ماضی کی فلموں کو ڈیجیٹائز کرنے کی اشد ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ دنوں ماضی کی فلموں کے پرنٹس اور ریکارڈز کے حوالے سے یہ خبر پڑھ کر بہت افسوس ہوا کہ: 35 ایم ایم پر بننے والی کئی فلمیں غیر محفوظ طور پر سٹوڈیوز میں پڑی ہیں اور ان کے نیگیٹو پرنٹس اور ریکارڈز کے خراب بلکہ ضائع ہونے کا بہت خطرناک حد تک خدشہ ہے۔

فلمی حلقوں اور فلم بینوں کے لیے یہ خبر کافی پریشان کن ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ آخر یہ ہمارے سینما کے عظیم اثاثے کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ اس مسئلے کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ دور کی فلمسازی ڈیجیٹل کیمرے پر منتقل ہو چکی ہے۔ ڈیجیٹل ریکارڈز اور ڈیٹا کو محفوظ کرنے کا ایک سادہ اور آسان ذریعہ کمپیوٹر، میموری کارڈ، اور سی ڈیز ہیں۔ اگر مناسب جگہ اور ماحول میسر ہو تو آڈیو وڈیو کیسٹس کو محفوظ رکھنا بھی آسان ہے۔ لیکن نیگیٹو پرنٹس اور 35 ایم ایم ریکارڈز کو محفوظ کرنے اور رکھنے کے لیے زیادہ تگ و دو اور تردد کرنا پڑتا ہے۔ یہ زیادہ جگہ گھیرتے اور مخصوص درجۂ حرارت کا تقاضا کرتے ہیں۔

قدیم فلموں کے پرنٹس اور آڈیو وڈیو ریکارڈز کو جدید بنیادوں پر محفوظ کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انہیں ڈیجیٹل فارمیٹ پر منتقل کیا جائے۔ اس منتقلی (conversion) کے لیے اگرچہ کافی سرمایہ، ماہر افرادی قوت، مشینری، اور جگہ درکار ہو گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سٹوڈیو مالکان اس سلسلے میں کوئی قدم اٹھائیں جن کے پاس یہ فلمیں پڑی ہیں۔ اس کے لیے متعلقہ حکومتی اداروں اور وزارتِ ثقافت سے مدد لی جائے۔ اگر فلموں کو پروڈیوس کرنے والے ادارے یا افراد موجود ہیں تو وہ مجرمانہ غفلت سے نکل کر کچھ کریں۔

ان فلموں پر کروڑوں کا سرمایہ اور سالوں کی محنت صرف ہوئی ہے۔ 50، 60، اور 70 کے عشرے کی سنہری فلمیں ہمارے سینما کا اثاثہ ہیں۔ اس عظیم اثاثے کو کیسے غیر محفوظ چھوڑا جا سکتا ہے؟ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملات خراب تر ہوتے جائیں گے۔ جو فلمیں یوٹیوب پر اور سی ڈیز کی صورت میں موجود نہیں ہیں، انہیں آئندہ اور موجودہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنے کی غرض سے ہم جتنی جلدی اقدامات کریں، اتنا ہی بہتر ہے۔

اس سلسلے میں اولین سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ بڑا اور پیچیدہ کام ہو گا کیسے؟ اس کے لیے متعلقہ شعبے کی تعلیم دینے والے کالجز اور یونیورسٹیز کی خدمات حاصل کی جائیں۔ اس شعبے کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ سے مناسب معاوضے پر کام لیا جائے تو ضرور معاملات میں بہتری پیدا ہو سکتی ہے۔ سٹوڈیو مالکان، فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن، اور متعلقہ فلمی ادارے خود 35mm film to digital converter کا انتظام کریں۔ بلکہ اس کنورٹر کا تو ہر سٹوڈیو میں موجود ہونا ضروری ہے تاکہ ماضی کا جتنا بھی کام ڈیجیٹل فارمیٹ پر منتقل ہونا باقی ہے، اسے شروع اور مکمل کیا جا سکے۔
ماضی کی کئی فلمیں انٹرنیٹ اور سی ڈیز پر موجود نہیں لیکن کبھی کبھی کسی فلمی چینل پر ان میں سے کوئی فلم دیکھنے کو مل جاتی ہے۔ ٹی وی چینلز ان فلموں کو آن ایئر کرنے کے لیے ٹیلی سنے (telecine) پروجیکٹر استعمال کرتے ہیں۔ اس معاملے میں ٹی وی چینلز مثلاً پی ٹی وی، فلمیزیا، سلور سکرین وغیرہ کا تعاون بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ قدیم اور سنہرے دور کے اس اثاثے کی حفاظت کے حوالے سے متعلقہ ادارے برسوں سے مجرمانہ غفلت برت رہے ہیں۔ اور جنہیں احساس ہے، ان کے پاس وسائل اور سرمایہ نہیں کہ وہ خود کچھ کر سکیں۔ اس حوالے سے بہترین اقدام وہ فلمساز ادارے اور افراد ہی کر سکتے ہیں جنہوں نے ان فلموں پر سرمایہ کاری کی ہے۔ لیکن ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی کے فلمسازوں اور ہدایتکاروں کی ایک بڑی تعداد دنیا سے رخصت ہو چکی ہے۔ اور فلمی صنعت کے ماضی قریب کے زوال کے سبب ان کی اولاد میں سے زیادہ تر نے فلمسازی کے شعبے کو اپنانے سے گریز کیا۔ ایسی مخدوش صورتِ حال میں بہتری کی امید اور دعا ہی کی جا سکتی ہے۔

جس طرح سے بھی ممکن ہو، ہمیں یہ کام بہرحال کرنا ہو گا۔ ورنہ ہم اپنی موجودہ اور آئندہ نسلوں تک ماضی کا وہ عظیم کام نہیں پہنچا سکیں گے جو ہمارے لیجنڈ فلمساز کر گئے ہیں۔ کیا ہم اپنے اس عظیم اور شاندار تہذیبی و ثقافتی ورثے کو کھونے کا خطرہ مول لے سکتے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •