زبان غیر سے کیا شرح آرزو کرتے

’’اگر لوگ یہ کہنا چاہتے ہیں، کہ ہماری چھوٹی سی قوم کی زبان بڑی مفلس ہے، تو شوق سے کہیں لیکن میں جو کچھ بھی کہنا چاہتا ہوں، اپنی مادری زبان میں کہہ سکتا ہوں اور مجھے اپنے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کے لیے کسی دوسری زبان کی ضرورت نہیں‘‘۔ (رسول حمزہ توف) اپنی زبان سے خود کو مجرم کہنا نہایت تکلیف دہ عمل ہے۔ تاریخ کے آئنے میں گر دیکھنے کی سعی کی جائے، تو بعید نہیں کہ

Read more

اپنے حصّے کی کوئی شمع جلاتے جاؤ

جہاں سال بھر ہم اپنے ملک کے حالات دیکھ کر شکوہ سنج رہتے ہیں اور معاشرے میں پائے جانے والے مسائل کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ساتھ تنقیدی پتے پھینکتے رہتے ہیں وہاں اس امر کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ دن بدن مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کیلئے ہونے والے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔ عید پر جہاں تمام افراد کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقوں میں جا کر اپنوں کے ساتھ عید منائیں

Read more

سلیم کوثر اور ابرِ گریہ

وقت کی گرد سے کس کا چہرہ ہے جو اٹا نہ ہو ۔یہ زمانے کی کم ظرفی سمجھئیے یا وقت کا اصول کہ اسے اپنے محسنوں سے وفا کرنا نہیں آئی ۔وہ لوگ جو معاشرے کی ذہن سازی میں اپنا نمائندہ کردار ادا کرتے رہے ان کے چہرے بھی وقت کی گرد سے دھندلے پڑ چکے ۔کچھ روز پہلے کراچی روانہ ہوئے تو یہ عہد باندھا کہ اس بار سلیم کوثر صاحب سے ملے بغیر واپسی نہ ہو گی ۔لہذا

Read more

مشال خان اور تصویر کا اک رخ

یہاں رواج ہیں زندہ جلا دیے جائیں وہ لوگ جن کے گھروں سے دیے نکلتے ہیں یہ روایت کچھ نئی نہیں بلکہ تاریخ کو پڑھنے والے یقینا ایسے بہت سے واقعات کو اپنی یادداشتوں کا حصہ بنائے بیٹھے ہیں۔ علم و فکر کے علمبردار اپنی منفرد سوچ اور جداگانہ طرزِ عمل کے باعث ہمیشہ سے شدت پسند عناصر اور مفاد پرست ٹولے کی راہ میں حائل رہے اور اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرتے رہے۔ ان حق پرستوں میں نوجوان

Read more