کاش کہ پرے ہوتا عرش سے مکاں اپنا

کاش میٹھاکھانے سے بندہ سمارٹ ہو جاتا۔ جتنی میٹھی چیزیں کھاتا اتنا خوبصورت ہوتا۔ ڈاکٹر اور ڈائٹ بتانے والے کہتے آ پ زیادہ سے زیادہ میٹھا کھائیں۔ کھاتے تو ہم اب بھی ہیں لیکن پھر میٹھاکھا کر احساس ندامت نہ ہوتا۔ کاش سوشل میڈیا پر وقت صرف کرنے سے بندہ امیر ہو جاتا۔ کیریئر کاؤ…

Read more

سیکھنا سیکھئے

جو مسلز کام میں نہ لائے جائیں وہ کمزور ہو جاتے ہیں۔ انسانی دماغ بھی اس وقت بھر پور طریقے سے کام کرتا ہے جب اسے چیلنج دیا جائے۔ سپون فیڈنگ سے دماغ کمزور ہو جاتا ہے۔ خود سوچنا، دستیاب معلومات کا تجزیہ کرنا اور اس تجزیے کی بنیاد پر فیصلے کرنے سے دماغ بہتر…

Read more

بلاگنگ اور آن لائن ارننگ (کمائی) کیسے سیکھیں؟

انٹرنیٹ تو ہم سب استعمال کرتے ہیں اور بلاگ کی اصطلاح آپ نے نہ سنی ہو، مشکل ہے۔ بلاگنگ کی ہر گزرتے دن کے ساتھ مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بلاگ چلانے والے کو ہم بلاگر کہتے ہیں۔ بلاگنگ راتوں رات امیر ہونے والا شعبہ نہیں ہے۔ اس کو سوچ سمجھ کر اور کسی…

Read more

مولانا کی پھونک اور گلابی پھونک

سن گلاسز کی مدد سے آ پ لوگوں کو بآسانی ٹکٹکی باندھ کر دیکھ سکتے ہیں اور ان کو پتہ بھی نہیں لگتا بالکل فیس بک کی طرح۔ اس کا مطلب سن گلاسز حقیقی زندگی کے فیس بک ہیں۔ ویسے شٹل کاک برقعہ سے بھی یہی کام بخوبی لیا جا سکتا ہے۔ جن حضرات کو…

Read more

!بس اب مجھے مرنے دیا جائے

میری سپلی آ گئی ہے۔ میری امی مجھے بہت ڈانٹیں گی۔ مجھ سے کچھ نہیں پڑھا جا رہا۔ میں خود کشی کر لوں گی۔ آپ مجھے بس نیند کی گولیاں دے دیں۔ مجھ سے ایک سا ل جونیئر شمائلہ سخت پریشانی کا اظہار کر رہی تھی۔ اس کے لہجے سے صاف ظاہر تھا کہ اگر…

Read more

سوشل میڈیا: کیا قربت کیا دوری

کبھی مکھی کو دیکھا ہے ساری اچھی صاف ستھری چیزیں چھوڑ کر صرف گلی سڑی چیزوں کی طرف لپکتی ہے۔ اسے پاکیزگی میں کوئی کشش محسوس نہیں ہوتی۔ ہم انسان بھی ایسا ہی نہیں کرتے؟ کوئی اچھا کام ہو رہا ہو اس کا ذکر کرتے ہماری جان جاتی ہے اور جہاں کسی سے کوئی چوک ہوئی لگے بھنبھنانے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جہاں سو کام کسی نے بن کہے پوری ایمانداری سے کر دیے وہ کسی گنتی میں نہیں آتے اور جہاں ایک کام کسی وجہ سے نہیں ہو سکا وہ جی کا آزار بن گیا۔ یہ انسانی فطرت کا ازلی ناشکرا پن ہی تو ہے جو حاصل کی نا قدری کرواتا ہے، اور لا حاصل کی جستجو ختم نہیں ہونے دیتا۔

Read more

فروری کا رومانی زکام

ویلینٹائن ڈے آتا تو سال میں ایک بار ہی ہے لیکن فروری کا آدھ مہینہ اس کا بھر پور چرچا بھی رہتا ہے اور تنازعہ بھی۔ قطع نظراس کے کہ یہ اچھا دن ہے کہ برا دن ہے، محبت کا دن ہے کہ بری باتوں کی حوصلہ افزائی کا دن، ہمیں تو بس ایک بات کا یقین ہے کہ سب سے زیادہ خوشی چاکلیٹس، پھولوں اور کارڈز بیچنے والوں کو ہوتی ہے۔ سنگل، شادی شدہ، منگنی شدہ اور نکاح شدہ سب پر اس ماہ مینڈکی کے زکام والی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔

ہر سال فروری کے ماہ رائے عا مہ تقسیم ہو جاتی ہے ایک وہ جو گلاب کے پھولوں کا تبادلہ کرنا چاہتے ہیں اور دوسرے وہ جو نہیں کرنا چاہتے۔ چونکہ ہم صرف خاموش تماشائی ہیں اور سب کے غم ویلینٹائن یا خوشی ویلینٹائن میں برابر کے شریک ہیں اس لئے چلیں کچھ اس دن کی مناسبت سے ہلکی پھلکی باتوں کا تذکرہ کرتے ہیں۔

Read more

جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے لگے

کل اپنی بیٹی کو لائبریری لے کر گئی۔ لائبریری کے سامنے ہی ٹم ہارٹن ہے جو کینیڈا کی سب سے مصروف کافی شاپ ہے۔ واپسی پر بیٹی نے کہا چلیں ٹم ہارٹن چلتے ہیں۔ میں نے کہا چلو۔ یوں تو عا م طور پر ماں بیٹی کافی پیتے ہوئے ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہتے ہیں لیکن میری توجہ میرے عقب میں بیٹھے ہوئے مرد اور عورت کی باتوں پر مبذول ہو گئی۔ دونوں آفس کولیگ لگ رہے تھے جو کافی بریک میں کافی پینے آئے تھے لیکن انتہائی دلچسپ باتیں کر رہے تھے۔ میں نے سوچا لکھ دیتی ہوں شاید کسی کے کام آ جائیں۔ باتوں سے پتہ لگا کہ عورت کا نام ساوتری اور مرد کا نام یوگی ہے۔ اب میں زیادہ تمہید نہیں باندھوں گی آپ بھی پڑھیں اور سوچیں کہیں ایسے کردار ہمارے بہت قریب تو نہیں۔

یوگی :بیوی کے سر میں درد کیوں ہوتا ہے؟ ٹھیک سوتے وقت۔ صبح ٹائم سے کیوں آفس آنا ہوتا ہے؟ سر میں رات میں کیوں سرسوں کا تیل لگایا جاتا ہے؟
ساوتری : تا کہ میاں پھسل جائے۔

Read more

بلیو ٹوتھ سے محبت میں اضافہ

میں اکثر سوچتی ہوں جو لوگ خاموشی، سکون اور تحمل سے پوری بات سنتے ہیں۔ اگلے بندے کو اظہار کا پورا موقعہ دیتے ہیں کتنے صبر والے ہوتے ہیں۔ یہاں تو حال یہ ہے کہ ابھی الفاظ منہ میں ہوتے ہیں اور جواب مل بھی جاتا ہے۔ ویسے تو میں بھی بڑے سکون سے بات سنتی ہوں بس بلیو ٹوتھ ہیڈ فون کان میں لگا ہوتا ہے اور سمجھ نہیں آتا کہ بات سامنے والے کی سن رہی ہوں یا جو کان میں چنگھاڑ رہا ہے اس کی۔ بس اسی کنفیوژن میں کان والا اور سامنے والا دونوں میری سکون سے سننے کی صلاحیت کے قائل ہو جاتے ہیں۔ چوں کہ میرے پلّے کچھ نہیں پڑا ہوتا لہٰذا اس بات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کوئی جوابی مشورہ بھی دوں لہٰذا کان والے اور سامنے والے دونوں پر میرے مہذب ہونے کی بھی دھاک بیٹھ جاتی ہے۔

Read more

درویشوں کا ڈیرہ – خواب نامے

کتاب پڑھنے کا صحیح لطف ایک نشست میں پڑھنے میں ہی آتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ ہی کتابیں پڑھنے والے کو اپنے آپ سے ایسا جوڑتی ہیں کہ کتاب مکمل پڑھنے کے بعد ایک اداسی سی ہوتی ہے کہ ختم کیوں ہو گئی۔ بلا شبہ خالد سہیل اور رابعہ ا لرباء نے…

Read more