نیلی بار: میرا دیس نیلوں نیل


تکا بوٹی کی ہوئ ادھ ادھوری کہانیاں…. وحشت ناک کہانیاں، طاقت، حسن، شباب، بدصورتی، مظلومیت، غلامی، ماڑیوں، جھگیوں اور دولت و غربت کے چوپھیر میں دفن کہانیاں…. جن کےانجام لاپتہ ہیں اور دور کھڑی طاہرہ بے رحمی سے کہتی ہے۔انجام دیکھنا ہے…. یہ جو میں تمہیں قدم قدم ،کہانی کے ہر جملے کے ساتھ باندھتے ہوئے اس اونچے پہاڑ تک لے کر آئی ہوں…. اس پہاڑکے نیچے جو یہ گہری کھائی ہے…. اس کھائی کے پار دیکھو ….وہ اژدہا جس کے بے شمار سر ہیں…. جو دائیں بائیں، اوپر نیچے، شمال جنوب، مشرق مغرب، باہر، بھیتر، دیکھنے پر قادر ہے، وہ اس کھائی کے اندر موجود غار کا پہرے دار ہے، اس غار میں تمہیں ان سب بدنصیب کہانیوں کے انجام ملیں گے…. بھاری قفلوں والے صندوقچوں میں قید…. ہے ہمت…. جاؤ لے آؤ سارے انجام…. اور جوڑ دو انہیں…. ان اپاہج کہانیوں کے ساتھ ، دے دو انہیں پوری زندگی…. کھڑا کردو اپنے قدموں پر۔

پر …. پڑھنے والا پتھر کی مورت بن جاتا ہے…. اژدہے کا آخری سر قلم کون کرے گا؟ پہلے کیا ہے کسی نے ایسا؟جو اس اژدہے کا سر کچلنے نکلے، خود کہانی بن گئے، بُریدہ انجام والی کہانی اور ان کے تماشے دیکھنے کو کھلی، پھٹی، حیرت زدہ آنکھوں اور بے قرار سوچوں کی مالکہ پاکیزہ، اور آپ اور میں۔

” نیلی بار “ کے چرخے پرطاہرہ اقبال نے ہماری تاریخ کے دکھوں اور ذلّتوں کی پونی سے پونی جوڑتے، زخمی، ٹوٹتے سانسوں کے تکلوں کو غم کی گرہ لگاکر ،جیون ہاری زندگیوں کی اٹیوں سے، پراسرار نفسیاتی عنکبوت کے چھکو بھرلیے ہیں…. آپ اس سُوت کو کھولیں، لپیٹیں، انگل انگل، ٹوٹہ ٹوٹہ توڑیں، بکھیریں، مگر ان دھاگوں کی دھار سے نہ صرف آپ کی انگلیاں بلکہ سوچنے کے راستے تک زخم زخم ہو جائیں گے ۔ 1947ء سے لے کر آج تک کی پاکستانی تاریخ،مدارس، درگاہیں، گدیاں، پیریاں، مریدیاں، ادبی، علمی، شعوری، مذہبی، سیاسی و اقتصادی نظام کی انتڑیوں کی آلائش، اپنے ہی ورثاء کے ہاتھوں پامال زندگیاں، مالِ غنیمت کے طور پر لٹی کچی کچناریں ، معصوم جگر گوشوں کو مذہبی بردہ فروشوں اور دہشت گردوں کے حوالے کرتےجنت کے آرزومند اور جنت کے ٹھیکیدار وں کی  شعبدہ بازیاں

” نیلی بار “ کی بساط پر سمٹ کر آگئی ہے۔

کس بے دردی سے تاریخ نے صفحے بدلے اور کس شان سے اس تاریخ کے ورق ورق کو طاہرہ نے لکھ ڈالا….لخت لخت بکھرے شہر، ، دھجی دھجی ہوئی گلیاں، کوچے….خود ساختہ امیرالمؤمنین کے گیارہ سالہ زندان…. آزادی اور مساوات کی نیلم پری کو سامری جادوگروں کے چنگل سے چھڑانے کے لئے آنے والا ، دیو مالائی داستانوں جیسا بھٹو…. اور اس کی شہزادیوں جیسی سوہنی، من موہنی بیٹی جس کی تاک میں خون آشام بھیڑیے تھے…. اور ان بھیڑیوں کے عہد اقتدار میں کروٹیں بدلتی زندگی کی عجیب عجیب گھڑتی، بنتی، مٹی ہوتی کہانیاں اور انگریز کے زمانے کی بوسیدہ بندوق تھامے کُرلاتا فوجی نصیر ….اور طاہرہ کا بیان۔ اللہ اللہ!!

موت کو لکھنا آسان نہیں…. دہشت کی پور پور سائیکی میں اترنا اور اس کی بنیادوں میں جمے جبر و ظلم کے خون کو ناخنوں سے کھرچ کر ان سے زندہ تصویریں بنانا مشکل امر ہے۔ ذہنوں کو ماؤف کرتے نظریات کے جنم لینے، پروان چڑھنے ، اور ان کے ہائی جیک و مغوی ہونے کے لمحے لمحے کو کشید کرنا اور خوف کے آسیب کے جنتر منتر کا مقابلہ کرنا طاہرہ کا ہی کمال ہے۔ اشتراکیت سے کیپٹلزم کے سفر میں، ایک کردار کی زبانی ادا کئے گئے ایک فقرے،”ان سفلوں اور اتھلوں کے دندناتے انقلاب“ جیسے ڈنک مارتے زندہ سنپولے کو ہتھیلی سے دماغ تک منتقل کرنا آسان مرحلہ نہیں۔

اردو ادب میں عورت کی جنسی خواہشات و لذت حصول کی فینٹسی تک، سب کچھ مرد کے قلم سے لکھا گیا ہے، عورت نے سر نیہواڑے سنا ہے اور نہ یقین کرنے، نہ ماننے، نہ چاہنے کے باوجود ، ان بے تحقیق رویوں کو صاد کہہ کر نیم رضامندی سے’’ہاں ‘‘کی مہر ثبت کی ہےکہ یہی روایات و مشرقیت کا تقاضا قرار دیا گیاہے۔ مگر طاہرہ نے عورت کی بیدار جنس کی رچتی، ناچتی، گاتی شیدائیت سے بھرپور محبوبیت کی بکل کو بڑی ادا سے کھولا ہے۔فطری جنس کی طلب طاہرہ کے ہاں مرد و زن دونوں میں بھرپور اشتیاق و وفور کے ساتھ اپنا اظہار کرتی ہے ۔

 دھرتی کی طاقت اور اس کے سینے پر بکھرے آدم زاد کے المیوں نے طاہرہ سے یہ ناول لکھوایا ہے۔دھرتی اس کے لئے سب سے بڑی سچائی ہے…. زمینی رویے ، ان کی سیکھ سمجھ اور شعور،طاہرہ اقبال کا سب کچھ ہے…. دنیا وی و دینی احکامات اس کا راستہ نہیں روک سکے…. اس کی تخلیقیت پُر شور ندی کی طرح بہتی چلی گئی ہے۔ جہاں جہاں نیلی بار اسے لے گیا…. علم میں خوف کی لرزاہٹ، آخرت کالی کردیتی ہے مگر طاہرہ پر ایسا کوئی الزام نہیں۔ ۔ کل جب زمانہ اور دھرتی نئی کروٹ بدلیں گے اور نیلی بار کا رنگ کچھ اور ہوگا تب آج کے نیلی بار کو لوگ طاہرہ کے ناول کے ذریعے دیکھیں گے…. ادب کے کینوس پر طاہرہ نے ”نیلی بار“ کو اور ”نیلی بار“ نے طاہرہ کو امر کردیا ہے۔

طاہرہ کا اسلوب، اس کا اپنا ہے۔ اس کے محاورے، تشبیہات، استعارات اس کے اپنے تراشیدہ ہیں ۔اس کی تخلیق کردہ دنیا کی ساخت…. اس کے رنگ، اس کا آہنگ سب اس کے موئے قلم اور ذہنِ رسا کا کرشمہ ہیں۔ ہر کیف، ہر کیفیت، ہر احساس، ہر ستم کا بیان طاہرہ کی لسانی معجز نگاری کا کمال ہے۔

 رک رک ، تھم تھم، ٹھہر ٹھہر!!

میری قرأت بار بار تقاضہ کرتی ہے رکنے کا، ٹھہرنے کا۔ اور مت پوچھیں کہ مطلب کی طلب میں ، جملوں کو بار بار پڑھ کر، کیا کیا نہ کھوجا اور کیا کیا نہ پایا۔ جس طرح اردو زبان جوش صاحب پر صدقے واری ہوتی، اپنا لسان فدا کرتی تھی، ایسے ہی اس پنجابی خطے کی رگ رگ لفظیات طاہرہ کے گرد طلسماتی فضا بنا کر کھڑی ہیں۔نہ جانے کتنی بولیاں ، بولاٹیاں کھاتی، سر پٹکتی، ایک دوسرے میں مدغم ہوتی، لکن چھپی کھیلتی، لفظوں کے تیر، بھالے بناتی، فسوں کار جملوں میں ڈھلتی جاتی ہیں۔ زبانوں اور بیانوں کی صدیوں پرانی شراب کی بوتل سے ناچتے، تھرکتے،چھلکتے، مچلتے، ڈولتے لفظ، چھم چھم صفحۂ قرطاس پر بکھر بکھر سے گئے ہیں جنہوں نے معنی و مفہوم کی ایک عجیب و غریب کائنات بنا کر ”نیلی بار“ میں زندگی کی نرالی تفہیم کی ہے…. طاہرہ نے اردو زبان کو پنجاب آبی دیہی زبانوں کی آمیزش سے رچے اور گھُٹے شہد رنگ شیرے کی سنہری، جگ مگ کرتی ، طویل اور طویل ہوتی تار سے، لفظ لفظ گوندھ کر امیر تر کردیا ہے۔

نیلی بار کو امر کردینے والی مُشاق کہانی کارطاہرہ اقبال! تیرے قلم کی جولانیاں، ذہن کی تابناکیاں، آنکھوں کی مشعلیں، سوچ کے آسمان تاابد سلامت رہیں… تیری عمر دراز ہو ۔دیس بدیس کی کہانیوں کے پیراہن رفو کرنے والی میری امرتسری نانی زندہ ہوتیں تو نیلی بار کو پڑھ کر کہتیں…اے کی لکھیا وے طاہراں؟نہ مرن جوگا چھڈیا نہ جیون جوگا۔ مارسٹیا اے ظالما۔ پر توں اک نیلی بار نوں پئی رونی اے، میرا تے پورا دیس نیلوں نیل نی دھئے!

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2