فرانسیسی بادشاہ لوئی فلپ کے دربار میں سجا کموڈ اور پاکستانی سیاست


انقلاب فرانس پر بہت کچھ پڑھا گیا، لکھا گیا اور بہت ساری جگہوں پر فرنچ ملکہ میری انٹوانیٹ، کے مشہور زمانہ جملہ "اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کھاؤ” کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس ایک جملے نے انقلاب فرانس کے اسباب کو کوزے میں سمو دیا ہے۔ مجھے فرانس جانے کا جب موقع ملا تو پھر لوئی کا "ورسائی محل” دیکھنا تو لازمی تھا۔ پیرس کے نواح میں یہ ورسائی نامی حسین و جمیل شیشوں، قد آدم تصویروں اور پینٹنگز سے مزین محل موجود ہے۔ یہ وہی محل ہے جہاں سے لوئی کو انقلاب فرانس کے وقت ایک سرنگ کے راستے بھاگنا پڑا۔ بھاگنے کے وقت وہ اپنے خاندان سمیت ایک چھوٹے قصبے میں رکا جہاں موجود پوسٹ ماسٹر جنرل نے اس کو اور اس کے اہل خانہ کو فرنچ سکوں پر بنی تصویروں کی وجہ سے پہچان لیا۔ لوئی گرفتار ہوا اور پیرس کے سڑکوں پر ایک ہجوم نے اس کو پہلے بحیثیت قیدی بند کیا اور پھر کچھ عرصے بعد اس کو سزائے موت مل گئی۔ اس تمام تاریخ میں کچھ بہت دلچسپ باتیں بھی ہیں۔

لوئی فلپ کا کموڈ یعنی اس کے باتھ روم کا مرکزی ذاتی حصہ ایک درباری سرگرمی تھی۔ روزانہ صبح لوئی کے استعمال شدہ کموڈ سمیت جسمانی غلاظت کے اس کا معائنہ ہوتا۔ یہ باتھ روم کھلا تھا تاکہ درباری لوئی کی غلاظت کا بھی اہمیت سے معائنہ کریں، تبصرہ کریں اور اس امر پر بات ہو۔ اس کی وجہ سمجھنے کے لیے ایک درباری ذہن کا سمجھنا ضروری ہے۔ بادشاہ کو سر سے پیر تک غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھنا اور بادشاہ کی ذہنیت یہ کہ وہ ذاتی غلاظت کو بھی اہم سمجھتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے ہر قسم کے موضوع میں اہم سمجھا جائے۔ بات صرف غسل خانے تک نہیں بلکہ بادشاہ کی آرام گاہ بھی مشاہدہ عام کے لیے کھلی تھی بالخصوص اس کی شادی کے ابتدائی عرصے تک۔ اس کی زیادہ تفصیل لکھنا میں مناسب نہیں سمجھتی۔

 تین سال پہلے 2015 کے اس ٹرپ کے دوران  مجھے اپنی ہسٹری کی طالب علم اور یونیورسٹی سے منسلک فرنچ گائیڈ کی، لوئی اور درباریوں کے متعلق فراہم کردہ تفصیل اور ان کی یہ عجیب وغریب حرکتیں سمجھ نہیں آئی تھیں، لیکن اب سمجھ آتا ہے کہ یہ تمام غلاظت اور بیڈ روم لائف کو اس لیے زیر بحث رکھا جاتا تھا تاکہ لوگ اور دربار صرف اس کام میں مگن رہے اور ان کو ہمیشہ ایک بات یاد رہے کہ بادشاہ سے زیادہ اہم کچھ نہیں۔ کچھ ایسے ہی حالات ہمارے ملک کے بھی ہیں۔ جب کبھی ٹی وی آن کیا جائے تو ایسے لگتا ہے کہ چند افراد کے علاوہ اس ملک میں اور کوئی مسئلہ نہیں، چاہے وہ کسی کی حکمران باپ کی بیٹی کی مظلومیت کا قصہ ہو یا کسی کی طلاق کا قصہ یا کسی مشہور سیاسی خاندان کے بچوں کی ٹوئیٹ۔ تمام وقت ہم سب نہایت شوق سے میڈیا کے دربار میں سجے کموڈ کا معائنہ کرتے ہیں۔ پھر اعلان ہوتا ہے کہ آج کی خبر کا تعلق بادشاہ کے کموڈ سے ہے یا بیڈروم سے۔ اب آپ اور میں بھر پور طریقے سے سمجھ سکتے ہیں کہ لوئی فلپ کے دربار میں تماشہ کس نوعیت کا ہوتا تھا اور کس طرح عالم فاضل وزراء اس قسم کی بحث میں زوروشور سے حصہ لیتے ہوں گے۔

