ماں کے جنازے کا حساب


شاید یہ ہمارے گھر کی تربیت تھی کہ سلیم کو بھی امریکہ میں اتنے سال رہنے کے باوجود پاکستان ہی واپس آنا تھا۔ وہاں کی اچھی باتیں یقینا بہت تھیں مگر پاکستان چھوڑنے کا اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ کبھی کبھی میں سوچتی تھی کہ شاید وہ میری بیوگی اورتنہائی کی وجہ سے آنا چاہتا ہے ایک دفعہ میں نے اسے کہا بھی تھا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا اگر وہ امریکہ میں ہی رہے۔ آخر ایک دنیا امریکہ جا رہی ہے کچھ اچھا ہی ہوگا وہاں پھرامریکہ میں تو ڈاکٹروں کے جو مزے ہیں اس کی تو کوئی مثال ہی نہیں ہے ہمارا کیا ہے ہم تو اب مر ہی جائیں گے مگر اسے اپنے مستقبل سے کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

نہیں امی میں آپ کو اور نانی جان کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں آپ دونوں کے بغیر نہ پہلے رہا ہوں اور نہ اب رہوں گا اگر آپ دونوں امریکہ آجائیں تو شاید میں سوچوں مجھے تو پاکستان ہی واپس آنا ہے وہاں آپ میری شادی کروا دیجئے گا کسی ایسی اچھی سی لڑکی سے جو پاکستان میں ہی رہنا چاہتی ہو مجھے اور کہیں نہیں رہنا ہے۔“ اس کا بس یہی اصرار تھا۔

میں نے ایک اچھی سی لڑکی بھی تلاش کرلی تھی۔ لاہور سے اس نے ایم بی اے کیا تھا ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی اور اسے بھی پاکستان سے باہر جانے کا کوئی شوق نہیں تھا دونوں نے ایک دوسرے کو پسند بھی کرلیا تھا۔ ہم لوگ سلیم کے واپس آنے اور اس کی شادی کی تیاری ہی کر رہے تھے کہ امی جان کی طبیعت خراب ہوئی۔ تھوڑا بخار آیا پھرطبیعت بگڑ گئی۔ نمونیا کی تشخیص کے بعد وہ اسپتال میں داخل ہوئیں۔ سانس لینے میں مشکل ہوئی تو انہیں وینٹی لیٹر پر رکھا گیا اور پھر وہ ہوش میں نہیں آسکیں۔ کسی کا بھی خیال نہیں تھا کہ وہ یکایک اس طرح جان دے دیں گی سب ہی سمجھ رہے تھے کہ علاج کے بعد وہ صحیح ہو جائیں گی جلد گھر بھی آجائیں گی مگر ایسا ممکن نہیں ہوا تھا۔

شام سات بجے ان کی موت ہوئی تو پہلے تو میری سمجھ میں کچھ آیا ہی نہیں۔ کیا کروں کسے خبرکروں۔ کیا ہو گا؟ کیسے ہو گا؟ بھائیوں سے بات کی تو دونوں بھائیوں نے کہا کہ وہ فوراً کراچی آئیں گے اور تھوڑی دیر کے بعد انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے ٹکٹ لے لئے ہیں اور عنقریب کراچی پہنچیں گے۔ میں نے یہی فیصلہ کیا کہ میت کو سرد خانے میں محفوظ کرا دیا جائے۔ سلیم اور کینیڈا سے دوسری دونوں بہنیں بھی پہنچ جائیں گی۔ تو وہ لوگ جنازے میں شامل بھی ہوں گے۔ ماں کی صورت دیکھ لیں گے پھر تدفین بھی ہوجائے گی۔

 سب کو ہی نہ جانے کیوں ایک طرح کا احساس تھا کہ وہ پہلے آجاتے تو اچھا ہوتا۔ شاید اس میں میرا بھی قصور تھا کیونکہ میں نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ امی اس طرح سے چلی جائیں گی اور میں بار بار فون آنے پر انہیں تسلی ہی دیتی رہی تھی کہ کوئی خاص بات نہیں ہے معمولی بیماری ہے صحیح ہو جائیں گی امی مگر وہ تسلیاں جھوٹی ثابت ہوئی تھیں میری بھی اب یہی خواہش تھی کہ سارے بھائی بہن آجائیں تو اچھا ہے۔

