جمہوری تسلسل کے دس سال مکمل
پاکستان کی جمہوری تاریخ میں لگاتار دوسری مرتبہ بھی جمہوریت نے اپنی آئینی مدت پوری کرلی ہے۔ اب پاکستان جولائی کے مہینے میں جنرل الیکشن کی طرف جارہا ہے۔ اچھی بات ان دس سالوں کی یہ رہی ہے کہ کسی نہ کسی طرح جمہوریت آگے کا سفر طے کرتی رہی ہے۔ جمہوریت کا مسلسل دس سال اس ملک میں جاری رہنا‘ بذات خود ایک شاندار عمل ہے جس پر پوری قوم مبارک باد کی مستحق ہے۔ امید ہے کہ اب آنے والے الیکشن میں بھی جو جمہوری حکومت آئے گی‘ وہ بھی اپنی مدت پوری کرے گی۔ آنے والی الیکشن کے نتیجے میں جمہوری حکومت نے مدت پوری کر لی تو صورت احوال مزید بہتر ہو جائے گی۔
2008 سے 2018 تک خاصی گہما گہمی کی سی صورت احوال رہی۔ دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ کے دوران پیپلز پارٹی کی حکومت رہی۔ دو وزرا اعظم نے ملکر یہ مدت پوری کی‘ ان میں سے ایک یوسف رضا گیلانی‘ جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا‘ دوسرے وزیر اعظم راجا پرویز اشرف تھے‘ جن کا تعلق شمالی پنجاب سے ہے۔
دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ کے دوران بھی جمہوری حکومت پر کرپشن کے الزامات لگے‘ مقدمات بنے۔ سوئس عدالتوں کا تذکرہ رہا‘ اس حوالے سے سبک دوشیاں بھی ہوئیں۔ اس کے بعد دوہزار تیرہ میں مسلم لیگ نون کی حکومت بنی۔ ان پانچ سالوں میں بھی دو وزرا اعظم نے ہوئے۔ پہلے جناب نوازشریف اور دوسرے جناب شاہد خاقان عباسی اس عہدے پہ رہے۔ دونوں جمہوری حکومتوں کی اقدار مشترک رہیں۔ کرپشن اور بدنظمی کا سایہ‘ نواز حکومت کے دور میں بھی نمایاں نظر آیا۔ پہلی جمہوری حکومت کے پانچ سال کے دوران اٹھاویں ترمیم کا نفاذ ہوا‘ جس کی وجہ سے فیڈریشن کے اختیارات صوبوں کو ملے۔ یہ الگ بات ہے کہ تمام صوبے اب بھی پریشان ہیں‘ کہ وہ کون سے اختیارات ہیں‘ جو انھیں دیے گئے ہیں۔
ابھی تک ان صوبوں کو معلوم نہیں ہو سکا‘ کہ وہ ان اختیارات کا کیا کریں اور کیا نہ کریں! پہلی مدت میں صدر پاکستان کا عہدہ طاقت ور تھا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری جو اس وقت صدر پاکستان تھے‘ انھوں نے اپنے تمام اختیارات پارلیمان اور وزیر اعظم کو منتقل کردیے۔ اس پر جناب آصف علی زرداری کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔
دو ہزار تیرہ کے بعد نوازشریف کی حکومت آئی۔ اچھی بات یہ رہی کہ پارلیمنٹ بھرپور انداز میں جمہوریت کے ساتھ کھڑی نظر آئی۔ نوازشریف خوش قسمت رہے کہ پارلیمنٹ اور تمام بڑی جمہوری قوتیں سوائے پی ٹی آئی کہ ان کے ساتھ تھی۔ یہی وجہ تھی کہ نوازشریف حکومت نے پہلی بار اپنی آئینی مدت پوری کی۔ دو ہزار چودہ کا دھرنا تو سب کو یاد ہوگا۔ اس دھرنے کا مقصد واضح تھا‘ کہ نواز شریف مستعفی ہوں یا حکومت کا دھڑن تختہ ہو جائے‘ لیکن اس مشکل وقت میں پارلیمنٹ نے دھرنے والوں کی بجائے جمہوری حکومت کا ساتھ دیا۔
پارلیمنٹ کا متحد رہنا جمہوریت کے لیے انتہائی خوش گوار بات ہے۔ اس کے بعد بھی اگر نوازشریف جمہوری قوتوں سے فاصلے نہ بڑھاتے تو وہ مشکلات کی زد پر نہ آتے‘ لیکن انھوں نے پارلیمنٹ سے دوری اختیار کر لی‘ جس کی سزا وہ آج بھگت رہے ہیں۔
دو ہزار چودہ کے دھرنے کے بعد سول ملٹری تعلقات بد ترین ہونا شروع ہوئے۔ وہ کیفیت آج بھی برقرار ہے۔ دو ہزار چودہ کے بعد سے سول ملٹری تعلقات خراب ہیں۔ نوازحکومت کے دور میں ڈان لیکس کی فلم ریلیز کی گئی‘ اس کے علاوہ پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھہ کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا۔ یہ وہ وجوہ تھیں‘ کہ سول ملٹری تعلقات میں کشیدگی بڑھی۔ سول ملٹری کشیدگی کی وجہ سے لبیک کا دھرنا ہوا‘ جو پہلے دھرنے کا پارٹ ٹو تھا۔
تعلقات کی کشیدگی کے سبب عدلیہ‘ فوج اور انتظامیہ کے درمیان دڑاریں پیدا ہوئیں۔ پوری فضا ہی ایسے بنا دی گئی‘ جس سے لگا کہ حکومت کسی بھی وقت ختم ہو جائے گی‘ مارشل لا کا نفاذ ہوسکتا ہے‘ یا کسی قسم کی قومی حکومت قائم ہوسکتی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے بطور وزیر اعظم اپنے آخری دس ماہ خوش اسلوبی سے مکمل کر لیے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ نون کی حکومت کے دوران‘ دہشت گردی کا گراف خاصی حد تک کم ہوا۔ ان پانچ سالوں میں اے پی ایس کا الم ناک سانحہ ہوا‘ جس میں درجنوں معصوم بچے شہید ہوئے۔ اس وجہ سے نیشنل ایکشن پلان سامنے آیا۔ اے پی ایس سانحہ کی وجہ سے آپریشن ضرب عذب اور رد الفساد کا آغاز کیا گیا۔ ان دونوں فوجی کارروائیوں میں دہشت گردی کی طاقت اور اثر کو کم کیا گیا۔ سیکڑوں دہشت گرد مارے گئے۔ ان کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ درجنوں دہشت گردوں کو پھانسی کے پھندے پر لٹکایا گیا۔ اس حکومت کے آخری دنوں میں فاٹا کا خیبر پختون خواہ کے ساتھ انضمام ہوا۔ انٹرنیشنل اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان پانچ سالوں میں معاشی گروتھ بہتر رہی۔ توانائی کے بہت سے منصوبے مکمل ہوئے اور بہت حد تک لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا۔
سی پیک مسلم لیگ کی حکومت میں عملی طور پر نظر آیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میٹرو بس‘ اورنج ٹرین منصوبے مکمل ہوئے۔ حیدر آباد کراچی موٹر وے منصوبہ مکمل ہوا۔ مسلم لیگ نون کی حکومت میں خارجہ تعلقات ڈانواں ڈول رہے۔ حکومت خارجہ تعلقات کے حوالے سے بے بس اور بے اختیار نظرآئی۔ ان پانچ سالوں میں بھارت سے کشیدگی کی صورت احوال بد ترین رہی۔ ایل او سی پر مسلسل جنگی صورت احوال رہی۔ اس حکومت کے دور میں کلبھوشن کا واقعہ پیش آیا‘ جس کی وجہ سے پاک بھارت تعلقات مزید تلخ ہوئے۔ مودی کے بارے میں پہلے یہ کہا گیا کہ وہ پاکستان کی جمہوری حکومت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کریں گے‘ مودی نے کچھ اشارے بھی دیے‘ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
اڑی واقعے کے بعد سندھ طاس معاہدہ خطرے میں پڑا۔ اس کے بعد پٹھان کوٹ واقعہ پیش آگیا‘ جس سے لگا کہ بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو ختم کردے گا‘ لیکن خوش قسمتی سے ایسا نہ ہوا‘ جو کہ ایک اچھی اور مثبت بات تھی۔ نوازحکومت کے دور میں ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہوئے۔ پہلے دن ہی سے وہ اینٹی پاکستان نظر آئے۔ یوں پاک امریکا تعلقات میں خلیج بڑھتی چلی گئی۔ افغانستان میں انڈیا‘ امریکا اور افغانستان کا بلاک نظر آیا۔ ملاں اختر کی موت کے بعد پاکستان میں طالبان بھی بے قابو ہو گئے۔ طالبان پر پاکستان کا کنٹرول کم زور ہوگیا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے‘ تو مسلم لیگ نون کی حکومت نے ان پانچ سالوں میں بہت سختیاں اور مشکلات برداشت کیں۔ شروع میں فضا سازگار تھی لیکن بعد میں محاذ آرائی کی کیفیت پیدا ہو گئی اور اب وہی نوے کی دہائی والی صورت ہے۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے جاتے جاتے مشرف کا پاس پورٹ اور شناختی کارڈ ضبط کرنے کے احکامات بھی جاری کردیے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ نگران سیٹ اپ یہ احکامات کالعدم کرتا ہے یا نہیں۔ جنرل الیکشن کے شیڈول کا اعلان ہوچکا ہے۔ 25 جولائی کو الیکشن ہوں گے۔ پاکستان میں پارلیمان کی کارکردگی اور قانون سازی پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈاٹ نے اس حوالے سے ایک رپورٹ شایع کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آیندہ عام انتخابات سے قبل عوام میں فوج‘ عدلیہ اور میڈیا کے جانب دار ہونے کا قوی تاثر موجود ہے۔
مبصرین کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران بہت زیادہ جوڈیشل ایکٹو ازم دیکھنے کو ملا۔ نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ ہائی کورٹس بھی متحرک رہیں اور سیاست دان ان کا نشانہ بنے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کے ریمارکس اور بیانات انتہائی جارحانہ اور سخت تھے۔ اقامے پر فیصلہ ضرور سنایا گیا لیکن پاناما پر ابھی تک فیصلہ نہیں آیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ارکان اسمبلی کی شکایات سامنے آئیں کہ انھیں پارلیمان کے اجلاس میں شرکت سے روکنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ بلوچستان میں صوبائی حکومت راتوں رات تبدیل کرائی گئی۔ سینیٹ انتخابات میں مداخلت ہوئی۔ جنوبی پنجاب میں سیاست دانوں کی وفاداریاں تبدیل کرائی گئیں۔ تاریخ میں پہلی بار ان معاملات میں براہ راست فوج کی طرف اشارہ کیا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ نجی میڈیا خوف کا شکار ہے اور سیلف سنسرشپ سے کام لے رہا ہے۔ ان حالات میں عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو اسے منظرعام پر لانے کی جرات نہیں کر سکے گا۔ پاکستان میں کئی سیاست دان اور تجزیہ کار ایک عرصے سے کہہ رہے تھے‘ کہ آیندہ عام انتخابات میں مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے بعض حلقوں کی سرگرمیاں جاری ہیں‘ لیکن سیاست دانوں کے الزامات پر دھیان نہیں دیا گیا اور تجزیہ کاروں کی رائے کو تعصب پر مبنی قرار دیا جاتا رہا۔
پلڈاٹ کی رپورٹ کے بعد ان خدشات کو مزید تقویت ملنے کا اندیشہ ہے۔ پلڈاٹ ہر ماہ سول ملٹری تعلقات پر رپورٹ جاری کرتا ہے۔ یہ ادارہ ماہرین سول سوسائٹی اور تھنک ٹینک سے رابط کرتا ہے‘ جو تاثر ابھرتا ہے اس حوالے سے رپورٹ شایع کرتا ہے۔ ان انتخابات کے بعد سب سے بڑی تبدیلی یہ نظر آئے گی کہ نوازشریف نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ الیکشن کے التوا کی خبریں بھی سامنے آرہی ہیں۔ جمہوری حکومتیں ختم ہو چکیں‘ لیکن ابھی تک کسی ایک صوبے میں بھی نگران وزیر اعلی کا تقرر نہیں کیا جاسکا۔ لگتا ہے نگران سیٹ اپ کے حوالے سے معاملات اب پارلیمانی کمیٹی میں جائیں گے۔ اس سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ انتخابات کچھ ماہ تک ملتوی ہو سکتے ہیں۔


