کالم نگاروں کے حق میں ایک کالم

ذہن میں روشنی اور ہاتھ میں قلم یقیناً اللہ تعالی کی شاندار نعمتوں میں سے ایک ہے۔ لیکن جب عملی طور پر آپ اس کا اظہار کرنے لگیں تو سچائی سے رشتہ جوڑ کر ایک لکھنے والا ہی جانتا ہے کہ اسے کس طرح کی مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر خصوصی طور پر جب آپ کا تعلق صحافت کے شعبے سے ہو کیونکہ یہاں آپ سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کرتے ہیں پارٹی رہنماؤں کو بھی ٹوکتے ہیں حکومت سے بھی الجھتے ہیں کارکردگی پر سوال بھی اٹھاتے ہیں کرپشن اقرباء پروری اور مس منیجمنٹ پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں جھوٹ کو بھی پکڑتے ہیں وعدے بھی یاد دلاتے ہیں عوام کے احتجاج اور چیخ و پکار کو بھی حرف و لفظ فراہم کرتے ہیں اور شخصی کمزوریوں پر بھی نگاہ رکھتے ہیں۔

Read more

یہ ہے اس تبدیلی کا شاخسانہ

تحریک انصاف حکومت سے پہلے جی ڈی پی گروتھ ریٹ 5.08 پر پہنچ گیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے اپنی ”شاندار معاشی پالیسی“ کی بدولت اسے منفی 1.05 پر گرا کر دم لیا ڈالر تب سو روپے پر باندھ دیا گیا تھا مگر موجودہ حکومت کے آتے ہی ناتجربہ کاری اور بے بصیرتی کے سبب ڈالر کو بال و پر فراہم کیے گئے اور وہ ایک سو ساٹھ سے اوپر پرواز کر بیٹھا۔

گیس کا بل جو چند سو روپے سے آگے نہیں بڑھتا تھا اس میں % 225 کا اضافہ ہوا اور اب گیس بھی ایک لگژری کی صورت اختیار کر گئی جس نے لوگوں کی چیخیں نکال دیں۔

Read more

ھسپتالوں میں قومی ہیروز

صحافی نے نوجوان ڈاکٹر کی طرف مائیک بڑھاتے ہوئے پوچھا کہ ڈاکٹر صاب کیا آپ کو معلوم ہے کہ قوم آپ لوگوں سے کتنا پیار کرتی ہے؟ نوجوان ڈاکٹر نے ایک مقدس جذبے اور میٹھی معصومیت کے ساتھ جواب دیا کہ خدانخواستہ قوم پیار نہ بھی کرے تو ہم پھر بھی اسی جذبے کے ساتھ…

Read more

وہ صحافت اور یہ صحافت! کچھ مزید باتیں

کیتھرین کیٹ ایڈی کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے پروفیشنل صحافت پر بات کومزید آگے بڑھاتے ہیں۔ وہ 1945 کو برطانیہ کے علاقے نارتھ امبر لینڈ میں پیدا ہوئی۔

ساٹھ کے عشرے میں نیو کاسل یونیورسٹی سے سکینڈے نیوین سٹڈیز پر جرنلزم کی ڈگری حاصل کی اور صحافت کے میدان میں آئی اسے ایک پروفیشنل اور حد درجہ دلیر صحافی کی حیثیت سے شہرت ملتی گئی کچھ عرصہ بعد وہ بی بی سی سے وابستہ ہوئیں۔

Read more

اینکر زدہ صحافت کو راہ راست پر لانے کا وقت ہے

جینٹ لیسلی کک اسی کے عشرے میں واشنگٹن پوسٹ سے انوسٹی گیٹیو جرنلسٹ کی حیثیت سے وابستہ تھی۔ چونکا دینے والی خبروں کی تلاش میں اسے بہت مہارت حاصل تھی۔ جینٹ لیسلی کک کے قارئین بے چینی کے ساتھ اس کی سٹوری کے منتظر رہتے اور وہ ہر ہفتے کوئی نہ کوئی چونکا دینے والی…

Read more

حامد میر سوال کا مجرم ہے

یعنی ایک احمقانہ اور ضدی جاہلیت کا بیانیہ یہ ہے کہ سوال بھی وہ پوچھیں جو ہمیں وارا کھاتا ہو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو ہم اپنی تربیت کے مطابق سلوک کریں گے۔ مولانا طارق جمیل صاحب کا زہد و تقوی تو ایک بہانہ ٹھہرا ورنہ اسی الیکٹرانک میڈیا کے گماشتوں نے تو…

Read more

اُجڑے چمن کا مالی، گریہ اور غریب لوگوں کا علاج

مولانا طارق جمیل حسب معمول ٹی وی سکرینوں پر نمودار ہوئے اور پھر جذبات کی رو میں ایسے بہتے چلے گئے کہ نہ ہاتھ باگ پر تھا نہ پاؤں رکاب میں، کیونکہ وزیراعظم عمران خان سامنے تھے اور مولانا کے مخاطب بھی وہ تھے۔ ظاہر ہے مولانا کے جذبات کا سمندر ٹھاٹیں مار رہا تھا۔…

Read more

دنیا بعد از کورونا

اگر سب سے پہلے ہم کورونا کے عذاب کو قرآن پاک کے اس حکم کے مطابق ہی پرکھیں جہاں اللہ تعالی فرما تے ہیں کہ بعض چیزیں آپ کے لئے پریشانی کا باعث بنتی ہیں لیکن اس میں دراصل آپ کے لئے بھلائی اور خیر ہی پوشیدہ ہوتا ہے۔ تو اذیت اور کرب کے ان…

Read more

مولوی محمد باقر سے میر شکیل الرحمٰن تک

پتا نہیں اس بوڑھے اور بیمار آدمی کو کیا پڑی ہے کہ اسے تند ہواؤں کے مقابل چراغ جلانے کا جنون ہے۔ حالاں کہ وہ میر خلیل الرحمٰن کا بیٹا ہے، جس نے اپنی پرخلوص جدوجہد اور شبانہ روز محنت کے مہ و سال گزارنے کے بعد اس ملک کا سب سے بڑی میڈیا ہاوس…

Read more

خون آشام کورونا سے ملاقات

مصروف ترین روڈ پر بھی ایک گمبھیر سناٹا تھا میں نے مڑ کر دائیں جانب دیکھا تو وہ وسیع و عریض شاپنگ مال اپنی ویرانی کا نوحہ پڑھ رہا تھا جس میں دُنیا بھر کے برانڈز کی دُکانیں امیر لوگوں کو اپنی امارت اور تکبّر کی نمائش کے مواقع فراہم کرتی تھیں، جہاں جوتوں سے…

Read more