جنرل ضیاء الحق صاحب کا زمانہ تھا۔ جنرل صاحب حسب روایت سرکاری غیر سرکاری تقریبات کی رونق بڑھاتے۔ جنرل صاحب حج زکوٰۃ صوم و صلوٰۃ کے پابند تھے۔ جنرل صاحب کی عادت تھی جہاں نماز کا وقت ہوا وہیں سر بسجود ہو گئے۔ یہ سلسلہ یہ عادت سفر و حضر میں بھی جاری رہتی۔ جنرل صاحب ایک تقریب میں تشریف لائے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ جنرل صاحب نماز ادا کرنے کے بعد جوتا پہنے لگے تو انہیں کچھ دشواری ہوئی جوتا تنگ تھا یا جراب کا مسئلہ۔
کچھ دنوں بعد جنرل صاحب ایسی ہی کسی دوسری تقریب میں رونق افروز تھے کے نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز ادا کرنے کے بعد جنرل صاحب جیسے ہی جوتا پہننے لگے اک صاحب فوراً جوتا پہنانے میں مدد دینے ولا آلہ لے کر دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ جنرل صاحب نے شکریہ ادا کیا۔ مگر پاس کھڑے ساتھی نے کہا خوشامد کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ( دنیا حاسدین بد سے خالی نہیں ) ۔ اس سے اگلی تقریب میں جب جنرل صاحب نماز ادا کرنے کے بعد جوتا پہننے کے لیے کرسی پہ تشریف فرما ہوئے تو وہی صاحب جوتا پہننے میں مدد دینے والا آلہ لے کر قدموں میں بیٹھ گئے۔
Read more