فیس بکی سکھیوں کا فیمینزم :جوابِ شکوہ
پہلی سحری ہی میں ڈاکٹر صنوبر الطاف کے ایک پرانے مضمون کا لنک سامنے آ گیا اور اس کے دو چار نکات نے مجبور کر دیا کہ دو چار لفظ اس کے جواب میں لکھے جائیں کیونکہ فیمینزم کوئی طے شدہ آئین نہیں بلکہ سیال مادے کی صورت اور ہر اچھی تحریک، نظریے اور مذہب کی طرح مقامی ضرورت کے مطابق ڈھال میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھنے والی تحریک ہے۔ ڈاکٹر صنوبر یارم آپ نے کیسا اچھا لکھا لیکن حضرت
Read more


