جوڈیشل ایکٹوازم سے اوور ایکٹنگ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لالی وڈ بھلے رو بہ زوال ہو، لیکن اس ملک میں فلموں کی کمی کبھی نہیں رہی۔ ہر دور میں ایک سے بڑھ کر ایک فلم بنتی رہی ہے اور کھڑکی توڑ رش لیتی رہی ہے۔ تازہ ترین اور طویل ترین فلم کا نام قاضی ان ایکشن ہے۔ قاضی القضاۃ کے عہدوں پر فائز رہنے والے اساطیری حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ہمارے کہانی اور ڈراما پسند دماغوں نے ہمیشہ ایسے کرداروں کو تاریخ کے صفحات کے ساتھ ساتھ دل میں بھی جگہ دی ہے، جو اپنی شناخت چھپا کر یا اپنی حدود سے باہر جا کر صحیح کام کرنے کا بھی غلط طریقہ اپناتے رہے ہیں۔ ایسے قاضیانِ اسلام کی ایک لمبی فہرست مرتب ہو سکتی ہے، جو انصاف کی فراہمی کے لیے کسی بھی حد تک جاتے رہے۔

ایسے قاضیان بھی فیشن سے آؤٹ نہیں رہے جو کسی بھی حد کے قایل ہی نہ رہے۔ تازہ ترین جوڈیشل ایکٹو ازم جب انصاف کی فراہمی میں اتوار کو بھی بیٹھنے لگا اور بعض مقدمات کو اتنی زیادہ توجہ اور محبت عطا کی کہ گویا اس کے علاوہ باقی سب معاملات حل طلب نہیں رہے تو عوام کا ماتھا بھی ٹھنکا۔ اس ٹھنکتے ماتھے کو جھنجنانے کے لیے ایکٹو ازم نے اپنی ٹانگیں اور بازو پھیلانے شروع کر دیے۔ ہیرو ورشپ اور در اندازی کی صدیوں سے عادی قوم کو لگا کہ جس مسیحا کی خبر صحیفوں میں تھی وہ ہمیں است و ہمیں است۔ نتیجہ؟ جوڈیشل ایکٹو ازم اوور ایکٹنگ میں تبدیل ہو گیا۔

ہم نے افتخار چودھری کی چودھراہٹ کے زمانے میں بارہا یہ سوچا کہ مرچوں کا بھاؤ بڑھنے پر سوموٹو ایکشن لینے والے ان صاحب کو شاید یہ خبر ہی نہیں تھی کہ ملک میں کیسے کیسے جرائم اور کیسی کیسی بے انصافی ہوتی رہی، ورنہ سوموٹو لینے کے بہانے تو تھے ہزاروں بنوں میں پھرتے تھے مارے مارے۔

خیر! اللہ اللہ کر کے قوم کا ایک اور مسیحا انھی انصاف کے ترازو کے پلڑوں میں تل کر سامنے آیا ہے اور اب کیا اسپتال، کیا پانی کے نلکے ٹونٹیاں، کیا چھوٹے چھوٹے مقدمات، اتوار کی بیٹھکیں اور ہم ہیں ہر معاملے کے خبیر اور مشکل کشائی کا یہ رویہ ورطہ حیرت میں ڈال رہا ہے۔ صحافیوں کی ایک فوج ظفر موج ہے کہ قاضی القضاۃ کے جلو میں ان کے چھینکنے کھانسنے کو بھی بریکنگ نیوز بنائے ہے۔ آپ کے ون لائنر آبِ زریں سے لکھے اور قوٹ کیے جاتے ہیں۔ آپ کسی کے بھی دائرہ اختیار میں انصاف کا پرچم تھامے ہوئے گھس جاتے ہیں اور جو مرضی ہو کر آتے ہیں۔ زمین پر رینگتی چیونٹی کی خبر رکھتے رکھتے جناب والا کو جیلوں میں بے گناہ مرتے اور سڑتے قیدی، معمولی جرائم پر زندگییاں ضائع ہوتی اور انصاف کے نام پر ہوتی بے انصافیوں کی کوئی خبر ہے نہ خبر کی ضرورت۔ کوئی مائی کا لال یہ کہہ نہیں سکتا کہ ذرا اپنے ادارے کے گریبان میں بھی جھانکیے۔ سیاست دان تو سلو پوائزننگ کر کے مارے گا، آپ کے قلم کی ایک غلط جنبش زندگی موت کے لیے فیصل ہو گی۔

تازہ ترین واردات میں جناب قاضی ایک اور قاضی کے چیمبر میں گھس کر اس کا فون اٹھا کر پھینکتے ایک ایسے اسکول ماسٹر لگے جو کمرہ امتحان میں اپنے کسی طالب علم کو نقل کرتے پکڑ لے۔ یہ دوسروں کے زوال میں اپنی عظمت، دوسروں کے تضحیک میں اپنی تمکنت تلاش کرنے کا عمل کسی بھی عام شخص کا رویہ بھی ہو تو بری علامت ہے۔ اعلی ترین عہدوں پر فائز افراد سے کچھ اور توقعات اور رویے متوقع ہوتے ہیں۔

اب جو سوال میری اس تحریر کے لکھنے کا محرک ہوا ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ حرکات و سکنات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضور والا کو کسی طرح کی نا انصافی اور کسی طرح کی غفلت پسند نہیں۔ حد درجہ ایمان دار، محنتی، جفاکش، غریبوں کا درد رکھنے والے، ملک و قوم کی قسمت بدلنے والے اور انصاف کی فراہمی میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرنے والی ہستی ہیں۔ یقیناً ایسا ہی ہو گا لیکن ظاہر ہے کہ یہ صفات عالیہ راتوں رات کھمبی یا برساتی سبزے کی طرح تو نہیں اگ سکتیں۔ نہ ہی جنابِ عالی کو کوئی عہدہ و منصب پہلی بار ملا ہے۔

موجودہ ایکٹو ازم کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ قیاس کرنا عین حق ہے کہ حضور والا نے تمام عمر اسی طرح دوسروں کے دکھ درد مٹانے میں صرف کی ہے اور نہ نیند نینا نہ رات چینا، ٹائپ روٹین کے مالک رہے ہیں۔ یہ بھی بعید از قیاس نہیں بلکہ عین فرض ہے کہ عالی قدر کے حضور کوئی ایک مقدمہ بھی زیر التوا کبھی نہیں رہا ہوگا۔ نہ ہی اپنی پوسٹنگ کی جگہوں پر حضور والا نے کسی طرح کی نا انصافی یا بے اعتدالی برداشت کی ہوگی۔ نیز خلقِ خدا کی داد رسی کا سلسلہ کم از کم اتنا دراز تو رہا ہو گا جتنا کہ جناب کی مدت ملازمت۔

چلیے عمر فاروق کی طرح بھیس بدل کر گشت نہیں بھی کرتے ہوں گے لیکن حضور والا کے حضور شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی ضرور پیتے رہے ہوں گے۔ جہاں جہاں فرائض منصبی کی ادائی کی ہوگی، وہاں وہاں حضور کے فرامینِ عالی شان اور زبانِ حق گو سے لگی لپٹی کے بغیر مظلوموں کے حق میں صدائیں بلند ضرور ہوتی رہی ہوں گی۔

قاضی القضاۃ کو تشہیر کی ضرورت نہیں ہوتی ان کو کسی کیمرا اور صحافی کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خدائے واحد و یکتا و منصف کی نگاہ کی نگرانی اور کندھوں پر بیٹھے ہوؤں کی لکھت کا احساس کافی ہوتا ہے۔ یہ بھی نہ ہو تو کیا یہ کوئی ایسا کام ہے جس کی کوریج کرنی چاہیے۔ کوئی ڈاکٹر کسی صحافی کو ساتھ لے کر آپریشن تھیٹر نہیں جاتا۔ کوئی استاد کسی صحافی کو ساتھ لے کر کمرہ جماعت میں نہیں جاتا، نہ اپنی کلاس پڑھانے کو خبر سمجھتا ہے۔ کیونکہ یہ وہ فرائض ہیں جو محض فی سبیل اللہ ادا نہیں ہوتے بلکہ یہ وہ کام ہے جس کے کرنے کی باقاعدہ تنخواہ لی جاتی ہے، ان کا کرنا فرض اور نہ کرنا جرم ہے۔ تو پھر یہ کیا ڈراما ہے کہ ملکی سرحدوں کی حفاظت کوئی کرے تو اسے بھی تنخواہ اور مراعات اور عزت کے علاوہ ستائش اور کل وقتی رطب اللسانی درکار ہوتی ہے اور اگر کوئی انصاف کر بیٹھے تو اسے ہیڈ لائن بنانے کا شوق لاحق ہو جائے۔

جناب والا اگر اس طرح ہر تنخواہ دار عہدے دار اپنے فرائض کی انجام دہی کا ڈھنڈورا پیٹنے لگے تو پھر ہر ایک کا اپنا چینل ہوگا۔ بزعم خود پارسائی بھی ایک موذی مرض ہے جس میں انسان خود کو ہر برائی سے ماورا سمجھ لیتا ہے۔ عدلیہ نے ویسے بھی جتنی مدت جی حضوری اور عدم انصافی کے پھیلاؤ میں لگائی ہے اس کا فعال ہونا بنتا ہے۔ بس یہ یاد رہے کہ جیسا کہ پہلے عرض کیا انصاف ایک مدت ہوئی ایکٹو ازم کی حد سے دور نکل چکا ہے۔ اب اوور ایکٹنگ کا احساس ہو رہا ہے، جو اسٹیج پر تو شاید قابلِ قبول ہو لیکن ڈرامے، فلم یا ٹی وی پر زیادہ کھلتی اور اس سے کہیں زیادہ بری لگتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •