مچھر مار سپرے اور لندن میں حملہ

دو ہزار گیارہ، بارہ میں ہم لوگ لاہور کے علاقہ گلشن راوی میں رہا کرتے تھے۔ شہباز شریف ان دنوں پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ ہمارے محلے دار اک بزرگوار ہوا کرتے تھے۔ جو پرانے جیالے تھے۔ بزرگوار نے زندگی بھر سیاست کی اور سینکڑوں الیکشن ہارے۔ وہ غالباً بی ڈی ممبر سے شروع ہو کر، کونسلر، چیئرمین، ناظم، ایم پی اے، ایم این اے اور سینٹ کا الیکشن بارہا ہار چکے تھے۔ غیر سرکاری الیکشن و ٹاؤن کمیٹیوں کے

Read more

عالیہ اور عظمیٰ

اگلے وقتوں کی بات ہے۔ رات اپنے جوبن پہ تھی۔ رعایا محو خرام۔ بادشاہ سلامت پائیں باغ میں غسل مہتابی سے جی بہلا رہے تھے۔ دفعتہً اک کنیز پہ نظر پڑی اور دل مچل گیا۔ اشارہ ابرو سمجھ کر وزیر با تدبیر نے غلام زادی کو شاہی حرم میں بھیج دیا۔ سچ تو عالم الغیب ہی جانے وہ کنیز سچی خدا رسیدہ تھی یا کچھ اور۔ اس نے شاہ وقت کے حضور جرات انکار کیا اور کہا ظل سبحانی میں تمہارے باپ کے ساتھ خلوت نشیں رہی ہوں۔ بادشاہ کی طبیعت میں ہیجان و غضب شریعت آڑے۔

رات کے اسی پہر قاضی القضا کو بلا بھیجا۔ قاضی صاحب نے بادشاہ کی نیت بھانپ کر دلیل و منطق کی قینچی سے وہ فیصلہ کیا جس کی نظیر باید و شاید۔ بادشاہ اور اس کے حواری عش عش کر اٹھے۔ خوشی سے سرشار بادشاہ نے قاضی کے چہرہ پہ بوسہ دیا۔ قاضی نے عرض کیا حضور اکیلی عورت کی گواہی کون جانے کون مانے باقی حضور کا اقبال بلند۔

Read more

جنرل ضیاء کے جوتے اور جمہوریت سے انتقام

جنرل ضیاء الحق صاحب کا زمانہ تھا۔ جنرل صاحب حسب روایت سرکاری غیر سرکاری تقریبات کی رونق بڑھاتے۔ جنرل صاحب حج زکوٰۃ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ جنرل صاحب کی عادت تھی جہاں نماز کا وقت ہوا وہیں سر بسجود ہو گئے۔ یہ سلسلہ یہ عادت سفر و حضر میں بھی جاری رہتی۔ جنرل صاحب ایک تقریب میں تشریف لائے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ جنرل صاحب نماز ادا کرنے کے بعد جوتا پہنے لگے تو انہیں کچھ دشواری ہوئی جوتا تنگ تھا یا جراب کا مسئلہ۔

کچھ دنوں بعد جنرل صاحب ایسی ہی کسی دوسری تقریب میں رونق افروز تھے کے نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز ادا کرنے کے بعد جنرل صاحب جیسے ہی جوتا پہننے لگے اک صاحب فوراً جوتا پہنانے میں مدد دینے ولا آلہ لے کر دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ جنرل صاحب نے شکریہ ادا کیا۔ مگر پاس کھڑے ساتھی نے کہا خوشامد کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ( دنیا حاسدین بد سے خالی نہیں ) ۔ اس سے اگلی تقریب میں جب جنرل صاحب نماز ادا کرنے کے بعد جوتا پہننے کے لیے کرسی پہ تشریف فرما ہوئے تو وہی صاحب جوتا پہننے میں مدد دینے والا آلہ لے کر قدموں میں بیٹھ گئے۔

Read more

طوائف اور ٹھگ

ہندوستان کے شہر بنارس کی شہرت کئی وجوہات کی بنا پر ہے۔ مثلاً بنارسی پان، بنارسی بابو، بنارسی سوٹ، بنارسی ساڑھی اور سب سے بڑھ کر بنارسی ٹھگ۔ پرانے قصوں کہانیوں میں بنارسی ٹھگوں کی کارستانیوں کا ذکر ملتا ہے۔ بنارسی ٹھگوں پہ ہندوستان اور پاکستان میں بہت سی فلمیں بھی بنیں۔ اور ڈراموں میں بھی ان پہ طبع آزمائی کی گئی۔ ٹھگ بیک وقت مکاری، عیاری، چلاکی ہوشیاری اور کمینگی کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ٹھگ اتنے سکون و اطمینان

Read more

طارق عزیز، ذوالفقار علی بھٹو اور عوام کی نفسیات

ہر دلعزیز استاد، دانشور، صحافی، صداکار، اداکار، اور چلتا پھرتا چھوٹا سا پاکستان طارق عزیز پیوند خاک ہوا۔ میری ان بہت سے لوگوں سے نیاز مندی رہی جن کی نیاز مندی طارق عزیز صاحب سے رہی۔ جی چاہا ان پہ کچھ لکھوں مگر اس بات کو کسی اور وقت پہ اٹھا رکھتے ہیں۔ ویسے بھی طارق عزیز صاحب کی شخصیت اور ان کی زندگی سے جڑے واقعات کو اک کالم میں سمونا ناانصافی ہوگی۔ اس طرح کے موضوعات زندگی کے

Read more

نوازشریف اور قاضی فیض عیسیٰ میں فرق

دوسری دفعہ کا ذکر ہے۔ اک شخص نے اک شریر سا جانور پال لیا۔ بڑے بوڑھوں نے، دوستوں نے سیانوں نے سمجھایا یہ تم نے کون سی سی دانشمندی دکھائی ہے۔ یہ جانور تو مداری پالتے ہیں۔ تم خاندانی آدمی ہو۔ کوئی شیر رکھو، چیتا پالو۔ بھینس رکھو گھوڑا پالو۔ مگر اس نے سنی ان سنی کردی۔ وہ شخص کہتا یہ میرا دوست ہے۔ عشق کی لگے راہ دے نال ( عشق کو راستے سے کیا سروکار ) ۔ اب

Read more

رحمت علی رازی: وہی آبلے ہیں وہی جلن

اعلیٰ ظرف انسان اور بڑے آدمی کی یہ خصوصیت ہوتی ہے وہ دوسروں پہ اپنے علم، مرتبہ، اور حیثیت کا رعب نہیں ڈالتا نہ ہی دوسرے کو چھوٹا ثابت کرتا ہے۔ نئے آنے والوں کے لیے کڑی دھوپ میں شجر سایہ دار ہوتا ہے۔ یہ تو چند سطری روایتی باتیں ہیں۔ رحمت علی رازی صاحب کو چند سطروں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ محب وطن سچا پاکستانی۔ نڈر صحافی، مستند کالم نگار، تحقیقی رپورٹر، بیوروکریسی کا نبض شناس، نئے صحافیوں کا محسن، خوش اطوار، خوش اندام، خوش اخلاق، خوش کردار، خوش لباس۔

سات اے پی این ایس ایوارڈ یافتہ واحد صحافی۔ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سمیت کئی ایوارڈ اور سندیں سمیٹے والا متحرک آدمی۔ اپنی ذات میں انجمن، محفلوں میں جان محفل۔ رازی صاحب کا تعلق اس قبیلے سے تھا جن کو جغادری صحافی کہا جاتا ہے۔ جو نرم گرم چشیدہ لوگ تھے۔ جنہوں نے صحافت کے اساتذہ سے سیکھا اور ان کے ساتھ کام کیا۔

Read more

فیر آیا جے غوری

علامہ اقبال کی ایک نظم ہے ”ایک پہاڑ اور گلہری“ ۔ یہ نظم علامہ اقبال کی کتاب ”بانگ درا“ میں درج ہے۔ بانگ درا کا اسلوب ”بال جبریل“ سے خاصا مختلف ہے۔ دوسرا یہ نظم علامہ اقبال نے ایمرسن سے متاثر ہو کر لکھی یعنی ماخوذ از ایمرسن ہے۔ یہ نظم پہاڑ اور گلہری کے درمیان مکالمہ ہے جس میں پہاڑ گلہری کو اس کی چھوٹی جسامت کا طعنہ دیتا ہے۔ اپنی آن بان شان بڑائی بیان کرتا۔ اس کے جواب میں گلہری اس سے مرعوب نہیں ہوتی بلکہ اس کو ترکی بہ ترکی جواب دیتی ہے۔

جو میں بڑی نہیں تیری طرح تو کیا پروا
نہیں ہے تو بھی تو آخر مری طرح چھوٹا

Read more

بادشاہ کی رحم دلی اور انصاف کی تلوار

برسوں پہلے کا قصہ ہے۔ ہر طرف خوشحالی تھی۔ راوی ہر وقت چین ہی چین لکھتا رہتا تھا۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی پیتے رہتے تھے۔ شیر اور بکری ایک گھاٹ پہ پانی کیوں نہ پیتے بادشاہ سلامت جو انصاف پسند ہوئے۔ انصاف بھی وہ جس کے چرچے چار سو۔ کامیابی وہ جو دشمن مانے۔ اپنے تو اپنے بیگانے بھی بادشاہ سلامت کے انصاف کے تعریف کیے بنا نہ رہتے۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں تھی مقدمہ اگر بادشاہ سلامت کے حضور پہنچا تو پھر انصاف ہو کے رہے گا۔

Read more

اس قبر کو نہ اکھاڑو

گھوڑا شاید ان جانوروں میں شامل ہے جس سے حضرت انسان نے پہلے پہل انسیت پیدا کی۔ یہ انسیت بڑھتے بڑھتے دوستی میں بدل گئی۔ مگر یہ دوستی اسی وقت تک قائم و دائم رہی جب تک گھوڑا کھڑا رہا۔ گھوڑا اس وقت تک کھڑا رہتا ہے جب تک اس میں جوانی اور طاقت کے آثار باقی ہیں۔ گھوڑا اپنی نیند بھی کھڑے کھڑے پوری کرتا ہے۔ گھوڑا کے اعضا مضمحل ہو جائیں اور وہ بیٹھنے لگ جائے تو سمجھا جاتا ہے اب اس پہ بڑھایا آ گیا ہے۔ بوڑھے گھوڑے مالک اور معیشت دونوں پہ بوجھ ہوتے ہیں۔

عمر رسیدہ گھوڑے کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے۔ اگلے وقتوں میں بوڑھے گھوڑوں کو جنگلوں میں چھوڑ دیا جاتا تھا۔ جہاں وہ جنگلی حیات کے رحم و کرم پہ ہوتے۔ جب بندوق ایجاد ہوئی اور انگریزوں کی برصغیر آمد ہوئی تو وہ اپنے بوڑھے گھوڑوں سے چھٹکارا پانے کا اک نیا طریقہ لے کر آئے۔ انگریز اپنے بے کار گھوڑے کے سر کے وسط میں گولی مار کر اس سے چھٹکارا پاتے۔ انگریز تو برصغیر سے چلے کیے مگر ان کی بہت سی روایت اب بھی کسی نہ کسی صورت رائج ہیں۔

Read more

مزے تو ماہی اب آئیں گے

ہرنام سنگھ اور پرنام سنگھ پرتاب سنگھ کے دو صاحبزادے تھے۔ پرنام سنگھ سگا تھا اور ہرنام سنگھ سوتیلا۔ پرنام سنگھ لاڈلا تھا جبکہ ہرنام سنگھ باپ کو اک آنکھ نہ بھاتا۔ پرتاب سنگھ اک سفر پہ روانہ ہوا تو جاتے ہوئے اس نے پرنام سنگھ کو کافی ساری چیزیں دیں اور ہرنام سنگھ کو صرف اک کچھا اور دھوتی عطا ہوئی۔ جو بالترتیب اس کے تن پہ زیب رہتی۔ جاتے ہوتے پرتاب سنگھ نے کہا خبردار واپسی پہ میں نے حساب لینا ہے۔

Read more

کنفیوشش کا سو سالہ منصوبہ

علی بن حمزہ کسائی ( امام کسائی) عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے صاحبزادگان مامون الرشید اور امین الرشید کے اتالیق تھے۔ ایک دفعہ امام کسائی مجلس سے اٹھے تو دونوں شہزادگان استاد کے نعلین اٹھانے دوڑے اور اس بات پہ تکرار کرنے لگے کون استاد کے جوتے اٹھائے گا۔ بلآخر دونوں جوتے کا ایک ایک پاؤں لے کر استاد کے پاس پہنچے۔ خلیفہ ہارون الرشید یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اگلے دن اس نے اپنے مصاحبین وزراء اور درباریوں

Read more

نشئی چور اور ٹھیکیداروں کی حکومت

محلہ کی نکڑ پہ پانی کا نل تھا۔ سارا محلہ اور راہ گیر مسافر اس نل کے پانی سے فیضیاب ہوتے۔ نل سے رسنے والے پانی سے چھوٹا سے جوہڑ بن گیا جس پہ دن رات مکھیاں مچھر اور دوسرے جراثیم پرورش پانے لگے۔ نل سے پانی رسنے کے پیچھے بھی اک کہانی تھی۔ ہوا کچھ یوں نل کی ٹوٹی اک رات نشئی قسم کے چور اتار کر لے گئے اور اس کی جگہ نل کے منہ پہ چھوٹی سی

Read more

جب دہلی کی حفاظت ناگ کیا کرتے تھے

ہندی میں نر کوبرا کو ناگ اور مادہ کوبرا کو ناگن کہا جاتا ہے۔ ہندو مذہب میں پوجے جانے والے خداؤں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ بعض کتب میں ہندوؤں کے خداؤں کی تعداد ساڑھے تین کروڑ اور کچھ کتب میں ان کے خداؤں کی تعداد پانچ کروڑ رقم کی گئی ہے۔ ہندو جن لاتعداد خداؤں کو پوجتے ہیں ان میں بندر، پیپل، مور، گھڑیال، ہنس، طوطا، چوہا، انجیر، تلسی، ببول، گنگا ( دریائے گنگا ) ، گائے اور سانپ بھی شامل ہے۔

Read more

سانپ کی فطرت اور سیاست

اک عورت نے اژدھا ( سانپ ) پالا ہوا تھا۔ اس عورت کو اژدھا بچوں کی طرح عزیز تھا۔ وہ اس کو اپنے ساتھ کھلاتی، پلاتی، سلاتی تھی۔ کچھ عرصے بعد اژدھے نے کھانا پینا چھوڑ دیا۔ عورت پریشان ہوئی اور اس کو جانوروں کے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ ڈاکٹر نے اژدھے کو بغور دیکھا اور عورت سے پوچھا آپ اس کو اپنے ساتھ سلاتی ہیں۔ عورت نے اثبات میں جواب دیا۔ ڈاکٹر نے پھر پوچھا کیا یہ آپ کے ساتھ لیٹ کر اپنے اپنا جسم اکڑاتا ہے۔ عورت نے پھر اثبات میں جواب دیا۔ ڈاکٹر نے کہا یہ سانپ آپ کو کھانے کی تیاری کر رہا ہے۔

Read more

جس دن دلربا نے خوش کردیا

ہرنام سنگھ اور پربنت کور کی شادی کے کئی سال بعد بیٹا پیدا ہوا۔ بہت دوائیں کیں۔ پیروں فقیروں، گردواروں کے گرد ماتھے ٹیکے تب کہیں خدا خدا کرکے ڈھلتی عمر میں اوپر والے نے اسے پرنام سنگھ کی صورت میں اولاد نرینہ اور وارث عطا کیا۔ اب دونوں میاں بیوی کے جینے کا سہارا اور آسوں امید کا مرکز پرنام سنگھ کے لیے ہرنام سنگھ اور پربنت کور نے کئی کئی خواب دیکھے کئی کئی خیال سوچے۔ انہی سوچوں میں گم ہرنام سنگھ چاہتا تھا پرنام سنگھ پہلوان بنے اکھاڑے میں کثرت کرے۔

Read more

اس کی بیوی سے سارا محلہ خوش تھا

سردار دلدار سنگھ سوڈھی کی عدالت کا اک واقعہ۔ دوسرے سال کا ذکر ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا اور پہلا مقدمہ تو نہیں تھا مگر عدالت کی کارروائی وکلاء کی جرح اور فریقین کی جگت بازی برسوں زبان زد عام رہی۔ نظر بظاہر تو یہ سیدھا سادھا طلاق اور علیحدگی کا کیس تھا۔ یہ شادی لڑکے کی مرضی کے خلاف اس کی ماں باپ کی مرضی سے ہوئی تھی اس لیے بڑوں کی کوشش تھی کسی طرح سے یہ گاڑی چلتی رہے۔ ہر چند ناچاقی بوقت رخصتی ہی شروع ہوگئی جب لڑکی کا چال چلن مشکوک نظر آیا۔

Read more

پکی رائفل اور کھڑک سنگھ

اگلے وقتوں کی بات ہے۔ ہرنام سنگھ اور کھڑک سنگھ دو ہمسائے ہوا کرتے تھے۔ دونوں کے گھر اور کھیت ساتھ ساتھ تھے۔ جہاں دو برتن ہوں کھنکھناہٹ تو ہوتی ہے۔ سو دونوں میں نوک جھوک چلتی رہتی۔ ہرنام سنگھ کے پاس زمیں جائیداد نوکر چاکر سب کچھ تھا مگر کھڑک سنگھ کا گزارا بمشکل ہوتا تھا۔ صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے زندگی سبک اور تیز رواں تھی۔ دونوں میں توتکرار معمول تھا۔ ایک دن کھڑک سنگھ جسے کھانے

Read more

مہاراجہ جنرل ہرنام سنگھ اور مولانا کی سیاسی بصیرت

ایک دفعہ کا ذکر ہے ہرنام سنگھ ٹرین میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ محو سفر تھا۔ ہر نام سنگھ تھوڑا سا سرشار بھی تھا۔ اہل و عیال میں اس کی بیوی بیٹی بیٹا چھوٹا بھائی اور دو ملازم شامل۔ ہرنام سنگھ سے کچھ دور اک دوشیزہ پرنام کور بھی اپنی ماں کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں تھی۔ اکیلی لڑکی ٹرین کا لمبا سفر ہرنام سنگھ نے موقع غنیمت جانا اور اپنے اہل و عیال کو لے کر پرنام کور کے قریب ہو کے بیٹھ گیا۔ پرنام کور کی الہڑ جوانی مستانی آنکھیں لانبے گیسو دراز مژگاں دل پھینک ہرنام سنگھ کو بے چین کر گئی۔

Read more

فلم ہر فن مولا اور جعلی صحافی

جنرل پرویز مشرف صاحب کا دور صدارت تھا۔ یہ دور تھا نئی نئی متعارف ہونے والی روشن خیالی کا۔ اس دور میں اک فلم بننا شروع ہوئی تھی ”ہر فن مولا“۔ اس سے پہلے مولا کا نام لے کر بہت سی فلمی بنی تھیں مثلاً مولا جٹ، مولے دا کھڑاک، مولا گجر، مولا تے مکھو وغیرہ۔ مگر وہ سب پنجابی فلمیں تھیں اور ان میں پرانے چہرے پرانے ادارکار اور صدا کار تھے۔ فلم ہر فن مولا کی انفرادیت تھی

Read more

فرشتے، ضیا الحق اور گھگہ صاحب

مرحوم صدر ضیا الحق کے زمانے میں اک گھگہ نام کے بزرگ سیاستدان ہوا کرتے تھے۔ اب وہ بھی مرحوم ہو گئے ہیں بوجوہ نام نہیں لکھ رہا۔ وہ بزرگ سیاستدان علاقائی سیاست اور خاندانی ووٹوں کے زور پہ اسمبلی میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ ویسے سیدھے سادے بھلے مانس آدمی تھے۔ غالباً باقاعدہ تعلیم یافتہ نہیں۔ تقریر کبھی کی ہی نہیں۔ نا ہی کبھی تحریر و تقریر کی ضرورت پڑی۔ ویسے بھی تقریر کا جوہر الیکشن کے دنوں میں آزمایا جاتا ہے جب کھوکھلے نعرے اور جھوٹے وعدے وعید کر کے لوگوں کا لہو گرما کے ووٹ مانگنے ہوتے ہیں۔ گھگہ صاحب لوک دانش خوب سمجھتے تھے اپنے علاقے کے تقریباً ہر گھر ہر فرد سے واقف تھے۔ ان کی خوشی غمی میں شریک ہوتے تھے اس لیے تقریر کے بغیر ہی ووٹ لے لیتے۔

Read more

سانپ اور بزرگ

بہت پرانا قصہ ہے۔ بارہا کہا گیا بارہا سنا گیا۔ ایک شخص جنگل میں سے گزر رہا تھا کہ اس نے خاردار جھاڑیوں میں اک سانپ پھنسا ہوا دیکھا۔ سانپ زخموں سے چور ملتجیٰ نظروں سے اس آدمی کو دیکھنے لگا۔ آدمی کو سانپ پہ ترس آگیا اور اس نے اک زیتون کی شاخ لے کر زخمی سانپ کو جھاڑیوں سے باہر نکالا۔

باہر نکلے کے بعد بجائے اس کے سانپ اس آدمی کا مشکور ہوتا سانپ نے پھنکارنا شروع کردیا میں تمہیں ڈسوں گا، میں تمہیں ڈسوں گا۔ اب آدمی مشکل میں پھنس گیا اسے سمجھ نہ آئے کیا کرے۔

Read more

ماسٹر محمد حسین ولد غلام رسول

بڑے دنوں کی بات ہے۔ لاہور کے مضافات پتوکی کے گاؤں میں ماسٹر محمد حسین ہوا کرتے تھے۔ مسلم لیگی کارکن ماسٹر محمد حسین ولد غلام رسول۔ نیک دل، سادہ طبیعت حق بات کہنے والے اور حق بات پہ ڈٹ جانے والے۔ جنرل مشرف صاحب نئے نئے صاحب اقتدار و اختیار ہوئے تھے۔ سوائے ان کے کسی کا بس نہ چلتا تھا۔ کل کے شاہ، آج گدا قصہ پارینہ ہوئے جاتے تھے۔ میاں صاحباں اور ان کے چند جانثار ساتھی پس زنداں تھے۔

