میں 26 سال پہلے ابوظہبی آیا تھا اور آتے ہی شیخ زید کے باز کی ایک تصویر نے میری زندگی بدل دی
بھارتی شہری زبیر مزمل تقریباً تین دہائی قبل روزگار کی تلاش میں متحدہ امارات گئے تو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ سڑک کنارے لگی ایک تصویر ان کی زندگی کا رخ بدل کر مستقبل کی نئی راہ کا تعین کر دے گی۔ یہ ایک سائن بورڈ پر شیخ زید اور ان کے پسندیدہ عقاب کی تصویر تھی جس نے زبیر کی زندگی کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔
زبیر مزمل نے اپنی زندگی کے اس اہم موڑ اور اس بعد کی کامیابیوں کے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ ”میں العین میں انٹرویو کے لئے جارہا تھا کہ جب راستے میں مجھے ایک جگہ ایک بورڈ نظر آیا جس پر لکھا تھا ’شیخ زید فیلکن ریسرچ ہسپتال‘ جبکہ اس پر شیخ زید اور ایک عقاب کی تصویر بھی بنی ہوئی تھی۔ میرے پاس زوالوجی کی ڈگری تھی جبکہ میں نے وائلڈ لائف بیالوجی میں گریجوایشن کی تھی اور نیچرل سائنس میں بیچرل ڈگری بھی رکھتا تھا۔ وہ سائن بورڈ دیکھتے ہی مجھے احساس ہوا کہ شاید یہی میرا راستہ ہے جس پر مجھے چلنا چاہیے۔ میں نے اس سائن بورڈ پر بتائی گئی سمت میں سفر شروع کر دیا اور بالآخر شیخ زید فلیکن ہسپتال جاپہنچا۔ وہاں ان پرندوں کو دیکھتے ہی میں ان کی محبت میں مبتلا ہوگیا اور میں نے درخواست کی کہ مجھے ہسپتال میں کوئی بھی نوکری دے دی جائے چاہے وہ ان پرندوں کے جنگلے صاف کرنے کی نوکری ہی ہو۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں موجود جرمن ڈاکٹر نے مجھے وہاں سے بھگادیا۔“
زبیر اس واقعے سے مایوس نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے عقابوں پر تحقیق کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔ انہوں نے مزید بتایا ”میں نے مزید تعلیم کے لئے جرمنی کا رُخ کیا اور وہاں عقابوں کی نسل کشی کے بارے میں تحقیق کا آغاز کیا۔ شاید میں جرمن ڈاکٹر سے بدلہ لینا چاہتا تھا اس لئے مزید تعلیم کے لئے جرمنی کا رخ کیا۔ اب مجھے 22 سال ہوگئے ہیں عقابوں پر تحقیق کرتے ہوئے اور میں نے اس شعبے میں پی ایچ ڈی بھی کرلی ہے۔ میں اس شعبے میں پی ایچ ڈی کرنے والا پہلا اور واحد بھارتی شہری ہوں۔ میں ابوظہبی کے فیلکنرز کلب کا بھی واحد غیر عرب رکن ہوں۔ میں ابوظہبی فیلکن ہسپتال میں بھی فرائض سرانجام دے رہا ہوں جبکہ شاہی خاندان کے لئے بھی وقتاً فوقتاً فرائض سرانجام دیتارہتا ہوں۔ ایک وہ وقت تھا کہ جرمن ڈاکٹر نے مجھے بھگا دیا تھا اور ایک یہ وقت ہے کہ ابوظہبی میں سرخ قالین بچھا کر میرا استقبال کیا جاتا ہے۔“


