زندگی کی ڈور اور سسکتی شش ماہی لاشیں

اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے ملی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ لاش تقریباً چھ ماہ پرانی ہے۔ ان کے جسد خاکی کے ساتھ صرف خاموشی تھی، سناٹا تھا، اور وہ اکیلا پن تھا جسے وہ چھ ماہ تک خاموشی سے جھیلتی رہیں، اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اس سے کچھ ہی دن قبل، ایک اور سینئر اداکارہ کی لاش ایک ہفتے سے زائد عرصے تک ان کے کمرے میں پڑی رہی۔ دونوں واقعات

Read more

رجیم چینج؟ اسرائیل کا ٹوٹتا غرور

  بچپن میں ہم ایک کہانی سنتے تھے کہ جس میں ایک لومڑی اور انگوروں کی بیل کا ذکر تھا۔ لومڑی بھوکی تھی اور انگور بظاہر بہت میٹھے نظر آ رہے تھے۔ لومڑی نے بارہا کوشش کی لیکن انگوروں تک نا پہنچ سکی کیوں کہ انگور بلندی پر ہونے کی وجہ سے اس کی پہنچ سے باہر تھے۔ اور کہانی کے آخر میں لومڑی کے یہ الفاظ کہ ”انگور کھٹے ہیں“ ہی کہانی کا عنوان بھی بن گئے اور یہ

Read more

ایران کے وار، کیا ضرب لگ رہی ہے؟

مغربی میڈیا میں ایران کے بارے میں کوئی بھی بڑی خبر بظاہر صرف ایک سرخی لگتی ہے، مگر درحقیقت یہ ایک پورے عالمی بیانیے کی عکاسی کرتی ہے۔ حال ہی میں جب امریکہ کے معروف نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی خبر میں ایرانی حملے کو ”مہلک ترین“ قرار دیا، تو یہ جملہ محض رپورٹنگ کا حصہ نہیں رہا۔ یہ دراصل ایک ایسا غیر علانیہ اعتراف تھا جس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی فوجی، سفارتی اور نفسیاتی

Read more

دوستانہ، منافقت اور ہم

پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں مسائل کم ہونے کے بجائے ہمیشہ بڑھتے رہتے ہیں وہاں دوستوں کی محفلوں کو ہمیشہ ایک ایسے گوشۂ عافیت کے طور پر دیکھا گیا جہاں انسان اپنی ذہنی پریشانیوں، فکری الجھنوں اور روزمرہ کی تھکن سے کچھ دیر کو نجات حاصل کرتا ہے۔ ان محافل میں انسان بہت سی ایسی توجیحات کے تحت اپنے بے قراری اور بے زاری کے رویوں کو ایک لمحے کے لیے مکمل طور پر بھول جاتا ہے اور یہی ان

Read more

الفاظ کی بغاوت

حیران  ہو رہا تھا کہ میں کچھ لکھ کیوں نہیں پا رہا۔ تم جب لکھتے ہو تو الفاظ تمہارے سامنے صف بندی کیے کھڑے ہو جاتے  ہیں کہ ان کو دامن تحریر میں لایا جائے، بابا جی نے ایک مرتبہ کہا تھا۔ لیکن حیران کن تھا کہ آج ایسا نہیں ہے۔ باوجود کوشش کہ میں کچھ لکھ نہیں پا رہا تھا۔ کافی دیر ساکت بیٹھا رہا، قلم انگلیوں میں گھماتا رہا۔ لیکن کچھ بھی تحریر کی صورت میں سامنے کاغذ

Read more

ملک ریاض حسین، کیسی ہار؟ کیسی جیت؟

ملک ریاض حسین کا نام جب بھی سامنے آتا ہے تو پاکستان میں ترقی، تعمیر، اور شہری سہولیات کا ایک مکمل منظر ذہن میں ابھرتا ہے۔ یہ نام صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک پورے ویژن کا ہے۔ بحریہ ٹاؤن ہو یا فلاحی سرگرمیاں، بیماروں کے لیے ہسپتال ہوں یا شہروں کی شکل بدل دینے والے رہائشی منصوبے، ملک ریاض نے جو کچھ کیا، وہ پاکستان میں اس سے پہلے نہ کبھی سوچا گیا تھا اور نہ اس درجے

Read more

پاکستان فضائیہ، رافیل کا گرنا اور دنیا کی پریشانی

  حیرت اور افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں آج بھی کچھ افراد ایسے موجود ہیں جو نہ صرف جذباتی نعرے لگاتے ہیں بلکہ یہ مطالبہ کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کو فوراً بھارت پر حملہ کر دینا چاہیے۔ ان افراد کا یہ بھی شکوہ ہے کہ پاکستان نے ابھی تک کوئی واضح اور سخت کارروائی کیوں نہیں کی۔ درحقیقت یہ سوچ اس حقیقت سے مکمل طور پر لاعلمی کا ثبوت ہے کہ بین الاقوامی تعلقات، عسکری حکمت

Read more

اڈیالہ جیل پر ناکامی اور پی ٹی آئی کا المیہ

اڈیالہ روڈ، راولپنڈی کی ایک ایسی شاہراہ ہے جسے عمومی طور پر ایک درمیانی درجے کی رابطہ سڑک سمجھا جاتا ہے، مگر جغرافیائی اور سیاسی اہمیت کے اعتبار سے اس کی حیثیت کسی مرکزی شاہراہ سے کم نہیں۔ یہ سڑک نہ صرف راولپنڈی کے وسطی علاقوں کو دیہی پٹیوں سے جوڑتی ہے بلکہ اسلام آباد، روات اور چکری انٹرچینج کے ساتھ براہ راست ربط قائم کرتی ہے۔ تقریباً چونتیس سے پینتیس کلومیٹر پر محیط اس سڑک پر واقع ذیلی راستے

Read more

ملک ریاض حسین، جواب طلب سوالات

ایس آئی ایف سی پاکستان کا اس وقت انتہائی اہم ادارہ ہے۔ موجودہ دور میں جس طرح کاروباری معاملات میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اور جیسے جیسے ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت کی طرف راغب ہو رہی ہے اس سے کچھ بعید نہیں کے ایس آئی ایف سی جیسے اداروں کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی۔ یہ ادارہ دنیا سے سرمایہ کاروں کو پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی ترغیب ہے۔ بنیادی مقاصد ہیں کیا کہ ون ونڈو آپریشن

Read more

ابسولیوٹلی ناٹ سے ابسولیوٹلی یس تک کا سفر

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے ہمیشہ اپنے بیانیے کے ذریعے عوام کو متوجہ کیا ہے، لیکن اس بیانیے میں موجود تضادات اور وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے موقف نے اس کی سیاسی ساکھ پر گہرے سوالات اٹھائے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ”ابسولیوٹلی ناٹ“ کا نعرہ، جو سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے امریکی مطالبات کے جواب میں دیا تھا، پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک خودمختار اور آزاد سوچ کا مظہر سمجھا گیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ

Read more

پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور جمہوریت

پاکستان میں پچھلی ایک دہائی سے دو جماعتی نظام پہ قدغن لگی ہے۔ اور اس وقت تیسری جماعت نے شورِ سلاسل کو واضح کر دیا ہے۔ اور ایسا لگ رہا ہے کہ تبدیلی واقعی دستک دے رہی ہے۔ یہ تبدیلی کسی سیاسی جماعت کے نعرے، کسی لیڈر کی تقریر، یا کسی تحریر سے ماخوذ نہیں ہو گی۔ بلکہ یہ تبدیلی حقیقی معنوں میں اس مرتبہ ممکن ہے کہ عوام کا مزاج تبدیل کر دیے۔ پاکستان میں اس وقت الیکشن کمیشن

Read more

انسان ہمت کب ہارتا ہے

ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، یہاں افراد اس معاشرے کی اکائیاں ہیں۔ مختلف اکائیاں مل کر ہی معاشرہ تشکیل کرتی ہیں۔ اور بعض اوقات کوئی ایک اکائی معاشرے کا اس طرح سے حصہ نہیں رہتی جیسی اللہ نے اس کو صلاحیت دی ہے تو پھر معاشرے کی دیگر اکائیوں کی مدد سے اس اکائی کی تشکیل نو ممکن ہو پاتی ہے یا پھر دیگر اکائیاں مل کر جہاں پہ کمی ہو اس کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں

Read more

شُکر میں پوشیدہ سکون

خاندانی زمین و وراثت میں وہ بہت بڑا حصے دار تھا۔ پیدائشی ذہنی معذور تھا یا بعد میں حالات نے اسے عام انسان سے ابنارمل بنا دیا، اس بارے میں معلومات بہت کم ہیں۔ لیکن ایک حقیقت بہت دلچسپ ہے کہ آپ جیسے ہی کسی پریشانی میں مبتلا ہوں، وہ کسی نا کسی کونے سے نمودار ہوتا ہے اور آپ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیتا ہے۔ آپ ایک روپیہ ہاتھ پہ رکھیں یا سو روپے، خاموشی سے مسکراتے ہوئے اگلی

Read more

عمران خان، ماضی، حال اور مستقبل

کیا پاکستان میں تحریک انصاف کا مستقبل بطور سیاسی پارٹی مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے؟ تو اس سوال کا جواب نفی میں ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اگر پاکستان مسلم لیگ (ق) نے مشکل ترین حالات میں اپنا وجود برقرار رکھا تو پاکستان تحریک انصاف تو پھر ایک اہم ترین جماعت ہے۔ پرویز الہی پہ کیا الزامات نہیں لگے۔ قاتل لیگ تک کہا گیا لیکن پھر بھی وہ اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان

Read more

ضمانتیں، خوشیاں اور سادہ عوام

اختلاف نا صرف جمہوریت کا حسن ہے بلکہ عمومی طور پر معاشرے میں بھی اگر اختلاف رائے کو حقیقی معنوں میں اس کی اصل روح کے مطابق دیکھا جائے تو یہ کسی بھی معاشرے کو تبدیلی کی راہ پہ گامزن کر سکتا ہے۔ لیکن بے فکر رہیں، کہ وطن عزیز میں ابھی دور دور تک عمرانیات، لسانیات اور اخلاقیات کا کوئی پہلو ایسا نہیں کہ جس کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہوں کہ پاکستان میں بھی اختلاف رائے یا

