یوگاورزش کے نام پر شرک و کفر کو فروغ دینے کی سازش ہے
اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں:
اے ایمان والو اگر تم ان لوگوں کی پیروی کروگے جنہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کیا، تو وہ لوگ تمہیں ایمان لانے کے بعد کفر میں وا پس ڈالدیں گے پھر تم خسارہ اٹھانے والے ہو کر لوٹوگے(سورہ آل عمران آیت 941)
مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کفر وشرک کے مسئلہ میں ہر گز سمجھوتہ نا کریں اور ہر حال میں اپنے ایمان کی حفاظت کی فکر کریں۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں ارشاد فرماتے ہیں۔
اے ایمان والو اسلام میں پوری طرح سے داخل ہوجاؤ اور شیطان کی پیروی مت کرو، بیشک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (سورہ بقرہ آیت 802)
بعض لوگ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ ہندو منتر سے اگر پریشانی ہے تو آپ لوگ اللہ کہو، ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح سے دین سے دور اور دینی علم سے ناواقف شخص دھیرے دھیرے شرک کے دلدل میں پھنس ہی جائے گا۔ قرآن کریم میں ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ بیٹھنے سے بھی منع کیا گیا ہے جو کفر وشرک میں ملوث ہیں، اور حدیث میں ہے کہ جو شخص جس قوم کی تعداد بڑھائے گا اس کا شمار انہیں میں ہوگا۔ لہذا یوگا کے لئے مندروں، مٹھوں، آشرم اور کیندروں میں خاموش یا اللہ کا ذکر کرتے ہوئے بیٹھنا بھی جائز نہیں ہوگا اس سے شرکیہ چیزوں کی خاموش حمایت ہوتی ہے اور ایمانی غیرت کے بھی خلاف ہے۔ ورزش کے بہت سے طریقے ہیں، پھر عبادات میں نماز، روزہ، اعتکاف، اللہ کے قدرت میں غوروفکر، قرآن کی تلاوت، تسبیحات کی پابندی سے جہاں ایک طرف ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے وہیں جسم کو صحت مند رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔
اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے اور زندگی کے ہر شعبہ میں انسانوں کی مکمل رہنمائی کرتا ہے، اس کی تعلیمات چھوڑکر دوسروں کے پیچھے چلنا خود اسلام کی توہین کرنے کے مترادف ہے۔ اوراسلام کی ہدایت ملنے کے بعد کفر کی چیزوں کو اپنانادر حقیقت نعمت اسلام کی ناقدری ہوگی۔ قوم کے ارباب علم وفکر، اسکول کے غیرتمند اساتذہ کرام اور عامۃ المسلمین سے دردمندانہ درخواست ہے کہ وہ سلسلہ میں بیدار مغزی سے کام لیں اور بروقت اس فتنہ کا سد باب کرنے کے لئے لائحہء عمل طے کریں ورنہ نسلوں کے گمراہ ہونے کا وبال ہمارے سر پر ہوگا۔ اللہ تعالی ہمارے اور ہماری نسلوں کی دین کی حفاظت فرمائے! آمین!

