وہی خُدا ہے
پسِ منظر کا حساب کتاب!
رُکے بغیر میں نے اپنی بات جاری رکھی، تمھارا تعلق ایک جاگیردار اور امیر گھرانے سے تھا۔ اس لئے پانچ سال کی عمر میں تم ماں باپ سے الگ ہوگئے۔ کیونکہ تمہیں ایک اعلٰی درجے کے سکول میں داخل کرایا گیا جو ایک دوسرے شہر میں تھا۔ جہاں تمھاری رہائش بورڈنگ ہاؤس میں تھی۔ اس عرصے میں تم نا صرف اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے دور رہے بلکہ تمھارا خاندان تمھاری پڑھائی کا بہت بڑا خرچہ بھی برداشت کرتا رہا۔ اس دوران تم مختلف لیکن مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں پڑھتے رہے۔ اور جب تعلیم مکمل کر کے لوٹ کر آئے۔
تو تقریبًا دو عشرے گزر چکے تھے۔ ان دو عشروں میں تمہیں ماں باپ کی خدمت کا کوئی موقع بھی نہیں ملا، بڑے بھائی کی مار اور چھوٹی بہن سے پیار کے لازوال ذائقوں سے بھی محروم رہے۔
اب آتے ہیں میری طرف میرا تعلق عمارت سے بہت نیچے اور غربت سے تھوڑے اُوپر گھرانے سے تھا، میرے والد ایک متقی عالمِ دین اور چھوٹی سطح کے کا شتکار تھے۔ ظاہر ہے وہ مجھے کسی مہنگے تعلیمی ادارے میں پڑھانا افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ اس لئے سب بہن بھائیوں میں چھوٹا اور لاڈلا ہونے کے باوجود بھی یہ لاڈلا گاؤں کے ٹاٹ سکول میں پڑھتا اور کھیتوں سے بھینسوں کے لئے چارہ لاتا۔ رات کو والد کے پیر دباتا، اور اپنی بیمار ماں کے لئے گاؤں کے واحد ڈاکٹر سے دوائی لاتا رہا۔ اس ماحول میں میں نے گاؤں کے سکول سے میٹرک کیا۔ تو میرے والد پر میرے تعلیم کا بوجھ قطعًا نہیں پڑا تھا۔
آگے کے تعلیمی ادارے بھی وہی تھے جس میں مجھ جیسے بہت سے نوجوان پڑھتے رہے۔ اس پسِ منظر کے ساتھ میں نے بھی اپنی تعلیم مکمل کر لی۔ اور بہت ساری خوش قسمتی اور تھوڑی سی قابلیت کی وجہ سے اس ادارے سے وابستہ ہوا۔ جس سے تم جیسے ایلیٹ کلاس کا نمائندہ اور مہنگے تعلیمی اداروں کا پڑھا ہوا بھی وابستہ ہے۔
اب میرے سپیلنگ کو چھوڑو اور ذرا یہ حساب کتاب کر لو کہ تمھارے والد کے تم پر لاکھوں روپے بھی لگے اور تم اپنے والدین کی خدمت سے بھی محروم رہے۔ جبکہ میری تعلیم میرے والد پر کبھی بھی مالی بوجھ نہ ڈال سکا۔
اور میں اپنے والدین کی بچپن سے ہی دُعائیں سمیٹتا رہا۔ اب ہم دونوں الگ الگ اور مختلف پسِ منظر رکھنے کے باوجود بھی ایک جیسے پوزیشن پر ایک جیسے ادارے سے وابستہ ہیں اور ہاں تمھارے شوق اتنے مہنگے اور جدید گاڑیاں ہیں۔ جبکہ میرے شوق کتابیں اور حرف و لفظ ہیں۔ تمھارا شوق ہمیشہ تمھارا پیسہ کھینچتا ہے اور میرا شوق ہمیشہ میرے لئے عزت اور شہرت کھینچتا ہے۔
تمھارے انگلش میڈیم نے یقینًا تمہیں تگڑی انگریزی سے نوازا لیکن تمھارا بہت کچھ چھینا بھی اور میرا ٹاٹ میڈیم مجھے توانا انگریزی تو نہ دے سکا لیکن میری جھولی ماں باپ کی دُعاؤں اور رشتوں کے احساس اور گردو پیش کے سماجی شعور سے بھر دی۔ جو زندگی کے دشت میں مہربان اشجار کی مانند میرے سر پر سائےکیے ہوئے ہیں، اور ایک بات اور میرے دوست یا تو تم بہت نا لا ئق جو ان ایلیٹ کلاس تعلیمی اداروں سے پڑھ کر ایک ٹاٹ کلچر والے کے ساتھ جا بیٹھا اور یا میں بہت قابل ہوں جو اپنے کمزور پسِ منظر سے اُٹھ کر تم جیسے ایلیٹ ایجوکیشن والے کے پاس جا بھیٹا۔ میں نے بات ختم کی تو میرے دوست نے ٹشو باکس سے ٹشو کھنچا اور اپنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے کہا کہ اس پر تو میں نے زندگی بھر سوچا بھی نہیں تھا۔
لیکن یہ سب کیا ہے؟
میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ تمھارے اس سوال کا جواب ان لوگوں کے پاس دستیاب ہوتا ہے، جنہیں کامل یقین ہوتا ہے کہ اللہ تعا لٰی نے کسی کی طاقت یا بے بسی اور منصوبہ بندی یا سادگی سے بے نیاز ہوکر فیصلے کرتا ہے۔ صرف اپنے ہی علم اور اپنے ہی قدرت کے بل بوتے پر اس کا سارا دارومدار انصاف پر ہے۔