Read more

آج زرداری بہت یاد آئے

گھر پہنچا تو والدہ زار و قطار رو رہی تھیں۔ پوچھنے پہ جواب دینے کے بجائے انہوں نے ٹی وی اسکرین کی طرف اشارہ کیا۔ بریکنگ نیوز چل رہی تھی کہ راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ ایک لمحے کے لیے آنکھیں ساکت ہو گئیں۔ کچھ بھی سوچنے سمجھنے میں بہت دیر لگی۔ تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں جلسہ گاہ سے واپسی پہ گاڑی کا سن روف کھولنے پہ باہر نکلنے سے کسی اندھی گولی کا

Read more

بھکاری قوم، منگتے راہنما

پندرہ سے بیس افراد پاکستان کے مختلف شہروں میں مفت آتے کی قطاروں میں خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ زخمیوں کی بھی تعداد کافی ہو چکی ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ اکثر ان میں سے اپنے خاندان کا واحد سہارا تھے۔ بد انتظامی اور کرپشن کی شکایات بے تحاشا ہیں۔ انتظامیہ اس پورے معاملے کو کسی بھی حوالے سے نا صرف موثر بنانے میں ناکام رہی بلکہ کرپشن کے ناسور نے بھی اس پوری ایکسرسائز کی افادیت قائم

Read more

میرے کپتان اور میں نا مانوں

راولپنڈی کا لیاقت باغ ہمیشہ سے سیاسی راہنماؤں کے لیے اہم رہا ہے۔ اسی حوالے سے جب پچھلے عام انتخابات میں تبدیلی سرکار کا یہاں جلسہ ہوا تو راقم الحروف نے اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ عوام یقینی طور پر میرے کپتان کو تیسری طاقت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ دو جماعتی نظام کے برعکس اب عوام سنجیدگی سے تیسری سیاسی پارٹی کو جگہ دینے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔ شنید یہی

Read more

طاقت کا نشہ اور عقل کا استعمال

طاقت کا منبع انسان کا دماغ ہے۔ طاقت ور ہو جانا اصل کامیابی نہیں ہے۔ بلکہ اصل کامیابی یہی ہے کہ آپ طاقت، اختیار اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنا رویہ کیسا رکھتے ہیں۔ یہ رویہ آپ کی کامیابی یا ناکامی کی راہ متعین کرتا ہے۔ آپ طاقت حاصل کرنے کے بعد اپنے رویے میں نرمی لاتے ہوئے اپنی تمام تر توانائیاں تعمیری سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں تو نا صرف آپ کی طاقت معاشرے کو فلاح کی راہ

Read more

اپنے کمرے سے محبت کیجیے

ریٹائرمنٹ ایک ایسا دورانیہ ہے کہ جس کو آپ باقاعدہ منصوبہ بندی اور بہترین گزارنے کی تدبیر کے ساتھ نا ترتیب دیں تو آپ کو مریض بنا دے گا۔ اس کے لیے آپ کو اپنے کمرے سے محبت کرنا ہو گی۔ ایسی محبت کہ کمرہ آپ کو برداشت کرئے۔ کیوں کہ یہ ایک المیہ رہا ہے کہ آپ پوری زندگی اپنے کمرے سے محبت نہیں کر پاتے اور ستر سال کی عمر میں جب آپ کے پاس سوائے اس کمرے

Read more

نا جانے کہاں کھو گئیں وہ خوشیاں

بہت عرصے بعد ایک شادی میں جانا ہوا تو ایک حیران کن منظر دیکھنے کو ملا کہ وہی دیگیں کھڑک رہی ہیں جو اب خال خال ہی دکھائی دیتا ہے۔ اب تو بس فون پہ آرڈر بک ہوا اور پکی پکائی دیکھیں آ جاتی ہیں۔ گھروں میں شادی بیاہ و دیگر تقریبات کے لیے کھانا پکانے کا اہتمام کرنا کم و بیش ختم ہو چکا ہے۔ مزید حیرت اس وقت ہوئی کہ جب کام کاج کے لیے ملازمین کی فوج

Read more

زندگی بہترین استاد کیوں ہے؟

ٓآپ کن موضوعات پہ لکھنا پسند کرتے ہیں؟ یہ سوال اکثر نئے لکھنے والوں سے پوچھا جاتا ہے۔ معاشرتی مسائل پر، اکثر لکھاری یہی لگا بندھا جواب دیتے ہیں۔ لیکن اگر بغور جائزہ لیجیے تو ہم میں سے بیشتر لکھاری صرف سیاست کے ہو رہتے ہیں۔ وہ سیاست سے نکلنے کو تیار نہیں ہوتے اور نا ہی معاشرتی مسائل کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ نفسیاتی رویے، ایک ایسا موضوع ہے جس پہ آپ لکھنا شروع کریں تو

Read more

کیا بحریہ ٹاؤن کو بند کر دیا جائے؟

اپنے آغاز سے آج تک مختلف قسم کے تنازعات کی زد میں رہنے والا نجی ادارہ بحریہ ٹاؤن آج بھی زیر عتاب ہے۔ لیکن حیران کن طور پر اس کا محاسبہ باقاعدہ کسی عدالتی فورم پر کرنے کے بجائے لاٹھی و آگ سے کیا جا رہا ہے۔ پاکستان بھر میں کوئی قدرتی آفت آ جائے تو کسی حکومتی ادارے سے قبل ذہن میں ایک ہی نام ابھرتا ہے جو مدد کو آئے گا، بحریہ ٹاؤن۔ سمندری لہروں کے درمیان قزاقوں نے بہت سے خاندانوں کی امیدوں کو بجھانے کا ارادہ کر لیا ہو تو مدد کے حوالے سے شخصیات و ادارے بھی کس کی طرف دیکھتے ہیں، بحریہ ٹاؤن۔

Read more

بھارت کی خطرناک صورتحال، پاکستان کے لیے سبق؟

بھارت کو آج ایسے ہی حالات کا سامنا ہے جیسے حالات کا سامنا کبھی برطانیہ، اٹلی اور سپین کو رہا ہے۔ اور امریکہ جیسی مضبوط طاقت بھی اس کا شکار ہوئی۔ برطانیہ میں عزیز و اقارب سے ہونے والی بات نے واضح کیا کہ نظام کی مضبوطی سے وہ لوگ بہرحال حکومتی اقدامات سے مطمئن ضرور ہیں۔ لیکن دوسری طرف بھارت سرکار موجودہ حالات میں یا تو اپنی صلاحیت کے مطابق کام کر نہیں پا رہی یا اس میں اس

Read more

اسلحہ یا ویکسین؟

آج بھارت جس صورتحال سے دوچار ہے یہ صورتحال کسی بھی ملک کو درپیش ہو سکتی ہے۔ امریکہ کے بعد بھارت دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے کورونا کے مثبت کیسز کے حوالے سے۔ لیکن یاد رکھیے ایسا صرف اس صورت میں ہوتا ہے جب آپ کی ترجیحات مختلف ہوں۔ یورپی ممالک ہوں یا امریکہ سب کا صحت کا نظام اس وبا سے بیٹھ گیا لیکن ان کی کوششیں ثابت کرتی ہیں کہ ان کی ترجیحات کیا ہیں۔ وہ دنیا

Read more

تحریک لبیک، حکومت کی بدحواسیاں اور غلط فیصلے

تحریک لبیک کے ساتھ کیا گیا معاہدہ اولاً درست نہیں تھا کہ آپ ممالک کے ساتھ تعلقات ایسے داؤ پر نہیں لگا سکتے۔ لیکن آپ نے اس وقت عاقبت نا اندیشی سے کام لیا اور ایک سادے کاغذ پر دستخط ثبت کر دیے اور اپنی دانست میں اسے کامیابی سے تعبیر کر لیا۔ چند ماہ کی کامیابی۔ جی ہاں حکومت وقت ٹیسٹ کرکٹ کا مزاج نہیں رکھتی بلکہ وہ ٹی ٹوئنٹی طرز کی کرکٹ کی مثال کو سامنے رکھ کے ہی حکومت کرنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ شاید اسی لیے چند ماہ پہلے کیے گئے معاہدے کو کامیابی تصور کر لیا گیا اور اس کے بعد علامہ خادم حسین رضوی کے انتقال کے بعد حکومت شاید کچھ اور سکون میں آ گئی کہ شاید اب تحریک میں وہ پہلے سا دم خم باقی نہیں رہے گا۔

Read more

جماعت اسلامی، فیصل واوڈا اور پاکستانی جمہوریت کی مضبوطی

جمہوریت کی مضبوطی، واہ کمال پاکستان میں آپ جمہوریت کی مضبوطی کی مثال دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے۔ جماعت اسلامی ایک مضبوط سیاسی جماعت ہے۔ لیکن جمہوری رویوں کے حوالے سے جائزہ لیجیے تو موجودہ سینیٹ انتخابات میں حیران کن اور افسوس ناک رویہ بھی دیکھنے کو ملا۔ پنجاب میں پارٹی کے سینئر رہنما امیر العظیم کی تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعجاز چوہدری سے ملاقات ہوئی (یہ وہی اعجاز چوہدری ہیں جو حالیہ سیٹلمنٹ کے نتیجے میں پنجاب

Read more

محسن فخری زادے اور مسلم شاہدان: ایران کیا کر سکتا ہے؟

خطے کی صورتحال بدلتی جا رہی ہے۔ محسن فخر زادے کو نشانہ بنانا علاقائی مسئلہ نہیں ہے نا ہی ان کی موت نظر انداز کرنے والی بات ہے۔ ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے باپ کہلائے جانے والے محسن فخری زادے کو ایران کے اندر ہی نشانہ بنا لینا اس بات کی نشاندہی کر رہا ہے کہ کرونا زدہ ایران کا اندرونی سلامتی کا نظام کمزور ہو چکا ہے۔ اور کوئی بھی وار کر سکتا ہے۔ اور وار بھی ایسا کاری

Read more

رضوی دھرنا اور حکومتی نا اہلی

مولانا خادم حسین رضوی اور ان کے پیروکار جس مقصد کے لیے دھرنا دے رہے تھے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے نا ہو سکتا ہے۔ اور دھرنا، احتجاج، جلسہ، جلوس ہر فرد، گروہ، پارٹی یا فکر کے پیروکاروں کا بنیادی حق ہے جو انہیں آئین پاکستان دیتا ہے۔ لیکن اس احتجاج اور اس دھرنے کو مینج کرنا حکومت وقت کا کام تھا جو ایک اور آئینی ذمہ داری ہے بناء شہریوں کے حقوق پامال کیے بنا۔ رضوی صاحب

Read more

اک ہچکی اور بس یادیں: آہ! سردار کرم خان آف کوٹ فتح خان

کوئی جیب ایسی نہیں، جو کاغذوں سے بھری نا ہو۔ کاغذوں کے درمیان دبے ہوئے نوٹ، جن پہ ہماری گہری نظر ہوتی ہے۔ کبھی ضد کر کے رس ملائی کھا لی، اور کبھی دائیں بائیں بیٹھ کے باتوں کا جال بنتے ہوئے مجبور کر دیا کہ آج تو کھانا کھلائیں ہی کھلائیں۔ وہ بھی اپنے ایسے شعروں کی طرح بحر کا توازن لیے ہوئے۔ مقطع اور مطلع مجال ہے کہ کبھی بے وزن ہو، کہ ہر لمحہ تھوڑی سی ضد کے بعد، جیب سے نوٹ نکالتے اور ہماری دعوت کا اہتمام ہو جاتا۔

ان کی ایک صلاحیت کے ہم سب معترف ہیں کہ جتنی رقم کا تقاضا کیا جاتا، اتنی ہی رقم ان کی انگلیوں میں دبی ہوئی جیب سے باہر آتی۔ کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جن کی زندگی میں آپ ان سے لاکھ اختلاف رکھیں۔ ہر درجہ کا مباحثہ کریں لیکن ان کے چلے جانے کے بعد آپ چاہیں یا نا چاہیں آپ کے دل میں ایک ایسا خلا، آپ کو محسوس ہونے لگتا ہے جو باوجود کوشش کے پورا نہیں ہو سکتا۔ اور ایسا ہی کچھ ہوا اس دفعہ۔ سردار کرم خان آف کوٹ فتح خان بھی چل بسے۔ آہ۔

Read more

حسین علیہ السلام سب کے

شجاعت میں مثل جناب علی کرم اللہ وجہہ، عباس علیہ السلام جیسا جری سپہ سالار لشکر، اذن جنگ مل جاتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ لیکن وقت کے امام نے اس کو ایک جنگ کے بجائے معرکۂ حق و باطل رہتی دنیا کے لیے قائم رکھنا تھا۔ اور آج تک جہاں حق کا ذکر ہو وہاں فلسفۂ حسینیت کی پکار سنائی دیتی ہے اور جہاں باطل کی پہچان کی جانی مقصود ہو اسے یزیدیت سے پہچانا جاتا ہے۔ چھ ماہ کے علی اصغر علیہ السلام کے گلے کو تین منہ کے تیر نے چھلنی کیا تو اس کے بعد کیا یزیدیت کا چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب نہیں ہوا؟

جناب قاسم علیہ السلام کا سرزمین کرب و بلا میں ٹکڑے ہو جانا، علی اکبر علیہ السلام جیسے کڑیل جوان کے سینے میں برچھی کا اتر جانا، عون و محمد علیہم السلام اجمعین کی بچپنے کو شکست دیتے ہوئے داد شجاعت دینا۔ حبیب ابن مظاہر علیہ السلام جیسے پر خلوص دوست کا آواز امام حسین علیہ السلام پہ لبیک کہنا، دربار یزید میں بنت علی سلام اللہ علیہا کا تاریخی خطبہ، کیا یہ سب آج کے دور میں مشعل راہ اب نہیں رہا؟ کیا کردار امام حسین علیہ السلام اور اصحاب حسین علیہ السلام آج کے دور میں زندگیوں میں نکھار لانے کے لیے کافی نہیں؟ دلوں کو شفاف، پاکیزہ کرنے کے لیے کربلا کا پیغام کافی نہیں؟ بالکل کافی ہے۔ لیکن حقیقتاً ہم آج حسینیت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

Read more

عربوں کو ارب کی واپسی، پاکستان کا باؤنسر

جو قومیں اپنی خود مختاری، سالمیت، اور عزت نفس کو مجروح نہیں ہونے دیتیں وہ اقوام عالم میں اپنا مقام مضبوط بنانے کی جانب سفر بہت جلدی طے کرتی ہیں۔ اور جہاں دوسروں پہ انحصار، قرضوں کا حصول، مشکل حالات میں غیروں کے سامنے ہاتھ پھیلانا عام روش بن جائے وہ قوم کبھی بھی دنیا میں اپنا مقام نا پا سکتی ہے نا ہی دوسری اقوام اسے عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ کیوں کہ مانگنے والے کی

Read more

ہیپاٹائٹس کے گمشدہ مریض

کائنات کی تخلیق سے جاری لمحے تک تغیر نے انسانی زندگی پہ گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ آفات، مسائل، مشکلات، امراض، وباء، بھوک، غربت اور دیگر ہزاروں مسائل کا سامنا بنی نوع انسان کو رہا ہے اور رہے گا۔ لیکن حضرت انسان کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ہر مشکل میں سے کامیابی کا راستہ نکال لیتا ہے۔ ہر پریشانی میں سے ایک نئی روشنی سامنے لانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اللہ نے اس کو مخلوقات میں اشرف ہونے کا

Read more

میں کرونا سے کیسے لڑا، فیصلہ سازی

کرونا ایک ڈرامہ ہے یا حقیقت۔ زہر کے ٹیکے لگ رہے ہیں یا جانے والے حقیقتاً اس وبا کی وجہ سے جاں سے جا رہے ہیں۔ لاشوں کے ڈالر وصول کیے جا رہے ہیں، یا ڈاکٹرز انہیں بچانے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ کیا حقیقت ہے اور کیا مفروضہ یہ صرف وہی جان سکتا ہے جس پہ یہ وقت بیتا ہو۔ اور راقم الحروف اس دور سے نا صرف گزر چکا ہے بلکہ حقیقتاً مفروضے اور حقیقت کے درمیان فرق کرنے میں بہت زیادہ مدد ملی اور یہ ایک ایسا کڑا وقت گزرا ہے کہ جس کی تلخ یادیں اور اس وبا سے نبرد آزما ہونا یقینی طور پر زندگی کا ایک ایسا دور رہے گا جس نے زندگی کو بہت قریب سے جاننے کا موقع دیا۔

Read more

کرونامسخرہ نہیں ہے

ہم ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کر پائے کہ لاک ڈاؤن مکمل طور پر ہونا چاہیے یا جزوی طور پر۔ ہم اس حوالے سے بھی ابھی کوئی مکمل فیصلہ نہیں کر پائے کہ مساجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی ہونی چاہیے یا نہیں۔ ہم اس معاملے پہ بھی گو مگو کی کیفیت کا شکار ہیں کہ اگر جماعت قائم کی جاتی ہے تو نمازیوں کا درمیانی فاصلہ تین فٹ ہونا چاہیے یا چھ فٹ۔ درزی کی دکان کھلے گی یا نائی کی، ہمارا فیصلہ اس حوالے سے بھی غیر یقینی کا شکار ہے۔

Read more

بے وقت اذانیں اور حضرت انسان

پوری دنیا اس وقت ایک آفت کی لپیٹ میں ہے۔ کرونا وائرس کی وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اور کم و بیش ہلاکتیں چالیس ہزار سے تجاوز کرتی نظر آ رہی ہیں۔ اور کچھ بعید نہیں کہ پوری دنیا میں یہ تعداد لاکھوں میں بھی جا سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ کرونا کی وجہ کچھ بھی ہو کسی نا کسی طرح انسان قدرت کے طے شدہ معیارات کو چھیڑنے کا مجرم بنا توہی کرونا جیسی وباء سالوں صدیوں میں کرہء ارض کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے۔

Read more

ہم واقعی ایک دلچسپ قوم ہیں؟

پاکستان دنیا کا عجیب و غریب اور دلچسپ ملک ہے۔ یہاں آپ کو پرانی جیتی گئی جنگوں کے قصے فخرسے سنائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں سرحد پہ ہلکی سی چھیڑ خانی پہ بھی عوام جلال میں آجاتی ہے اور فوج کو ان کی منت سماجت کرنا پڑتی ہے کہ ہم ہیں نا آپ گھروں میں ہی رہیں۔ یہ عجیب و غریب قوم ہے کہ آپ جو مرضی کر لیں، جس طرح چاہے الرٹ جاری کر دیں یہ وہی کریں گے

Read more

جشن اور جنازے

دُنیا گلوبل ویلیج ہے۔ سادہ زبان میں پوچھیے تو دنیا ایک ایسا گاؤں ہے جس میں تمام افراد ایک دوسرے پہ کسی نہ کسی حوالے سے انحصار کرتے ہیں۔ جب ہم لفظ گاؤں استعمال کرتے ہیں تو اس کو ایسے ہی لیجیے کہ جیسے ایک گاؤں کے اندر مکین نہ صرف ایک دوسرے کو مکمل طور پر جانتے ہیں بلکہ ان کی خوشی و غمی کو اپنی خوشی و غمی سے تعبیر بھی کرتے ہیں۔ دُنیا کو بھی آپ عالمی

