فیس بکی سکھیوں کا فیمینزم :جوابِ شکوہ

پہلی سحری ہی میں ڈاکٹر صنوبر الطاف کے ایک پرانے مضمون کا لنک سامنے آ گیا اور اس کے دو چار نکات نے مجبور کر دیا کہ دو چار لفظ اس کے جواب میں لکھے جائیں کیونکہ فیمینزم کوئی طے شدہ آئین نہیں بلکہ سیال مادے کی صورت اور ہر اچھی تحریک، نظریے اور مذہب کی طرح مقامی ضرورت کے مطابق ڈھال میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھنے والی تحریک ہے۔ ڈاکٹر صنوبر یارم آپ نے کیسا اچھا لکھا لیکن حضرت

Read more

جوڈیشل ایکٹوازم سے اوور ایکٹنگ تک

لالی وڈ بھلے رو بہ زوال ہو، لیکن اس ملک میں فلموں کی کمی کبھی نہیں رہی۔ ہر دور میں ایک سے بڑھ کر ایک فلم بنتی رہی ہے اور کھڑکی توڑ رش لیتی رہی ہے۔ تازہ ترین اور طویل ترین فلم کا نام قاضی ان ایکشن ہے۔ قاضی القضاۃ کے عہدوں پر فائز رہنے والے اساطیری حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ہمارے کہانی اور ڈراما پسند دماغوں نے ہمیشہ ایسے کرداروں کو تاریخ کے صفحات کے ساتھ ساتھ دل

Read more

واااااہ یوسفی

ابھی زیادہ پرانی بات تو نہیں کہ ہم اپنے گھر کے صحن میں بچھی چارپائی پر گردو پیش سے بے نیاز آب گم میں یوں گم تھے کہ قہقہے لگاتے لگاتے آنکھوں سے آنسوبہہ جاتے اور ہونٹوں پر سسکاریاں ابھی دم نہ توڑنے پاتیں کہ ایک فلک شگاف قہقہہ ارد گرد والوں کو متوجہ کر جاتا۔ نہیں معلوم کون کون آیا اور ہمیں اس دگرگوں حال میں دیکھ کر آنکھوں آنکھوں میں سوال و جواب کرتا نکل لیا۔ آخر امی

Read more