جب مصطفیٰ کھر نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو سرعام تھپڑ دے مارے؛ سابقہ اہلیہ تہمینہ درانی کا انکشاف


”میں جیل میں کھر سے ملنے گئی تو اچانک۔۔۔“ وہ واقعہ جب مصطفیٰ کھر نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو سرعام تھپڑ دے مارے،سابقہ اہلیہ تہمینہ درانی کا انکشاف

ہم ایک بڑے احاطے میں جا نکلے جہاں قیدی دو دو کی ٹولیوں میں اکڑوں بیٹھے تھے ، وہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی طرف سے دکھائے جانے والے ایک دل فراش منظر کے خاموش تماشائی تھے ، قیدیوں کو سبق سکھایا جا رہا تھا کہ اس کے ہاتھ پیرپھیلے ہوئے تھے ، پولیس والے اسے لاتیں مار رہے تھے اور ڈنڈوں سے پیٹ رہے تھے ۔ اس کے جسم سے جگہ جگہ سے خون بہہ رہا تھا اور اس پر نیم بے ہوشی طاری تھی ، اس کے جسم کا کوئی نہ کوئی حصہ اب بھی تکلیف کو محسوس کر سکتا تھا جس کا اظہار خوف ناک چیخوں کی صورت میں ہو رہا تھا۔ پہرے داروں نے اس کی ٹانگیں پھیلا رکھی تھی ، میں محسوس کر سکتی تھی کہ وہ کیسی روح فرسا اذیت سے گزررہا ہوگا، وہ سسکیاں لے رہا تھا، اس کی پتلیاں اتنی اوپر چڑھ چکی تھیں کہ نظر نہ آتی تھیں،اس کے بعد ایک دہشت ناک  موت جیسی ، خاموشی چھاگئی۔

اب مصطفےٰ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کی طرف بڑھا ، اس کی آنکھوں میں دھمکی تھی ، اس نے عذاب دینے والے کو گالوں سے لیا، میں نے ایک زوردار تھپڑ کی آواز سنی پھر ایک اور تھپڑ پڑا ۔ ڈپٹی کے اوسان خطا ہوگئے لیکن اس میں ہمت نہ تھی کہ پلٹ کر کچھ کہتا یا کرتا۔ مصطفےٰ کھر ان قیدیوں میں ایسا آدمی تھا جس کا لحاظ کرنے پر ڈپٹی مجبور تھا۔ مصطفےٰ نے کڑکتی ہوئی آواز میں کہا” اگر میں نے دوبارہ کوئی چیخ سنی تو میں مار مار کر تمہارا کچومر نکال دوں گا“ اتنا کہہ کروہ مڑا اور لمبے لمبے قدم اٹھاتا اپنی کوٹھری کی طرف چلا گیا ، مشن مکمل ہو چکا تھا اگر قیدیوں میں حوصلہ ہوتا تو وہ واہ واہ کر اٹھتے ، ان کی نگاہوں سے تحسین کی کیفیت چھلک رہی تھی ، مصطفےٰ نے یہ دکھا دیا تھا کہ وہ تنہا نہیں ہے، وہ ان کا نگہبان ہے۔

ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ مصطفےٰ کے پاس کوٹھری میں آیا ، تین پولیس والے اس کے ہمراہ تھے ، وہ ابھی تک حواس باختہ تھا (مصطفےٰ کو ہمیشہ سر ہی کہا جاتاتھا) ” سر آپ کو اتنے سارے قیدیوں کے سامنے مجھے تھپڑ نہیں مارنے چاہئیں تھے، اب وہ کبھی میری عزت نہیں کریں گے“

” تم ان کی عزت کے مستحق ہی کب ہو؟ تم خوف اور تشدد کے بل بوتے پر حکومت نہیں کر سکتے ، میں تمہیں ملازمت سے نکلوا دوں گا، تمہیں معاف نہیں کیا جائے گا، حرامزادے، ہمارے پاس سے چلے جاؤ ، میں تم سے گفتگو کر کے اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتا، وقت آنے پر تم سے نمٹ لوں گا“ یہ حاکمیت بھرا لہجہ تھا جس میں قہاری بھی تھی اور یہ اشارہ بھی کہ جاؤ دفع ہو ، مصطفےٰ نے ، جو کبھی پنجاب کا گورنررہ چکا تھا، اپنے ماضی کا لب و لہجہ پھر سے اپنا لیا تھا، اس بدبخت افسر نے زیر لب بڑ بڑا کر معافی مانگی اور شرمندگی سے وہاں سے چلا گیا۔

بشکریہ؛ ڈیلی پاکستان

Facebook Comments HS