اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جہاں سال بھر ہم اپنے ملک کے حالات دیکھ کر شکوہ سنج رہتے ہیں اور معاشرے میں پائے جانے والے مسائل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ تنقیدی پتے پھینکتے رہتے ہیں وہاں اس امر کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ دن بدن مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کیلئے ہونے والے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔
عید پر جہاں تمام افراد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقوں میں جا کر اپنوں کے ساتھ عید منائیں وہیں اس خواہش کو قربان کرنے والے بھی موجود رہتے ہیں۔اور ان کی یہ قربانی محض اپنے فرائض کی تکمیل اور معاملات کو رواں دواں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔وہ گلیوں،سڑکوں اور شاہراؤں کی صفائی کرنے والے خاکروب ہوں جو پو پھوٹنے سے پہلے اپنے بستروں کو خیر آباد کہہ کر فرائض کی تکمیل کی خاطر نکل آتے ہیں یا وہ سپاہی جو صبح سویرے مساجد کے باہر ڈیوٹی پر معمور دکھائی دیتے ہیں،تعریف کے قابل ہیں ۔پولیس کے اعلی افسران، ضلعی انتظامیہ اور تحصیل کمیٹی کا ہر اک فرد داد کا حق دار ہے جو اس دن امن و امان کی صورتِ حال قائم رکھنے کی خاطر گاہے گاہے شاہراؤں پر چکر کاٹتے دکھائی دیتے ہیں۔
تنقید حالات اور نظام کو بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے لیکن جب تک ہم معاشرے میں پائے جانے والے  مثبت رویے پر بات نہیں کریں گے اس کا پرچار نہیں ہو پائے گا۔ اور ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا چاہئے کہ اس ملک میں رہنے والوں کیلئے یہ دھرتی ہر لحاظ سے مقدم ہے۔اس کا ثبوت اک نجی تنطیم کے نوجوانوں نے پچھلی شب دیا جب وہ شاہراؤں پر نکل آئے اور ٹریفک پولیس کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر بے ہنگم
ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ اور جو بات قابلِ رشک تھی وہ نوجوان خواتین کا اس مہم میں شامل ہونا ہے۔ وہ مردوں کے شانہ بشانہ اس ملک کی خدمت کے عزم سے لبریز دکھائی دیں۔ خیالات میں پختگی،وطن سے محبت کا جزبہ اور کچھ کر دکھانے کی لگن  ان خواتین کی آنکھوں میں چمک رہی تھی۔
یہ وہ مشاہدات ہیں جو پچھلے ایک دن میں آنکھوں میں سمو پائے اور جن کو میں ذاتی طور پر دیکھ پایا۔ نا جانے کتنی تنظیمیں، کتنے اہلکار، کتنے نوجوان اس وقت بھی پاکستان کی سر بلندی کے لئے اپنی عیدیں قربان کیئے اپنے حصے کی شمع جلا رہے ہوں گے۔
خدا سے دعا ہے کہ یہ عید پاکستان  کیلئے  خوشیوں اور سر بلندی کی نوید لے کر آئے۔
اور ہم اک دوسرے پر تنقیداور شکوہ کرنے کی بجائے اپنے اپنے حصے کا چراغ روشن کرتے چلے جائیں
شکوہء ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر    ‘ہے’
اپنے حصے کی کوئی شمع جلاتے ‘جاؤ’
لہذا اگر ہمیں ظلمتِ شب کا مقابلہ کرنا ہے تو ہمیں اپنی قوتِ بازو سے خیمہء تیرگی کو اکھاڑ پھینکنا ہوگا
تبھی ہر سمت روشنی کا بہاؤ عام ہو پائے گا
تم جو دیکھو اگر
تو تمہاری نگاہوں کی کرنوں سے
سورج بھی جلنے لگے
تم چلو تو سہی
میری دھرتی کے منظر
بدل جائیں گے
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں