میجر ڈپریشن: وجوہات، علامات، تشخیص اور علاج
کیا عورتوں میں ڈپریشن کا تناسب زیادہ ہے؟
تحقیقی مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ عورتوں میں مردوں کے مقابلے میں ڈپریشن کی شرح دوگنی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جسم میں ہارمونز کی تبدیلیاں جو بلوغت، ماہواری، زمانہ حمل یا حمل ضاعء ہوجانے کی وجہ سے واقع ہوتی ہیں، عورتوں میں میجر ڈپریشن کے احتمال کو بڑھاتی ہیں جبکہ دوسری وجوہات میں گھر اور کام کی ذمہ داریاں مثلاً بچوں کو پالنے کی مشقت، نوکری، خاندانی ذمہ داریاں اور بڑے بوڑھوں کی صحت کی ذمہ داری شامل ہے۔
مردوں میں اس کی علامات کیا ہیں؟
عموماً مرد اپنی ڈپریشن کی کیفیت کے متعلق مدد لینے میں تامل برتتے ہیں اور تجربات کے متعلق گفتگو سے گریز کرتے ہیں۔ ان کی علامات جھنجھلاہٹ، غصہ، نشہ آور ادویات اور شراب کا استعمال ہے۔ یہ ساری علامت خطرناک ہیں، نہ صرف ان کی ذات کے لئے بلکہ دوسروں کے لئے بھی۔ وہ اس طرح کہ غصہ اور تشدد کی صورت میں دوسروں کا نقصان ہوتا ہے اور اگر جذبات اندر ہی رہ جائیں تو مزید بیماری، خودکشی اور انتہائی شکل میں قتل کا ارتکاب بھی ہوسکتا ہے۔
ڈپریشن کیسا لگتا ہے؟
بیگم صلاح الدین پڑھی لکھی، روشن خیال اور خوش مزاج خاتون ہیں۔ نوجوانی ہی سے میجر ڈپریشن کی مریضہ اپنی کیفیت کو کچھ اس طرح بیان کرتی ہیں ”ڈپریشن میں ایک اندھا پن سا ہوتا ہے، کچھ بھی تو نہیں نظر آتا، نہ بہار کے رنگ، ہرے بھرے درخت، پھول، موسم، یہ کیفیت جکڑ سی لیتی ہے، مفلوج کردیتی ہے مگر جب ہم اس کے شکنجے سے آزاد ہوتے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ موسم کے بکھرے رنگ پہلی بار نظر آرہے ہیں‘‘۔
میجر ڈپریشن کے عوامل:۔
ویسے تو یہ ضروری نہیں کہ ہر مریض میں عوامل محرک بنیں، تاہم کچھ اہم محرکات مندرجہ ذیل ہیں۔
۔ 1 کسی محبوب ہستی کی جدائی خواہ موت یا طلاق کی صورت میں ہو۔
۔ 2 اپنے اندر کی خامیاں اور اس کے نتیجے میں معاشرتی طور پر تنہائی پسندی اور محرومی کا شکار ہوجانا۔
۔ 3 زندگی میں بڑی تبدیلی ہونا مثلاً ہجرت، نوکری کی تبدیلی یا سبکدوشی۔
۔ 4 تعلقات میں تناؤ اور جھگڑا۔
۔ 5 جسمانی جنس اور نفسیاتی تشدد۔
گو ڈپریشن کی علامات عموماً خاندان کے دوسرے افراد میں پائی جاتی ہیں لیکن یہ ان کو بھی ہوسکتا ہے جن کی کوئی پچھلی طبی تاریخ نہ ہو۔ اس کے علاوہ غربت، شراب نوشی، سگریٹ اور نشہ آور ادویات کا استعمال بھی کچھ عوامل ہیں۔
وجوہات:۔
میجر ڈپریشن کے ظہور پذیر ہونے کی کوئی ایک وجہ نہیں بلکہ بہت سی وجوہات اس کا محرک بن سکتی ہیں (نفسیاتی، حیاتیاتی، ماحولیاتی) تاہم سائنس دانوں میں اس بات پہ اتفاق پایا جاتاہے کہ میجر ڈپریشن ایک بیالوجیکل طبی بیماری ہے اور اس میں دماغ میں پائے جانے والے کیمیائی مادوں کی جو دماغ کے خلیوں کے درمیان برقی رو کے ذریعے پیغام رسائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں کی مقدار میں بے اعتدالی ہو جاتی ہے۔ ان کیمیائی مادوں کہ جنہیں نیورو ٹرانسمیٹر کہا جاتا ہے کا نام ہے نار ایپی نیفرن، سروٹینن اور ڈوپامین۔ اگر ان کیمیائی اجزاء کی مقدار میں مریض کی کیفیت کے حساب سے تبدیلی کی جائے تو انسان بہتر محسوس کرتا ہے۔
تشخیص:
اگر کوئی شخص پانچ یا زیادہ علامات میں مبتلا ہے تو نفسیاتی معالج طبی تجزیہ سے جو سوالنامہ کی شکل میں ہوتا ہے مرض کی تشخیص کر سکتا ہے مثلاً بیکس ڈپریشن اسکیل انوٹری یا دوسرے ٹیسٹ اس کے علاوہ مریض کی ذاتی اور خاندانی نفسیاتی تاریخ بھی تاریخ بھی پوچھی جاتی ہے۔ گو بلڈ یا ایکسرے ٹیسٹ نہیں ہوتے تاہم مکمل اور حتمی تشخیص سے پہلے ان دوسری بیماریوں کے امکانات کو مسترد کرنے کے لئے بلڈ ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے کہ جو ڈپریشن کا سبب بنتی ہیں۔
1۔ ادویات کا استعمال: پہلی بار اینٹی ڈیپریسنٹ دواؤں کا استعمال 1950ء کی دہائی میں ہوا۔ یہ ادویات دماغ کے قدرتی کیمیائی (نیورو ٹرانسمیٹرز) اجزاء کو اعتدال میں لاتی ہیں اور ان پر عمل کرتی ہیں۔ چند مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ ایفکسر، سمبولٹا، ری مرون اور بے شمار دوائیں جو مریض کی کیفیت کے حساب سے دی جاتی ہیں۔
2۔ گفتگو سے علاج یا سائیکوتھیریپی: ماہر نفسیات اپنی گفتگو کے ذریعہ منفی سوچوں اور ذاتی مسائل کی بہتری پہ کام کرتے ہیں جو مشہور طریقہ علاج مستعمل ہے ان میں ایک طریقہ بی ٹی یعنی کوگنیٹو بیہیویرل تھریپی ہے اور دوسرا آئی ٹی پی یا انٹر پرسنل تھریپی ہے۔ دونوں ہی طریقہ کار مریض کو عقلی دلائل اور انسانی رشتوں کو بہتر بنا کر زندگی کی صحیح خطوط پہ گزارنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
3۔ تیسرا طریقہ کار انتہائی شدید ڈپریشن کی صورت میں مددگار ثابت ہوتا ہے اور اس کا نام ہے الیکٹرو کنولسو تھریپی (ای سی ٹی)۔ یہ عموماً اس صورت میں استعمال ہوتا ہے جب دوا اور گفتگو یا دونوں کا مجموعہ مؤثر نہیں ہوتے۔
دماغی امراض۔ معاشرتی تہمت کیوں
یہ طے شدہ امر ہے کہ میجر ڈپریشن اور دوسرے ذہنی امراض جنس، ثقافت، طبقہ، مذہب اور نسل کی قیود سے آزاد ہیں لیکن بہت سے معاشرے خصوصاً ایشیائی اقوام ذہنی امراض کو ایک تہمت تصور کرتے ہیں۔ حالانکہ ان امراض کے ہونے میں مریض کا کوئی اختیار نہیں۔ جس طرح ذیابیطس کے مریض کو انسولین کا روزانہ ٹیکہ چاہیے یا دل اور بلڈ پریشر کے امراض میں مبتلا افراد کو دوائیوں کی ضرورت ہے بالکل اسی طرح ذہنی امراض میں مبتلا افراد کے لئے علاج اشد ضروری ہے۔ اس نے کہا یہ مرض ہمارے اختیار میں نہیں ہوتا گو اس کے شروعات میں حالات محرک ہو سکتے ہیں لیکن اصل میں تو وہ بیالوجیکل مادے ہیں جو میرے خون کا حصہ ہیں اور جو خاندانی تاریخ کے مطابق مجھے ورثے میں ملے ہیں۔ مجھ جیسے لوگوں کو مدد کی ضرورت ہے جو مرض کو چھپانے سے نہیں بلکہ قبول کرنے سے ہو گی۔ اس کی خوبصورت آنکھوں میں سچائی اور دقیانوسی سوچوں کے خلاف بغاوت تھی۔ مجھے امید ہے کہ جلد ہی علمی شعور زہرہ اور اس جیسے بہت سے افراد کی زندگی کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے گا۔
