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ان کے انداز سیاست نے انہیں مسلم لیگ نون میں نواز شریف کا جانشین بنا دیا ہے اور مسلم لیگ نواز کا ووٹر ذہنی طور پر مریم نواز کو نواز شریف کے جانشین کے طور پر قبول بھی کر چکا ہے۔ آئندہ منعقد ہونے والے عام انتخابات سے پہلے اگر مریم نواز کو پابند سلاسل نہ کیا گیا اور پس ہشت قوتوں کی مخالفت کے باوجود اگر انہیں مسلم لیگ نواز کی انتخابی مہم چلانے کی اجازت مل گئی تو مریم نواز مسلم لیگ نواز کیلئے انتخابات میں "ایکس فیکٹر” کا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
شہباز شریف کی زیر قیادت مسلم لیگ نون اور ان کی زیر قیادت انتخابی مہم میں اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ پرو ایسٹبلیشمنٹ بیانیہ کے ساتھ انتخابی میدان میں مسلم لیگ نون کو فتح سے دوچار کروا سکیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف پر مبنی ایک مخلوط حکومت تشکیل دیکر شاہ محمود قریشی یا پھر کسی گمنام سیاستدان کو وزارت عظمی کے عہدے پر فائز کرنے کا منصوبہ بنا چکی ہیں۔ ایسے میں مسلم لیگ نواز کے پاس بچاو یا انتخابات میں کم سے کم نقصان کی واحد آپشن مریم نواز کی جارحانہ اینٹی ایسٹیبلیشمنٹ سیاست اور بیانیہ ہی بچتا ہے۔ اگر مریم اسی انداز میں اپنے بیانیے کو ہنجاب میں انتخانی مہم کے دوران ووٹرز تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئی تو شاید مسلم لیگ نواز ایسٹیبلیشمنٹ کی توقعات کے برعکس مرکز اور ہنجاب میں ایک بار پھر کامیابی حاصل کر کے حکومتیں بنا لے گی۔
مسلم لیگ نواز کے اس "ایکس فیکٹر” مریم نواز کو کیا ان کے چچا شہباز شریف کھل کر انتخابی مہم لیڈ کرنے دیں گے یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے۔ فی الحال تو چوہدری نثار کے ذریعے شہباز شریف نے کھل کھلا کر مریم نواز کی سیاسی حکمت عملی اور ان کو نواز شریف کا جانشین تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب پس پشت قوتوں کی بھی یہی کوشش ہے کہ کسی بھی قیمت پر مریم نواز کو عدالتی فیصلے کے ذریعے پانامہ کیس میں پابند سلاسل کیا جا سکے تا کہ مریم نواز مسلم لیگ نواز کی انتخابی مہم کو نواز شریف کی عدم موجودگی میں لیڈ نہ کر سکیں۔ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے پاس جیتنے کی واحد آپشن مریم نواز کا انتخابی مہم کو لیڈ کرنا ہے۔ یہ وہ "ایکس فیکٹر” ہے جس کو لیکر پس پشت قوتیں اور سیاسی مخالفین پریشانی کا شکار نظر آتے ہیں۔




