کیا معذور افراد کو عزت کی روٹی کمانے کا حق حاصل نہیں ہے؟


یہ چھ ستمبر منگل کا دن تھا، جب مجھے دوپہر دو بجے کے قریب پاک ترک اسکول حیدرآباد اسرا یونیورسٹی کیمپس اسکول کی طرف سے کال آئی اور کہا گیا کہ آپ نے ٹیچنگ کے لیے سی وی جمع کرائی تھی لہذا آپ کا کل انٹرویو ہے۔ آپ کل صبح دس بجے اسکول پہنچ جائیں۔ میں خوشی میں پاگل ہو رہا تھا اور کال کرنے والے کو جی سر، جی سر کہتا رہا۔ آخر میری نوکری کا سوال تھا، ایک روشن مستقبل کی امید تھی۔

جب میں نے اپنے ایک دوست کو بتایا کہ مجھے اسکول کی طرف سے انٹرویو کال آئی ہے تو دوست نے کہا کے آپ بھرپور تیاری کر کے جانا۔ میں نوری آباد سے شام کو حیدرآباد چلا گیا اور رات کے دو بجے تک تیاری کرتا رہا۔ پھر بدھ کی صبح میں اپنے حساب سے اچھے کپڑے پہن کر اسکول کے لیے روانہ ہو گیا۔ اسکول پہنچا تو مجھے بتایا گیا کے آپ انتظار کریں پرنسپل صاحب میٹنگ میں ہیں۔ میں بیس منٹ تک انتظار کرتا رہا بالآخر ایک شخص نے نوید سنائی کہ آپ کو پر نسیپل صاحب بلا رہے ہیں۔ پہلے سے تیز دل کی دھڑکنیں مزید تیز ہو گئیں۔

جب میں آفس کے اندر گیا تو پرنسپل صاحب مجھ سے انگلش میں سوال کرتے رہے۔ یہ سلسلہ کوئی تیس منٹ تک چلتا رہا۔ مجھے لگا کہ وہ مجھ سے کافی مطمئن ہیں۔ اس کے بعد کہا گیا کہ کلاس میں آکر ڈیمو دے دیں، میں کلاس میں آدھا گھنٹہ انگلش میں پڑھاتا رہا۔ وہ مجھ سے سوال بھی کرتے رہے اور میں ان کے جوابات بھی دیتا رہا۔ آخر میں انہوں نے مجھ سے تنخواھ سے متعلق سوال کیا کہ آپ کی ڈیمانڈ کیا ہے؟ میں نے تیس ہزار روپے تک کا کہا، میرے لیے یہی کافی تھے۔ پرنسپل صاحب نے ’ٹھیک ہے‘ کے الفاظ بولے اور شکریہ ادا کر کے کہنے لگے کہ وہ مجھے کال کریں گے۔

دل میں امید کی شمع لیے میں واپس نوری آباد چلا آیا۔ میں نے چند دن بعد اپنی ای میل چیک کی تو اسکول کی طرف سے جواب میں لکھا ہوا تھا، ’یونس ہم آپ سےبہت مطمئن ہیں لیکن آپ کی معذوری کی وجہ سے آپ کو مسترد کیا جا رہا ہے۔ ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں۔ ‘

یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ اس سے پہلے بھی آرمی پبلک اسکول میں ایک سیٹ خالی ہوئی تھی۔ میں نے ٹیچنگ کے لیے کاغذات جمع کروائے اور ٹیسٹ دینے اسکول پہنچ گیا۔ لیکن وہاں اسکول والوں نے کہا کے آپ معذور ہیں لہذا آپ ٹیسٹ میں نہیں بیٹھ سکتے۔

آپ خود سوچیں ایک انسان پہلے سے ہی معذور ہے، وہ اس معاشرے میں اپنی جگہ، اپنا جائز مقام حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرتا ہے، اس کی ذہنی قابلیت دوسروں سے کم نہیں ہے، وہ ٹیسٹ میں بیٹھتا ہے تو ٹیسٹ پاس کر لیتا ہے لیکن پھر اچانک دنیا کے ’مکمل انسانوں‘ کو پتا چلتا ہے کہ یہ انسان تو ہم جیسا نہیں ہے اور وہ اسے مسترد کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یقین کیجیے جب کوئی کہتا ہے کہ آپ معذور ہیں اور آپ کو نوکری نہیں دی جا سکتی، اس بات کا دکھ آپ نہیں سمجھ سکتے۔ جب یہ ’مثالی معاشرہ‘ روزانہ کی بنیادوں پر آپ کو دھتکارتہ ہے تو اس کا دکھ آپ نہیں سمجھ سکتے، جب ہر کوئی آپ پر ملازمت کے دروازے بند کرتا ہے تو پستی اور زوال میں گرنے کی اس کیفیت کو آپ نہیں سمجھ سکتے۔

تو ان کا جواب سنتے ہی مجھے سخت مایوسی ہوئی لیکن ہمت کر کے میں نے ان کو جواب دیا، جب میں معذور ہوں تو آپ لوگوں نے میرے کاغذات ہی کیوں لیے؟ جب کہ میرے کاغذات میں معذوری کا سرٹیفیکٹ بھی دیا ہوا ہے اور این آئی سی میں بھی معذوری کا چھوٹا نشان لگا ہوا ہے۔ اس کے باوجود بھی آپ لوگوں نے کاغذات لیے ہیں اور اب سب کے سامنے یہ جواب؟

خیر شدید مایوسی کے باوجود ہم جیسے لوگ اس طرح زمین پر گرنے اور پھر اٹھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ آخر زندگی بھی تو گزارنی ہے نا۔ رواں برس رمضان سے پہلے پاک ایئر فورس اسکول میں ٹیچر کے لیے اشتہار شائع ہوا۔ میں نے پھر اس اسکول میں کاغذات جمع کروائے، جب ٹیسٹ کے لیے کال آئی تو میں ایک مرتبہ پھر ٹیسٹ دینے کے لیے وہاں پہنچ گیا لیکن ماضی کی طرح ایک مرتبہ پھر مجھے ٹیسٹ دینے سے روک دیا گیا۔ وجہ پھر یہی بتائی گئی کہ آپ معذور ہیں۔

اب یہ معذوری کا طعنہ سن سن کر مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ آخر اس میں میرا قصور کیا ہے؟ میں ایک معذور انسان ہوں تو کیا ساری زندگی دوسروں کے سہارے گزار دوں؟ کیا ہمارے اداروں میں ہمارے لیے کوئی جگہ نہیں؟ کیا ہم پاکستان کے شہری نہیں؟ کیا ہمارے کوئی حقوق نہیں؟ کیا میں اتنا نا اہل ہو یا کمزور ہوں کہ اس معاشرے میں اپنا باعزت مقام حاصل نہیں کر سکتا؟

ہاں میں مانتا ہوں اور جانتا ہوں کہ میری بائیں ٹانگ پولیو سے متاثر ہے لیکن میں اتنا کمزور نہیں ہوں، میں چل سکتا ہو، ٹریک کر سکتا ہو۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات گھوم چکا ہوں۔ سوات، ناران، ہنزہ، کشمیر، چترال، فیری میڈوز، رتی گلی، مکڑا پیک، سیف الملوک تک پہنچا ہوں۔

تو پھر یہ لوگ مجھے کیوں معذور کہتے ہیں؟ مجھے امید کے بجائے نا امیدی کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے؟ مجھے سے کیوں زندگی چھین کر مجھے موت کی سیاہ وادیوں میں ہجرت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے؟ حوصلہ افزائی کے بجائے میرے جیسے لوگوں کے حوصلے پست کیوں کیے جا رہے ہیں؟ اگر کوئی مجھے معذور کہتا ہے تو میں اپنے آپ کو دیکھنے لگتا ہوں کہ میں کہیں دوسرے سیارے کی مخلوق تو نہیں ہوں، جو یہ لوگ مجھے معذور کہہ کر ٹھکرا رہے ہیں؟

اب جب بھی یہ الفاظ سنتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کہنے والا میرا دل نکال کر چبا رہا ہے۔ ’مکمل، پڑھے لکھے اور تہذیب یافتہ لوگوں‘ کے ایسے الفاظ مجھے بہت دکھی کر دیتے ہیں اور میں دور جا کے تنہائی میں رونے لگتا ہوں تاکہ میرے من کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔

میں نے اچھے اچھے اداروں میں اپلائی کیا ہے لیکن مایوسی کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آیا اور اب جب بھی کسی ادارے میں کاغذات جمع کرانے جاتا ہوں تو میری زبان پر یہی ورد جاری رہتا ہے کہ کہیں یہ بھی مجھے معذور کہہ واپس نہ بھیج دیں، اپنے دروازے مجھ پر بند نہ کر دیں۔ اب میں اکثر سوچتا ہوں کہ آخر میرا قصور کیا ہے؟

Facebook Comments HS