بادشاہ کی رحم دلی اور انصاف کی تلوار

برسوں پہلے کا قصہ ہے۔ ہر طرف خوشحالی تھی۔ راوی ہر وقت چین ہی چین لکھتا رہتا تھا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی پیتے رہتے تھے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی کیوں نہ پیتے بادشاہ سلامت جو انصاف پسند ہوئے۔ انصاف بھی وہ جس کے چرچے چار سو۔ کامیابی وہ جو دشمن مانے۔ اپنے تو اپنے بیگانے بھی بادشاہ سلامت کے انصاف کے تعریف کیے بنا نہ رہتے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی مقدمہ اگر بادشاہ سلامت کے حضور پہنچا تو پھر انصاف ہو کے رہے گا۔

Read more

اس قبر کو نہ اکھاڑو

گھوڑا شاید ان جانوروں میں شامل ہے جس سے حضرت انسان نے پہلے پہل انسیت پیدا کی۔ یہ انسیت بڑھتے بڑھتے دوستی میں بدل گئی۔ مگر یہ دوستی اسی وقت تک قائم و دائم رہی جب تک گھوڑا کھڑا رہا۔ گھوڑا اس وقت تک کھڑا رہتا ہے جب تک اس میں جوانی اور طاقت کے آثار باقی ہیں۔ گھوڑا اپنی نیند بھی کھڑے کھڑے پوری کرتا ہے۔ گھوڑا کے اعضا مضمحل ہو جائیں اور وہ بیٹھنے لگ جائے تو سمجھا جاتا ہے اب اس پہ بڑھایا آ گیا ہے۔ بوڑھے گھوڑے مالک اور معیشت دونوں پہ بوجھ ہوتے ہیں۔

عمر رسیدہ گھوڑے کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔ اگلے وقتوں میں بوڑھے گھوڑوں کو جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ جہاں وہ جنگلی حیات کے رحم و کرم پہ ہوتے۔ جب بندوق ایجاد ہوئی اور انگریزوں کی برصغیر آمد ہوئی تو وہ اپنے بوڑھے گھوڑوں سے چھٹکارا پانے کا اک نیا طریقہ لے کر آئے۔ انگریز اپنے بے کار گھوڑے کے سر کے وسط میں گولی مار کر اس سے چھٹکارا پاتے۔ انگریز تو برصغیر سے چلے کیے مگر ان کی بہت سی روایت اب بھی کسی نہ کسی صورت رائج ہیں۔

Read more

مزے تو ماہی اب آئیں گے

ہرنام سنگھ اور پرنام سنگھ پرتاب سنگھ کے دو صاحبزادے تھے۔ پرنام سنگھ سگا تھا اور ہرنام سنگھ سوتیلا۔ پرنام سنگھ لاڈلا تھا جبکہ ہرنام سنگھ باپ کو اک آنکھ نہ بھاتا۔ پرتاب سنگھ اک سفر پہ روانہ ہوا تو جاتے ہوئے اس نے پرنام سنگھ کو کافی ساری چیزیں دیں اور ہرنام سنگھ کو صرف اک کچھا اور دھوتی عطا ہوئی۔ جو بالترتیب اس کے تن پہ زیب رہتی۔ جاتے ہوتے پرتاب سنگھ نے کہا خبردار واپسی پہ میں نے حساب لینا ہے۔

Read more

کنفیوشش کا سو سالہ منصوبہ

علی بن حمزہ کسائی ( امام کسائی) عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے صاحبزادگان مامون الرشید اور امین الرشید کے اتالیق تھے۔ ایک دفعہ امام کسائی مجلس سے اٹھے تو دونوں شہزادگان استاد کے نعلین اٹھانے دوڑے اور اس بات پہ تکرار کرنے لگے کون استاد کے جوتے اٹھائے گا۔ بلآخر دونوں جوتے کا ایک ایک…

Read more

نشئی چور اور ٹھیکیداروں کی حکومت

محلہ کی نکڑ پہ پانی کا نل تھا۔ سارا محلہ اور راہ گیر مسافر اس نل کے پانی سے فیضیاب ہوتے۔ نل سے رسنے والے پانی سے چھوٹا سے جوہڑ بن گیا جس پہ دن رات مکھیاں مچھر اور دوسرے جراثیم پرورش پانے لگے۔ نل سے پانی رسنے کے پیچھے بھی اک کہانی تھی۔ ہوا…

Read more

جب دہلی کی حفاظت ناگ کیا کرتے تھے

ہندی میں نر کوبرا کو ناگ اور مادہ کوبرا کو ناگن کہا جاتا ہے۔ ہندو مذہب میں پوجے جانے والے خداؤں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ بعض کتب میں ہندوؤں کے خداؤں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ اور کچھ کتب میں ان کے خداؤں کی تعداد پانچ کروڑ رقم کی گئی ہے۔ ہندو جن لاتعداد خداؤں کو پوجتے ہیں ان میں بندر، پیپل، مور، گھڑیال، ہنس، طوطا، چوہا، انجیر، تلسی، ببول، گنگا ( دریائے گنگا ) ، گائے اور سانپ بھی شامل ہے۔

Read more

سانپ کی فطرت اور سیاست

اک عورت نے اژدھا ( سانپ ) پالا ہوا تھا۔ اس عورت کو اژدھا بچوں کی طرح عزیز تھا۔ وہ اس کو اپنے ساتھ کھلاتی، پلاتی، سلاتی تھی۔ کچھ عرصے بعد اژدھے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ عورت پریشان ہوئی اور اس کو جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر نے اژدھے کو بغور دیکھا اور عورت سے پوچھا آپ اس کو اپنے ساتھ سلاتی ہیں۔ عورت نے اثبات میں جواب دیا۔ ڈاکٹر نے پھر پوچھا کیا یہ آپ کے ساتھ لیٹ کر اپنے اپنا جسم اکڑاتا ہے۔ عورت نے پھر اثبات میں جواب دیا۔ ڈاکٹر نے کہا یہ سانپ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہا ہے۔

Read more

جس دن دلربا نے خوش کردیا

ہرنام سنگھ اور پربنت کور کی شادی کے کئی سال بعد بیٹا پیدا ہوا۔ بہت دوائیں کیں۔ پیروں فقیروں، گردواروں کے گرد ماتھے ٹیکے تب کہیں خدا خدا کرکے ڈھلتی عمر میں اوپر والے نے اسے پرنام سنگھ کی صورت میں اولاد نرینہ اور وارث عطا کیا۔ اب دونوں میاں بیوی کے جینے کا سہارا اور آسوں امید کا مرکز پرنام سنگھ کے لیے ہرنام سنگھ اور پربنت کور نے کئی کئی خواب دیکھے کئی کئی خیال سوچے۔ انہی سوچوں میں گم ہرنام سنگھ چاہتا تھا پرنام سنگھ پہلوان بنے اکھاڑے میں کثرت کرے۔

Read more

اس کی بیوی سے سارا محلہ خوش تھا

سردار دلدار سنگھ سوڈھی کی عدالت کا اک واقعہ۔ دوسرے سال کا ذکر ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا اور پہلا مقدمہ تو نہیں تھا مگر عدالت کی کارروائی وکلاء کی جرح اور فریقین کی جگت بازی برسوں زبان زد عام رہی۔ نظر بظاہر تو یہ سیدھا سادھا طلاق اور علیحدگی کا کیس تھا۔ یہ شادی لڑکے کی مرضی کے خلاف اس کی ماں باپ کی مرضی سے ہوئی تھی اس لیے بڑوں کی کوشش تھی کسی طرح سے یہ گاڑی چلتی رہے۔ ہر چند ناچاقی بوقت رخصتی ہی شروع ہوگئی جب لڑکی کا چال چلن مشکوک نظر آیا۔

Read more

پکی رائفل اور کھڑک سنگھ

اگلے وقتوں کی بات ہے۔ ہرنام سنگھ اور کھڑک سنگھ دو ہمسائے ہوا کرتے تھے۔ دونوں کے گھر اور کھیت ساتھ ساتھ تھے۔ جہاں دو برتن ہوں کھنکھناہٹ تو ہوتی ہے۔ سو دونوں میں نوک جھوک چلتی رہتی۔ ہرنام سنگھ کے پاس زمیں جائیداد نوکر چاکر سب کچھ تھا مگر کھڑک سنگھ کا گزارا بمشکل…

Read more