میں ایک بزرگ کے پاس گیا، اپنی مشکلات کے بارے میں بتایا اور دعا کی درخواست کی

میرے بھائی! اس دنیا میں تو لوگ آئن سٹائن جیسے شخص کو کیلے کے چھلکے مارتے رہے ہیں او رنیوٹن کو پاگل، گیلیلیو کو احمق اور بل گیٹس کو نالائق کہتے رہے ہیں“۔ ”مجھے دنیا میں کوئی ایسا بڑا تاجر اور صنعت کار ہی بتادو جس کی ابتدائی زندگی مشکل، عسرت اور پریشانی میں نہ گزری ہو۔“
بزرگ کے خاموش ہونے پر میں نے مدہم لہجے میں ان سے پوچھا کہ مجھے آپ کے ان سوالات کی سمجھ نہیں آئی اس پر انہوں نے پرجلال لہجے میں کہا، اے بیوقوف اور سادہ شخص تم ان مشکلات سے کیوں گھبراتے ہو۔ جتنی بڑی نیکی یا بڑا کام ہوتا ہے اس کی اتنی ہی بڑی مخالفت ہوتی ہے۔ یہ اس دنیا کی ریت ہے کہ ہر نیکی کا راستہ روکا جاتا ہے۔
ہم لوگ کس قدر سچے، کھرے، نیک اور باصلاحیت ہیں اس کا فیصلہ ہماری اپوزیشن، ہماری مخالفت کرتی ہے اور ہمارا کاز، ہمارا مقصد اور ہماری منزل کتنی بلند ہے۔ اس کا فیصلہ ہماری مشکلات، ہماری پریشانیاں اورہمارے دکھ کرتے ہیں۔ دنیا میں جتنی بڑی نیکی ہوتی ہے اس کو اپوزیشن بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہے اور تم نے جتنی ترقی کرنی ہے تمہاری مخالفت بھی اتنی ہی بڑی ہوگی۔ اگر دنیا میں تمہاری کوئی مخالفت نہیں تو تم جان لو تم اور تمہارا کام دونوں بے نام مرجائیں گے۔
”مجھے نیا حوصلہ اور توانائی ملی اور اس کے بعد میں بولا، یعنی مخالفت اور پریشانیاں میرا پرافٹ ہے۔ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ”جس طرح روپیہ، پیسہ تاجر کا پرافٹ ہوتا ہے بالکل اسی طرح مشکلات، پریشانیاں، نفرتیں اور رکاوٹیں نیک اور باصلاحیت لوگوں، بڑے لیڈروں، ڈویلپرز اور تخلیق کاروں کا پرافٹ ہوتی ہیں“۔ویڈیو پیغام دیکھئے

