تبدیلی کا عذاب اور پیٹ کی حقیقت

نام تو اس نے پہلے ہی سونامی رکھا تھا لیکن تب کسے معلوم تھاکہ عمران خان جوں ہی اقتدار کا زینہ چڑھے گا تو اس کی تبدیلی کا خواب ایک مجّسم عذاب بن کر گلی گلی وہ تباہی پھیلائے گی کہ سونامی بھی منہ چھپاتی پھرے گی، اس بد نصیب مملکت کو اب کے بار ایک عجیب آدمی سے واسطہ پڑا ہے۔

جس کاخیال ہے کہ بائیس کروڑ خلقِ خدا میں کوئی ذی ہوش اور صاحب عقل انسان زندہ ہی نہیں بچا بلکہ سب اس کی اداؤں کی قتیل ہی ٹھہرے، تبھی تو وہ مذہب سے معاشیات اور تاریخ سے سیاست تک دلیل سے عاری اور حقائق سے دور بے ڈھنگی گفتگو کرتے ہوئے سانس تک نہیں لیتا۔

Read more

تاریخ کے ساتھ کھلواڑ

یہی دو طبقے تھے جن کے ہاتھ بہت عظیم اور قابل احترام لوگ آئے اور یہی دو طبقے ہیں جن کے نام پر ہمیشہ وارداتیں بھی کی گئیں۔میں بات کر رہا ہوں مذہبی طبقے اور بائیں بازو عرف عام میں لیفٹسٹ طبقے کی، ہم اوّل الذکر طبقے پر نگاہ ڈالیں تو مولانا قاسم نانوتوی سے انورشاہ کاشمیری تک اور مولانا عبیداللّہ سندھی سے مولانا محمد طاہر پنج پیر تک، مولانا احمد رضا بریلوی سے شاہ احمد نورانی تک اور مولانا حسین علی سے ابولاعلٰی مودودی تک، جدوجہد اور کارکردگی کا ایک قابل فخر اور لھلھاتا ہوا زرخیز سلسلہ ہے لیکن ہم لوگ آخر کتنا جانتے ہیں کہ ان عظیم لوگوں نے اپنی پُر خلوص جدوجہد کے لئے ذاتی حیثیت میں کتنی صعوبتیں اُٹھائیں اور اُنھوں نے اپنے مشن اور پیغام کے ذریعے کتنی روشنی بانٹی لیکن اس حقیقت سے کون آنکھیں چُرائے گا کہ اس مذہبی طبقے سے وہ کردار بھی برآمد ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے مفادات کے لئے انتہائی بے دردی کے ساتھ نہ صرف مذہب کو استعمال کیا بلکہ بعض اوقات معاشرے کو جہالت، بربادی حتٰی کہ خوں ریزی کی طرف دھکیلا اور یہی وہ چیز ہے جس نے مذہبی طبقے کے خلاف ایک طاقتور رد عمل کو پروان چڑھایا، جس کی زد میں وہ لوگ بھی آئے جن کی کارکردگی انتہائی شاندار اور جدوجہد حد درجہ جینوئن تھی۔

Read more

حضور کریمؐ کی سیاسی کامیابیاں

اگرہم چند لمحوں کے لئے اپنے عقیدے اور فکری بنیاد سے الگ ہو کربھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو سوچیں تو خالص دنیاوی حوالے سے ہاتھ آئی خیرہ کن کامیابیاں ہمیں ششدر کر دیتی ہے۔ کیونکہ اگر ہم سکندر اعظم، نپولین اور ہٹلر کو لیں تو ان کی زندگی ایک سپہ سالار اور فاتح جنگ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ گوتم بدھ کی زندگی ریاضت اور عبادت کے گرد گھومتی ہے، جبکہ افلاطون اور ارسطو صرف حکیم اور فلسفی تھے، جبکہ اس کے بر خلاف رسولِ عربیؐ کی زندگی ہمہ جہت حیثیت کی حامل ہے۔

Read more

ایک امید بھری ملاقات کی روداد

یہ ایک مستطیل کمرہ ہے نفاست سے سجا ہوا، جس کے کھڑکیوں کے باہر شیشے کے اس پار ہرے ہرے لان دور تک پھیلے ہوئے ہیں۔ کمرے کے غربی حصّے میں ترتیب کے ساتھ چند صوفے رکھے ہیں۔ ابھی ابھی دو سینئیر افسران مجھے لے کر اس کمرے میں داخل ہوئے اور میرا میزبان (…

Read more

لکھاریوں کا المیہ اور میڈیا کی غنودگی

ایک انگریز مفکر نے کہیں لکھا تھا کہ میرا خلوص مجھے وہاں بھی بچا لیتا ہے جہاں میری عقل بے بس نظر آتی ہے، سو ہم جیسے لکھنے والوں کے ساتھ یہی واقعات ہوتے ہیں اور بارہا ہوتے ہیں۔ حیرت اس بات پر نہیں ہوتی کہ ایک جنون خیز جذبے کے ساتھ ہم ”ریڈ لائنز“ کے اس پار چلے جاتے ہیں بلکہ حیرت اس پر ہوتی ہے کہ ہم زندہ سلامت بھی رہ جاتے ہیں وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں آزادی اظہار کا تقاضا بھی غداری کے زمرے میں آتا ہے اور جہاں گلی گلی بندوق عدالت لگاتی اور فیصلے سناتی پھرتی ہے لیکن ان عوامل سے الگ یہاں ہر شخص نے اپنی اپنی ریڈ لائن کھینچی ہے اور وہ آپ کی تحریروں میں اپنی خواہش کا عکس دیکھنے کا متمنّی ہوتا ہے لیکن اگر معاملہ اس کے برعکس ہو توپھر الزامات بہتان طرازی اور نایاب گالیوں کی بوچھاڑ سے آپ کا واسطہ دیر تک پڑا رہے گا۔

Read more

ایک پختون پاکستانی کا تپتا ہوا کالم

یہ پی ٹی ایم کے رہنما محسن داوڑ کا ذاتی بیانیہ ہے پختون قوم کا اجتماعی بیانیہ ہرگز نہیں لیکن ٹھہرئیے پہلے ماضی قریب کے اس خوں چکاں اور بے رحم ماضی پر نگاہ کرتے ہیں جس نے وزیرستان کی روایت پرست اور تنہائی پسند پختونوں کو انسانیت سوز مظالم سے دوچار کیا۔ کون سا ظلم ناروا تھا جس نے ان کے درو بام نہیں اجاڑے۔ کون سا ایسا خاندان تھا جن کی دہلیز پر خون ناحق نہیں ٹپکا۔ کون سا ایسا گھر تھا جس کے مکینوں نے رُلا دینے والی ہجرت کا عذاب نہیں سہا اور کون سا ایسا فرد تھا جس نے دہشت اور بربریت کے موسموں میں اپنی سانسیں نہیں گنیں۔

ظاہر ہے ان حالات سے ایک مظلومیت بھرے رد عمل کا اُبھرنا تھا اور پھر ایسا ہی ہوا ایک گمنام نوجوان منظور پشتین اپنے آنسوؤں سمیت ایک خوفناک نعرے کے ساتھ منظر پر اُبھرا اور متاثرہ منطقے میں بلخصوص مقبولیت کے معراج پر پہنچا جو ایک منطقی بات تھی۔

Read more

جھوٹی جنت کا دعویدار

تینوں نوجوان ایران کے مشھور علمی شہر نیشاپور میں اپنے اپنے علاقوں سے علم حاصل کرنے پہنچے اور تینوں قریبی دوست بنے ان میں سے ایک کا نام عمر اور دو نوجوانوں کے نام ایک جیسے یعنی حسن تھے۔تینوں کو آگے چل کر قدرت نے لازوال شہرت عطا کی۔ پہلے دو دوستوں کی شہرت کے ساتھ احترام اور محبت وابستہ ہے کیونکہ عمر نامی نوجوان بعد میں عمر خیام جبکہ حسن نام کا پہلا نوجوان خراسان کے سلجوقی حکمرانوں کا انتہائی ذھین اور قابل اعتماد وزیراعظم بنا جسے دُنیا نظام الملک طوسی کے نام سے جانتی ہے۔ جبکہ ان کے برعکس تیسرے دوست کو وہی شہرت ملی جو ابلیس کو ملی تھی کیونکہ اس کا مسلک وہی تھا جس پر ابلیس ہمیشہ اُتراتا رہا۔ یعنی انسانوں کو گمراھی اور بربادی کی طرف دھکیل کر اس پر تکبر بھی کرنا۔

Read more

روشن فکر اور تاریک دنیا کا ایک سیاسی کارکن

اسے توصحیح طرح سے یاد بھی نہیں کہ اپنی پاٹی سے پُر خلوص وابستگی اور اپنی بد بختیوں کا آغاز اس نے عمر کے کس حصّے میں کیا شاید نوجوانی سے بھی بہت پہلے کہیں بچپن کے آس پاسلیکن ٹھہرئیے اگر ہم لکھنے والے سیاسی لیڈروں کی کرپشن اور بے تحاشا جھوٹ سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کے ”اقوال زریّن“ پر روز و شب بحث کرتے اور صفحے کے صفحے سیاہ کر سکتے ہیں تو کیا ایک گمنام لیکن حد درجہ مخلص سیاسی کارکن کا حق نہیں بنتا کہ اس کی قربانیوں کے طویل سلسلے اور غضب کی نظریاتی کمٹمنٹ کو موضوع سخن بنائیں۔

Read more

نہیں جناب حکومت چلانا آسان نہیں ہوتا

بہت پرانی بات ہے کہ فردوس جمال کو طارق عزیز نے اپنے پروگرام نیلام گھر میں بلایا تو سوال پوچھاکہ فردوس اداکاری اور پرفارمنگ آرٹ میں آپ نے ایک طویل عرصہ گزارا اور ایک زمانے سے اپنے فن کا خراج لیا بتائیے کہ اداکاری مشکل کام ہے یا آسان؟پڑھے لکھے اور دانشمند فردوس جمال نے سوال سنا تو لمحہ بھر کو کسی گہری سوچ میں ڈوب گئے اور پھر اپنے سر کو کھجاتے ہوئے طارق عزیز کی طرف دیکھ کر کہا طارق صاحب جن کو صحیح معنوں میں اداکاری آتی ہے اُن کے لئے یہ ایک مشکل کام ہے لیکن جن کو نہیں آتی اُن کے لئے بہت آسان ہے۔

Read more

عمران خان کا آخری اقتدار

ذوالفقار علی بھٹو تب ایک طاقتور مقبول رہنما کے طور پر منظر پر اُبھرے، جب تاریخ کا منہ زور دھارا سب کچھ تلپٹ کر رہا تھا مشرقی پاکستان کا سانحہ رونما ہو چکا اور نوے ہزار فوج ہندوستان میں قید ہوگئی تھی بھٹو نے وزارت عظمٰی سنھبالی تو اس کی ذات طاقت کا مرکز ٹھہری…

Read more
––>