Read more

جاگدے رہنڑاں، ساڈے تے نا رہنڑاں

موجودہ ملکی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ کسی بھی قسم کی تنقید حکومت وقت پہ کرنے کے بجائے عوام کا ساتھ دیا جائے اور اپنی سی کوشش کرنی چاہیے کہ توقعات، امیدیں، حوصلے پست نہ ہونے پائیں۔ اور ایسا کرنا کسی ایک حکومت کے بس کی بات نہیں پوری عوامی طاقت مل کر ایسا کر سکتی ہے۔ اور یہ کوئی انہونی بھی نہیں ہے ہمارے پاس مثالیں موجود ہیں کہ ایسا ہو سکتا۔ میرے ڈھول سپاہیا پہ جب

Read more

کرونا کا خوف پھیلانے والے مجرم ہیں

چائنہ گلوبل ٹیلیویزن نیٹ ورک (CGTN) ، چین کا بہت بڑا میڈیا نیٹ ورک ہے۔ صرف ایک سوشل میڈیا فورم پہ اس کے فالوورز دس کروڑ کے قریب ہیں۔ اور اسی طرح تمام سوشل میڈیا فورمز کو جمع کیا جائے تو یہ تعداد اربوں تک جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس نیٹ ورک کو چین کے حوالے سے معلومات و اطلاعات کا انتہائی اہم اور قابل اعتبار ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ ہانگ کانگ میں مرکز رکھنے

Read more

توصیف جہاں بنتی ہے، کیجیے

چین کرونا وائرس کا ماخذ ہے۔ وہاں سے کرونا وائرس کی ابتداء کے حوالے سے ابھی تک کم و بیش تمام تحقیق کرنے والے متفق نظر آتے ہیں۔ اور جب تک اس وائرس کا مرکز کوئی اور نہیں ملتا فی الحال تو سب اس پہ متفق رہیں گے۔ چین سے اس وائرس کی دوسرے ممالک تک منتقلی بھی چین سے ہی ثابت ہو رہی ہے۔ جیسے ایران میں اس وائرس کی منتقلی کا سبب قم شہر میں آنے والا ایک

Read more

میں مرد ہوں اورعورت مارچ کا حامی ہوں

اس بات میں دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں کہ اسلام نے بطور مذہب مجھے عورتوں کا احترام کرنا سکھایا ہے۔ پیدا کرنے والی ماں ہو، دل کا سکون بیٹی ہو، غموں کی ساتھی بہن ہو، یا زندگی کی ساتھی بیوی، اسلام نے تمام رشتوں کے نہ صرف حقوق بتا دیے ہیں بلکہ ان رشتوں کو بھی سمجھا دیا ہے کہ وہ بطور مرد میری بات کیسے مانیں۔ کس طرح میرے سکون کا خیال رکھیں اور خاندان کے سربراہ کے طور پر کیسے میری خواہشات کا احترام کریں، جائز خواہشات، جائز ضد، جائز حکم۔ لہذا مجھے یہ کہنے میں کوئی شرمندگی، پریشانی یا جھجک نہیں ہے کہ میں عورتوں کے عورت مارچ کا حامی ہوں۔ اور مکمل ان کا ساتھ بھی دوں گا۔

Read more

ماروی سرمد اور خلیل الرحمٰن نے مباحثہ کیا؟

خواتین کے ساتھ بدتمیزی ہرگز بھی قابل قبول نہیں ہے لیکن تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ کرنا کیا ہم چھوڑ چکے ہیں؟ بات شروع کرنے سے قبل انتہائی ادب کے ساتھ ایک شخص کہتا ہے کہ آپ کی بات میں نے مکمل تہذیب، اخلاق و خاموشی سے سنی ہے آپ سے بھی گذارش ہے کہ اپنا نقطہء نظر بیان کرنے کے بعد میرا نقطہء نظر بھی مکمل خاموشی سے سنیے گا۔ بات شروع ہوتی ہے اور کچھ لمحے بعد ایک

Read more

غم، کرب، نوحے، ماتم، المیے لکھنے کو نہیں رہے؟

معاشرے میں اس قدر مسائل موجود ہیں کہ اگر آپ کی اوسط زندگی پچاس سال ہو اور آپ ہر روز ایک موضوع کو قلم کی قید میں لانا شروع کر دیں تو بھی معاشرے کے مسائل ختم نہیں ہوں گے لیکن آپ کی عمر ختم ہو جائے گی۔ تعلیم، صحت، روزگار، معاش، خاندانی تقسیم، گرتی ہوئی اخلاقی اقدار، بزرگوں کی قدر، اولاد کی نشونما، طبقاتی تقسیم، کارپوریٹ کلچر کے مسائل، سرکاری دفاتر کی گھمن گھیریاں، زمینوں پہ قبضے، جائیداد کے

Read more

کرونا وائرس ایران میں، کیا ہم تیار ہیں؟

پوری دنیا اس وقت پریشانی میں ہے اور خاص طور پر چین میں اس وقت حالات انتہائی دگرگوں ہیں۔ لیکن چین کا ماضی دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین اس وباء سے نمٹ لے گا۔ ہزار بستروں کا ہسپتال بنانا ہمارے سامنے ہے اور چین کے اقدامات ہی تھے کہ شاید یہ وائرس پوری دنیا کو ابھی لپیٹ میں نہیں لے سکا۔ لیکن اب اس وائرس کی بازگشت ایران میں سنائی دی جانے لگی ہے اور شنید

Read more

میڈیا سیٹھ کے ظلم کا چابک

پاکستان میں بطور مجموعی حالات تسلی بخش نہیں ہیں لیکن میڈیا انڈسٹری بطور خاص جبر کا شکار ہے بلکہ جبر کے بجائے اسے ظلم کہا جائے تو غلط نہیں ہے۔ ظلم اس لیے کہ ہم نے نوے کی دہائی کے بعد ایک دم سے پورے ملک میں میڈیا کے شعبے میں انقلاب لے آنے کے نعرے بلند کیے۔ اس دوران بہت سے نئے اخبارات شائع ہونا شروع ہوئے۔ کئی نئے ٹی وی چینلز شروع کیے گئے۔ اور ایک اخبار یا

Read more

قاتلوں کے چہرے پہ نقاب کیوں؟

یہ عوض نور ہے۔ نوشہرہ کی ننھی کلی۔ عمر صرف نو سال اور قاتلوں نے اس کو جب قتل کیا ہو گا تو یقینی طور پر کوئی لالچ دیا ہو گا اور یہ پھول جیسی بچی سمجھ بیٹھی ہو گی کہ لے جانے والا اس کا خیر خواہ ہے۔ لیکن اس نے اس بچی کو اس بہیمانہ طریقے سے قتل کیا کہ عقل حیران ہے کہ کیسے کوئی انسان ایسے ایک پھول کو مسل سکتا ہے۔ آپ اس بچی کے

Read more

بوٹ دکھاؤ گے تو کھاؤ گے

پاکستان میں انسان ٹی وی سے اور خاص طور پہ نیوز چینلز سے اور بالخصوص کرنٹ افئیرٹاک شوز سے جتنا دور رہے اُس کا نہ صرف بی پی ٹھیک رہتا ہے بلکہ شوگر لیول بھی نارمل رہتا ہے۔ اور وہ سکون کی نیند سوتا ہے۔ اور شو مئی قسمت اگر آپ کی دلچسپی حالات حاضرہ میں ہے اور سونے پہ سہاگہ کہ آپ باقاعدگی سے اگر کرنٹ افئیر پروگرامز دیکھتے ہیں تو پھر آپ کو دواؤں کی ضرورت بھی رہے

Read more

ایران کچھ نہیں کر سکا؟

قاسم سلیمانی کو نشانہ بنایا گیا، ایران کچھ نہ کر سکا۔ امریکہ تڑیاں لگاتا رہا، ایران کچھ نہ کر سکا۔ ایران کو معاشی لحاظ سے کمزور کر دیا گیا، ایران کچھ نہ کر سکا۔ ایران کے اندر قدامت پسندی اور جدیدیت کے نام لیواؤں کے درمیان خاموش جنگ کروا دی گئی، ایران کچھ نہ کر سکا۔ دفاعی لحاظ سے ایران پہ قدغن لگائی جاتی رہی، ایران کچھ نہ کر سکا۔ فقہی چھاپ ایران پہ لگنا شروع ہو گئی، ایران کچھ

Read more

مشرف کو سزائے موت، مگر۔ ۔ ۔

واقعات، حادثات، سانحات، کسی بھی قوم کی ترقی و تنزلی کا راستہ طے کرتے ہیں۔ ضروری یہ ہے کہ دیکھا جائے کوئی بھی قوم کسی بھی حادثے، سانحے یا واقعے کے بعد کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہے۔ اور پاکستان میں بھی ترقی کی گاڑی سست روی سے چل رہی ہے لیکن بہرحال اس میں پیٹرول ابھی موجود ہے اور امید یہی ہے کہ موجود رہے گا۔ کیوں کہ جہاں اس میں ایندھن ختم ہونے کی بری خبر سننے کو

Read more

کیا حسان نیازی صرف ایک ہی ہے؟

معاشرے مثبت روش اپنائیں تو تب وہ مثبت اعشاریے دکھاتے ہوئے ترقی کی جانب گامزن ہوتے ہیں۔ لیکن اگر معاشرے منفیت کی ترویج اپن شعار بنا لیں تو وہ ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف جاتے ہیں۔ اور ایسا ہی اس وقت پاکستان میں ہو رہا ہے۔ اس تیزی سے تنزلی کی جانب جاتی ہوئی ترقی کو پیچھے چھوڑتی پاکستان کی ٹرین کو روکنا بھی ہم نے خود ہی ہے۔ اور کوشش بھی ہم نے ہی کرنی ہے۔ غلطی کرنا

Read more

ریاست ہو گی ماں کے جیسی، مگر کب؟

فرض کیجیے۔ آپ کا بیٹا ہو، ہسپتال لے جائیں۔ ہسپتال پہنچیں تو معلوم ہو جو بیماری اُسے ہے اُس کی دوا ہی موجود نہیں ہے۔ آپ بہت بھاگ دوڑ کریں لیکن دوا تو دور کی بات، آپ کو ہسپتال میں داخلے کی ہی اجازت نہ ملے۔ آپ بھاگ دوڑ کر کے تھک ہار کے بیٹھیں تو آپ کو معلوم ہو کہ بیٹے کی زندگی ہی باقی نہیں رہی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے۔۔۔ اس سے آگے بھلا کیا تصور کیا

Read more

پولیس کا فرض، صرف خوف

معاشرہ ترقی کرتا ہے جب انصاف کا بول بالا ہو۔ جب قانون کی نظر میں سب برابر ہو جائیں۔ جب عدالتیں وقت پر فیصلے کرنا شروع کر دیں۔ لیکن شومئی قسمت کہ وطن عزیز میں اس وقت ان تینوں معاملوں میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ انصاف آپ کی دہلیز پہ ایک نعرہ تو ہے لیکن اس نعرے کی عملی سطح پہ افادیت منتقل کرنے میں شاید ابھی کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں کیوں کہ انصاف کی راہ میں

Read more

کل کے کوفی، آج کے راہبر

تاریخ کے سچ پہ سوچ بے بس پو جاتی تھی، بزرگوں سے سنتے تو حیرت ہوتی تھی کہ کیسے اہلِ کوفہ تھے کہ منافقت کی نئی تاریخ رقم کر دی۔ دل ساتھ تھے مگر تلواریں خانوادہ رسول صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نہیں تھیں۔ حیرت اس بات پہ بھی ہوتی تھی کہ نہ جانے کیسے وہ ظلم ہوتا دیکھتے رہے اور اپنے دروازے بند کر کے دل میں بس ساتھ دیتے رہے اور عملی طور پہ وہ ساتھ نہ دے سکے۔ مفادات وابستہ تھے؟ خوف تھا؟ یا بزدلی؟

Read more

مریم نواز صفدر لیڈر بن سکتی ہیں۔۔۔

پاکستان کا ایک المیہ رہاہے اور آج بھی ہے کہ اس دھرتی پہ، ملک سے اہم شخصیات رہی ہیں۔ اور شخصیات پہ حرف آیا نہیں اور ملک کے رہنے یا نہ رہنے کے نعرے لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ جناب آپ کے اجداد نے اگر ملک کے لیے جہدو جہد کی تھی تو اس لیے نہیں کی تھی کہ آپ اس ملک کے مختار کل بن جائیں کہ جو چاہیں آپ فیصلہ کریں وہی قانون بن جائے۔

Read more

محبوبہ مفتی کا سچ

وطن عزیز کی سرزمین سے پھلنے پھولنے والے قائداعظم کو پوری زندگی لبرل ثابت کرنے میں مصروف رہے، ان کے شیعہ، سنی ہونے کی بحث میں الجھے رہے۔ اس بات میں مگن رہے کہ وہ کتنے باعمل مسلمان تھے۔ انہوں نے برطانیہ میں کیسی زندگی گزاری۔ ہمارے ہاں کے نقاد اس حقیقت کی طرف جانا گوارا ہی نہیں کرتے تھے کہ دنیا میں کتنے راہنما ہیں جنہوں نے دنیا کا نقشہ بدلا ہو۔ نیلسن منڈیلا تاریخ کا بڑا آزادی پسند

Read more

کشمیر کی صورتحال: ہم کیا کر سکتے ہیں؟

مقبوضہ کشمیر میں کشیدہ صورت حال، آرٹیکل 370 کا ختم ہونا، بھارتی فوج کی تعداد میں اضافہ، حریت راہنما سید علی گیلانی کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ جیسے بھارت نواز راہنماؤں (ماضی) کی نظر بندی، دیگر حریت قیادت کو محصور کر دینا، یاسین ملک کی تہاڑ جیل میں بگڑتی ہوئی صورت حال، لائن آف کنڑول پہ جھڑپوں میں تیزی، سول آبادی پہ بھارت کی جانب سے کلسٹر بموں کا استعمال، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑھتی

Read more

عرفان صدیقی: سب سے بڑے مجرم

سب سے بڑے مجرم یقینی طور پر پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں کیوں کہ جن کا علم سے تعلق نہیں ہوتا وہ تو اپنے بچاؤ کے لیے ہر جائز ناجائز راستہ نکالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ میاں جاوید احمد، نیب کی حراست میں ان کا انتقال ہو گیا۔ شاید یہ عام سی خبر رہتی۔ لیکن مرنے کے بعد بھی ان کی ہتھکڑی نہ کھل سکی۔ اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان کی ہتھکڑی لگی میت پہ کچھ دوست

Read more

دھندہ ہے، پر گندا ہے‎

پاکستان میں سیاست یقینی طور پر عنوان پہ صادق آتی ہے۔ کیوں کہ ہمارے ہاں سیاست اور اخلاقیات کا دور دور تک بھی واسطہ نہیں ہے۔ اور مزید پستی کی علامت یہ ہے کہ یہاں جس کا جو کام ہے وہ کر نہیں رہا۔ جس کا جہاں داؤ لگ رہا ہے وہ لگا رہا ہے۔ یہ حقیقت پس پشت ڈالی جا رہی ہے کہ اس سے ملک کو کتنا نقصان ہو گا اور ہمارا پاکستان اس تمام کشمکش سے آگے

Read more

ایران، ایک نیا میدان

عالمی سطح پہ معاملات جس تیزی کے ساتھ بدلتے جا رہے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکی چوہدراہٹ کا بت بھی ٹھیک اُسی طرح پاش پاش ہو جائے جس طرح سابق سوویت یونین کا حال ہوا۔ ایسا ہونا مستقبل قریب میں تو ناممکن دکھائی دیتا ہے لیکن مستقبل بعید میں ایسا ہو جانا اچھنبے کی بات اس لیے بھی نہیں کہ پوری دنیا میں معاملات تیزی کے ساتھ وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ شام میں اپنی

Read more

ذہنی غلامی کا نیا رنگ

پاکستانی من حیث القوم ایک عجیب و غریب قوم ہیں۔ یہ جنگ جیتنے کے صرف 5 سال بعد ہی آدھا ملک گنوا کر دنیا کو حیران کر دیتے ہیں۔ تو کبھی دنیا کی سپر پاور کے ٹکڑے کرنے کا سبب بن جاتے ہیں۔ کبھی یہ نامساعد معاشی صورت حال کے باوجود ایٹمی قوت بن جاتے ہیں اور کبھی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو ناکوں چنے چبوا دیتے ہیں۔ کبھی یہ پتے کھا کے جنگ لڑنے کا نعرہ لگاتے

Read more

محترم وزیراعظم ہوم ورک کر لیا کیجیے

ذاتی خیال ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اس وقت ملک کے حالات کو خلوص نیت سے ٹھیک کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اور ان کی نیت پہ نہ شبہ ہے نہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک عالمی راہنما بھی ہیں۔ عالمی راہنما اس لییے کہ ان کے پاس ایک ڈبہ ہے جسے دنیا ایٹمی طاقت کا کنٹرول باکس کہتی ہے یا کچھ بھی اور اس ڈبے کی وجہ سے وہ عالمی دنیا میں توجہ کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔اب جب وہ عالمی سطح پہ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں تو ان کا کسی بھی قسم کا طرز عمل پاکستان کے لیے مثبت و منفی دونوں رجحانات پیدا کر سکتا ہے۔

Read more

صحافت فروخت ہو رہی ہے

کیا آپ کا تعلق کسی ٹی وی چینل سے ہے؟ میں نے حیرت سے سوال کیا۔ مگر ان کا جواب نفی میں تھا۔ تو کیا پھر آپ کسی اخبار سے منسلک ہیں؟ میں نے اُلجھے ہوئے لہجے میں دوبارہ سوال کیا۔ لیکن کسی بھی روزنامے، ہفت روزہ، ماہانہ، سہ ماہی، شش ماہی، سالانہ اخبار، رسالے، جریدے یا کسی بھی اورصحافتی ادارے سے کسی بھی تعلق کی صاحب نے صاف الفاظ میں نفی کر دی۔ مجھے چار سو چالیس وولٹ کا جھٹکا اس لیے لگا کہ ان کے بٹوے سے کارڈز کا ایک ڈھیر گرا تھا۔

Read more

منافع خوروں، ذخیرہ اندوزوں کو بھی رمضان مبارک ہو

فون پہ پیغام مسلسل ملنا شروع ہو چکے ہیں۔ فیس بک انباکس میں بھی پیغامات کا سلسلہ طویل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مبارکبادی پیغامات اور ویڈیوز بھی گردش میں ہیں۔ ملنے جلنے والے بھی مبارکباد دینے میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔ بطور خاص ایسے لوگ بھی حقوق العباد پہ زور دینے لگے ہیں جو خود غاصب ہیں۔ کیوں کہ رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہو چکا ہے۔ اور اس کے ابتدائی ایام میں مبارکباد

Read more

کامیاب مہرہ کیسے پٹ گیا

حامی اگر انگشت بدندان ہیں تو مخالفین بھی اتنی جلدی ہار ماننے کی توقع نہیں کر رہے تھے۔ اور ہار بھی ایسے لمحے میں کہ جب ایک دن قبل ہی ہار کی خبریں زیر گردش ہوئیں تو اس پہ اطلاعات کے سرخیل کے ذریعے سخت زبان میں جواب دیا گیا۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ کارروائی کی دھمکی بھی دی گئی، ایک نگران اتھارٹی کے ذریعے۔ لیکن یہ کیا ہوا کہ ایک دن بعد ہی صورت حال بدل گئی ہے۔ صرف ایک دن ہی موقف پہ مضبوطی سے قائم رہنے کے بعد اپنا وہی فیصلہ سنانا پڑا جس کے بارے میں یاران محفل تذکرہ کر چکے تھے کہ یہ انہونی یقینی طور پر ہونے جا رہی ہے۔

Read more

پیارے کپتان، قول و فعل میں تضاد کیوں؟

بھارت میں پاکستان مخالفت کارڈ کھیلتے ہوئے جس طرح عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ موجودہ انتخابی مہم میں دیکھا جا سکتا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ موجودہ وزیر اعظم مودی کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ وہ اپنے بے روزگار نوجوانوں کو ملازمتیں دے پائے ہیں۔ نہ عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے جو دعوے وہ پچھلے انتخابات سے پہلے کرتے تھے وہ کر پائے ہیں۔ ٹوائلٹ ایشو تو اب ایک

Read more

پاکپتن کا محمد فیاض اور خواب

جب آپ زندگی میں کچھ کرنا چاہیں اور کر نہ سکیں یا اپنے خواب کی تکمیل کے لیے آپ کے پاس وسائل نہ ہوں تو وقتی طور پر آپ کے خواب پس پشت چلے جاتے ہیں۔ لیکن وہ خواب آپ کے دل و دماغ سے محو نہیں ہو سکتے اور زندگی میں جب بھی آپ کو موقع ملتا ہے آپ ان خوابوں کو پورا کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔ اور جب آپ ایسا کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو آپ کو ارادوں کی تکمیل سے کسی کے لیے روکنا ممکن نہیں رہتا۔ اور معدودے چند شاید کسی بھی معاشرے میں تین سے چار فیصد ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو آنکھ کھولتے ہیں جو خواب دیکھتے ہیں اُسے پورا کرنے کی ٹھان بھی لیتے ہیں اور ان کو پورا کرنے کے لیے ہر حد سے گزر جاتے ہیں ورنہ ہم میں سے اکثریت دو جمع دو چار کرنے میں لگی رہتی ہے اور اپنے خوابوں کو گروی رکھ کے اسی پہ اکتفا کر لیتی ہے کہ کیسے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا ہے اور جب روٹی کا بندوبست ہو جائے تو دیگر ضروریات زندگی سر اُٹھا لیتی ہیں۔ اس لیے چند سرپھرے لوگ ہر معاشرے میں اہم ہوتے ہیں جو کچھ کر گزرنے کی نہ صرف ہمت رکھتے ہیں بلکہ وسائل کا ہونا یا نہ ہونا اُن کے لیے برابر ہو جاتا ہے۔

Read more

نیا پاکستان، پچاس لاکھ گھروں کا پہلا گھر

مبارک ہو پاکستانیو۔ تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے۔ نیا پاکستان اسکیم کے تحت تعمیر ہونے والے پچاس لاکھ گھروں میں سے پہلے گھر کو بنانے کے لیے بل پاس کر لیا گیا ہے۔ اور باقی انچاس لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے گھر بھی جلد ہی پاکستان کے نقشے پہ ابھرے نظر آئیں گے۔ اب وہ وقت قطعاً دور نہیں ہے کہ جب ہر بے گھر کے پاس اپنا گھر ہو گا۔ ہر بے روزگار کے پاس اپنا روزگار ہو گا۔ ہر غریب کے پاس دو وقت کے کھانے کے باعزت کھانا ہوگا۔ ہر یتیم کے سر پہ ریاست باپ کا سایہ بنے گی۔ ہر بیوہ کا آسرا یہ ریاست خود بنے گی۔ اور دودھ و شہد کی نہروں سے فیض یاب ہونے کو بھی اب تیار ہو جاؤ۔ پاکستانیو جو دن پھرنے تھے وہ پھر گئے ہیں۔ وعدہ ایفا ہو گئے ہیں اور اب تم دیکھو گے کہ کیسے ہم چٹکیوں میں پچاس لاکھ گھر بنا کے تمہارے حوالے کر دیں گے۔

Read more

عورت مارچ مہم، ذہین دماغوں کا کامیاب منصوبہ

عورتوں کا عالمی تاریخی حوالوں سے 1909 سے منایا جا رہا ہے۔ جب یہ فروری میں منایا جانا شروع ہوا۔ پھر 1917 سے آج کے دن سے منایا جا رہا ہے یعنی 8 مارچ کو عالمی دن برائے خواتین کا درجہ حاصل ہوا ہے۔ پاکستان مین بھی ظاہر سی بات ہے دیگر عالمی دنوں کی طرح یہ دن بھی منایا جاتا ہے لیکن اس حوالے سے گزشتہ دو دہائیوں سے کافی شعور اجاگر ہوا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بھرمار، اخبارات کی اشاعت کا بڑھنا، اور سوشل میڈیا جیسے فورمز کا عام لوگوں تک رسائی ہو جانا ہیں۔

پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں سے عالمی دن برائے خواتین کی طرح دیگر عالمی دن منانے کی روایت مضبوط ہوتی جا رہی ہے لیکن اس حوالے سے تمام کارکردگی دو ہزار کے بعد سے زیادہ نمایاں ہوئی ہے۔ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ لیکن کچھ سالوں سے اس حوالے سے اہم اقدامات کیے گئے ہیں جن کے تحت اظہار کی آزادی ملنا شروع ہوئی ہے (کچھ مسائل ابھی بھی اس حوالے سے موجود ہیں، لیکن بطور مجموعی ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت پاکستان میں اظہار سوچ کا یا اپنے خیالات کا کسی قدر آسان ہو چکا ہے ) اور یہی وجہ ہے کہ بعض معاملات میں اس آزادی کا منفی استعمال بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

Read more

بحریہ کا جاسوس جہاز پی تھری سی اورین، اہم کیوں تھا۔۔۔

آپ کو یاد ہو گا کہ پی این ایس مہران پہ ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں دو طیاروں کو نشانہ بنایا گیا گیا۔ یہ دونوں طیارے پی 3 سی اورین تھے۔ اور اس وقت ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے تھے جو یہ جانتے تھے کہ یہ دو طیارے نشانہ بننے پہ اس حملے سے ہونے والے نقصان کو بہت زیادہ کیوں گردانا جا رہا ہے۔ اور شاید اس حملے سے قبل اس مخصوص طیارے کا نام بھی کم لوگوں نے سنا ہو گا۔ کیوں کہ عام طور پر ہم پاک فضائیہ کے جنگی طیاروں کو ہی ملکی دفاع کی ضمانت میں اولین گردانتے ہیں اور سمجھتے ہیں۔ اس لیے اس جہاز کا نام نہ صرف ہمارے لیے نیا تھا۔ بلکہ پہلی دفعہ منظر عام پہ بھی آیا تھا (یعنی عام آدمی تک یہ نام پہلی دفعہ ہی پہنچ رہا تھا) ۔ اور اکثریت ہم میں سے اس بات پہ حیران تھے کہ یہ بھلا کیا تک ہوئی کہ ان دو طیاروں کو ہی نشانہ بنایا گیا۔لیکن دشمن ہوا میں تیر نہیں چلاتا۔ اُس نے چن کے اس مقام پہ نشانہ بنایا بنایا جہاں یہ طیارے موجود تھے۔ یہ طیارے کرتے کیا ہیں۔ ان طیاروں کی اہمیت کیوں ہے۔ ان طیاروں میں ایسا خاص کیا ہے۔ کیوں ان طیاروں کی تباہی کے بعد پاک بحریہ نے سمندری حدود کی حفاظت کے لیے خصوصی انتظامات کیے۔ اور کیا وجہ تھی کہ انہیں بیان جاری کرنا پڑا کہ ہماری سمندری حدود کے دفاع کی صلاحیت آج بھی ویسی ہے جیسے اس حملے سے پہلے تھی۔

Read more

سرپرائز کے بعد بھارت کہاں کھڑا ہے

لہجہ انتہائی دھیما تھا۔ لفظوں کا چناؤ بھی بے حد سُلجھا ہوا تھا۔ نہ تم کہہ کے مخاطب کیا گیا تھا نہ ہی کسی بھی قسم کا کوئی ایسا جملہ کہا گیا جس سے غصے یا بد تمیزی کا تاثر جا رہا ہو۔ لفظوں کے ساتھ ساتھ آنکھیں فسانہ ء دل سارا کہے جا رہی تھیں۔ برداشت کا کوئی ایسا درجہ تھا جس پہ ہر کوئی براجمان نہیں ہو سکتا تھا۔ دھیمے لہجے کے اس شخص نے کچھ ایسی پختگی اور واضح اندا زمیں اپنا موقف پیش کیا تھا کہ ہر کوئی کسی نہ کسی حد تک مطمئن ہو گیا تھا۔کیوں کہ ہم جانتے تھے کہ جس جامع اور مدلل انداز میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی نے کہا تھا کہ ہم جگہ اور وقت کا انتخاب بھی خود کریں گے تو یہ دیوانے کی بڑھک نہیں تھی بلکہ یقینِ کامل تھاکہ ہم پہل کرنے والوں میں سے بے شک نہیں ہیں لیکن جو پہل کرئے اُس پہ وار جوابی ایسا کیا جائے گا کہ دُشمن دنگ رہ جائے گا۔ اور سرپرائز کا وعدہ پورا کیا گیا۔ ایسا سرپرائز دیا گیا کہ نہ صرف عالمی دُنیا کو معلوم ہوا کہ پاکستان ہے کیا بلکہ ہمسائے کو بھی پتا چل گیا کہ ہماری برداشت ہماری بزدلی نہیں ہے۔

Read more

عجیب قوم ہے پاکستانی

پاکستانی بھی بڑی عجیب قوم ہیں۔ یہ دشمن کو پتا ہی نہیں چلنے دیتے کہ ان کے رویے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

آپ یقیناً راقم الحروف کی بات سے نہ صرف مکمل اختلاف کا حق رکھتے ہیں بلکہ اس وقت میری اس بے تکی بات پہ قیاس کے گھوڑے بھی دوڑا رہے ہوں گے۔ قیاس کے گھوڑوں کی لگام ذرا کس لیجیے اور سوچ کی راہداریوں میں جھانکیے۔ چند ماہ پہلے سے شروع ہونے والے منظر نامے اور چند دن پہلے کے حالات کو مد نظر رکھ کے اس تحریر کو جانچیے۔

شہباز شریف کا نام ای سی ایل پہ ہے، حمزہ شہباز شریف کو اجازت لے کر باہر جانا پڑ رہا ہے، میاں محمد نواز شریف کے دو صاحبزادگان اشتہاری کا درجہ پا رہے بشمولے میاں صاحب کے سمدھی کے، میاں محمد نواز شریف خود اس وقت جیل یاترا پہ ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی جیسی بڑی جماعت کے گرد شکنجہ کسا ہوا ہے، کچھ بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں زرداری صاحب شکنجے میں ہوں۔ غیرضیکہ پورے پاکستان میں اس وقت سیاسی صورت حال نہایت دگرگوں ہے۔

Read more

نجم سیٹھی آبدیدہ ہو گئے

  خاتون میزبان نے ایک مختصر سا سوال کیا تھا، لیکن جواب دینے والے کے پاس جیسے بیان کرنے کو ایک داستان تھی۔ تاہم جواب دینے والے سے جواب نہ دیا گیا۔ بس اُس کے چند آنسو جیسے سب بیان کر گئے۔ اور کوئی شک نہیں کہ آنسو داستان کہنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ اور جب آنسو زباں پاتے ہیں تو لفظوں کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ کچھ ایسا ہی ایک نجی چینل پہ سابق نگران وزیر اعلیٰ پنجاب

Read more

​کبوتر، پاکستان اور عالمی دُنیا

ترقی ٹیکنالوجی سے نہیں آتی سوچ کے ساتھ آتی ہے۔ جب ہماری سوچ عالمی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا شروع ہو جاتی ہے تو پھر ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کا درجہ پانا مشکل نہیں رہتا۔ جب کہ اچھی سے اچھی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے باوجود اگر بطور قوم سوچ نے ترقی نہیں کی تو اس تکنیکی بنیادوں پر کی گئی ترقی کا کوئی فائدہ نہیں۔ سیاسی، سماجی اور معاشی حوالوں کے علاوہ سماجیات کے جتنے منظر نامے ہیں پوری دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

Read more

یہ میری ماں کا خون ہے

جب سے یہ علم ہوا تھا کہ چاچو کی شادی ہے۔ ہم سب بہت خوش ہیں۔ بابا نے ہماری خوشی یہ کہہ کے دوبالا کر دی کہ ہم سب اس شادی میں بطور خاص شرکت کریں گے۔ بابا کے واٹس ایپ پہ چاچو کے ہاں ہوتی لائٹنگ دیکھ کے تو دل چاہتا ہے ابھی اُڑ کے وہاں پہنچ جاوں۔ ہمیشہ چھٹیوں میں ہی وہاں جا پاتے ہیں۔ چاچو سے اپنے لاڈ اٹھوائے بہت دن ہو گئے۔ اس دفعہ تو میں

Read more

اگر وہ دہشت گرد بھی ہو

ہم بحثیت مجموعی بہت بھلکڑ قوم ہیں۔ بہت جلدی ہم سانحات کو بھول جاتے ہیں۔ یا پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں حادثات، سانحات اس قدر تیزی سے وقوع پذید ہوتے ہیں کہ ہمیں پچھلے سانحے کو یاد کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ نقیب اللہ محسود کا کیس اس کی تازہ ترین مثال ہے جو کچھ عرصہ میڈیا کی زینت بنا رہا لیکن اس کے بعد تو کون میں کون والا حساب ہوا اور میڈیا پہ اب اس کیس کے حوالے سے اکا دکا خبر ہی سننے کو ملتی ہے۔

بھلا ہو سوشل میڈیا کا جس کے آنے کے بعد جہاں بہت سے منفی رجحانات نے جنم لیا ہے وہاں سوشل میڈیا کا مثبت پہلو یہ واضح ہوا کہ یہاں بنا کسی کی منت کیے آپ مدعا ڈال سکتے ہیں اور لمحوں میں آپ تک نتائج بھی پہنچنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یوں کہہ لیجیے کہ سوشل میڈیا کے حوالے سے اب معاملات کو پوشیدہ رکھنا کم و بیش ناممکن ہوگیا ہے۔ جب تک کہ کوئی نیا معاملہ سر نہ اُبھارے جس کی وجہ سے پرانا معاملہ سردخانے کی نذر ہو جائے۔

Read more

ایک بوکھلائی ہوئی حکومت اور خوف زدہ قوم

کچھ دن پہلے سابق صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری نے پارلیمان میں جب یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہمیں اس حکومت کو گرانے کی نہ ضرورت ہے نہ ہی ہم ایسا کچھ کریں گے بلکہ اس حکومت کو گرانے کے لیے تو یہ حکومت خود ہی کافی ہے تو اسے دیوانے کی ایک بڑھک قوم نے بھی سمجھا اور راقم الحروف نے بھی۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ جس سیاسی جماعت کو حکومت اتنے پاپڑ بیلنے

Read more

حکومت کی ٹرائی بال

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے ایک پاکستانی کی حیثیت سے راقم الحروف کو بھی اتنی ہی امید ہے جتنی کسی اور شخصیت کو کہ یہ جماعت ملک میں حقیقی معنوں میں تبدیلی لانے کا سبب بن جائے۔ کیوں کہ پاکستانی عوام بہت اپنا خون جلا چکے، بہت کڑھ چکے، اب یقینی طور پہ اُن کا حق تو بنتا ہے کہ ملک میں مثبت تبدیلی آئے۔ اور تحریک انصاف کی پوری انتخابی مہم اُٹھا کے دیکھ لیجیے، جو دعوے تھے وہ عوام کے دل کی آواز تھے۔ جو وعدے تھے وہ عوام کے مسائل کی ترجمانی کرتے ہوئے تھے۔ اور اس بات میں کوئی دو رائے تو ہو نہیں سکتیں کہ دعوے، وعدے، منصوبے تو ہوتے ہی عوام کے لیے ہیں۔ ان کا ثمر اگر عوام تک نہ پہنچے تو پھر یہ صرف بڑھکیں رہ جاتی ہیں۔

Read more

اُمیدیں ٹوٹیں تو۔ ۔ ۔

تصور ہی نہیں تھا کہ فٹ پاتھ پہ جو انسان بھوکا سوتا ہے اس کو باعزت کھانا کیسے بھلا مہیا کیا جا سکتا ہے۔ آپ ایک لمحہ سوچیے، فٹ پاتھ پہ بیٹھا ایک شخص تین دن سے بھوکا ہو، لازماً چوتھے دن اس کے ذہن میں منفی خیال پنپنا شروع ہو جائیں گے۔ وہ یہ سوچنا شروع کر دے گا کہ جب اس معاشرے سے مجھے ایک وقت کا باعزت کھانا میسر نہیں ہے تو میں کیوں نہ اس معاشرے سے چھین کے لوں۔ سوچ کے زاویے بدلنا شروع ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں جرائم پروان چڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔

اور معاشرہ تعمیر کے بجائے ہر گزرتے دن کے ساتھ ریخت کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت حال میں ایک جگہ میسر ہو جہاں کسی سے سوال نہ کیا جائے کہ تمہاری ذات کیاہے، تمہارا پیشہ کیا ہے، تمہاری جیب میں کتنی رقم ہے اور تم آئے کہاں سے ہو، ان تمام سوالات سے مبرا بس اُس کو ایک مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہا جائے اور یہ تک نہ پوچھا جائے کہ تم حقیقتاً بھوک کا شکار ہو بھی یا نہیں۔ اور باعزت طریقے سے اُسے کھانا پیش کیا جائے، صاف ستھرا عملہ مستعدی سے خدمت پہ مامور ہو۔ ایسے معاشرے میں جہاں صاف پانی قیمتی ہوتا جا رہا ہووہاں اُسے پینے کو صاف پانی میسر کیا جائے، تو آپ کا کیا خیال ہے معاشرے کی تعمیر میں یہ حصہ کم ہو گا؟ ہرگز نہیں۔

Read more

مقبول حکومت کی بد حواسیاں

جمہوریت یقیناًعوامی فلاح کا نظام ہے۔ کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کے نام لیوا عوام کی بہبود میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔ اور درست بھی ہے کہ ہم ہمیشہ منفی رجحانات جلدی اپناتے ہیں جب کہ اس کے برعکس مثبت اشاریے ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ یوں کہہ لیجیے کہ ہم بطور مجموعی ایک بے صبر قوم ہیں جو جلدی اپنی برداشت کھو بیٹھتے ہیں اور جب ہم برداشت کھو بیٹھتے ہیں تو ہمارا بلڈ پریشر ہائی

Read more

پوائنٹ آف نو ریٹرن اور یو ٹرن

جمہوریت کا خاصہ ہی یہی ہے کہ تمام معاملات باہمی افہام و تفہیم سے چلائے جاتے ہیں۔ اور اس نظام کی خوبصورتی دیکھیے کہ اس میں مختلف اہم تعیناتیوں کے لیے اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے جیسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اس میں حکومت واضح طور پر اپنی منوا تو سکتی ہے اور اگر اکڑ برقرار رہے تو یقینی طور پر تعیناتی بھی حکومت کی مرضی سے ہی ہو

Read more

ڈی جی نیب اور افسر تعلقات عامہ میں فرق ہوتا ہے

جمہوریت کا حسن اداروں کی مضبوطی میں ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اداروں کا انظام و انصرام بعض اوقات نہ سمجھ میں آنے والا ہو جاتا ہے۔ جیسے آج کل نیب کا ہوا ہے۔ نیب کا ادارہ شفافیت کے اعلیٰ معیارات پائے، یہاں ملکی پیسہ لوٹنے والوں کا حساب ہو، یہ ادارہ ملک سے کرپشن ختم کرنے کا باعث بن جائے تو اس سے بڑھ کے اس ملک کے ساتھ نیکی بھلا کیا ہو سکتی ہے۔ لیکن نیب جیسا اہم ادارہ نہ جانے مشاورت کے کون سے پہلوؤں کے تحت خود کو متنازعہ ٹھہرا کے شاید اپنے معاملات میں سہولت محسوس کرنے لگا ہے۔

