نیوز چینلز کی یہ خبریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں جب نجی چینلز کی بھرمار ہوئی توہم اس سے قبل انٹرنیشنل خبروں کے لئے بی بی سی اردو ریڈیو تہران ریڈیو اور پریس ٹی وی ویب وغیرہ سے عالمی خبریں جاننے کی تلاش کرتے تھے ۔اتنے سارے نیوز چینل آ رہے ہیں یہ خبر سنی تو خوشی ہوئی کہ اب عالمی حالات اور خبریں مجھے اردو چینلز سے سننے اور دیکھنے کو مل جائیں گی۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سے چینلز آئے۔ کوئی نیوز کے نام پر، ڈرامہ، سپورٹس اور کھانے اور اسلامی چینلز بھی ۔جب ان پر خبریں آن ائیر ہونے کا وقت آیا تو مجھے کھمبے پر نشئی کے چڑھنے کی خبر بریکنگ نیوز سننے کو ملی یا خبر ملتی ہے یا عمران خان نے شادی کر لی ہے۔۔لیکن میں یہ خبریں نہیں سننا چاہتاتھا مجھے تو ادبی علمی پروگرام ،بچوں کی تربیت کے بارے چینل اور دنیا میں ہونے حقیقی واقعات کیا ہیں کو دیکھنا یا سنا تھا ۔یہا ں تو صورتحال برعکس تھی۔
شام کو ایک اینکر چار مخالف سیاستدانوں کو لے کر بیٹھ جاتا ہے اوردیکھنے والوں کو مزید کنفیوز کردیتا ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق %97 لوگ انٹرٹینمٹ چینل دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ باقی تین فیصد افراد نیوز چینل دیکھنے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اس لئے ریموٹ کا بٹن ایسے چینل پر رکتا ہے جہاں پر ایک ہی خبر کو دلچسپ طریقہ سے دکھایا جا رہا ہوتا ہے۔ کیونکہ دیکھنے والا ان سب چیزوں کا عادی ہو چکا ہوتا ہے۔ لیکن وہ اس بات سے لاعلم ہوتا ہے کہ اسے مشاہدہ جیسی صلاحیت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ دور حاضر میں ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھا ہر شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ آج دن بھر کیا ہوا اور اس پر کیا تجزیات ہیں۔ اس بنیاد پر ناظرین اپنی ایک رائے قائم کرتے ہیں۔ اس لئے ٹیلی ویژن پر ایک پلاننگ کے ساتھ ایسا کچھ دکھایا جاتا ہے۔ جس سے کسی بھی شخص کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ اس کا انحصار ٹاک شوز ہوتے ہیں۔ دن بھر ایسی خبروں کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کیا جاتا ہے جن میں خبریت کا کوئی عنصر نہیں ہوتا ہے۔ چھوٹی اور معمولی خبروں کو بڑی خبر بنا کر پیش کرنے کے عمل سے ناظرین کے سوچنے کا عمل کم پڑتا جاتا ہے۔مجھے کبھی حیرت ہوتی ہے جب ٹی وی پر بریکنگ نیوز آتی ہے کہ پی ٹی آئی نے ناصر کھوسہ کا نام واپس لے لیا ہے تو عام عوام کے لئے یہ بھی خبر بھی حیرت انگیز اور واقعی بریکنگ نیوز ہوتی ہے جو فوری طور پر سوشل میڈیا پر سٹیٹس کے طور پر جاری کر دی جاتی ہے ۔بالکل ایسے ہی ٹیلی ویژن کے آگے گھنٹوں نیوز اینکروں کی طرف سے ٹھونسے جانے والے تجزیات کو قبول کرنے اور ان کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرنے میں مشغول کیا جارہا ہوتا ہے۔ اسی لئے معاشرہ ایسی سوچ کے افراد کا مجموعہ بن جاتا ہے جو سماج کے حالات کو بدل نہیں سکتے اور حکمرانوں کو قدرت کا فیصلہ سمجھتے ہوئے قبول کرلیتے ہیں۔ جس معاشرہ میں آزادانہ سوچنے کی صلاحیت چھین لی جائے تو وہ معاشرہ کیونکر ترقی کرے گا؟
آئے روز کوئی نیا چینل کسی نئے دلفریب نعرے کے ساتھ نعرے کے ساتھ لانچ ہوتا ہے ۔کسی چینل کی آمد کے ساتھ مجھے کوئی خوش فہمی نہیں ہوتی کہ آگے کی سو چ لارہا ہے یا ہر خبر پر نظر رکھے گا وہی خبریں ہوگی اور وہی ایجنڈا کہ ہر عام سی بات کو بریکنگ نیوز بنا کر حقیقی خبروں اور اصلی ہدف سے قوم کو دور کر دیا جائے۔ پاکستان میں صحافت آزاد ہے؟ ہرگز نہیں ۔۔۔تو میں یہ کہنا چاہتا ہوں ہمارے نیوز چینل معلومات میں اضافہ تو کر رہے ہیں لیکن قوم کی شعوری سطح میں اضافہ کے لئے کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔یہ ہوگا بھی تو کیسے بقول مبشر زیدی، اوریا مقبول جان جیسے یک رخے، زید حامد جیسے یاوہ گو، عامر لیاقت جیسے بھانڈ، مبشر لقمان جیسے مبالغہ فروش اور شاہد مسعود جیسے نفسیاتی مریضوں کو سن کر قوم کا شعور کتنا بلند ہوسکتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).