کیا اب محبت کی شاعری ہو سکتی ہے؟


افضال احمد سید

یہ شاعری کا ایک نیا امکان ہے اور آگے چل کر شاعری آج کی دُنیا کے post-truth کی طرح post-love ہو جائے گی۔ مابعد محبّت کی شاعری۔ اب حسن کوزہ گر کے چُپ رہنے اور جہاں زاد کے بولنے کا وقت ہے۔

کیا اس کے بعد عشق کی کوئی افادیت رہ گئی ہے، کوئی ضرورت جو اس کی وجہ سے پوری ہورہی ہو؟ جہاں زاد اور حسن کوزہ گر کا مکالمہ اب خود کلامیوں میں ڈھل چکا ہے اور یہ سوال سامنے نہیں آتا، کہیں پس منظر میں ڈوب جاتا ہے۔

بیس عشقیہ گیت لکھنے کے بعد پابلو نیرودا نے اپنی ابتدائی اہم کتاب میں مایوسی کا ایک گیت لکھا۔ اور اس طرح کہ عشقیہ نظمیں ایک طرف اور مایوسی کا گیت ایک طرف۔ کون سا پلڑا بھاری ہے؟ عشقیہ نظموں کی جگہ مایوسی کے گیت سامنے آگئے؟ کچھ عرصہ پہلے منیر نیازی نے ایک خوب صورت نظم کے عنوان میں اپنا جواب چھپا کر رکھ دیا تھا۔ اس نظم کا نام تھا ’’محبّت اب نہیں ہوگی‘‘:

محبّت اب نہیں ہوگی

یہ کچھ دن بعد میں ہوگی

گزر جائیں گے جب یہ دن

یہ ان کی یاد میں ہوگی…

لیکن کیا واقعی ہوگی؟ دل میں شُبہ سا پڑ گیا ہے اور محبّت التواء ہوئی چلی جاتی ہے۔ اس سے بہت پہلے ناصر کاظمی ترکِ محبّت کا ذکر بھی کرچکے ہیں۔ ترکِ محبّت بات چھڑی ہے تو ناصر کاظمی سے پہلے حفیظ ہوشیار پوری اور سب سے بڑھ کر فراق گورکھ پوری کا نام لینا چاہیے۔ حفیظ ہوشیار پوری اپنے آپ کو محبّت کے بجائے ترکِ محبّت کا شاعر قرار دیتے تھے، لیکن فراق کے ہاں یہ کیفیت واضح رنگ میں دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی صرف ایک غزل کے یہ شعر:

سر میں سودا بھی نہیں، دل میں تمنّا بھی نہیں

لیکن اس ترکِ محبّت کا بھروسہ بھی نہیں

یہ بھی سچ ہے کہ محبّت پہ نہیں میں مجبور

یہ بھی سچ ہے کہ ترا حُسن کچھ ایسا بھی نہیں

ان اشعار کی کیفیت توجہ طلب ہے۔ بہرحال یہ پورا ایک سلسلہ ہے جو خاص طور پر غزل جیسی عشق آمادہ صنف میں ظاہر ہوا۔

ناصر کاظمی کے بعد اور منیر نیازی تک آتے آتے محبّت آپ اپنی کمی بن کر رہ جاتی ہے، ایک خلا کسی طرح پُر نہیں ہوگا۔ مُنیر نیازی کی آواز میں درد اور حُزن کا سلیقہ ہے۔ ان سے بہت مختلف شاعر افضال احمد سیّد کے ہاں محبت کی پسپائی کا ایک اور مرحلہ ہے۔ ملال کی جگہ سفّاکی آگئی ہے اور محبّت کے آثار زیادہ پُرتشدد ہیں۔ ان کے مجموعے ’’چھینی ہوئی تاریخ، میں ایک نظم کا حیرت انگیز نام محبّت ہے، صرف محبّت۔ مگر اس کی نشانیاں واضح ہیں:

’’محبّت کوئی نمایاں نشان نہیں

جس سے لاش کی شناخت میں آسانی ہو

جب تک محبّت کو دریافت کرسکو

وہ وین روانہ ہوچکی ہوگی

جو ان لاشوں کو لے جاتی ہے

جن پر کسی کا دعویٰ نہیں

شاید وہ وین روانہ ہوچکی ہے۔ محبّت کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہا۔ ان نظموں سے محبّت اور اس کی بے نشان لاش الگ سے نمایاں نہیں بلکہ شاعر کے پیچیدہ اور منفرد علامتی نظام کا حصّہ بن جاتے ہیں۔

ایک اور نظم میں افضال احمد سیّد نے لکھا:

جس سے محبّت ہو

اسے نکال لے جانا چاہیے

آخری کشتی پر

ایک معدوم ہوتے ہوئے شہر سے

باہر

اس نظم میں محبّت کا مرکز بھی معدوم ہونے والے نشان زد شہر کا ایک حصّہ ہے، ایسا حصّہ جسے محفوظ رکھنے کی جدوجہد کرنا ہے۔ یہ معلوم کیے بغیر کہ وہ باقی رہ سکے گا۔

محبت کو تم نے حیرت زدہ کردینے والی خوش قسمتی نہیں سمجھا، اگلی نظم میں وہ لکھتے ہیں۔ پھر اس کے بعد ایک اور نظم میں محبت کی گم شدگی کا نقش زیادہ واضح ہے__ کیا محبت کہیں کھوگئی؟

نظم کا نقش آگے بڑھتے بڑھتے بہت واضح ہے:

پھولوں کی نمائش کے دن

تم الوداعی بوسہ دیے بغیر

چلی گئیں

 اور اس کا نتیجہ نظم کو مکمل کر دیتا ہے:

باہر بارش ہورہی تھی

ایک چھتری میرے دل میں بند رہ گئی

محبّت کھو گئی اور چھتری بند رہ گئی۔ اب بارش سے بچ کر جانا ممکن نہیں رہا۔ محبّت کی غیرموجودگی کا منظر محرومی اور تباہی کی طرف لیے جارہا ہے۔ شاعری اب محبّت کی گم شدگی کا اعلان ہے، محبت سے عاری منظر نامہ۔

راشد نے منیر نیازی اور منیر نیازی سے افضال احمد سیّد ، یہ سب ایک دوسرے سے مختلف شاعر ہیں۔ زندگی اور فن کے بارے میں ان کے روّیے بھی جُدا ہیں اور محبت کے لیے کوئی پناہ گاہ باقی رہ گئی ہے؟

لاشوں کی شناخت بھی نہیں تو محبّت ہمارے لیے کیا کرسکتی ہے؟ اور اگر محبّت کچھ نہیں کرسکتی تو شاعری کیا کرسکتی ہے؟ یہ صورت حال، صرف ہماری نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے۔

ابھی حال ہی میں نئی شاعری کا ایک انتخاب سامنے آیا ہے جس کے نام نے میری توجہ اپنی جانب مبذول کرالی:

Veils, Halos and Shackles: International Poetry on the Oppression and Empowerment of women.

اسے ترتیب دیا ہے Chasles Ades Fishmon اورSmita Sahay نے۔ اصل کتاب میں تو خیر جانے کیا کیا کچھ ہوگا۔ میں نے ابھی تک تبصرہ پڑھا ہے جو ہندوستان کے نامور شاعر کیکی دارو والا نے اخبار ’’دی ہندو‘‘ کی ایک حالیہ اشاعت میں کیا۔ ایک نظم کا اقتباس کرتے کرتے وہ رک گئے کہ اس سے آگے نقل نہیں کیا جاتا۔

دنیا کے مختلف معاشروں سے تعلق رکھنے والی دوسو سے زائد نظموں سے تبصرہ نگار نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ مردانہ تشدد کی مختلف صورتیں__ جن میں ریپ، لڑکیوں کا پیدائش سے پہلے ضیاع، تیزاب کے حملے اور جنسی اعضاء کی کاٹ پیٹ__ عالم گیر وبا ہیں، ان کا پھیلائو ہر جگہ ہے۔ اتنا زیادہ کہ ہمیں اس کی تفصیل یہاں بیان کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ تبصرہ نگار بھی شاعری کی طرف واپس آجاتا ہے۔

تبصرہ سرسری سا ہے مگر اس کی اہم ترین چیز یہ اقتباسات ہیں۔ مضمون کا نام بھی چونکا دیتا ہے۔ __ Can prose read like poetry ۔

یہ زخم خوردہ، شکستہ پا عورتیں دنیا بھر کے معاشروں سے آئی ہیں۔ جہاں زاد اب کتنی بہت سی زبانوں کے ساتھ کلام کررہی ہے۔عشرت آفرین کی آواز ان بہت ساری آوازوں کے کورس میں شامل ہو کر بے سُری معلوم نہیں ہوتی لیکن اپنی انفرادیت باقی رکھتی ہے۔

شاعری کا نیا مجموعہ میرے سامنے دھرا ہے اورمیں سوچ رہا ہوں، اس عہد میں الٰہی محبّت کو کیا ہوا؟

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3