بس ہوسٹس کے قتل پر غیرت مند بریگیڈ کے تبصرے


پہلی جنگ عظیم کا واقعہ ہے۔ چکوال کے کسی گاؤں کے ایک شخص نے جو کہ انگریز کی فوج میں سپاہی تھا کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا تو اس کے باس نے خوش ہو کر اسے انعام سے نوازنا چاہا۔ انگریز افسر نے کہا اے بہادر سپاہی بولو کیا انعام چاہتے ہو۔ تو سپاہی نے جھجھکتے ہوئے کہا کہ اگر ایک گوری (خاتون) دے دیں تو گاؤں میں اپنی بلے بلے ہو جائے گی۔ انعام کے طور پر خاتون مانگنا ایک خاص سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت خاتون ایک چیز ہے، وہ کسی کی ملکیت ہے، اس لیے وہ کسی کو انعام یا گفٹ کے طور پر دی جا سکتی ہے۔ یعنی چیزوں کی ملکیت تو ایک شخص سے دوسرے کے نام منتقل ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں وہی سوچ ابھی چل رہی ہے۔ مندرجہ ذیل تبصرہ بھی اسی کی عکاسی کرتا ہے۔

ایک صاحب، جو بس ہوسٹس کے قتل کے سلسلے میں "ہم سب” پر چھپنے والے میرے مضمون سے ناخوش تھے، نے یہ تبصرہ کیا کہ آرٹیکل کے ساتھ مقتولہ کی تصویر بھی چھپی ہے تو کیا اس کے لیے میں نے مقتولہ کی فیملی سے اجازت لی ہے یا کہ نہیں۔ اس تبصرے کا جواب ایک اور ناراض شخص نے کچھ یوں دیا۔

"ورثاء سے تصویر کی اجازت اس صورت میں بنتی تھی کہ ورثاء غیرت مند ہوتے۔ اگر وہ ورثاء تھے تو انہوں نے جیتی جاگتی جوان لڑکی کو کیوں بس کی کنڈکٹری پر چھوڑا۔ اگر غریب تھے بھی تو کیا کوئی اور کام جو کہ حلال تھے، ختم ہو گئے تھے۔ لڑکی کے قتل پر بے حد افسوس (ہے) مگر برائی کی اصلی جڑ کہ (کیا) لڑکیوں کو بے پردہ ہونا چاہیے۔ تنگ لباس پہن کر، بے پردہ ہو کر مردوں کے سامنے نہیں آنا چاہیے۔ مردوں کے احساسات کو کیوں ابھارتی ہیں یہ لڑکیاں، پھر آخر انجام یہی ہوتا ہے۔ کیا لڑکی نسوانی حسن جب مرد کو دکھائے گی تو وہ بچ جائے گی، نہیں نہیں کبھی نہیں۔”

یہ تبصرہ ہماری معاشرتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ معاشرے میں بہت سارے لوگ یہی سوچتے ہیں۔

اس کا واضحٖ مطلب یہ ہے کہ لڑکی اور اس کے گھر والے اس کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔ لڑکیوں کو انسان نہ سمجھنے والے لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ لڑکی جب بس میں کنڈکٹری کرے گی تو اسی بس میں کام کرنے والے گارڈ کے جنسی جذبات ابھرنے کا خطرہ ہو گا۔ اور اگر مرد گارڈ کے جنسی جذبات لڑکی کی وہاں موجودگی کی وجہ سے ابھرتے ہیں تو لڑکی کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ ان جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے تعاون کرے اور خواہ مخواہ نخرے نہ دکھائے۔ جذبات اس کی یعنی لڑکی کی موجودگی کی وجہ سے مشتعل ہوئے ہیں۔ یہ اس کا قصور ہے۔ اب مرد کے پاس پورا حق ہے کہ وہ جنسی جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بھی لڑکی کا استعمال کرے۔

تو پیارے غیرت مند مردوں سے ایک عاجزانہ سی گزارش ہے۔ یہ جو جنسی جذبات ہوتے ہیں یہ ساری دنیا کے انسانوں، مردوں، عورتوں اور ٹرانسجنڈر سب میں ہوتے ہیں اور وقتا فوقتا ابھرتے بھی رہتے ہیں۔ یہ آپ کے جذبات ہیں اور آپ کی اپنی ذمہ داری ہیں۔ ان جذبات کو قابو کرنا یا ٹھنڈا کرنا آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔ آپ ان جذبات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کسی دوسرے انسان کے ساتھ زبردستی نہیں کر سکتے۔

عورت بھی ایک جیتا جاگتا انسان ہے۔ اس کے بھی جذبات ہوتے ہیں۔ اس کی بھی پسند نا پسند ہوتی ہے۔ اس کو سردی لگتی ہے، بھوک لگتی ہے اور اس کا بھی اچھی زندگی گزارنے کو دل کرتا ہے اور کسی بھی انسان کے لیے اچھی زندگی وہ ہوتی ہے جو وہ اپنی مرضی کے مطابق گزارے۔ اور بحیثت انسان ہر شخص کو یہ حق بھی ہے کہ وہ اپنی مرضی کی زندگی گزارے۔ اگر کسی عورت کو اس کی مرضی کے خلاف زندگی گزارنے پر مجبور کیا جائے تو اس کو بھی اتنی ہی تکلیف ہو جتنی کہ ایک مرد کو۔

عورت انسان ہے۔ اس کو بھی درد ہوتا ہے، افسوس ہوتا ہے اور خوشی بھی ہوتی ہے۔ اپنے اوپر فخر بھی ہوتا ہے۔ وہ مزید کارنامے انجام دے کر، لوگوں کی مدد کر کے یا لوگوں کے ساتھ مقابلہ کر کے قابل فخر بننا چاہتی ہے۔ جیسے باپ کی عدم موجودگی میں بڑا بیٹا اپنی ماں کی مدد کرنا چاہتا ہے، وہ پیسے کماتا ہے، اپنے بہن بھائیوں کو پالتا ہے اور اس بات پر فخر کرتا ہے اسی طرح لڑکی بھی کام کاج کر کے پیسے کمانا چاہتی ہے اور اپنے گھر والوں کی مالی مدد کر کے قابل فخر بننا چاہتی ہے۔ لیکن ہمارے جیسے فرسودہ سوچ رکھنے والے معاشرے میں اسے ایسا کرنے نہیں دیتے۔ یہی معاملہ قتل ہونے والی اس بچی کے ساتھ ہوا اور ہزاروں بچیوں کے ساتھ ہر سال ہوتا ہے۔ یہ بہت بڑا ظلم ہے۔

یہی تبصرے معاشرے کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ اسی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ عورتیں بھی بحیثیت انسان اپنی مرضی کی زندگی گزار سکیں۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik