پاٹا کے بارے میں سیاسی مغالطے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی آئین کے آرٹیکل 246 بی کے مطابق چترال، دیر (اپر لوئر)، سوات، کوہستان، چترال، بونیر، شانگلہ اور ملاکنڈ اضلاع کی پہچان ایک ایسا حل طلب مسئلہ تھا کہ خود ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو بھی شاید معلوم نہ ہو۔ 31 ویں آئینی ترمیم کے بعد خیبر پختون خوا، پاٹا اور فاٹا کے تمام علاقوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو ایک جیسے حقوق دے دیے گئے۔ اب نہ تو کوئی قبائلی ہوگا نہ نیم قبائلی بلکہ ایک ہی صوبے کے برابر شہری سمجھے جا سکیں گے۔

کچھ پاٹا کے بارے میں:

پاٹا میں موجود اضلاع کی قبائلی حیثیت 1970ء کے لگ بھگ ختم کر کے انہیں صوبوں میں ضم کیا گیا اور 1995ء میں ان علاقوں کو باقاعدہ طور پر اضلاع کی حیثیت دی گئی۔ خیبر پختون خوا کا پاٹا ان علاقوں پر مشتمل تھا، سوات، چترال، دیر بالا، دیرپائیں، بونیر، شانگلہ، کوہستان، تورغر اور مالاکنڈ؛ تاہم اب یہ اضلاع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان کے کچھ علاقے بھی پاٹا کا حصہ تھے جو آئین کے آرٹیکل 246 میں ترمیم کے بعد بلوچستان صوبے کا مکمل حصہ بن گئے ہیں۔

خیبر پختون خوا کے کل 26 اضلاع میں سے 5 اضلاع 31 ویں آئینی ترمیم سے پہلے پاٹا کا حصہ تھا۔ انگریزوں نے اپنی جنگی مدافعت بڑھانے  کے لیے مالاکنڈ سمیت سوات، دیر، چترال اور باجوڑ کے ریاستوں کو 1895ء میں قبائلی علاقوں کا درجہ دیا۔ 1969ء میں پاکستان نے ریاستوں کے تصور کو ختم کرتے ہوئے انھیں خیبر پختون خوا (اس وقت کے صوبہ سرحد) کا حصہ بنایا۔ ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار ان علاقوں تک 1974ء میں وسیع کیا گیا۔ سابقہ قبائلی علاقہ جات (فاٹا) سے منتخب نمایندگان کی طرح ملاکنڈ ڈویژن کے منتخب ارکان بھی اپنے علاقوں کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کرسکتے۔ اگر ایسی کوئی قانون سازی کرنا بھی ہے تو  پاٹا تک ان کا دائرہ اختیار یا دائرہ عمل بڑھانے کے لیے آرٹیکل 247 کے تحت گورنر خیبر پختون خوا کی اجازت ضروری تھی (جو کہ اب ختم ہوگئی ہے)۔

پاٹا میں کوئی بھی قانون لاگو کرنے کے لیے گورنر سمیت صدر مملکت کی اجازت ضروری تھی لیکن معاملہ پھر بھی گھمبیر ہی نظر آتا ہے۔ قانون سازی کے لئے گورنر جب کہ دیگر عمل داری پاٹا میں بھی صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی۔ ایسے میں پاٹا کو دیگر علاقوں کے برابر لانے میں نہ صرف عوام بلکہ صوبائی حکومت کو بھی کئی فوائد حاصل ہوسکیں گے۔

سابق قبائلی علاقہ جات کے برعکس پاٹا میں اپنے قوانین پہلے سے موجود تھے جیسا کہ پاٹا ریگولیشنز (پاٹا کرمنل لا، پاٹا سول پروسیجر)۔ ان قوانین میں کچھ چیزیں  بندوبستی علاقہ سے تو کچھ قبائلی علاقوں کے لیے بنائے گئے قوانین سے لی گئی تھیں۔ مثال کے طور پر ٹیکس سے استثنا، انتخابی قوانین، عدالتوں کا قیام، صوبائی اسمبلی میں نمایندگی وغیرہ۔ آج اگر پاٹا کو خیبر پختون خوا کے بندوبستی علاقوں کے برابر لانے اور آئین کے آرٹیکل 247 کے خاتمے کے خلاف کوئی آواز اٹھ رہی ہے وہ صرف اور صرف ٹیکس سے استثنا کے لیے اٹھائی جارہی ہے۔

ایسا کیوں؟

کچھ عرصہ پہلے جب مالاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کے نفاذ کا اعلان کیا گیا تو کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات اور احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ بعد میں ایکٹ واپس لیا گیا لیکن سوال یہ ہے کہ مالاکنڈ ڈویژن میں موجود ایک عام شہری کو ان مراعات سے کوئی فائدہ ہے جن کے لیے آج ایک مرتبہ پھر آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں۔

مالاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس سے مستثنٰی کرنے سے وہاں ایک عام شخص کے لیے اس سے زیادہ کوئی فائدہ نہیں کہ وہاں ان کو صرف کسٹم ٹیکس نہیں دینا پڑ رہا، حالانکہ باقی تمام کے تمام ٹیکس اسی طرح دیا جا رہا ہے جیسے دوسرے شہروں کے عام پاکستانی دے رہے ہیں۔ کسٹم ایکٹ عام آدمی نہیں کاروباری طبقے کا مسئلہ ہے۔ ٹیکس سے بچنے کے لیے درگئی، سخا کوٹ سمیت  ڈویژن کے کئی علاقوں میں باہر سے لوگ آکر کارخانے بنارہے ہیں۔ تین بجلی  گھر ہونے کے باوجود کارخانہ داروں کے ساتھ ڈیل کے نتیجے میں عوام بے وقت اور شرمناک حد تک لوڈشیڈنگ کا سامنا کررہے ہیں۔ ”پرمٹ“ کے نام پر پورا دن لوڈ شیڈنگ کر کے عوام کو ذلیل کیا جا رہا ہے، جب کہ کارخانوں کو 24 گھنٹے بجلی کی رسد جاری رہتی ہے۔ ایسے میں اگر کسٹم ایکٹ کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوجاتی ہیں تو سمجھ لینا چاہیے کہ کون عوام کو ایک مرتبہ پھر اکسا رہے ہیں۔

دوسرا سب سے بڑا مسئلہ مالاکنڈ ڈویژن میں نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کا ہے۔ وہاں پر زیادہ تر گاڑیاں نان کسٹم پیڈ ہیں اور کاروباری خواص کے ساتھ ساتھ عوام بھی اس سکیم سے فائدہ اٹھارہے ہیں۔  آئینی ترمیم کے بعد شاید یہ مراعات ختم ہو جائیں گی، لیکن اس کے لیے بھی ایک مدت دی جارہی ہے۔ میرا ذاتی خیال یہی ہے کہ اگر آگے جانا ہے تو کچھ تکالیف سہنا پڑیں گی۔ یہ ایک مسئلہ ہی ہے جس سے لوگ ڈر رہے ہیں مگر دوسری طرف کاروباری طبقے، صاحب ثروت یا امیر طبقے کے جذبات کے ساتھ کھیل کر ان کو غلط استعمال کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔

 نئی مردم شماری کے مطابق پاٹا کی آبادی تقریباً 7.6 ملین ہے۔ تقریباً 952 مربع کلومیٹر پر مشتمل یہ علاقہ 60ء کی دہائی تک مالاکنڈ ایجنسی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ اب بھی کچھ لوگ ان علاقوں کو ایجنسی سے جانتے ہیں لیکن اب عملاً یہاں پر قانون سب اضلاع والا نافذ ہوچکا ہے۔ عدالتیں، ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر، سب ضلع و تحصیل کی سطح پر موجود ہیں۔ البتہ کچھ علاقوں میں لیویز تو کچھ علاقوں میں پولیس تعینات ہیں۔ اب ہوسکتا ہے پورے ڈویژن میں پولیس ایکٹ کا نفاذ ہو جو کم از کم اس مخمصے کو دور کردے گا کہ پولیس یا لیویز دونوں میں کون ٹھیک تو کون غلط ہے۔ کون کرپٹ تو کون دیانت دار۔ لوگوں کو بھی ان معاملات میں کنفیوز کردیا گیا ہے۔

پاٹا کو بندوبستی علاقے میں شامل کرنے پر عوام کی تشویش کسی حد تک جائز بھی ہے لیکن اس کے لیے صوبائی و مرکزی حکومتوں نے وقت کا تعین کرلیا ہے۔ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ عوام ملک و قوم کے وسیع ترمفاد میں سوچنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ کچھ کارخانہ دار، امرا یا سیاسی مداریوں کے کھیل کا حصہ نہ بنے اور اس ملک میں برابر کے حقوق کی ضمانت دینے والے آئین کو سمجھے، اس پر عمل کریں اور صحیح معنوں میں جمہوری قوتوں کو مزید مضبوط کریں، تا کہ یہ ملک ہمیشہ اسی طرح شاد و آباد رہے اور سازشی عناصر کو کبھی کامیابی کا موقع نہ دیا جائے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •