خیال ہمیشہ زندہ رہتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیال کی دنیا ہماری پیدائش سے لے کر موت تک ہمارا ساتھ دیتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے خیالات بھی تبدیل ہوجاتے ہیں اور تبدیلی کا یہ عمل تا دمِ مرگ جاری رہتا ہے۔ اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ ہماری زندگی کے بیشتر مسائل اور بڑی بڑی کامیابیابیوں کے پیچھے ایک مضبوط خیال چھپا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر دنیا میں جس شخص نے کوئی بڑا کارنامہ سرانجام دیا تو سب سے پہلے وہ کام کرنے کا خیال اس کے دماغ میں پیدا ہوا۔ ایک مضبوط خیال۔ اور پھر اس شخص نے اپنے خیال کے پیشِ نظر اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ یاد رکھیے۔ ہمار ے ذہن میں ہر روز ہزاروں خیالات چکراتے ہیں۔ آپ جس وقت یہ تحریر پڑھ رہے ہیں۔

اس وقت بھی آپ کا دماغ کئی جگہ بھٹکا ہوا ہے۔ کیوں کہ ہم کبھی یہ نہیں سمجھ پاتے کہ خیالات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یاد رکھیے۔ خیالات ایک آوارہ گرد کی طرح ہیں۔ ان کو سدھارا جا سکتا ہے۔ ان کو ایک خاص رخ دیا جا سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی کا تجزیہ کریں تو ہمارے دماغ میں آنے والے زیادہ تر خیالات مضبوط حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ خیالات ایک گلی سے گزرنے والے آوارہ گرد کی طرح ہیں۔ جو اپنی دُھن میں گزرتا چلا جاتا ہے۔ آپ نے کبھی یہ سوچا کہ آپ کے دماغ کی اس گلی میں گزرنے والا ہر خیال آپ کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔ کوئی بھی غیر متعلقہ خیال اس گلی سے نہ گزرے۔ کیا کبھی ایسا خیال آپ کے دماغ میں آیا ہے۔ کیا آپ کبھی اپنے دماغ میں ابھرتے ہوئے خیالات کی بھرمار کے ہاتھوں پریشان ہوئے ہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت اور خوشی صرف اور صرف برے اور اچھے خیالات کی دین ہے۔

وہ کون سا جذبہ ہے جو تن تنہا بڑے بڑے طوفانوں سے ٹکرا جاتا ہے اور ایک چھوٹی سی مصیبت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ وہ جذبہ ایک خیال کے زیرِ اثر ابھرتا ہے۔ آپ کے دماغ میں ہزاروں خیالات پیدا ہو رہے ہیں۔ لیکن میں ان میں زیادہ تر بیکار ہیں۔ کیوں کہ ان میں مضبوطی نہیں، ان میں پائیداری نہیں۔ اس کا واضح ثبوت یہ کہ آپ اپنی زندگی میں، تعلیمی میدان میں یا کیریر میں درجنوں منصوبے بناتے ہیں، کئی طرح کے خواب اپنی آنکھوں میں سجاتے ہیں لیکن ان میں سے زیادہ تر خواب اور منصوبے وقت کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے یہ خواب اور منصوبے کمزور خیالات کی دین ہیں اور ان کا انجام یہی ہونا تھا۔ ایک پختہ خیال جس کے ساتھ یقین کی طاقت ہو، وہی آپ کو آگے لے کر بڑھتا ہے۔ باقی سب وقت کی گرد میں دھندلا جاتا ہے۔

یاد رکھیے ہر خیال جو آپ کے دماغ سے باہر نکلتا ہے، وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ یہ کائنات کے ہر ٹکڑے تک پہنچتا ہے اور اگر آپ کے خیالات نیک، مقدس اور طا قت ور ہیں تو وہ ہر ہمدردانہ دماغ میں ارتعاش پیدا کریں گے۔ غیرمحسوس طورپر وہ تمام لوگ جوآپ جیسے ہیں وہ آپ کے خیالات کو وصول کر لیں گے جسے آپ کے دماغ نے پیدا کیا ہے اور اسی مناسبت سے جتنی وہ استطاعت رکھتے ہیں، وہ لوگ بھی بالکل یہی خیالات باہر بھیجیں گے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے خیالات کاتسلسل، ہمارے علم میں آئے بغیر جاری رہتا ہے۔ آپ بالکل غیرارادی طور پر کائنات کی عظیم طاقتوں کوحرکت دے رہے ہو تے ہیں۔ وہ عظیم طاقتیں، جو آپ کے لیے ہمہ وقت کام کرنے میں مصروف ہیں لیکن آپ ان کو نہیں جانتے۔ دوسری طرف گھٹیا درجے کے حقیر خیالات کو جو ایک خود غرض اور بری ذہنیت کے شخص کی طرف سے پیدا کیے جائیں گے، وہ اسی کیٹیگری کے لوگوں کو متاثر کریں گے۔

ہر آدمی کی اپنی دماغی دنیا ہے۔ اس کے سوچنے کا اپنا انداز ہے۔ چیزوں کو سمجھنے کا اس کا اپنا انداز ہے اور ان پر عمل کرنے کے اس کے اپنے راستے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح ہر شخص کی شکل اور آواز دوسرے لوگوں سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ سوچنے کا انداز اور سمجھنے کا طریقہ بھی مختلف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیوں دو دوستوں کے درمیان غلط فہمی آسانی سے جنم لیتی ہے۔ کیوں کہ دو دوستوں میں سے ایک اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ دوسرے کے خیالات کو درست انداز میں سمجھ سکے۔ چنانچہ، مزاحمت، بگاڑ اور لڑائی ایک منٹ کے اندر بہترین دوستوں کے درمیان واقع ہو جاتی ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کوئی دوستی بہت لمبے عرصے تک نہیں چلی ہو۔ جہاں خیالات کا ٹکراؤ شروع ہوا۔ دوستی کی عمارت دھڑام سے نیچے گر پڑی۔

ایک کو اپنے دماغ کے ارتعاش کو دوسرے کے دماغ کے ارتعاش کے ساتھ یکساں رکھنا چاہیے پھر وہ آسانی سے ایک دوسرے کو سمجھ لیں گے۔ شہوتی خیالات، نفرت سے بھرے خیالات، حسداورخود غرضی، مسخ کرنے والی تصویریں بناتی ہے اور یہ سمجھنے کے عمل میں رکاوٹ کی وجہ بنتی ہے۔ عقل کی گمراہی، یادداشت کا ضائع ہونا، دماغ میں کنفیوژن پیدا کرتا ہے۔ فزکس میں، آپ ایک اصطلاعpower of orientation (صحیح سمت کے تعین کرنے کی طاقت) پڑھتے ہیں۔ خیال، ایک بہت بڑی طاقت کا منبع آپ کے پاس ہے۔ جس طرح بجلی کا کرنٹ، power of orientation کے ذریعے رواں دواں ہوتا ہے۔ اسی طرح خیالات کے اوپر بھی یہ اصول لاگو ہوتا ہے۔ درست سمت میں مضبوط خیال ہی آپ کو آگے لے کر بڑھتا ہے۔

اس طرح جو دماغی طاقت برباد ہو چکی ہے اور اور مختلف بے فائدہ دنیاوی خیالات میں بھٹک رہی ہے، اس کو درست روحانی چینلز کے ذریعے درست سمت دینی چاہیے۔ اپنے دماغ میں بے فائدہ معلومات کو اکٹھا مت کریں۔ اپنے دماغ کو خالی کرنا سیکھیں۔ پڑھا ہوا بھول جائیں جو کچھ بھی آپ کے استعمال کے قابل نہیں ہے۔ اسے دماغ میں رکھ کر کوئی فائدہ نہیں۔ ایسا کرنے کے بعد ہی آپ اپنے دماغ کودرست سمت دے سکتے ہیں۔ ایسا کرنے کے بعد آپ ایک نئی دماغی طاقت حاصل کریں گے کیوں کہ بھٹکی ہوئی دماغی شعاعیں اب اکٹھی ہو گئی ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شکیل ملک کی دیگر تحریریں
شکیل ملک کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں