ہوائی فائرنگ کرنا ایک جان لیوا اور غیر قانونی فعل ہے. 

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 اس موضوع کو صحیح سمجھ کر کچھ لکھنے کا سوچا تاکہ آپ لوگوں کو بھی یہ پیغام پہنچا سکو کہ ہوائی فائرنگ کرنا ایک جان لیوا اور غیر قانونی فعل ہے ایک دو دن بعد عید الفطر ہے اور اس بار بھی چاند رات کو ضلع باجوڑ میں ہوائی فائرنگ کرنے کا امکان ہے۔

ضلع باجوڑ میں خوشی منانے کے لیے ہوائی فائرنگ کا ایک خطرناک رجحان بڑھ رہا ہے جس کو بعض لوگ قابل فخر روایات سمجھتے ہیں۔

اکثر ہوائی فائرنگ کی اندھی گولی کسی کو زخمی یا کسی کےموت کا سبب بھی بن سکتی ہے جس طرح کچھ دن پہلے گل ظفر خان باغی کے حجرے میں ہوا۔ جس کی وجہ سے ایک بندہ فوت اور چار زخمی ہوئے تھے جو بہت درد ناک اور خوفناک واقعہ تھا۔ جس کا اب تک کچھ بتا نہیں چلا کہ یہ قاتلانہ حملہ تھا یا ہوائی فائرنگ بہرحال جو بھی تھا یہ ثابت کرنا حکومت کے  ذمےداری  ہے۔

ہوائی فائرنگ بعض لوگ اپنی چند منٹوں کی خوشی کے لیے کرتے ہیں جو پیسوں کے ضیاع کے علاوہ معصوم لوگوں کی موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

گزشتہ سال ایک اعداد وشمار کے کے مطابق صرف پشاور میں 150 سے زیادہ ہوائی فائرنگ کی واقعات رجسٹرڈ کے گئے تھے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پورے خیبر پختونخواہ میں اور بھر خاص کر قبائلی علاقوں میں میں کتنے واقعات ہوئے ہوں گے جو رجسٹر اور رپوٹ نہیں ہوئے ہوں گے۔

ویسے ایک بات تو صاف ہے ہوائی فائرنگ کرنا کسی غریب کی بس کا کام نہیں نا غربت کے ساتھ کلاشنکوف، اور نا فیسٹیول ہوتا ہے  اکثر امیر اور با اثر لوگوں یہی کام کرتے ہیں جس کو بعض دفعہ انتظامیہ، یا حکومت کی سرپرستی حاصل ہوتی ہے جس کی وجہ سے اکثر ان کو چھوڑنا پڑتا ہے۔

ان واقعات میں کمی کے لیے اور ہوائی فائرنگ کے مکمل خاتمے کے لیے ضلع انتظامیہ کو فائرنگ کرنے والے کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت کارروائی کرنی چاہیے

اس بار ضلع بر میں ہوائی فائرنگ کے خلاف ایک مہم چلنا چاہیے جس میں علمائے کرام، سیاسی و سماجی، مذہبی، بزرگ، اساتذہ کرام، پڑھے لکھے لوگ، سٹوڈنٹس اور عمائدین علاقے کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اور ہوائی فائرنگ کے خلاف  اس مہم میں ان سب کو گھر گھر پمفلٹ تقسیم کرنے چاہیے بازاروں اور مصروف چوراہوں، اہم شاہراہوں اور پبلک مقامات پر ہوائی فائرنگ سے اجتناب کی تحریروں پر مبنی خصوصی بینرز اور فلیکس آویزاں کرنے چاہیے تاکہ لوگوں میں آگاہی اور شعور بیدار ہو جائے تاکہ آئندہ کے لئے کوئی بھی اس طرح کا کینونا کام نہ کریں اور کم از کم اس دفعہ ہوائی فائرنگ کرنے والوں کو جیل بھیجنا چاہیے اور جو بھی ہو سب کی عید جیل میں ہونی چاہیے۔

اگر آپ لوگ اور ہم میں سے ہر کوئی حکومت، ضلع انتظامیہ کا ساتھ دیں دیے تو ہوائی فائرنگ کے مسئلے کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکتا ہے۔

آپ سب سے درخواست ہے کہ ہوائی فائرنگ جیسے فعل سے اجتناب کریں اس غیر اخلاقی اور غیر انسانی نا سور سے اس وطن معاشرے، اور اس ضلع باجوڑ کو پاک کرنے کے لئے اپنا اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔

اگر انتظامیہ اس میں سنجیدہ ہے اور اس ناسور سے چھٹکارا پانا چاہتا ہے تو آپ سب لوگ ضلع انتظامیہ اور حکومت کا ساتھ دیں گئے تو ہوائی فائرنگ جیسے ناسور سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
میاں ارشد علی کی دیگر تحریریں
میاں ارشد علی کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں