مجھے معاف کردیں کہ میں عورت ہوں

عورتوں کے ناقص ہونے کا قصہ کہاں سے شروع کروں، وھاں سے جہاں پیدا ہوتے ہی اچھا بننے کے لیے ایک عورت کو، خاموش رہنے کا درس دیا جاتا ہے، جتنی خاموش اتنی ہی اچھی۔ کھیل بھی وہ جس میں گھر گھر کھیلا جائے، وہ کھیل میں بھی گھر سنبھالے گڑیا کو سجائے اور مہمانوں…

Read more

ٹاک شو کی غبارہ صحافت اور ہمارے اصل مسائل

انگریزی کا ایک عرف عام محاورہ ہے جو کہ ایک جیسے مو ضوع کی گھسی پٹی فلموں، کتابوں کی سٹوری کے لیے استعمال ہوتا تھا کہ۔ ۔ اگر آپ نے ایک بوگس فلم دیکھ لی تو سمجھو آپ نے ساری فلمیں دیکھ لیں، کیونکہ وہ سب ایک ہی نوعیت کی ہوں گی۔ بلا مبالغہ پاکستانی میڈیا کا بھی یہ ہی حال ہے۔ اگر ایک چینل دیکھ لیا تو سمجھ جائیں کہ سارے دیکھ لیے۔ موضوعات کی اس قدر کمی ہے کہ سوپ اوپرا کے ڈراموں کی طرح ایک ہی خبر اور بات مختلف طریقوں سے بیان کی جاتی ہے۔

اس قدر بیانیہ پر زور ہوتا ہے کہ خبر کی نوعیت بدل جاتی ہے اور خبر کے اندر کہانی اور سنسنی کا کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے۔ لوگ حقیقت حال بھی اسی خبر کو سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہالو ایفیکٹ نام کی ایک انگریزی اصطلاح بہت مشہور ہے، اس کا عام زبان میں مطلب ہے کہ واقعات کو بڑھا چڑھا کر الفاظ اور بیانیہ کا رنگ پہنا دیا جائے۔ ہالو ایفیکٹ کوئی معمولی شے نہیں یہ ایک سماج کا اجتماعی سوچ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

Read more

علی رضا عابدی: ادھورا سفر چھوڑ کے جانے والے

غالبا 1998 کی بات ہوگی، جب رضا بھائی اور تانیہ کی شادی میں شرکت کے لیے کراچی گئی، میرے کالج کے دنوں کی بات تھی۔ گھلنے ملنے اور ہنس مکھ رضا بھائی اور اتنی ہی بھلی مانس تانیہ، دونوں ہی کم عمر تھے، وہ کالج کے کلاس فیلو زیادہ اور میاں بیوی کم لگتے تھے۔ اس وقت میں غیر شادی شدہ تھی اور ان کی شادی نے میرے اندر سے اینٹی شادی خیالات میں کافی کمی کی۔ اس کے بعد 2005 تک میری رہائش کراچی میں تھی اور اس فیملی سے رشتہ داری اور دوستی کی بنیاد پر ملاقات رہتی۔

ان دنوں مجھے سیاسی اور ملکی حالات کا نہ کوئی خاص ادراک تھا اور نہ ہی شوق تھا۔ ایسے میں جو بھی تعلق تھا وہ ذاتی نوعیت کا تھا۔ دونوں ہی میاں بیوی اپنے بچوں سے بے حد پیار کرنے والے اور منکسر طبیعت کے مالک، بچوں کی سالگرہ پر بچوں سے بھی زیادہ خوش ہونے اور جانثار والدین۔ ، بریانی آف سیز کے آغاز پر مجھے بھی کچھ سوغات تحفتاً ملیں، ایسی بہت سی یادوں کی لہریں بند توڑ کر ذہن میں مرتعش ہیں۔ لاہور واپس آنے کے کچھ عرصے کے بعد ان کو ٹی وی پر سیاسی طور سے متحرک دیکھا۔

Read more

پنکی میم صاب

کہانی گھومتی ہے ان رنجشوں، تلخیوں اور مسائل کی طرف جو انسان کو زندگی سے جینے کے بجائے ایک مشین میں ڈھال دیتے ہیں۔ کرن ملک (مہر) کو ایک کامیاب انویسٹمنٹ بنکر کی بیوی دکھایا گیا، جس کی ذات کے اندر اپنی رائٹر بننے کی جدوجہد اور اپنی شناخت کی ایک اندرونی جنگ چل رہی ہے، لوگ اس کو مستقل تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں ایک عورت کو صرف مالی آسودگی کی خطر کام کرنا چاہیے۔ ایسے میں اس کی گاؤں سے نو وارد مصیبت زدہ ملازمہ حاجرہ یامین ( پنکی) ، جو دوسری طرف معاشی جنگ اور دیگر مسائل کا شکار ہے۔

Read more

فرانسیسی بادشاہ لوئی فلپ کے دربار میں سجا کموڈ اور پاکستانی سیاست

انقلاب فرانس پر بہت کچھ پڑھا گیا، لکھا گیا اور بہت ساری جگہوں پر فرنچ ملکہ میری انٹوانیٹ، کے مشہور زمانہ جملہ "اگر روٹی نہیں ملتی تو کیک کھاؤ" کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس ایک جملے نے انقلاب فرانس کے اسباب کو کوزے میں سمو دیا ہے۔ مجھے فرانس جانے کا جب موقع ملا…

Read more

جنسی ہراسانی ….  شش…. خاموش رہو

تیسری یا چوتھی کلاس سے مجھے علم ہوگیا تھا کہ میرے جسم کے خدوخال کا نمایاں ہونا میرا جرم بلکہ انتہائی شرمناک بات ہے۔ ان کو نہ صرف چھپانے کا، بلکہ ان سے ایک عجیب سی نفر ت کا تعلق بھی بن چکا تھا۔ کوئی ہاتھ چلتے چلتے لگ جائے، تو سوچتے رہنا کہ لازمی…

Read more

روزے میں بھوک کے فلسفے کی تلاش اور کچھ جواب

آج سے دو سال پہلے میں نے ڈان اخبار کے لئے  ایک کور سٹوری کی۔ یہ سٹوری وائرل ہو گئی۔ آدھی رات کو میرے ایک کلاس فیلو نے میسج کیا کہ تمام سوشل میڈیا پر سٹوری شیئر ہو گئی ہے کمال میرا نہیں، سٹوری کے کرداروں کا تھا۔ یہ سٹوری انسپائرنگ تھی، مگر آج تو…

Read more

میرے ہاتھ میری مرضی تمہاری آنکھیں پھوڑوں یا چھوڑوں؟

انڈیا کے ایک علاقے میں ریپ کے بڑھتے ہوئے سنگین جرم پر ایک سوشل ادارے کی تحقیق پر رپورٹ اور وڈیو بنائی گئی، اس کے مطابق اس علاقے کے گاوئں کے لوگوں سے کیے جانے والے انٹرویوز مطابق ریپ کی تمام تر ذمہ داری، ریپ کا شکار لڑکی پر عائد ہوتی ہے۔ اس بات پر…

Read more