30 ارب کا فراڈ کرنے والا پاکستانی بالآخر پکڑا کیسے گیا؟
لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن )30 ارب کے ٹیکس کا فراڈ کرکے 11 تک مسلسل فرار رہنے والے پاکستانی شہری کو آخر کار گرفتار کر لیا گیا اور اسے برطانیہ پہنچا دیا گیاہے جہاں انہیں 12 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق ارب پتی شخصیت حسین اسد چوہان کا تعلق برطانیہ کے شہر برمنگھم سے ہے جبکہ وہ دراصل پاکستانی شہری ہے اور لاہور کا رہنے والا ہے ، ان کے خلاف 2006 میں تمباکو سمگلنگ کیس چل رہا تھا تو یہ برطانیہ سے فرار ہو گئے ۔جسے کینڈا سے انٹرپول کی مدد سے گرفتار کرتے ہوئے برطانیہ پہنچا دیا گیاہے اور اسے 12 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے ۔چوہان کو جی بی پی 53 ملین کو حکومتی خزانے میں جمع کروانے کا حکم دیا گیاہے ۔
49 سالہ حسین اسد چوہا ن انصاف سے بچنے کیلئے 2006 میں لاہور فرارہو گیا اور اس نے اپنی شناخت چھپاتے ہوئے جعلی شناخت اختیار کی اور پاکستان ، دبئی اور کینڈا میں رہائش اختیار کی رکھی ۔حسین اسد چوہان جی بی پی 185 ملین اور ویٹ فراڈ میں بھی ملوث ہے ،انہیں انٹر پول کی مدد سے خصوصی ٹیم نے کنیڈا میں چھاپہ مارکارروائی کے دوران گرفتار کیاہے ۔
دسمبر 2006 میں ہونے والی شنوائی کے دوران حسین اسد کیخلاف ویٹ فراڈ اور تمباکو سمگلنگ کیس میں ملوث ہونے کے ثبوت پیش کیے گئے تھے اور انہیں تین ماہ کے اندر 28.6 ملین پاﺅنڈ ادا کرنے کا حکم سنایا گیا تھا ۔
اس وقت چوہان کو تمباکو سے متعلق کیس میں ان کی غیر موجود گی میں پانچ سال کی قید بھی سنائی گئی تھی اور پیسے ادا نہ کرنے پر انہیں مزید سات سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے ۔
فراڈ انوسٹی گیشن سروس کے ڈائریکٹر سائمن یورک کا کہناتھا کہ چوہان سوچتا تھا کہ وہ ملک سے فرار ہو کر جیل سے بچ جائے گا اور کہیں دو ر جاکر نئی زندگی شروع کر لے گا لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ ساری زندگی نہیں بھاگ سکتا اور اس کا ماضی کہیں نہ کہیں اسے پکڑوا ہی دے گا ۔


