صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔ رولا ہے


کیا دور تھا جب سوشل میڈیا کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ یہ ویلے لوگوں کا کام ہے طعنے دیے جاتے تھے۔ یہ فضول کی ایکٹیویٹی ہے راگ الاپا جاتا تھا۔ یہاں کچھ بھی تعمیری نہیں ہو سکتا۔ بڑے گرواپنے اندازے لگاتے تھے۔ پاکستان میں اس کا مثبت استعمال کبھی ہو ہی نہیں سکتا ۔ پھبتی کسی جاتی تھی۔ مگر ہمیشہ کسی بھی شے کا مثبت استعمال اس وقت ہی سامنے آتا ہے جب لوگ اس کے منفی استعمال سے اَک جاتے ہیں یعنی بے زار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اور سوشل میڈیا کے عفریت کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ آغاز میں اس کا استعمال مکمل نہیں تو زیادہ تر منفی ہی رہا۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ جائز چھترول کا ذریعہ بن چکا ہے۔ اور اس کے ثبوت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ دیکھیں گے۔

کیاکبھی جمال لغاری صاحب نے خواب میں بھی سوچا ہو گا کہ کل کا بالکا ایسے راستہ روک کے کھڑا ہو جائے گا؟ جو لوگ ڈیرہ غاذی خان، لغاری خاندان اور قبائلی رسوم و رواج سے واقف ہیں وہ اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہوں گے کہ وہاں سردار کے سامنے کرسی پہ بیٹھ جانا بھی ناقابل معافی جرم تصورکیا جاتا تھا۔ چہ جائیکہ ایک کل کا بالکا اپنے سردار کو اپنی پرچی کے زور پر روک کے پوچھ رہا ہو کہ آپ پانچ سال کہاں تھے؟ جن کو یہ عام بات لگتی ہے وہ شہروں سے نکل کے ایسے روایتی علاقوں میں نہیں تو ذرا قریب دیہاتوں کا ہی رخ کر کے دیکھ لیں۔ جہاں سامنے جھکا سر اُٹھانا بھی جرم تصور ہوتا تھا وہاں اب سوال ہو رہا ہے۔

کیا آپ یہ سوچ بھی سکتے ہیں کہ کوئی دیوانہ سکندر حیات بوسن کی گاڑی روک لے اور وہ اپنے آپ کو گاڑی میں لاک کر لیں اور ان کا پی اے اتر کے نیچی آواز میں دہائی دے رہا ہے کہ بھائی جان کی طبعیت خراب ہے۔ ایسے نہ کریں۔ کبھی نہیں ۔ یہاں گاڑیوں کے ٹائروں کے نیچے کچلے جانے والوں کے خون کے نشان ابھی بھی موجود ہیں اور ہم تصور کیسے کر سکتے تھے کہ کوئی رئیس کی گاڑی روک لے۔ مگر اب ایسا ہو رہا ہے۔ راستے روکے جا رہے ہیں۔ ایک دور تھا، گلی پکی کرنے کا وعدہ ہوتا تھا۔ پانچ سال نہ سلام نہ دعا اور پانچ سال پورے ہوتے ہی کسی مامے چاچے کو پکڑ کے پھر پورے کے پورے خاندان کوس اگے لگا لیا جاتا تھا۔ لیکن اب تو گدھے بھی اگے لگنے سے انکاری ہو رہے ہیں۔ اور یہ تو پھر انسان ہیں۔

وقت ایک سا کب رہتا ہے۔ یہ ظالم تو ایسے گزرتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کیا آپ ایسا سوچ بھی سکتے ہیں کہ شاہد خاقان عباسی جیسا مضبوط سیاستدان ، اس پہ مستزاد سابق وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان اور لوگ گاڑی آگے نہ جانے دیں؟ ایسا کرنا تو دور سوچنا بھی محال تھا۔ مگر اب ان کو سفر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پیپلز پارٹی جیسی کراچی کی گجی ہوئی جماعت تصور کر سکتی تھی کہ سلیم مزاری کو الیکشن کمپین میں ایسے بھی روکا جا سکتا ہے کہ جواب دو پھر آگے جاو؟ نوڈیرو جیسے مرکز میں کس کی جرات تھی کہ سہیل انور سیال جیسے طاقت کے منبع کو روک کے سوال کر سکے ، مگر اب سوال ہو رہا ہے اور ابھی کہاں ابھی کچھ دن اور بڑھیے، آپ کو پرچی کی طاقت کا اندازہ تو ہو گا کہ یہ چھوٹی سی پرچی کیا کرتی ہے اس سے پہلے عوام میں آپ کو نکلنا ہے اس سے پہلے پچھلا حساب کلیئر کرنا ہو گا۔

وعدے جو کیے تھے ان پہ جواب طلبی ہو گی کہ کہاں گئے وعدے ۔ جو وعدے کیے جائیں گے ان کی ضمانت مانگی جائے گی۔ کیوں کہ وہ دن گئے کہ خلیل میاں فاختہ اڑایا کرتے تھے۔ اب چاچا ماما دور نہ جانے کیسے سرکتا جا رہا ہے۔ اب تو ہاتھوں میں چھالے ، تن پہ میلا لباس لیے کوئی مزدور بھی گاڑی روک سکتا ہے۔ اور سوال ہو سکتا ہے۔

سوال کا دور چل نکلا ہے۔ جواب کا دور یقیناًآئے گا۔ سوال ہوں گے ، جواب ملیں گے، تو ہی تو جمہوریت کا حسن قائم ہو گا۔ جمہوریت اشرافیہ کے گھروں کی باندی بنے ناچتی پھرتی رہے تو کہاں کی جمہوریت کیسی جمہوریت۔ جمہوریت تو جواب طلبی کرتی ہے سرکار۔ کالے چشمے ، ویگو ڈالے، باوردی دربان ان سب کا وقت مختصر ہو رہا ہے۔ اور وہ وقت دور نہیں کہ آپ کو بنا وعدوں کی تکمیل کے عوام میں جاتے ہوئے بھی ڈر لگے گا۔ اب تو کوئی سکندر ہو یا دارا ٹکٹس نہ صرف واپس ہوں گے بلکہ عوامی عدالتوں میں پرچی سردار کی نہیں عوام کی ملکیت رہے گی۔ اور انگوٹھے کی سیاہی برج گرائے گی۔

آج گاڑیاں رک رہی ہیں، سیاستدانوں نے چلن نہ بدلا تو کل کو گریباں چاک ہوں گے۔حضور والا! اپنے آپ پہ نظر ڈالیے، خود کو تبدیل کیجیے۔ آپ کی گاڑیوں کے کالے شیشے اب عوام کی پہنچ میں آ چکے ہیں۔ صاحب جی۔۔۔۔ بہت رولا ہے۔آپ کو اب اپنا چلن تبدیل کرنا پڑئے گا، نہ تبدیل کیا تو عوام کا مزاج تو تبدیل ہو ہی رہا ہے وہ خود تبدیل کروا دے گا بہت کچھ۔

Facebook Comments HS