اس تاریخ کے دور میں فرنچ کسان نہایت مسائل کا شکار تھے، بھوک سے مر رہے تھے، اس لیے جب ملکہ نے ایک دن نہایت بڑا  احتجاجی ہجوم اپنی بالکونی سے محل کے باہر اکٹھا دیکھا تو وزیر سے وجہ پوچھی، اس نے جواب دیا کہ ان لوگوں کو کھانے کے لیے روٹی نہیں مل رہی، جس پر ملکہ نے شہرہ آفاق جملہ بولا کہ روٹی نہیں ملتی تو کیک کھائیں۔ آج ہمارے حالات بھی مختلف نہیں، پیش گوئی ہے کہ پاکستان 2025ء تک شدید غذائی قلت کا شکار ہوجائے گا۔ آج بھی اگر کوئی قدم اٹھایا گیا تو اس بڑھتی ہوئی آبادی کے مقابلے میں ناکافی ہوگا۔ آبادی کے ساتھ غربت کا سیلاب، اس کے ساتھ مفت اور لازمی تعلیم کی پالیسی کا سرے سے غائب ہونا، ریپ اور جنسی زیادتی جیسے جرائم کے خوفناک اضافے پر سرے سے کسی قسم کی تحقیق اور پالیسی کا نہ ہونا سمجھ سے باہر ہے کہ ہم ان تمام ٹکنگ ٹائم بم پر کیا سوچ کر چپ بیٹھے ہیں۔

ابھی صرف اتنا کافی نہیں تھا کہ پتہ چلا کہ انتخابی فارم سے ہر قسم کے تعلیمی معاشی اور اخلاقی کوائف کا خانہ بھی ختم کردیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ کوئی بھی ڈاکو، ریپسٹ اور قاتل ہمارا حکمران بن سکتا ہے اور عوامی نمائندہ منتخب ہو سکتا ہے۔ تمام تر عقل لڑانے کے باوجود یہ بات سمجھ سے باہر ہے۔ گھر میں ایک ملازم رکھنے کے لیے لوکل سوسائٹی والے ایک لمبا چوڑا سسٹم لے کر بیٹھے ہوتے ہیں مگر ایک عوامی نمائندہ بنننا اس قدر آسان اور قانون سے بالاتر۔

جس وقت ہمارے ملک میں ا؛نسانی حقوق کی حیثیت صرف لفظ مذمت اور انتہائی صدمے کے دو لفظوں کے اظہار کے بعد ختم ہوجاتی ہے وہاں پر موضوعات کی اتنی قلت کہ زیربحث صرف چند کموڈ اور بیڈروم رہ گئے ہیں۔ بلوچستان میں تقریبا ہر ہفتے بے شمار مزدور کانوں میں ہلاک ہوجاتے ہیں، کان سے مال بٹورنے والوں سے کسی نے آج تک نہ پوچھا کہ ان مزدوروں کی جان کی حفاظت کے لیے کونسے حفاظتی اقدام کیے گئے ہیں؟ بچوں کی جنسی زیادتی کے قتل صرف ہم سن کر اپنے بچوں کو گلے سے لگا کر اور ان کی حفاظت کی دعا مانگ کر ہم بھول جاتے ہیں۔ کوئی بھی اس سلسلے میں لوکل چائلڈ سیفٹی کونسلر سسسٹم نہیں بنا، سکولوں میں بچوں کو باڈی سیفٹی اور ہراسمنٹ سے بچاﺅ کی کوئی تربیت  نہیں شروع ہوئی اور اس سلسلے میں ایک بے تکے اور بے کار پمفلیٹ کے علاوہ کوئی کارروائی نہیں ہوئی، کسی قسم کی کوئی پلاننگ نہیں۔  سرکاری سکول سے لے کر پرائیویٹ سکول تک بچوں کو پینے کا صاف پانی نہیں ملتا، جو بچے پرائیوٹ سکول میں پڑھتے ہیں ان کے والدین ایک مافیا کے ہاتھوں ہائی جیک ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ان تمام مسائل کے باوجود الیکشن ایک غلاظت کا مجموعہ بن چکے ہیں اور ہم سب لوگ مل کر روز اس غلاظت کو شوق سے دیکھتے ہیں تبصرہ کرتے ہیں اور ٹوئیٹ کرتے ہیں۔ بات بھی ٹھیک ہے ہمارے اصل مسائل اس قدر خوفناک ہیں کہ اگر سوچنا شروع ہوگئے تو نیندیں اڑ جائیں گی، اس لیے ہم ان معاملات پر نہ سوچیں بلکہ بادشاہوں کے کموڈ اور بیڈروم کا معائنہ کرتے رہیں۔

Facebook Comments HS