پکی رائفل اور کھڑک سنگھ

اگلے وقتوں کی بات ہے۔ ہرنام سنگھ اور کھڑک سنگھ دو ہمسائے ہوا کرتے تھے۔ دونوں کے گھر اور کھیت ساتھ ساتھ تھے۔ جہاں دو برتن ہوں کھنکھناہٹ تو ہوتی ہے۔ سو دونوں میں نوک جھوک چلتی رہتی۔ ہرنام سنگھ کے پاس زمیں جائیداد نوکر چاکر سب کچھ تھا مگر کھڑک سنگھ کا گزارا بمشکل…

Read more

مہاراجہ جنرل ہرنام سنگھ اور مولانا کی سیاسی بصیرت

ایک دفعہ کا ذکر ہے ہرنام سنگھ ٹرین میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو سفر تھا۔ ہر نام سنگھ تھوڑا سا سرشار بھی تھا۔ اہل و عیال میں اس کی بیوی بیٹی بیٹا چھوٹا بھائی اور دو ملازم شامل۔ ہرنام سنگھ سے کچھ دور اک دوشیزہ پرنام کور بھی اپنی ماں کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں تھی۔ اکیلی لڑکی ٹرین کا لمبا سفر ہرنام سنگھ نے موقع غنیمت جانا اور اپنے اہل و عیال کو لے کر پرنام کور کے قریب ہو کے بیٹھ گیا۔ پرنام کور کی الہڑ جوانی مستانی آنکھیں لانبے گیسو دراز مژگاں دل پھینک ہرنام سنگھ کو بے چین کر گئی۔

Read more

فلم ہر فن مولا اور جعلی صحافی

جنرل پرویز مشرف صاحب کا دور صدارت تھا۔ یہ دور تھا نئی نئی متعارف ہونے والی روشن خیالی کا۔ اس دور میں اک فلم بننا شروع ہوئی تھی ”ہر فن مولا“۔ اس سے پہلے مولا کا نام لے کر بہت سی فلمی بنی تھیں مثلاً مولا جٹ، مولے دا کھڑاک، مولا گجر، مولا تے مکھو…

Read more

فرشتے، ضیا الحق اور گھگہ صاحب

مرحوم صدر ضیا الحق کے زمانے میں اک گھگہ نام کے بزرگ سیاستدان ہوا کرتے تھے۔ اب وہ بھی مرحوم ہو گئے ہیں بوجوہ نام نہیں لکھ رہا۔ وہ بزرگ سیاستدان علاقائی سیاست اور خاندانی ووٹوں کے زور پہ اسمبلی میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ ویسے سیدھے سادے بھلے مانس آدمی تھے۔ غالباً باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں۔ تقریر کبھی کی ہی نہیں۔ نا ہی کبھی تحریر و تقریر کی ضرورت پڑی۔ ویسے بھی تقریر کا جوہر الیکشن کے دنوں میں آزمایا جاتا ہے جب کھوکھلے نعرے اور جھوٹے وعدے وعید کر کے لوگوں کا لہو گرما کے ووٹ مانگنے ہوتے ہیں۔ گھگہ صاحب لوک دانش خوب سمجھتے تھے اپنے علاقے کے تقریباً ہر گھر ہر فرد سے واقف تھے۔ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے اس لیے تقریر کے بغیر ہی ووٹ لے لیتے۔

Read more

سانپ اور بزرگ

بہت پرانا قصہ ہے۔ بارہا کہا گیا بارہا سنا گیا۔ ایک شخص جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ اس نے خاردار جھاڑیوں میں اک سانپ پھنسا ہوا دیکھا۔ سانپ زخموں سے چور ملتجیٰ نظروں سے اس آدمی کو دیکھنے لگا۔ آدمی کو سانپ پہ ترس آگیا اور اس نے اک زیتون کی شاخ لے کر زخمی سانپ کو جھاڑیوں سے باہر نکالا۔

باہر نکلے کے بعد بجائے اس کے سانپ اس آدمی کا مشکور ہوتا سانپ نے پھنکارنا شروع کردیا میں تمہیں ڈسوں گا، میں تمہیں ڈسوں گا۔ اب آدمی مشکل میں پھنس گیا اسے سمجھ نہ آئے کیا کرے۔

Read more

ماسٹر محمد حسین ولد غلام رسول

بڑے دنوں کی بات ہے۔ لاہور کے مضافات پتوکی کے گاؤں میں ماسٹر محمد حسین ہوا کرتے تھے۔ مسلم لیگی کارکن ماسٹر محمد حسین ولد غلام رسول۔ نیک دل، سادہ طبیعت حق بات کہنے والے اور حق بات پہ ڈٹ جانے والے۔ جنرل مشرف صاحب نئے نئے صاحب اقتدار و اختیار ہوئے تھے۔ سوائے ان کے کسی کا بس نہ چلتا تھا۔ کل کے شاہ، آج گدا قصہ پارینہ ہوئے جاتے تھے۔ میاں صاحباں اور ان کے چند جانثار ساتھی پس زنداں تھے۔

ایسے میں مرحومہ کلثوم نواز جان ہتھیلی پہ رکھ کر نکلیں۔ چاہے لوگ اسے شوہر بچانے کی تحریک کہیں لیکن اس وقت وہ مزاحمت کی علامت تھیں۔

Read more

مالٹے کا جوس اور کچرے کا پہاڑ

یہ کم وبیش بیس سال پرانی بات ہے۔ لاطینی امریکہ کے ملک کوسٹاریکا میں جوس بنانی والی ایک کمپنی ”ڈیل اورو“ ( Del Oro) کو اک مسئلہ درپیش تھا۔ مسئلہ مالٹے (کینو) کا جوس نکالنے کے بعد اس کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کا تھا۔ باقیات یا کچرا جس میں مالٹے کا پلپ، اس کا بیج اور اس کا چھلکا شامل تھا۔ میٹنگز ہوئیں مختلف تجاویز آئیں۔ اک تجویز مہنگا پروسیسنگ پلانٹ لگانے کی بھی تھی۔ اسی دوران پینسلوانیا یونیورسٹی کے دو ماحولیاتی ماہرین ان کے پاس آئے اور اک مختلف تجویز پیش کی۔

Read more

سائیکل پر بٹیرے سے مرسڈیز پر طوطے تک، مبارک  ہو مبارک ہو

لاہور میں آپ اگر قرطبہ چوک فیروز پور روڈ سے کلمہ چوک کی طرف جائیں تو ڈسٹرک جیل کے بعد بائیں ہاتھ پر شادمان سے پہلے ٹولنٹن مارکیٹ آتی ہے۔ ٹولنٹن مارکیٹ کی وجہ شہرت بہت سی ہیں جن میں سے ایک عام اور نایاب پرندوں کی خرید و فروخت ہے۔ میں اور میرا محترم…

Read more

رحمت علی رازی: سومنات جہان میں محمود شکل ایاز

رحمت علی رازی صاحب کو چند سطروں میں بیان کرنا ممکن نہیں نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ محب وطن سچا پاکستانی۔ نڈر صحافی، مستند کالم نگا، تحقیقی رپورٹر، بیوروکریسی کا نبض شناس، نئے صحافیوں کا محسن، خوش اخلاق، خوش کردار، خوش لباس۔ سات اے پی این ایس ایوارڈ یافتہ واحد صحافی۔ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکرگی سمیت کئی ایوارڈ اور سندیں سمیٹے والا متحرک آدمی۔ اپنی ذات میں انجمن، محفلوں میں جان محفل۔ رازی صاحب کا تعلق اس قبیلے سے تھا جن کو جغادری صحافی کہا جاتا ہے۔ جو نرم گرم چشیدہ لوگ تھے۔ جنہوں نے صحافت کے اساتذہ سے سیکھا اور ان کے ساتھ کام کیا۔

Read more

چھوٹے شاہ کا فارمولہ دلبر دلبر ہو دلبر دلبر

قدیم ہندوستان کی ریاست مارونڈہ کا راجہ دلیر سنگھ دلبر بڑی محنت مشقت بڑی جدوجہد کے بعد تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی سے پہلے وہی دعوے وعدے، لڑائیاں، محلاتی شازشیں، جنگ و جدل اور قید بند کی کہانیاں جو عموماً راجوں مہاراجوں اور تخت کے حاصل وصول کا لازمی حصہ ہوتیں ہیں۔ تخت نشینی کے…

Read more