تنم فرسودہ جاں پارہ
عشق رسول ﷺ وہ شمع ہے جو نہ تو بجھتی نہ ہی مدہم ہوتی ہے۔ اس شمع کا اجالا ازل سے ابد تک ہے ۔ کیسے کیسے عشاق گزرے صدیاں بیت گئیں لیکن نام آج بھی تابندہ و تازہ ۔ جیسے آج ابھی کی بات ۔ حضرت اویس قرنی ‘ حضرت جنید بغداد ، شیخ عبدالقادر جیلانی ، امام شرف الدین بوصیری ، خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی ، خواجہ بختیار کاکی ، بابا فریدالدین گنج شکر ، حضرت صابر پیا کلیری ، حضرت نظام الدین اولیا ، خواجہ مہر علی ، حکیم الامت علامہ محمد اقبال ‘ غازی علم الدین شہید ۔ یہ عشق رسول ﷺ کی روشنی ہے جو ان ہستیوں کا نام روز اوّل کی مانند درخشاں و تابندہ ۔
ایسے ہی ہزاروں ان گنت ہستیاں اور بھی ہیں جن کا ذکر عشق نبی ﷺ کی بدولت زندہ و تابندہ ۔
ہے کعبہ بھی مرجع خلائق
بہت نمایاں ہیں یہ حقائق
مگر جو مقصود عاشقی ہے
حضور ﷺ کے در کی حاضری ہے
ہر عاشق رسول ﷺ کا دل ازل سے مدینہ طیبہ میں دھڑکتا ہے اس عشق میں آہ بھی بے اثر نہیں جاتی ۔
عشق نبی ﷺ میں آہ کہاں بے اثر گئی
تڑپے جو ہم یہاں مدینہ خبر گئی
قلب و اذہان کا دھیان ہمشہ خاک در مصطفیٰ ﷺ پہ رہا ۔ خاک ہی کیا شاعروں تو مدینہ طیبہ کی ہواؤں کو سلام کیا انہیں بھی معتبر جانا ۔
نسیما ! جانب بطحا گزر کن
ز احوالم محمد ﷺ را خبر کن
یہ جاں گسل فراق ایسا ہے لاکھوں نعتیں اسی ہجر میں لکھی گئیں ۔ بے شمار دیوان مرتب ہوئے اور ہوتے رہیں گے ۔ دیدار روضہ خیرالبشرﷺ جان عاشقان ۔
ببریں جانِ مشتاقم بہ آں جا
فدائے روضہ خیر البشر کُن ﷺ
عاشقان رسول ﷺ کی لڑی میں اک ایسی بھی ہستی گزری ہے جس کے عشق کی اپنی ہی داستان ہے ۔ آج بھی عاشقان شاہ دو جہان ﷺ ، عاشقان خیرالبشر ﷺ ، عاشقان محسن کائنات ﷺ ‘ عاشقان محسن انسانیت ﷺ ‘ عاشقان رہبر کامل ﷺ ، عاشقان کوئے مدینہ اس عشق کا صدقہ مانگتے ہیں ۔ نعت رسول مقبول ﷺ ایسی صنف ہے جس نے شاعری کو جلا بخشی اور شاعری کو زندہ رکھا ۔ نعت کے میدان میں حضرت حسان بن ثابت سے لے کر قیامت شاہ دو جہاں کی مدح سرائی ہوتی رہے گی ۔ایسے ایسے عاشق گزرے ہیں جن کا اوڑھنا بچھونا صرف نعت گوئی تھی ۔ مولانا عبدالرحمٰن جامی ایسی متعبر نعت گو ہستی جس کا ذکر کرتے ہوئے آنکھوں میں نمی آجاتی ہے ۔ مولانا امام عبدالرحمٰن جامی نے سرکار دو جہاں ﷺ سے ایسا عشق کیا کے ان کو مدینہ میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ۔ یہ واقعہ تاریخ کی کتب میں کئی طرح سے درج لیکن ہر طرح سے عشق رسول ﷺ کی لازوال و بے مثال مہک ہے ۔ روایت ہے جب مولانا عبدالرحمٰن جامی نے مکہ معظمہ میں حج کر کے مدینہ منورہ جانے کا عزم باندھا ۔ وہ اس وفد کے لیڈر تھے جو کئی دن کی مسافت کے بعد روضہ رسول ﷺ پہ حاضری دینے کیلئے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔ انہوں نے مدینہ سے باہر چند میل کے فاصلے پہ پڑاؤ ڈالا۔ وہ سارا دن ادھر ہی رہے۔ قافلے والوں نے دیکھا کہ ایک گھڑ سوار انکی طرف آ رہا ہے، گھڑ سوار انکے درمیان میں پہنچا اور قافلے والوں سے پوچھا کہ تم میں سے جامی کون ہے؟ لوگوں نے امام کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ امام عبدالرحمن جامی ہیں اور یہ ہمارے قافلے کے لیڈر ہیں۔ اور گھڑ سوار جامی رحمتہ اللہ علیہ کی طرف مڑ گیا اور السلام علیکم کہا۔
جامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا "وعلیکم السلام! آپ کون ہیں ؟ کہاں سے آئے ہیں؟ اور کس لئے آئے ہیں؟ اس آنے والے گھڑ سوار (جو کہ شکل و صورت سے ایک صوفی معلوم ہوتا تھا)، نے کہا کہ میں مدینہ سے آیا ہوں۔
یہ الفاظ سننا تھے کہ حضرت جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی پگڑی اتار کر اس گھڑ سوار شخص کے قدموں میں رکھ دی اور فرمایا کہ "میں ان قدموں پہ قربان جو میرے محبوب نبی پاک ﷺ کے مقدس شہر سے آ رہے ہیں”۔
سر من فدائے راہے
جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی بات جاری رکھی اور پوچھا کہ آپ یہاں کس مقصد سے تشریف لائے ہیں؟ وہ شخص کچھ دیر کیلئے خاموش رہا پھر جواب دیا کہ جامی رحمتہ اللہ علیہ مجھ سے وعدہ کرو جو کچھ میں تمہیں بتاؤں گا تم اسے دل تھام کے سنو گے!
جامی رحمتہ اللہ علیہ نے آہستہ آواز سے فرمایا کہ ٹھیک ہے۔ اس شخص نے اپنی بات جاری کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تمہارے پاس نبی آخر زماں حضرت محمد ﷺ نے بھیجا ہے۔
جامی رحمتہ اللہ علیہ نے اسکی بات کاٹتے ہوئے فرمایا کہ میرے آقا نے کیا فرمایا ہے! اس شخص نے کہا کہ نبی پاک ﷺ نے آپکو مدینہ شریف آنے سے اور ملاقات سے منع فرمایا ہے۔ یہ الفاظ جامی رحمتہ اللہ علیہ کے دل پر تیر کی طرح لگے اور آپ کا سر چکرانا شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئے۔ انکے ساتھی یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے کہ انکے امام گزر گئے ہیں۔ لیکن کچھ گھنٹوں بعد آپ کو ہوش آ گیا ۔ وہ شخص ابھی ادھر ہی تھا۔ جامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مجھے بتاؤ کہ کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ شریف داخل ہونے سے روکا ہے! میں نے کیا گناہ کیا ہے کہ میرے آقا ﷺ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں!
اس شخص نے جواب دیا کہ آقا ﷺ آپ سے ناراض نہیں ہیں بلکہ وہ تو آپ سے بے حد راضی ہیں۔
"تو پھر کیوں میرے آقا ﷺ نے مجھے مدینہ آنے سے روکا ہے” جامی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔
وہ شخص بولا کہ”آقا ﷺ نے فرما یا ہے کہ جامی سے کہو کہ اگر وہ میرے لئے اپنے دل میں اتنی محبت لے کر مدینہ آیا تو یہ میرے لئے لازم ہو جائے گا کہ میں روضہ سے نکل کر خود استقبال کروں ۔
اس لئے جامی سے کہو کہ وہ مدینہ شریف داخل نہ ہو۔ میں خود اس سے ملوں گا۔ جامی سے کہو کہ ادھر نہ آئے اور نہ مجھ سے ملے میں خود اس سے ملاقات کروں گا”۔
یوں جامی مدینہ شریف پہ حاضری کی خواہش اپنے دل میں لئے واپس لوٹ گئے۔
سبحان اللہ ۔
اللہ پاک ہمارے دلوں کو حضرت جامی رحمتہ اللہ علیہ کے صدقے نبی پاک حضرت محمد ﷺ کی پکی اور سچی محبت سے بھر دے۔
آمین
تَنَم فَرسُودَہ جَاں پَارہ
زِھِجراں یا رَسُول اللہ ﷺ
میرا جسم ناکارہ اور ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ہے
آپ ﷺ کی جدائی میں، یا رسول اللہ ﷺ
دِلَم پَژ مُردَہ آوارَہ
زِعصیَاں یَارسُول اللہ ﷺ
میرا دل بھٹک رہا اور دل کا پھول مُرجھا چکا ہے
گُناہوں کہ بوجھ سے، یا رسول اللہ ﷺ
چُوں سُوۓ مَن گُزر آرِی
مَنِ مِسکیں زِ نَاداری
میری طرف گزر فرمائیں ﷺ
اگرچہ میں مسکین اور نادار ہوں
فِداۓ نقشِ نعلَینَت
کُنم جَاں یَا رسُول اللہ ﷺ
آپ ﷺ کے نقش نعلیں پر
جان فدا کرتا ہوں ، یا رسول اللہ ﷺ
زِکردہ خویش حَیرانم
سِیاہ شد روز عِصیَانَم
میں نے جو کچھ کیا ہے بہت حیران ہوں
روزِحساب میرا اعمال نامہ گناہوں کی بہتات سے سیاہ ہوگا
پَشیمَانم پَشیمَانم
پشِیماں یَا رسُول اللہ ﷺ
میں انتہائی پشیماں اور سخت شرمندہ ہوں
پشیمان ہی پشیمان ہوں، یا رسول اللہ ﷺ
زِجَامِ حُبِّ تومَستَم
بَہ زَنجیرِ تو دِل بَستَم
آپ ﷺ کی محبت میں،میں مَست ہوں
آپ ﷺ کے عشق کی زنجیر سے میرا دل بندھا ہوا ہے
نمی گویم کہ مَن ھستم
سُخن دَاں یَا رسُول اللہ ﷺ
میں عاجز اور مِسکین کوئی دعویٰ نہیں کرتا کہ میں
ایک بہت بڑا شاعرہوں، یا رسول اللہ ﷺ
چُوں بازُوۓ شفاعَت را
کُشائی بَر گُنَاہ گاراں
جب روزِ قیامت آپ ﷺ اپنی شفاعت کا بازو
دراز کرکے گناہ گاروں کے سر پر پھیلا دیں گے
مَکُن محرومِ جامی را
دَرا آں یَا رسُول اللہ ﷺ
اُس روز اِس عاجز جامی کو محروم نہ رکھیے گا
اُس جان جوکھوں کی نازک گھڑی میں، یا رسول اللہ ﷺ
Facebook Comments HS

