سوچ رہی ہوں، سوچوں کیسے؟
ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں ہم کلک کلک کر کے منٹوں میں کسی بھی مطلوبہ موضوع پر ڈھیروں معلومات حاصل کر لیتے ہیں، وہیں ہمیں وہی معلومات ملتی ہیں جو گوگل ہمیں دکھانا چاہتا ہے۔ ہماری سوچ سمجھ گو گل کے تا بع اور محدود ہو گئی ہے۔ جب ہم پڑھائی کے دنوں میں اسائنمنٹ بناتے تھے تو لائبریری جا کر کتابیں جمع کرتے۔ پھر ان کتا بوں میں سے ڈھونڈ کر مطلوبہ معلومات جمع کرتے۔ اس مطلوبہ گوہر مقصود کی
Read more