سب سے پہلی بات کہ اداروں میں زبان نہیں بولتی بلکہ قلم بولتا ہے اور قلم بھی ایسے بولتا ہے کہ بہت سوں کی زبانیں گنگ ہو جائیں۔ تب ہی تو جمہوریت کا حسن برقرار رہتا ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جمہوریت سدا سہاگن رہتی ہے۔ لیکن جب قلم کے بجائے زبان بول رہی ہے تو پھر معاملات میں ایک کرختگی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ چاہے زبان ٹھیک بھی بولے تو بھی درست شاید نہیں کہ جہاں زباں کا بولنا مقصود ہی نہیں وہاں غصہ نکالنے کا جب آپ کے پاس دوسرا اختیار موجود ہے تو زبان سے الفاظ کی ادائیگی کر کے اپنی کم مائیگی کا ساماں کیا ہی کیوں جائے۔ یہ مجھے کوئی سمجھا دے یا خود سمجھ لیں۔

Read more

سرخ قالین، تھر کے مور اور بھوکی لاشیں

رویے جب ایوانِ اِقتدار میں پہنچتے ہی تبدیل ہونا شروع ہو جائیں تو مہر ثبت ہو جاتی ہے کہ اقتدار ”تھوہڑ دِلوں“ کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ سونے پہ سہاگہ جب عوامی دھوکہ دہی کو تبدیلی کا لبادہ اوڑھا کہ اسے سر بازار رونمائی کو کہا جا رہا ہو تو توقعات و امیدوں کے مینار ایسے زمیں بوس ہو جاتے ہیں کہ دھڑام کی مخصوص آواز بھی نہیں آتی کیوں کہ پختگی کے معیارات سے یہ امیدیں دور کا واسطہ

Read more

تبدیلی سرکار کو زناٹے دار جواب

پاکستان میں عام انتخابات میں تو بسا اوقات اپ سیٹ مقابلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ضمنی انتخابات میں ایسا ہونا قریب قریب نامکن ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ بے شک حکومتی وزیر ، مشیر، اراکین ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی براہ راست اگر مدد نہ بھی کریں تو اندرون خانہ حکومتی امیدوار کو واضح برتری حاصل ہوتی ہے۔ اور ضمنی انتخابات میں ووٹرز کا ٹرن آؤٹ اور

Read more

سینئر صوبائی وزیر صاحب میں آپ سے مخاطب ہوں

راقم ہی نہیں عرصے بعد کسی کا بھی جانا اگر چک شہزاد کے راستے ایک پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی طرف راستے پہ جانا ہو تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ راستہ کس قدر شاندار اور وسیع ہو گیا ہے۔ گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی جاتی ہے۔ ایک دور تھا جب اس راستے کی قسمت ابھی نہیں جاگی تھی تو تنگ اور چھوٹی سی سڑک تھی۔ اب وہ دور گزر چکا ہے۔ کئی کلومیٹر طویل شاہراہ ہے وہ بھی دو رویہ اور

Read more

چارٹرڈ طیارہ کمرشل فلائیٹ سے سستا ہے

پاکستان تحریک انصاف کو تبدیلی کے صرف نعرے پہ ہی ووٹ نہیں پڑئے بلکہ عوام کو امید ہے کہ یہ نعرہ وہ اپنی حقیقی شکل میں عملی صورت میں نافذ بھی کریں گے کہ جس سے عوام کو اپنے ووٹ دینے پہ افسوس نہیں ہو گا۔ اور ابھی تک تو صورت حال نہایت حوصلہ افزاء ہے کہ موجودہ حکومت عوامی امنگوں پر نہ صرف پورا اُتر رہی ہے بلکہ اُس کے ہرفیصلے سے عوام میں خوشی کی ایک لہر ایسی

Read more

ٹھنڈا کر کے کھائیے

پرانے وقتوں میں جب بھی کچھ گرم کھا لیتے اور خاص طور پہ حلوہ اور تالو میں اٹکانا مشکل ہو جاتا اور ہکلاتے ہاتھ جھٹکتے یا تو باہر اُگل دیتے یا حلق سے نگلنے میں بھی جو دقت ہوتی وہ چہرے پہ عیاں ہو جاتی تو بڑے بوڑھے اکثر اوقات چپل دے مارتے اور ساتھ ہی یہ نصیحت کرنا نہ بھولتے کہ "ٹھنڈا کر کے کھاؤ” یعنی اتنی جلدی کس بات کی ہے۔ اور اکثر جلدی بھی ایسی ہوتی تھی

Read more

وزیر اعظم کا دورہ جی ایچ کیو اور ہمارے صحافی

پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ سے ایک ایسا موضوع رہا ہے جو نہ صرف صحافت کے گرو حضرات کے لیے نہایت سنجیدہ بحث کا سبب رہا ہے بلکہ صحافت کے طالبعلموں کے لیے بھی یہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ ایوب خان دور کے بعد سے سول ملٹری تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا رہا۔ بھٹو شہید بے شک پہلے بہتر تعلقات کے بعد سول ملٹری تعلقات کی بڑھتی خلیج کو باوجود کوشش کم نہ کر سکے اور اس

Read more

اوئے سلیم صافی… تیری۔۔۔۔۔۔

میں نہ صرف تمام قارئین سے معذرت خواہ ہوں بلکہ میں خود بہت شرمندہ بھی ہوں. جب میں جانتا تھا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جس میں دلیل مر چکی ہے تو مجھے سلیم صافی کو صاحب کہہ کے مخاطب ہی نہیں کرنا چاہیے تھا کہ جس کی جانب آج کل توپوں کا رخ ہے. توپیں بھی ایسی جن کی سیاسی تربیت اتنی اعلیٰ معیار کی ہوئی ہے کہ مثال دی جا سکے۔ اور یقیناً

Read more

یہ سلسلہ سلیم صافی تک رکے گا نہیں

سینئر صحافی سلیم صحافی نے ایک ایسی شخصیت کے حق میں بیان داغ دیا جو اس وقت زیر عتاب ہیں۔ میاں محمد نواز شریف۔ اور بیان بھی ایسے وقت میں دے دیا جب وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت بن چکی ہے کہ جو جماعت سوشل میڈیا کے عفریت کا استعمال پوری طرح جانتی ہے۔ عفریت اس لیے کہ سوشل میڈیا کا استعمال پاکستان میں مثبت سے زیادہ منفی رجحانات جذب کرنا شروع ہو گیا ہے۔ صافی صاحب پاکستان میں

Read more

صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔ رولا ہے

کیا دور تھا جب سوشل میڈیا کا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ یہ ویلے لوگوں کا کام ہے طعنے دیے جاتے تھے۔ یہ فضول کی ایکٹیویٹی ہے راگ الاپا جاتا تھا۔ یہاں کچھ بھی تعمیری نہیں ہو سکتا۔ بڑے گرواپنے اندازے لگاتے تھے۔ پاکستان میں اس کا مثبت استعمال کبھی ہو ہی نہیں سکتا ۔ پھبتی کسی جاتی تھی۔ مگر ہمیشہ کسی بھی شے کا مثبت استعمال اس وقت ہی سامنے آتا ہے جب لوگ اس کے منفی استعمال سے اَک

Read more

عمران خان آزاد ہیں بجواب محترم اُستاد آصف محمود

عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ اس قوم کا ہیرو ہے۔ بے شک اس کے کریڈٹ پہ صرف ایک ورلڈ کپ 92 کی فتح ہے جو واضح جگمگا رہی ہے۔ مگر اس کے اُس وقت کے ساتھی اور آج کے جاننے والے دونوں اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ وہ حقیقتاً کرپٹ یا بے ایمان نہیں ہے۔ وہ اس حقیقت سے بھی بخوبی آشنا ہے کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ کی مانگ ایسے

Read more

وعدوں کے لولی پاپ لے لو

انتخابات 2018ء کا میلہ سج چکا ہے۔ جیسے میلے میں بچے بچونگڑے نت نئے لباس پہن کے ادھر سے اُدھر پھدکتے پھرتے ہیں، ایسے ہی اُمیدواران کا جم غفیر بیتابی سے اِدھر سے اُدھر آتا جاتا دیکھا جا سکتا ہے۔ اور اوپر سے رمضان، تو افطار پارٹیوں کی لمبا سلسلہ بھی جاری ہے۔ نعرہ پارٹیاں بھی پوری طرح تیاریاں پکڑ چکی ہیں اور نت نئے نعرے بینرز پہ لکھے نظر آنے لگے ہیں۔ کہیں بیانیے پہ زور ہے، کسی جگہ

Read more

شہباز و خاقان، پھس گئی جان شکنجے اَندر

  پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ یہاں ہمیشہ سیاسی معاملات کو پارلیمان سے باہر اور ذاتی معاملات کو پارلیمان کے اندر زیر بحث لایا جاتا رہا ہے۔ حکومت، اقتدار، پارلیمنٹ، عوامی عہدے ان سب کو پاکستان کی عوام کے بجائے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے نہ صرف استعمال کیا جاتا رہا ہے بلکہ آج بھی کیا جا رہا ہے اور حیرت اس بات پہ ہے کہ اس استعمال کیے جانے پہ ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی

Read more

تین دفعہ وزیر اعظم، کیا آپ کو سوال کا حق ہے؟

متنازعہ وقت، متنازعہ صحافی، متنازعہ شخصیت، متنازعہ بیان ، متنازعہ پیش بندی. خصوصی پروٹوکول سے نوازا گیا صحافی چپکے سے ملتان پہنچتا ہے, اس کے نہ آنے کی کسی کو خبر ہے نہ جانے کی، کچھ مبینہ پروٹوکول دینے کی دستاویزات بھی زیر گردش ہوتی ہیں(جن کی تصدیق بہرحال ابھی باقی ہے)۔ ہنگامی طور پر ایک ایسے راہنما کا انٹرویو جو اپنی صفائیاں پورے ملک میں دیتا پھر رہا ہے اور عدالتوں کا سامنا کر رہا ہے اور ابھی لوگ اس کی طویل

Read more