ایسے میں مرحومہ کلثوم نواز جان ہتھیلی پہ رکھ کر نکلیں۔ چاہے لوگ اسے شوہر بچانے کی تحریک کہیں لیکن اس وقت وہ مزاحمت کی علامت تھیں۔

Read more

مالٹے کا جوس اور کچرے کا پہاڑ

یہ کم وبیش بیس سال پرانی بات ہے۔ لاطینی امریکہ کے ملک کوسٹاریکا میں جوس بنانی والی ایک کمپنی ”ڈیل اورو“ ( Del Oro) کو اک مسئلہ درپیش تھا۔ مسئلہ مالٹے (کینو) کا جوس نکالنے کے بعد اس کی باقیات کو ٹھکانے لگانے کا تھا۔ باقیات یا کچرا جس میں مالٹے کا پلپ، اس کا بیج اور اس کا چھلکا شامل تھا۔ میٹنگز ہوئیں مختلف تجاویز آئیں۔ اک تجویز مہنگا پروسیسنگ پلانٹ لگانے کی بھی تھی۔ اسی دوران پینسلوانیا یونیورسٹی کے دو ماحولیاتی ماہرین ان کے پاس آئے اور اک مختلف تجویز پیش کی۔

Read more

سائیکل پر بٹیرے سے مرسڈیز پر طوطے تک، مبارک  ہو مبارک ہو

لاہور میں آپ اگر قرطبہ چوک فیروز پور روڈ سے کلمہ چوک کی طرف جائیں تو ڈسٹرک جیل کے بعد بائیں ہاتھ پر شادمان سے پہلے ٹولنٹن مارکیٹ آتی ہے۔ ٹولنٹن مارکیٹ کی وجہ شہرت بہت سی ہیں جن میں سے ایک عام اور نایاب پرندوں کی خرید و فروخت ہے۔ میں اور میرا محترم دوست شیر زمان اکثر بٹیرے لینے ٹولنٹن مارکیٹ جاتے رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں وہاں جانا ہوا تو نئی مرسیڈیز سے اترتے ہوئے اک شخص پر

Read more

رحمت علی رازی: سومنات جہان میں محمود شکل ایاز

رحمت علی رازی صاحب کو چند سطروں میں بیان کرنا ممکن نہیں نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں۔ محب وطن سچا پاکستانی۔ نڈر صحافی، مستند کالم نگا، تحقیقی رپورٹر، بیوروکریسی کا نبض شناس، نئے صحافیوں کا محسن، خوش اخلاق، خوش کردار، خوش لباس۔ سات اے پی این ایس ایوارڈ یافتہ واحد صحافی۔ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکرگی سمیت کئی ایوارڈ اور سندیں سمیٹے والا متحرک آدمی۔ اپنی ذات میں انجمن، محفلوں میں جان محفل۔ رازی صاحب کا تعلق اس قبیلے سے تھا جن کو جغادری صحافی کہا جاتا ہے۔ جو نرم گرم چشیدہ لوگ تھے۔ جنہوں نے صحافت کے اساتذہ سے سیکھا اور ان کے ساتھ کام کیا۔

Read more

چھوٹے شاہ کا فارمولہ دلبر دلبر ہو دلبر دلبر

قدیم ہندوستان کی ریاست مارونڈہ کا راجہ دلیر سنگھ دلبر بڑی محنت مشقت بڑی جدوجہد کے بعد تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی سے پہلے وہی دعوے وعدے، لڑائیاں، محلاتی شازشیں، جنگ و جدل اور قید بند کی کہانیاں جو عموماً راجوں مہاراجوں اور تخت کے حاصل وصول کا لازمی حصہ ہوتیں ہیں۔ تخت نشینی کے لیے دلیر سنگھ دلبر نے اپنی جوانی کے کئی سال تج دیے۔ راجہ کا اصل نام تو دلیر سنگھ تھا لیکن وہ اپنی شخصیت اور

Read more

اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے جاتے

بادشاہ سلامت نے ایک نئی شاہراہ تعمیر کروائی جس کے اردگرد سایۂ دار درختوں کی قطاریں لگوائیں۔ کچھ فاصلہ پر کنویں کھدوائے اور پانی کا انتظام بھی کیا۔ مسافروں کے لیے سرائیں بھی تعمیر ہوئیں جہاں سوار اور سواری دم لے سکے۔ بادشاہ سلامت نے اس شاہراہ کے افتتاح کے لئے ایک دوڑ یا چہل قدمی کا اعلان کیا اور کہا کہ اس دوڑ میں تمام شہری حصہ لیں اور اِس کے اختتام پر شاہراہ کے متعلق اپنے تاثرات کا

Read more

جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی

عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ اہل وطن نے اتنے سنگ سمیٹ لیے ہیں کہ اب کے پس مرگ بھی سنگ زنی جاری ہے۔ یہ کم و بیش سترہ برس ادھر کی بات ہے۔ ابھی وقت نے آمریت کی رعونت پہ خاک نہ ڈالی تھی۔ کوئی بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔ وقت ناں وقت ہوا چاہتا تھا۔ چشم زدن میں حالات نے ایسے پلٹا کھایا کہ بیشتر

Read more

چندہ اور ڈیم

شیریں فرہاد اک رومانوی داستان ہے۔ بعض کتب میں انہیں ایرانی کہا گیا اور بعض کتب میں شیریں فرہاد کا وطن بلوچستان بتایا گیا ہے۔ شیریں فرہاد کا مزار ایران میں بھی ہے اور بلوچستان میں آواران کے مقام پر بھی شیریں فرہاد کی قبر ہے۔ بہت سی دوسری لوک داستانوں کی طرح شیریں فرہاد کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں بہت سے قصے کہانیاں ہیں جو سینہ بہ سینہ چلے آرہے ہیں۔ بلوچ داستان گو کے مطابق فرہاد

Read more

وزیر اعظم، وزارت اطلاعات اور نادان دوست

نادان دوست اور دانا دشمن کا اک پرانا قصہ ہے۔ بادشاہ نے اک ملازم رکھا۔ ملازم تھوڑا موقع پرست تھا اس لیے وہ پہلے دو تین بادشاہوں کے ہاں بھی اپنی خدمت پیش کر چکا تھا۔ اوپر سے ملازم ذرا نادان اور منہ پھٹ بھی تھا جو ماضی میں بادشاہ کو بھی کھری کھری سنا چکا تھا۔ لیکن بادشاہ کو ملازم بہت عزیز تھا۔ مصاحبین خیر خواہوں نے بادشاہ سلامت سے عرض کیا “ حضور کسی صاحب عقل و نظر

Read more

شیخ رشید اور ڈھیلی نیکر

اک عورت کسی سیانے حکیم کے پاس گئی ۔ وہ اپنے بچے کی شرارتوں سے بہت پریشان تھی ۔ اس نے حکیم سے عرض کیا "بھائی کوئی نسخہ تجویز کریں اس کی شرارتیں کم ہو جائیں ” ۔ سیانے نے بچے کو دیکھا اور اور عورت سے کہا اسے ڈھیلی نیکر پہناؤ ۔ عورت نے کہا تمہارے پاس دوا لینے آئی ہوں نہ کہ مشورہ ۔ نیکر کا شرارتوں سے کیا واسطہ ۔ حکیم نے عرض کیا یہ سالہا سال

Read more

سرِ منبر وہ خوابوں کے محل

اگلے وقتوں کی بات ہے۔ گاؤں میں انتہا کی پسماندگی تھی۔ کھانا کسی کسی تو ملتا وہ بھی اک پہر، دو پہر۔ نہ کوئی سکول مدرسہ نہ مکتب پاٹ شالا۔ تیز تھا سر ہر خار۔ ڈاکٹر حکیم دوا دارو بھی مفقود۔ ہر جگہ بھوک ننگ افلاس کا راج تھا۔ ہر روش خاک اڑاتی تھی صبا۔ مال مویشی بد حال پیاسے۔ مال ڈھور ڈنگر سے بھی بدتر آدم زاد۔ اوّل تو پانی کوسوں دور۔ کہیں کہیں برساتی تالاب۔ وہ پانی بھی

Read more

عدل کی زنجیر میں جھنکار

اسلامی تاریخ عدل و انصاف کی بے مثال ولازوال داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ آقا ئے دو جہاں حضرت محمد ﷺ نے انصاف کی وہ مثال قائم کی جس میں آپﷺ کی نور نظر خاتون جنت حضرت فاطمہ (رض) کو بھی کوئی استثناء حاصل نہیں تھا۔ انصاف سب کے لیے برابر کیا بدو کیا سردار۔ کیا مردان عرب کیا عجمی۔ کیا آقا کیا غلام۔ حضور اکرمﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ پہلی قومیں اسی

Read more

پنجاب کے وزیر اعلٰی کا کھیل سپر اوور تک جا سکتا ہے

بوڑھا شکاری اپنے ساتھیوں، بالکوں کو لے کر شکار پر نکلا۔ شکاری پرانا گھاگ اپنے نشانہ میں طاق تھا۔ تیر تیشے بالے چلتے رہے۔ کچھ جانور شکار ہوئے کچھ گھائل کچھ زخمی ہو کے بھاگ نکلے۔ شکار کے ساتھ ساتھ جنگل کا فاصلہ بھی طے ہوتا رہا۔ چلتے چلتے جنگل کا وسط آگیا لیکن اتنا شکار ہاتھ نہ آیا جسے کامیابی کہا جائے۔ استاد نے بالکوں کو حکم دیا واپسی کا رخت سفر باندھیں۔ سب حیران لب بستہ دلگیر۔ اتنی

Read more

ووٹ کو عزت دیں

میرے ایک بزرگ نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ خلیجی ممالک میں محنت مزدوری کرتے گزارا۔ ان بزرگوار کی جمع پونجی لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں اک دس مرلے کا مکان جو انہوں نے اک نادارعورت کو مناسب داموں میں کرایہ پہ دیا ہوا تھا۔ بچیوں کی شادی کا مرحلہ درپیش آیا تو یہ اپنی بیوی بچے لے کر لاہور آگئے۔ دل میں وطن میں رہنے کے آدھے ادھورے سہانے خواب۔ آگے سے منظر ہی بدلا ہوا۔ کرایہ دار

Read more

ایون فیلڈ سے اڈیالہ

گاؤں میں چوری چکاری بہت تھی۔ ہر واردات میں تقریباً وہی چور اور وہی طریقہ واردات۔ گاؤن والوں نے بہت نسخے آزمائے لیکن چور کسی طرح پکڑائی نہ دیتا۔ ہر ناکہ ہر پہرہ بے سود۔ کچھ عرصہ بعد گاؤن والوں کو اک نام نہاد معزز پہ شک ہوا۔ جب اسی معزز کے گھر سے مال مسروقہ برآمد ہوا تو شک یقین میں بدل گیا۔ علاوہ ازیں ہرکھوج کھرا اس کی نشاندہی کرتا۔ پریا، پنچائت اکھٹی ہوئی اسے بلا بھیجا۔ عقل

Read more

پاپوش میں لگادی کرن آفتاب کی

بادشاہ سلامت اپنے اک شہر کے حالات کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ اس شہر میں چوری ڈکیتی کسی طرح تھم کر نہ دیتی تھی۔ جو بھی نگران شہرآتا وہ بھی لٹیروں سے مل جاتا۔ جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے۔ اس نے کئی والئی شہر بدلے لیکن حالات جوں کے توں رہے۔ بادشاہ کسی ایسے جری آدمی کی تلاش میں تھا جو بلا کسی رو رعایت کے سب چور اچکوں کو تہہ تیغ کرے سب کو

Read more

حکیم الامت اور مولانا فضل الرحمٰن

حکیم الامت علامہ محمد اقبال کا جو بھی کام اور کلام تھا، ہم اس پہ عمل تو کیا کرتے؛ بس چند نظموں و غزلوں کو حوالہ نصاب کر کے ہمارا قومی فریضہ ادا ہوگیا۔ باقی ان کا کچھ کلام ملاؤں کے ہاتھ لگا۔ کچھ گویوں، قوالوں کی نذر ہوا۔  ملا، علامہ اقبال کی زندگی میں ان سے زیادہ تر نالاں رہے۔ طرفین کے خیالات اک دوسرے کے بارے میں کوئی زیادہ خوش کن نہیں تھے۔ ملا کی ساری شریعت مستی گفتار اور

Read more

شطرنج بادشاہوں کا کھیل ہے

کہتے ہیں شطرنج بادشاہوں کا کھیل ہے۔ اسی لیے اس کے مہروں کے نام بھی ایسے ہیں جیسے کوئی سلطنت اور میدان جنگ۔ پیادے (سپاہی)، توپ، گورنر (ہاتھی)، گھوڑا، بادشاہ اور وزیر۔ شطرنج کے کھیل میں ہر مہرے کی اپنی اہمیت لیکن جو طاقت وزیر کے پاس ہے وہ کسی کے پاس بھی نہیں۔ انگلش میں وزیر کو کوئین یعنی رانی یا ملکہ بھی کہا جاتا ہے۔ واقعتاً وزیر شطرنج کی رانی کی ہوتا ہے۔ وزیر وہ واحد مہرہ ہوتا

Read more

اپنا حلقۂ ہے حلقہ زنجیر

اندرون لاہور کے کوچہ کمان گراں میں جب ملنگی نے آنکھ کھولی تو گھر میں اداسی، یاسی و غربت کی لا متناہی چادر پہرہ زن تھی۔ شعور کی منزلیں بھی طے ہوتی رہیں اور لا شعور میں بھوک بھی بڑھتی رہی۔ دو وقت کی روٹی کی خاطر جگہ جگہ خاک چھنتی رہی۔ کبھی محفل کی جوتیوں کے اوپر کبھی جوتیوں کے نیچے گویا۔ کبھی عرش پر کبھی فرش پر، کبھی اُن کے در کبھی دربدر۔ کہتے ہیں ملنگی کے بڑے

Read more

کچھ بزبان یوسفی

ہنسانے والے نے آخر رلا کے چھوڑا۔ عہد یوسفی نے اک نیا موڑ لیا۔ مزاح نگار تو اور بھی بہت ابن انشا ء، پطرس بخاری، رشید احمد صدیقی، مرزا فرحت اللہ بیگ لیکن ادب کی اس صنف کو جس اوج کمال پہ یوسفی صاحب نے پہنچایا وہ انہی کا خاصہ۔ نثر میں ایسی برجستگی باید و شاید۔ الفاظ اور لب و لہجہ میں غضب کا ٹھہراؤ کمال کی روانی۔ ہنسانا مشکل ترین کاموں میں سے ہے اور یہ کام یوسفی

Read more

دیوانوں کے دیس میں تحریک انصاف کی سیاست

اگلے وقتوں کی بات ہے پورے ملک میں قحط سالی تھی پانی نایاب تھا۔ بمشکل تمام میٹھے پانی کا اک کنواں دریافت ہوا۔ لیکن جو بھی اس کا پانی پیتا اس کی ذہنی حالت خراب ہو جاتی۔ جس کی ذہنی حالت خراب ہوتی وہ باقی سب کو پاگل سمجھنے لگتا۔ دو چار چھ کرتے کرتے آدھا ملک پاگلوں سے بھر گیا۔ اب طرفین اک دوسرے کو پاگل کہتے اور سارا دن بہتری کی ترکیبیں سوچتے۔ لیکن ہر روز پانی پینے

Read more

ان ریزن ایبل

میں نکلا تو وہ سامنے کھڑے تھے۔ مجھے دیکھ کربولے یہ نیا ائیر پورٹ دیکھا ہے۔ میں نے جواب دیا بہت خوبصورت انٹرنیشنل لک دینے والا پاکستان کا پہلا ائیر پورٹ ہے۔ وہ چڑ گئے اور بولے ٹوائلٹ دیکھیں کتنے گندےاور بدبودار ہیں۔ میں نے عرض کیا اگر ہم کموڈ پر پاؤں رکھ کر بیٹھں فرش پر پانی گرائیں اور گیلے ہاتھ دیواروں پر لگائیں تو حکومت انہیں کتنا صاف رکھ سکے گی۔ چیزوں کو ٹھیک رکھنے کی ذمہ داری

Read more

امام مالک اور ادب رسولﷺ

جلیل القدر تابعی امام مالک بن انس آئمہ اربعہ کے جیّد امام۔ جن  کے پیروکار مالکی کہلاتے ہیں۔ امام مالک کی شخصیت پر قلم اٹھانا کچھ لکھنا میرے بس کی بات نہیں۔ پیشتر اس کے کچھ لکھوں اپنی کم علمی۔ کج فہمی کی معافی چاہوں گا۔ نہ تو میری کوئی ہستی ہے نہ ایسا علم و فہم و ادراک۔ بس جو کچھ لکھ رہا ہوں بہت حساس موضوع ہے اس لیے خدانخواستہ اگر کہیں کجی رہ جائے۔ کوئی کمی کوتاہی

Read more

عمران خان کی تبدیلی

پارس انتہائی نایاب پتھر ہے۔ روایت ہے کہ پارس پتھر جس لوہے کو چھو لے، وہ سونے میں بدل جاتا ہے۔ ’وسطی ایشیائے کوچک کے قدیم شہر ” فریگیا “ کے بادشاہ ” میڈاس “ کو یہ کمال ہوگیا تھا کہ وہ جِس چیز کو بھی ہاتھ لگاتا تھا وہ سونے کی ہو جاتی تھی۔ اِس عمل کو "Midas Touch” (برکت والا ہاتھ ) کہا گیا۔ گیدڑ سنگھی کے بارے میں بھی طرح طرح کے قصے مشہور ہیں۔ جسے گیدڑ

Read more

عمران خان کی خاموشی

ایک اعلیٰ ظرف آدمی کی اپنی شریک حیات سے ان بن ہوگئی ۔ لوگ آئے اور ماجرا پوچھا سب کی خواہش تھی اندر کی بات پتہ چلے ۔ لیکن وہ نیک سیرت بولا یہ عورت ابھی میرے نکاح میں ہے اس لیے میں اس کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکتا ۔ کچھ روز بعد ان کی طلاق ہوگئی ۔  پھراس کے خیر خواہ اور دوست احباب آئے اور طلاق کی وجہ پوچھی لیکن اس شخص نے پھر وہی بات دہرائی

Read more

تنم فرسودہ جاں پارہ

عشق رسول ﷺ  وہ شمع ہے جو نہ تو بجھتی نہ ہی مدہم ہوتی ہے۔ اس شمع کا اجالا ازل سے ابد تک ہے ۔ کیسے کیسے عشاق گزرے صدیاں بیت گئیں لیکن نام آج بھی تابندہ و تازہ ۔ جیسے آج ابھی کی بات ۔ حضرت اویس قرنی ‘ حضرت جنید بغداد ، شیخ عبدالقادر جیلانی ، امام شرف الدین بوصیری ، خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی ، خواجہ بختیار کاکی ، بابا فریدالدین گنج شکر ، حضرت

Read more

اقراء

عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دو صاحب زادے مامون الرشید اور امین الرشید علی بن حمزہ کسائی ( امام کسائی) کے شاگرد تھے۔ ایک دفعہ امام کسائی مجلس سے اٹھے تو دونوں شہزادگان استاد کے نعلین اٹھانے دوڑے اور اس بات پہ تکرار کرنے لگے کون استاد کے جوتے اٹھائے گا۔ بلآخر دونوں جوتے کا ایک ایک پاؤں لے کر استاد کے پاس پہنچے۔  خلیفہ ہارون الرشید  یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اگلے دن اس نے اپنے مصاحبین و

Read more

نہر والے پل تے

ہرنام سنگھ کو اک دفعہ سیاسی منطق سیکھنے کا شوق ہوا تو وہ پرنام سنگھ منطقی کے پاس گیا۔ پرنام سنگھ پہلے ہی سرشار تھا اوپر سے ہرنام بھی آگیا۔ ہرنام بولا چاچاپرنام سیوں مجھے سیاسی منطق تو سکھا تو بڑا سیانا اور منطقی ہے۔ پرنام بولا میں سکھا تو دوں گا لیکن پہلے میرے کچھ سوالوں کے جواب دے۔ ہرنام بولا پوچھ۔ پرنام  "بولا دو چور چوری کرنے گئے چوری کے دوران گھر والے آگئے دونوں بھاگے اور باورچی

Read more

گھر کی لونڈی

جبرالٹر جبل الطارق کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ یورپ میں اس کو جبرالٹر جبکہ جہاں جہاں عربی کا چلن ہے وہاں اسے جبل الطارق کہا جاتا ہے۔ جبل الطارق کی وجہ شہرت طارق بن زیاد ہے۔ وہی طارق بن زیاد جس کے ذکر کے بغیر تاریخ نامکمل ہے۔ وہی طارق بن زیاد جس نے آنے والی صدیوں تک مسلمانوں پر اندلس اور یورپ کے دروا کیے جس نے یورپ کو خواب گراں سے جگایا۔ آج یورپ کی موجود شکل کا

Read more

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے

پرانے وقتوں کا قصہ ہے شہنشاہ نوشیرواں اپنے وزیروں اور غلاموں کے ساتھ جنگل میں شکار پر گیا جب کھانا پکانے لگے تو نمک ندارد غلام کو بھیجا گیا قریبی بستی سے نمک لے آؤ جب نمک آگیا تو شہنشاہ نے قیمت پوچھی غلام گویا ہوا مفت یعنی فری اور کہا حضور اتنے سے نمک کی کیا قیمت ادا کرنی سارا ملک حضور کا ہے کیا نمک، کیا نمک والا شہنشاہ نے نے غلام کو واپس بھیجا اور قیمت ادا

Read more