میں نے ڈان اخبار میں امی کی موت کی خبر چھپوائی جس میں تدفین کی تاریخ بھی دے دی تھی کہ کراچی کے عزیز واقارب کو پتہ چل جائے۔ موت کے فوراً بعد سے ہی پرسہ کے لئے لوگ آنے شروع ہوگئے تھے۔ یہ ایک اچھی بات ہے ہم لوگوں کی خوشی میں آئیں نہ آئیں مگر موت کے پُرسا پر ضرور آتے ہیں اچھا لگتا ہے بہت اچھا لگتا ہے جب بہت سارے لوگ احساس دلاتے ہیں کہ وہ غم میں شریک ہیں۔ مجھے بھی اچھا لگا تھا۔ لوگوں سے امی کے بارے میں باتیں کر کے۔ بہت سارے پرانے رشتہ دار دلداری کے لئے آگئے تھے چہرے پر پیار لئے سوگ میں شامل ہونے۔

رحمان اور غفور گھر کے چوکیداروں نے سارے انتظامات سنبھال لئے تھے۔ محلے کی مسجد سے سپارے لا کر رکھ دیئے گئے اور ڈرائنگ روم میں سامان ایک طرف کرکے دانے رکھ دیئے گئے تھے جو ایسے موقع پر ہوتا ہے کہ کچھ لوگ سپارے نہیں پڑھتے ہیں بلکہ دانوں پر ورد کرتے ہیں، دُعا پڑھتے ہیں۔

ان پانچوں خواتین کا چہرہ میں نے نہیں دیکھا مگر مجھے ان پر غصہ بہت آیا تھا ان میں جوان سی ایک لڑکی تھی اس نے بتایا کہ وہ اخبار میں موت کا اعلان دیکھ کر آئے ہیں اور اب ہم لوگوں کو اور خاص طور پر امی کو قبر کے عذاب سے بچائیں گے جو رشتہ داروں کی حماقت اور بدعت کی وجہ سے متوفی کو ہوتا ہے۔

اس نے ایک تقریر کر ڈالی کہ موت برحق ہے اور ہر ایک نے واپس جانا ہے اور ہمارے مذہب میں ہے کہ موت کا صدمہ نہیں اٹھانا چاہئیے موت پر غم نہیں کرنا چاہئیے اور ساتھ ہی اس نے کہا تھا کہ کسی کی موت پر سپارے پڑھنا، دانوں پر گنتی کر کے ورد کرنا، دُعا پڑھنا، سوئم منانا، تیرہویں اور چالیسواں کرنا بدعت ہے حرام ہے۔ یہ فرض ہے کہ لاش کو جلد ازجلد دفن کردیا جائے اگر کسی وجہ سے نہیں کیا گیا تو دفنانے کے بعد سوئم منانے سے مرنے والے کے گناہوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان پر اﷲ کا عذاب نازل ہوتا ہے، دنیا میں ہی کچھ ایسا ہوتا ہے جس سے خاندان اُجڑ جاتے ہیں۔ جوان بچے مرجاتے ہیں، اﷲ کی نافرمانی کیا کیا گل کھلاتی ہے، یہ صرف سمجھنے والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔

میری سمجھ میں نہیں آیا کہ میں کیا کہوں میں نے ان سب سے درخواست کی کہ وہ مہربانی کر کے میرا گھر خالی کر دیں۔ مجھے گھر میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا، یہ میرا مسئلہ ہے۔ میں ناراض نہیں ہوتا چاہتی تھی اور نہ ہی غصہ کرنا چاہتی تھی، یہ وقت غصہ کرنے کا نہیں تھا، میری ماں کی لاش مردہ خانے میں تھی، میرے گھر والے ہوائی جہازوں میں تھے، میرا دل خالی تھا، میں غصہ کیسے کرتی، مجھے رونا ضرور آگیا ان لوگوں کی باتیں سن کر۔ انہیں احساس تک نہیں تھا کہ ان کی باتوں سے مجھے کتنی تکلیف ہوئی تھی۔ وہ لوگ چلے گئے اور ان کے جانے کے بعد مجھے پتہ چلا کہ سارے سپارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

میں نے رحمان کو اردو بازار بھیج کر سپاروں کے دو سیٹ منگائے تھے رحمان نے ہی مجھے بتایا کہ یہ خواتین سفید رنگ کی ٹویوٹا کیری میں آئی تھیں اور ان کے ساتھ ایک وین بھی تھی جو گھر کے سامنے کھڑی رہی تھی جس میں پانچ لمبی داڑھی والے افراد بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ رحمان نے ایک کے پاس پستول بھی دیکھا تھا۔ شام تک میں یہ واقعہ تقریباً بھول گئی۔ رات گئے سلیم، دونوں بھائی اور دونوں بہنیں پہنچ گئی تھیں ہم سب گلے لگ لگ کر روتے رہے۔ امی کو یاد کرتے رہے ان کی باتیں ان کے طریقے ان کا غصہ، ان کا ہنسنا سب کچھ یاد آتا رہا۔ زندگی کتنی بے رحم ہوتی ہے یہاں تک کہ ماں بھی مرجاتی ہے، اوپر والے کے بھید اوپر والا ہی جانے۔

 باقی افسانہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

 

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3