صدر ایردوان کی فتح پر اسرائیل، ایران اور جماعت اسلامی کا جشن


مرد مجاہد بطل حریت خلیفہ نو جناب سید رجب طیب ایردوان نے اپنے بے راہرو اور گمراہ مخالفین پر فتح عظیم حاصل کی ہے اور آدھے ترکوں نے ان کے ڈبے میں پرچی ڈال کر خلافت کے احیا کی حمایت کی ہے۔ حالانکہ سید رجب طیب صدر ایردوان نے ہمیشہ اسرائیل اور ایران وغیرہ کو جوتے کی نوک پر رکھا ہے مگر ان کی فتح پر پھر بھی ادھر جشن کا سماں ہے۔ اس کی بہت دلچسپ وجوہات ہیں۔

چند برس پہلے ڈیووس کے اجلاس میں سرعام صدر ایردوان نے اسرائیلی وزیراعظم کی بے عزتی کرتے ہوئے ایک جذباتی تقریر کی اور اس سے پیشتر کہ اسرائیلی وزیراعظم اس کا جواب دے پاتے، وہاں سے اٹھ کر چل دیے۔ اس کے بعد غزہ کو امداد پہنچانے کے معاملے پر ترک جہاز ماوی مارمرا فلوٹیلا کا معاملہ پیش آیا جس پر حملہ کر کے اسرائیلی گوریلوں نے کئی ترک شہری مار ڈالے تو صدر ایردوان نے اسرائیل کی ناک رگڑوا کر ہرجانہ وصول کیا۔

ابھی حال ہی میں صدر ایردوان نے اسرائیل کو قبضہ گروپ قرار دیتے ہوئے ایک دہشت گرد ملک کہا تھا۔ غزہ میں گزشتہ مئی کے مظاہروں کے بعد صدر ایردوان نے اسرائیلی سفیر کو انقرہ سے اپنا بوریا بسترا لپیٹ کر نکل جانے کا حکم دیا تھا۔ اس دور میں تمام اسلامی ممالک اسرائیل سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں مگر یہ صدر ایردوان ہی ہیں جو اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود اسرائیل صدر ایردوان کی جیت پر جشن منا رہا ہے۔ اس کی وجہ صدر ایردوان کی بہترین حکمت عملی ہے۔ وہ اسرائیل کو اپنے کھونٹے سے باندھے رکھنے کے لئے اسے چارہ ڈالتے رہتے ہیں۔ مثلاً گزشتہ برسوں کی اس تمام تلخی کے باوجود صدر ایردوان نے دونوں ملکوں کے معاشی تعلقات کو جاری و ساری رکھا ہے۔ کوئی تجارتی معاہدہ منسوخ نہیں کیا گیا۔ جب کوتاہ بین ترک لیڈر محرم انجے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کی وکالت کر رہے تھے، اتاترک کی وارث ری پبلکن پارٹی ان کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی اور کرد پارٹی کے صلاح الدین دیمرتاش اس بات پر مصر تھے کہ اسرائیل کے ساتھ تمام معاشی تعلقات توڑ دیے جائیں تو یہ صدر ایردوان ہی تھے جو اسرائیل کی حمایت پر کمربستہ دکھائی دیے۔

بلکہ اسرائیل کے مقبول اخبار ہاریٹز نے تو یہ بھی انکشاف کیا تھا کہ جب سیکولر ریپبلکن پارٹی اور کرد پارٹی وغیرہ اسرائیل کے ساتھ تمام پرانے معاہدے توڑنے اور معاشی تعلقات کو منقطع کرنے کی قرارداد پارلیمان میں لے کر آئے تو یہ دانشمند صدر ایردوان کی آک پارٹی ہی تھی جس نے اس قرارداد کی مخالفت کر کے اسے ناکام بنایا اور اسرائیل کے ساتھ رشتے ناتے کو برقرار رکھا۔ اگر محرم انجے جیت جاتے تو اسرائیل کے ترکی کے ساتھ تعلقات ختم ہو سکتے تھے۔ صدر ایردوان کی فتح پر اسرائیل کا جشن جائز ہے۔

اب ہم جانتے ہی ہیں کہ صدر ایردوان اسرائیل کے کٹر مخالف ہیں تو باقی تمام ترک پارٹیوں کے برخلاف اسرائیل کی وہ مدد کیوں کرتے ہیں؟ وہ اس لئے مدد کرتے ہیں تاکہ اسرائیلی ان سے ملتے رہیں اور وہ ان کی سرعام بے عزتی کرتے رہیں۔ آپ خود سوچیں کہ اگر صدر ایردوان ڈیووس میں اسرائیلی وزیراعظم سے نہ ملتے تو اسرائیل کی اتنی بے عزتی کیسے ہوتی؟ اگر انقرہ میں اسرائیلی سفیر موجود نہ ہوتا تو وہ کسے نکالتے؟ اب یہ صدر ایردوان کا ہی کمال ہے کہ اسرائیلی ان سے اتنی زیادہ بے عزتی بھی کرواتے ہیں اور ان کی فتح پر جشن بھی منا رہے ہیں۔

ایران اور ترکی کے ایک دوسرے کے متعلق وہی جذبات ہیں جو پاکستان اور بھارت کے ایک دوسرے کے بارے میں ہیں۔ گزشتہ پانچ سو برس سے یہ ایک دوسرے کے دشمن ہیں جس کا آغاز چالدران کی جنگ سے ہوا تھا۔ گو کہ 1639 کے معاہدہ زہاب کے بعد ان دونوں ممالک میں کوئی بڑی جنگ نہیں ہوئی مگر ہزار برس پہلے فردوسی کے شاہنامہ میں وسط ایشیا کی جس ایران دشمن تورانی قوم کا ذکر کیا گیا ہے، وہ لیبل ترکوں پر چسپاں کر کے انہیں تورانی کہا جاتا ہے۔

ایسے میں اگر یہ خبر آئے کہ ایران کے صدر حسن روحانی ان پہلے لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے ایردوان کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ”میں انتہائی خوشی اور مسرت کے ساتھ آپ کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں“ اور اس خوشی کی وجہ یوں بیان کی گئی ہو کہ ان دنوں ممالک کا ”مضبوط تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتہ“ رہا ہے تو آدمی حیران ہوتا ہے۔ لیکن یہ حیرانی اس وقت کم ہو جاتی ہے جب یہ دیکھا جائے کہ اب ایرانیوں کا دشمن تورانی نہیں سعودی ہے اور اس وقت شام اور عراق وغیرہ میں صدر ایردوان، سعودیوں کے خلاف ایرانیوں کی مدد کر رہے ہیں۔ اس لئے ایران کا خوش ہونا بھی جائز ہے۔ اگر محرم انجے جیت جاتے تو ایران بڑی مشکل میں پڑ جاتا۔ صدر ایردوان کی فتح پر ایران کا جشن جائز ہے۔

جہاں تک جماعتی صالحین کی بات ہے، تو اس کو بھی خوش ہونے دیں۔ پاکستان میں جماعت کے لئے کونسلر کا الیکشن جیتنا بھی مشکل ہو گیا ہے، بس دیر کے علاقے میں کچھ عزت باقی ہے۔ تیونس میں ان کی ہم خیال جماعت النہضہ اب غداری کر کے سیاسی اسلام کے تصور سے تائب ہو چکی ہے۔ مصر میں جماعت کی فکری بہن اخوان اپنی ناکام حکومت کے بعد جیل میں پڑی ہے۔ تو بس اب ایردوان ہی بچے ہیں۔ وہ سیاسی اسلام کے داعی تو نہیں بلکہ سیکولرازم کے پرجوش حامی ہیں لیکن جماعت کی بہت قدر کرتے ہیں۔

اب قذافی نہیں رہے۔ سعودی جماعت کو دشمن گردانتے ہیں۔ تو ایردوان کی فتح پر اسرائیل اور ایران کے ساتھ ساتھ جماعت کو بھی خوش ہونے دیں۔ اب جماعت کو کوئی انتخابی ناکامی کا طعنہ دے تو اہل جماعت یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ ”ناکامی کہاں، ترکی میں دیکھ لو خلیفہ ایردوان بھاری اکثریت سے جیتے ہیں“۔ صدر ایردوان کی فتح پر اسرائیل اور ایران کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کا جشن بھی جائز ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar