جنات سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی


سب جانتے ہیں کہ جنات میں جہاں نیک مسلمان جن ہوتے ہیں تو وہیں شیطان جن بھی پائے جاتے ہیں جن کا کام ہی برگزیدہ انسانوں کو تنگ کرنا ہوتا ہے۔ بلکہ ابلیس مردود بھی قوم جنات سے ہے جس نے بنی آدم کو بہکایا ہوا ہے اور دنیا میں شرارت اور فتنہ پردازی کا بانی و موجد ہے۔

جنات کے ماہرین اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ جنات معمولی بات پر شدید ناراض ہو جاتے ہیں۔ ان میں انتقام کا جذبہ بہت شدت سے موجود ہوتا ہے۔ ہم خود کئی قصوں کے گواہ ہیں جن میں ہمارے اپنے جاننے والوں کو جنات نے خوب ستایا تھا۔

ان میں سے ایک شخص نے ایک درخت کی جڑ میں اپنی ذاتی محنت سے آبیاری کر دی تو اس پر جنات کا سایہ ہو گیا جو اس درخت پر رہتے تھے۔ کہنے لگے کہ ہمارا درخت ناپاک کر دیا ہے۔ وہ ایسا دیوانہ ہوا کہ اس نے پے در ہے تین شادیاں کر ڈالیں اور زندگی بھر کا روگ لگوا بیٹھا۔ غالباً اس درخت والے جنات کا تعلق محکمہ آب کاری سے ہو گا۔

ایک قصہ اور بھی یاد آ رہا ہے جس میں ایک شخص نے ایک جنگل بیابان میں ایک سانپ دیکھا تو شرفا کی طرح اس کے آگے آگے بھاگنے کی بجائے پلٹ کر اسے مار دیا۔ وہ بچارا یہ نہیں جانتا تھا کہ جنات عموماً سانپ کے بھیس میں رہتے ہیں۔ اسے منڈلی کے دیگر جنات پکڑ کر اپنے بادشاہ کے پاس لے گئے کہ اس سے قصاص لیا جائے۔ اسے ایک بڑے بزرگ نے بمشکل بچایا تھا۔ خوش قسمتی سے جنوں کا بادشاہ مسلمان تھا اور ان بزرگ سے درس لیتا رہا تھا اور اپنے استاد کے حکم کے آگے لاچار ہو گیا ورنہ وہ شخص مارا جاتا۔

آپ نے الف لیلہ میں پڑھا ہو گا کہ خلیفہ ہارون الرشید کے زمانے میں بوتل بند جنات عام پائے جاتے تھے۔ وہ یا تو بوتل کھولنے کے شائق کو مارنے پر تل جاتے تھے یا زیادہ اذیت پسند ہوتے تھے تو اس کا ناک میں دم کر دیتے تھے کہ ”کیا حکم ہے میرے آقا“۔ ایک سیانا تو اپنے جن کا ڈیوٹی روسٹر لگا لگا کر اتنا دق ہوا کہ اس نے اس کو دریا سے چھلنی میں پانی بھر کر لانے اور غسل خانے کی بالٹی بھرنے پر لگا دیا تھا۔ اس کے بعد جن کو سکون آیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بعض جنات نہایت شریر بھی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر انسانوں سے مکالمہ کرنے والے جنات زندگی جہنم بنا سکتے ہیں۔ اسی لئے ایک عامل کامل شاعر کہہ گیا ہے

جنات سے فقط صاحب سلامت دور کی اچھی
نہ ان کی دوستی اچھی نہ ان کی دشمنی اچھی

کبھی جب ہاتھ مل کر ان سے کہتا ہوں کہ بے بس ہوں
تو وہ ہنس کر یہ کہتے ہیں تمہاری بے بسی اچھی

پہلے شاید کسی امریکی کنسلٹنٹ کے توسط سے خبر نکلی تھی کہ بنی گالہ میں خلائی مخلوق کا آنا جانا ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ امریکی روحانیت کے منکر ہیں۔ جنات کو بھی خلائی مخلوق کہہ کر ان کے مافوق الفطرت کارنامے تسلیم کرتے ہیں۔ ایسے میں اب یہ درست روحانی خبر آئی ہے کہ بنی گالہ میں خلائی مخلوق نہیں بلکہ جنات کا آنا جانا ہے جو دیواروں سے باتیں کرتے ہیں اور کچے گوشت کے شوقین ہیں۔

اب یہ سن کر نون لیگ کے حامی تو فٹ فٹ اونچا اچھلیں گے کہ ”ہماری حکومت میں جنات تک کا لائف سٹائل اتنا بہتر ہو گیا ہے کہ وہ گلی سڑی ہڈیوں کی بجائے اعلی کوالٹی کا کچا گوشت کھانے کے عادی ہو گئے ہیں“۔ لیکن ہمارا دل یہ سوچ سوچ کر دہل رہا ہے کہ خدانخواستہ بنی گالہ کا کوئی جن شیطان کی ذریت میں سے نہ ہو اور فساد مچانے کو نواز شریف کی حمایت پر نہ تل جائے۔

اب جبکہ الیکشن سر پر آئے کھڑے ہیں تو بنی گالہ کے اہل خانہ کو نہایت محتاط رہنا چاہیے کہ کہیں ان کے کسی عمل کے باعث جنات ناراض نہ ہو جائیں۔ ان کے انتقام کا حال تو ہم اوپر لکھ چکے ہیں۔ یہ امید تو ہے کہ بنی گالہ میں درختوں کی توہین نہیں کی جاتی ہو گی اور بیت الخلا کی سہولت سے استفادہ کیا جاتا ہو گا۔ ادھر موجود سانپوں کا بھی خاص خیال رکھا جاتا ہو گا۔ لیکن ہمیں جنات کی خوراک کے باب میں پریشانی ہے۔

یہ نہایت اہم ہے کہ بنی گالہ میں گوشت سپلائی کرنے والوں پر نظر رکھی جائے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ نواز شریف کا کوئی سپورٹر لاہوری قصاب بیف کے نام پر گدھے کا گوشت سپلائی کر دے جسے کھا کر جنات کا دماغ پلٹ جائے اور وہ انتقامی کارروائیاں کرنے لگیں اور پارٹی کے لیڈروں میں سر پھٹول کروا دیں یا کوئی جن بلیک بیری اٹھا کر کسی دشمن کے حوالے کر دیے۔ یا پھر جنات بار بار آ کر کام نہ پوچھنے لگیں کہ ”کیا حکم ہے میرے آقا، اب میں کس کو ٹکٹ دوں“۔ راول جھیل بھی خشک پڑی ہے کہ ان جنات پر چھلنی اور بالٹی کا آزمودہ ٹوٹکا لگایا جائے اور یہ ٹکٹ لینے دینے کے کھیل کا وقت بھی تین دن میں ختم ہو جائے گا۔ پھر جنات کو کیا کام بتایا جائے گا؟ اس لئے محتاط رہنا بہتر ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar