آنکھوں کی سوکھ چکی شبنم


اس کربناک واردات کی تفصیل میں کیا جانا کہ کیا کچھ ہوا تھا اور کیسے کیسے ہوا تھا، کیونکہ آج سوشل میڈیا اس تفصیل سے بھرا پڑا ہے۔ مگر یہ خبر تھی کہ اس واقعے کے بعد اس نے اپنا اکلوتا بیٹا باہر بھیج دیا تھا جس کی آنکھوں کے سامنے یہ واقعہ ہوا تھا، جس کی وجہ سے اس کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی تھی۔
پھر یہ بھی خبر آکر گزر چکی تھی کہ اس کے مجرم پکڑے گئے۔ بلآخر یہ خبر بھی ہو گزری کہ شبنم نے انہیں معاف بھی کردیا تھا اور وہ موت کی سزا سے بچ کر باہر بھی آگئے۔
معاملہ منوں مٹی تلے دب گیا۔

اور وہ زمانہ تھا ضیاءالحق کی آمریت کا، جس کی عین ناک تلے اعلیٰ سطح کے عہدوں پر براجمان فاروق بندیال کے چاچے مامے دھونس دھمکیوں سے گھوش فیملی سے جرم کی معافی لکھوانے کے بعد اسی صدرِ پاکستان سے اس بھیانک جرم پر مجرموں کو معافی اور آزادی دلوانے میں کامیاب ہوگئے تھے جو صدرِ پاکستان حدود آرڈیننس کے نفاز پر فخر کرتا تھا اور خود کو امیرالمومنین اور صادق و امین کہتا تھا۔
ضیاء دور میں ویسے بھی بڑی جانفشانی سے ظالم کا ظلم معاف کرنے کا سبق پی ٹی وی کے ڈراموں میں پڑھایا جاتا تھا۔

مصطفٰی قریشی کے گھر ڈنر پر میری جب شبنم سے پہلی ملاقات ہوئی تھی اور وہ انگلی کی پور سے رہ رہ کر اپنی آنکھوں کی نمی جذب کررہی تھی، تب وہ 1991-92 کا سال تھا اور ضیاء بھی بلآخر کسی غریب کی لُٹ چکی عزت کی طرح فضا میں دھجیاں ہوکر بکھر چکا تھا۔
شبنم کی سراپا سوز بنی حالت دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اور پوچھ بیٹھی کہ وہ کیوں اتنی اداس ہے؟ اسے بھی شاید اس لمحے کسی غمگسار کی ضرورت تھی۔ میرے پوچھنے پر ایکدم سے سسک پڑی۔

میں نے اس ملک کو اپنا ملک سمجھا۔ پوری زندگی یہاں دی۔ اب میرا بیٹا باہر سے پڑھ کر آیا ہے تو یہاں اسے یہ کہہ کر نوکری نہیں دی جارہی کہ تم بنگلہ دیشی ہو۔
ہم بنگلہ دیشی ہیں!
ہم نے تو اپنا سب ہی کچھ اس ملک کو دے دیا۔ یہ اس لیے ہمیں بنگلہ دیشی کہتے ہیں کیونکہ میں اپنی ماں سے ملنے ڈھاکہ جاتی ہوں۔ ہم صرف دو بہنیں ہیں۔ میری دوسری بہن امریکہ/کینیڈا میں ہے۔ ہماری ماں ڈھاکہ چھوڑنے کو تیار نہیں اور بہت بیمار بھی رہتی ہے۔ اس لیے ماں کے پاس چھ مہینے میری بہن رہتی ہے اور چھ مہینے میں رہتی ہوں۔ اس ٹریول کی وجہ سے اب میرا پاسپورٹ بھی نہیں بن رہا کہ تم پاکستانی نہیں ہو۔
اس نے سسک کر اس کتھا کا جو آخری جملہ کہا وہ آج بھی یاد ہے کہ میں نے اپنی تمام عمر یہاں ضائع کردی۔

پھر سنا کہ وہ ہمیشہ کے لیے بنگلہ دیش چلی گئی۔
اور اب جب دو سال قبل کراچی لٹریچر فیسٹیول کی دعوت پر وہ آئی تو شہر جیسے اسے دیکھنے کے لیے امڈ پڑا تھا۔ بیچ لگژری کا گارڈن کھچاکھچ بھرا تھا اس کے ان مداحوں سمیت جو اس کے پاکستان چھوڑنے سے ذرا پہلے یا ذرا بعد پیدا ہوئے تھے۔
اس سیشن میں، میں نے دور سے اپنے بیٹے کو کھڑا دیکھا تو فون کرکے پوچھا کہ مجھے ڈھونڈ رہے ہو؟ اس نے کہا نہیں شبنم کو دیکھنے آیا ہوں۔ دل کو عجیب سی مسرت ہوئی کہ وہ میرے دور کی اسٹار کو دیکھنے آیا ہے!

لٹریچر فیسٹیول کے اس بھرے پنڈال میں وہ بنگال کی جادو بھری مسکراہٹ کے ساتھ پاکستان سے اظہارِ محبت کررہی تھی۔ کسی دکھ کا سایہ تک نہ تھا اس کے چہرے پر۔ میں نے سوچا یہ ہوتا ہے اپنی دھرتی اور اپنے وطن کا اعتماد!
وہ بولتی رہی۔ بھرا پنڈال اسے محبت بھری نظروں کے ساتھ دیکھتا رہا اور سانس روکے سنتا رہا۔

اسی رات ڈنر کی ٹیبل پر میں، بشریٰ انصاری، نیلم احمد بشیر، نسیم سید، زاہدہ حنا سولہ سال کی لڑکیوں بالیوں کی طرح اسے گھیر کر بیٹھے رہے۔ اس سے لگ کر گروپ تصویریں اور سیلفیاں بناتے رہے، اس شوق میں کہ وہ ہماری بچھڑی ہوئی ہیروئن تھی۔ وہ ہماری بالی عمر کے خوابوں کی تصویر تھی۔

اور اب بھی بلکل ویسی تھی۔ بس جسم ذرا بھر گیا تھا۔ چہرے کی معصومیت میں پختگی آگئی تھی۔ ورنہ وہی ساڑھی تھی اور آنکھوں میں وہی بنگال کا جادو بھرا تھا۔
ڈنر کی اسی ٹیبل پر میں نے اپنی شناخت کروانے کے لیے اسے اپنی پہلی ملاقات یاد دلانے کی کوشش کی تو ایک دم سے اس کی آنکھوں میں وہی نمی اتر آئی اور ایک بھیگی مسکراہٹ کے ساتھ اس نے یوں انکار میں سر ہلادیا جیسے کہتی ہو کہ اس موضوع پر بات نہ کرو۔
بس چپ رہو۔

مگر آج میں یہ سب اس مکروہ واقعے کو یاد کروانے کے لیے چپ نہیں توڑ رہی، بلکہ ڈرتے ڈرتے آج کی بپھری قومِ یوتھ سے مخاطب ہونے کی جسارت کررہی ہوں، جو کہیں بھی، کسی پر بھی بے قابو ہجوم کی صورت پل پڑتی ہے۔

کبھی بدزبانی کے ساتھ کسی کو بھی بے عزت کرنے کے لیے اور کبھی ٹھوکروں سے زندہ وجود کو کچلنے کے لیے۔
کہ دیکھ!
اور غور سے دیکھ!
کہ ربّ کے ہاں کیا مسلم، کیا غیرمسلم، انصاف کا ترازو کیا ہے!
یہ ہوتی ہے اوپر والے کی ڈھیلی رسّی!
دیکھ کہ ریاست کے ہاتھوں منوں مٹی تلے دبا ہوا، طاقت وروں کے بیٹوں کے ہاتھوں ایک غیر مسلم عورت کی بے حُرمتی کا راز یوں کھلا ہے کہ مجرم دورِ حاضر کے لامحدود چوراہے پر زلیل و رسوا ہورہے ہیں!

جو انصاف پاکستان کی طاقتور ترین اور اسلامی نظام کی دعویدار ریاست نے غصب کردیا، وہ دیکھ کہ رب خود کیسے کرتا ہے!
کہ ڈھیل ملتی چلی جاتی ہے کہ جا ابھی اور تکبر کر۔
کہ جا ابھی اورعزت دار بن۔
جا، ابھی اس سزا کا وقت نہیں آیا جس کا تو مستحق ہے۔
عورت کی بے حرمتی پر سزائے موت بھی بھلا کوئی سزا ہے!
نہیں، تجھے زلیل اور زندہ درگور ہونا ہوگا۔
مگر تب
جب تو دنیا اور اولاد کی نظر میں معتبر ہوچکا ہوگا!
تب ایک دن، اچانک تیری رسّی کھنچ جائےگی اور تجھے منہ چھپانے کی جگہ نہ ملے گی۔
عقل والوں کے لیے رکھی ان کھلی نشانیوں کو سمجھ بچے!

اور یہ بھی دیکھ کہ اس مملکتِ خداد میں ہم کیسے کیسے انسان رکھتے تھے، جنہیں ہم نے نفرتوں اور نا انصافیوں کے بازار میں کھودیا، کہ آج ہمیں ایسا بندہِ خدا تک نہیں ملتا جسے ہم فقط دو مہینوں کے لیے تخت پر بٹھا سکیں!

ایسا نہیں ہے کہ ہمارے بیچ انسان نہیں رہے۔ انسان ہیں مگر ذلّت، ماں بہن پر ملتی گالیوں، جھوٹے الزامات اور نا انصافیوں کے خوف سے گویا غارِ اصحاب کہف میں جا سوئے ہیں۔
فقط ہمارے اندر کا ایک عدد کتا باقی ہے، جو گویا غار کے دہانے پر بیٹھا دم ہلا رہا ہے اور وقت کی بے ثباتی پر مسکرا رہا ہے۔
کہ وقت کسی کا نہیں ہے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 102 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah