آپ کو حلال اور ہمیں حرام؟
کچھ لوگ زندگی میں زندگی حرام کرنے آتے ہیں ایسے لوگوں کو حلال کرنے کا دل تو بہت چاہتا ہے لیکن چلیں جانے دیں۔ کیا کبھی آپ نے بلڈ پریشر کو انسانی روپ میں دیکھا یا سر درد سے آپ کی ملاقات ہوئی ؟ نہیں واہ بہت خوش قسمت ہیں آپ۔
ہماری ایک پیاری دوست جو اپنے تئیں ہمیں ناقابل اصلاح سمجھے بیٹھی ہیں، وقتاً فوقتاً موقع بلا موقع ہماری اصلاح کرنے کی کوشش میں جتی رہتی ہیں یہ اور بات کہ ہماری ناقص رائے میں انھیں خود اصلاح کی شدید ضرورت ہے لیکن دوستی پر آنچ آنے کے خوف سے ہم انھیں یہ کہتے ڈرتے ہیں کہ بہن آپ جو اچھا سمجھتی ہیں کریں لیکن اپنی خود ساختہ اچھائی کی حد ہم پر نافذ نہ کریں۔ ہمیں دنیا میں آزاد پیدا کیا گیا تھا۔ یہ دنیا ہم اپنی آنکھوں سے آزادانہ دیکھنے چاہتے ہیں، ہمیں ہمارے طریقے سے جینے دیں۔
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ حضرات کاؤچ پر کاؤچ پوٹا ٹو کی صورت براجمان نظر آتے ہیں۔ بیوی کے بجائے ٹی وی پر نظریں جمائے بیٹھے ہوتے ہیں، کہنے کو تو خبریں دیکھ رہے ہیں لیکن اکثر میو ٹ پر، اب بھلا ان سے کوئی پوچھے خبر سننے کی چیز ہے کہ دیکھنے کی ؟ لیکن ہم اس باریکی کو سمجھتے ہیں کہ خبر سے اچھی اگر خبر سنانے والی ہے تو خبر سننے کے بجائے خبر دیکھنا جائز ہوتا ہے۔ جب خبریں اچھی نہ آ رہی ہوں تو خبر سنانے والی کے میک اپ اور لباس پر تو سیر حاصل تبصرہ ہو سکتا ہے ناں، خبریں گئیں پانی بھرنے۔ یہی حضرات، خواتین کی ہر غیر باورچی خانہ مصروفیت کو وقت کا ضیاع گردانتے ہیں۔ اگر خاتون خانہ کو باورچی خانہ کے فرائض سے پہلو تہی کرتے انٹرنیٹ پر وقت برباد کرتے دیکھ لیں تو جھٹ کسی منجھی ہوئی ساس کی طرح گھر کے وہ سارے کام گنوانے بیٹھ جاتے ہیں جو ان کے خیال میں خاتون خانہ کی نظر کرم کے زیادہ محتاج ہیں اور اس کے بعد خود ہر مذکورہ کام سے صرف نظر کر کے دوبارہ سے خبریں سننا۔ سوری دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔
ایک بار کچھ اونچی آستین کی قمیض پہننے پر ہماری ایک دوست نے ہما رے ممکنہ اخلاقی زوال پر بڑی سیر حاصل روشنی ڈالی جو ہمارے لئے کافی سبق آموز بھی ثابت ہوئی۔ حسن اتفاق ایسا کہ کچھ عرصے بعد ہمیں اپنی اسی پیاری دوست کی پرانی البم دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ خود اسی اخلاقی زوال کی ہم سے بھی زیادہ شدّت سے شکار نظر آ رہی تھیں۔ اب کوئی بتا ئے کس کا سر پیٹا جائے؟ اپنا تو ہم ہرگز نہیں پیٹیں گے کیوں کہ کسی اور کی دانش مندی پر ہم اپنا سر کیوں دھنیں۔
ایک بار ایک خاتون جو اصلاحی مقصد لے کر کافی دور دراز کا سفر تن تنہا طے کر کے آئیں تھیں انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہو ئے ہماری معلومات میں اضافہ کیا کہ خواتین کو کسی محرم مرد کو لئے بغیر باہر نہیں نکلنا چاہئے نزدیکی مال تک بھی نہیں کیونکہ زمانہ بہت خراب ہے۔ اب ہماری خام عقل میں تو یہی آیا کہ ان کے پاس کوئی خاص پیکج ہے جس کی مدد سے ان کا ذاتی زمانہ تو بے مثال ہے اور ہمیں اس اصلاحی مشن میں بھر پور تعاون کرنا ہو گا چہ جائکہ ہم بھی اچھے والے زمانے کی سہولت سے فیض یاب ہو سکیں۔
ہم اپنی ناک دوسروں کے معاملات میں کیوں گھسانا چاہتے ہیں۔ دوسروں کی آکسیجن کیوں کھینچنا چاہتے ہیں؟ مانا کہ کچھ لوگوں کو مرنے سے پہلے مرنے کا شوق ہے لیکن خدارا ہمیں اپنے ساتھ نہ گھسیٹیں۔ ہم مرنے سے پہلے جینے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہم دوسروں کے معاملات سدھارنے کی فکر میں گھلنے کے بجائے اپنی فکر کر لیں۔ اکثر اوقات ہم دوسروں کی جاب، بچوں کی تعداد اور وزن میں اضافے سمیت دیگر مسائل پر گھل رہے ہوتے ہیں ان سے ہمارا کوئی سروکار ہی نہیں ہوتا۔ ہمیں بطور انسان ایک دوسرے سے سادہ سی ستائش کی ضررورت ہوتی ہے۔ اگر ہم ایک دوسرے کے اچھے کاموں کی ستائش کر سکیں اور ایک دوسرے کے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کر سکیں تو دنیا کافی پر سکون ہو سکتی ہے۔


