کنفیوشش کا سو سالہ منصوبہ

علی بن حمزہ کسائی ( امام کسائی) عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے صاحبزادگان مامون الرشید اور امین الرشید کے اتالیق تھے۔ ایک دفعہ امام کسائی مجلس سے اٹھے تو دونوں شہزادگان استاد کے نعلین اٹھانے دوڑے اور اس بات پہ تکرار کرنے لگے کون استاد کے جوتے اٹھائے گا۔ بلآخر دونوں جوتے کا ایک ایک…

Read more

نشئی چور اور ٹھیکیداروں کی حکومت

محلہ کی نکڑ پہ پانی کا نل تھا۔ سارا محلہ اور راہ گیر مسافر اس نل کے پانی سے فیضیاب ہوتے۔ نل سے رسنے والے پانی سے چھوٹا سے جوہڑ بن گیا جس پہ دن رات مکھیاں مچھر اور دوسرے جراثیم پرورش پانے لگے۔ نل سے پانی رسنے کے پیچھے بھی اک کہانی تھی۔ ہوا…

Read more

جب دہلی کی حفاظت ناگ کیا کرتے تھے

ہندی میں نر کوبرا کو ناگ اور مادہ کوبرا کو ناگن کہا جاتا ہے۔ ہندو مذہب میں پوجے جانے والے خداؤں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ بعض کتب میں ہندوؤں کے خداؤں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ اور کچھ کتب میں ان کے خداؤں کی تعداد پانچ کروڑ رقم کی گئی ہے۔ ہندو جن لاتعداد خداؤں کو پوجتے ہیں ان میں بندر، پیپل، مور، گھڑیال، ہنس، طوطا، چوہا، انجیر، تلسی، ببول، گنگا ( دریائے گنگا ) ، گائے اور سانپ بھی شامل ہے۔

Read more

سانپ کی فطرت اور سیاست

اک عورت نے اژدھا ( سانپ ) پالا ہوا تھا۔ اس عورت کو اژدھا بچوں کی طرح عزیز تھا۔ وہ اس کو اپنے ساتھ کھلاتی، پلاتی، سلاتی تھی۔ کچھ عرصے بعد اژدھے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ عورت پریشان ہوئی اور اس کو جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر نے اژدھے کو بغور دیکھا اور عورت سے پوچھا آپ اس کو اپنے ساتھ سلاتی ہیں۔ عورت نے اثبات میں جواب دیا۔ ڈاکٹر نے پھر پوچھا کیا یہ آپ کے ساتھ لیٹ کر اپنے اپنا جسم اکڑاتا ہے۔ عورت نے پھر اثبات میں جواب دیا۔ ڈاکٹر نے کہا یہ سانپ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہا ہے۔

Read more

جس دن دلربا نے خوش کردیا

ہرنام سنگھ اور پربنت کور کی شادی کے کئی سال بعد بیٹا پیدا ہوا۔ بہت دوائیں کیں۔ پیروں فقیروں، گردواروں کے گرد ماتھے ٹیکے تب کہیں خدا خدا کرکے ڈھلتی عمر میں اوپر والے نے اسے پرنام سنگھ کی صورت میں اولاد نرینہ اور وارث عطا کیا۔ اب دونوں میاں بیوی کے جینے کا سہارا اور آسوں امید کا مرکز پرنام سنگھ کے لیے ہرنام سنگھ اور پربنت کور نے کئی کئی خواب دیکھے کئی کئی خیال سوچے۔ انہی سوچوں میں گم ہرنام سنگھ چاہتا تھا پرنام سنگھ پہلوان بنے اکھاڑے میں کثرت کرے۔

Read more

اس کی بیوی سے سارا محلہ خوش تھا

سردار دلدار سنگھ سوڈھی کی عدالت کا اک واقعہ۔ دوسرے سال کا ذکر ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا اور پہلا مقدمہ تو نہیں تھا مگر عدالت کی کارروائی وکلاء کی جرح اور فریقین کی جگت بازی برسوں زبان زد عام رہی۔ نظر بظاہر تو یہ سیدھا سادھا طلاق اور علیحدگی کا کیس تھا۔ یہ شادی لڑکے کی مرضی کے خلاف اس کی ماں باپ کی مرضی سے ہوئی تھی اس لیے بڑوں کی کوشش تھی کسی طرح سے یہ گاڑی چلتی رہے۔ ہر چند ناچاقی بوقت رخصتی ہی شروع ہوگئی جب لڑکی کا چال چلن مشکوک نظر آیا۔

Read more

پکی رائفل اور کھڑک سنگھ

اگلے وقتوں کی بات ہے۔ ہرنام سنگھ اور کھڑک سنگھ دو ہمسائے ہوا کرتے تھے۔ دونوں کے گھر اور کھیت ساتھ ساتھ تھے۔ جہاں دو برتن ہوں کھنکھناہٹ تو ہوتی ہے۔ سو دونوں میں نوک جھوک چلتی رہتی۔ ہرنام سنگھ کے پاس زمیں جائیداد نوکر چاکر سب کچھ تھا مگر کھڑک سنگھ کا گزارا بمشکل…

Read more

مہاراجہ جنرل ہرنام سنگھ اور مولانا کی سیاسی بصیرت

ایک دفعہ کا ذکر ہے ہرنام سنگھ ٹرین میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو سفر تھا۔ ہر نام سنگھ تھوڑا سا سرشار بھی تھا۔ اہل و عیال میں اس کی بیوی بیٹی بیٹا چھوٹا بھائی اور دو ملازم شامل۔ ہرنام سنگھ سے کچھ دور اک دوشیزہ پرنام کور بھی اپنی ماں کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں تھی۔ اکیلی لڑکی ٹرین کا لمبا سفر ہرنام سنگھ نے موقع غنیمت جانا اور اپنے اہل و عیال کو لے کر پرنام کور کے قریب ہو کے بیٹھ گیا۔ پرنام کور کی الہڑ جوانی مستانی آنکھیں لانبے گیسو دراز مژگاں دل پھینک ہرنام سنگھ کو بے چین کر گئی۔

Read more

فلم ہر فن مولا اور جعلی صحافی

جنرل پرویز مشرف صاحب کا دور صدارت تھا۔ یہ دور تھا نئی نئی متعارف ہونے والی روشن خیالی کا۔ اس دور میں اک فلم بننا شروع ہوئی تھی ”ہر فن مولا“۔ اس سے پہلے مولا کا نام لے کر بہت سی فلمی بنی تھیں مثلاً مولا جٹ، مولے دا کھڑاک، مولا گجر، مولا تے مکھو…

Read more

فرشتے، ضیا الحق اور گھگہ صاحب

مرحوم صدر ضیا الحق کے زمانے میں اک گھگہ نام کے بزرگ سیاستدان ہوا کرتے تھے۔ اب وہ بھی مرحوم ہو گئے ہیں بوجوہ نام نہیں لکھ رہا۔ وہ بزرگ سیاستدان علاقائی سیاست اور خاندانی ووٹوں کے زور پہ اسمبلی میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ ویسے سیدھے سادے بھلے مانس آدمی تھے۔ غالباً باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں۔ تقریر کبھی کی ہی نہیں۔ نا ہی کبھی تحریر و تقریر کی ضرورت پڑی۔ ویسے بھی تقریر کا جوہر الیکشن کے دنوں میں آزمایا جاتا ہے جب کھوکھلے نعرے اور جھوٹے وعدے وعید کر کے لوگوں کا لہو گرما کے ووٹ مانگنے ہوتے ہیں۔ گھگہ صاحب لوک دانش خوب سمجھتے تھے اپنے علاقے کے تقریباً ہر گھر ہر فرد سے واقف تھے۔ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے اس لیے تقریر کے بغیر ہی ووٹ لے لیتے۔

Read more