لیڈر جیسنڈا آرڈرن جیسے ھوتے ہیں

وہ پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہوئی تو حد درجہ سنجیدہ لیکن اس سے کہیں زیادہ غمگین تھی اس کی اسی سنجیدگی اور غمگینی نے اسے دنیا کے سامنے سب سے زیادہ ذمہ دارکمٹد اور مضبوط لیڈر کے طور پر پیش کردیا ہے ایک طرف اس کی اداس ہمدردی لاکھوں کروڑوں انسانوں کی آنکھیں نم کر چکیں تو دوسری طرف اس کے غصے سے ڈونلڈ ٹرمپ بھی کانپ اٹھا تھا (آگے اس کاذکر آئے گا)وہ پارلیمنٹ میں داخل ہوئی تو ایک سناٹا چھا گیا تمام ممبران پارلیمنٹ اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے گوش بر آواز تھے دنیا بھر کے اھم ٹیلی وژن چینلوں کے کیمرے اس پر فوکس کیے ہوئے تھے وہ اپنی نشست پر پہنچی اپنا مائیک آن کیا اور انگریزی زبان کے علاوہ دوسری زبانوں مثلا عربی اردو وغیرہ سے نا بلد ہونے کے باوجود تقریر کا آغاز کرتے ہوئے شستہ لہجے میں السلام علیکم کہا اور چند سیکنڈ کے اندر اندر اس نے پوری دنیا کو یہ میسج دے دیا کہ میں بات انسانوں اور میری زمین پر ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کے حوالے سے کرنے والی ہوں کسی کے مذہب اور عقیدے کے حوالے سے نہیں۔

Read more

بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کی فردِ جرم

11مارچ کو مرحوم بریگیڈیئر ریٹائرڈاسد منیر نے ٹویٹر پر ناصر کاظمی کا شعر لکھا!
کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی

ظاہر ہے ایسے شعر کے سحر میں گم ہونے سے کوئی بہت بد ذوق آدمی ہی بچے گا لیکن شعری لطف کے ساتھ میں ایک بار پھر چونکا کیونکہ کچھ عرصے سے اس کے ٹویٹس خلافِ معمول اور کسی گہرے دکھ اور بے بسی کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔

میرا اندیشہ صحیح ثابت ہوا۔

Read more

مضبوط اور پراسرار نواز شریف

میاں نواز شریف اور اس کا خاندان دل دھلا دینے والی صعوبتوں اور دلآزار موسموں کے سامنے ہیں ابھی بخت انگڑائی اور سرکش ہوائیں تمھنے کا نام نہیں لے رہی ہیں لیکن جب کبھی مخالف سمت سے اُٹھنے والی ہوا تاریخ کا ورق پلٹے گی اور چونکا دینے والے حقائق نوشتہ دیوار بنیں گے تو مہ و سال پر پیھلی بے ثمر محبتوں اور رائگاں عقیدتوں کا روپ کیا ہوگا؟ابھی سازگار رتوں اور آسودہ فضاؤں کا وہ موسم اس بد نصیب زمین پر نہیں اُترا جس میں ایک سہولت کے ساتھ اس طرح کے سوال اُٹھائیں جائیں یا ان کی تلاش میں نکلا جائے لیکن ابھی سفاک روزوشب میں ایک آدمی خاک اوڑھتی شریک حیات مصائب و آلام کے شکار خاندان اور تیزی کے ساتھ اپنی گرتی ہوئی صحت کے باوجود بھی اپنے اس مؤقف پر دلیری کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے۔

Read more

عمران خان کے چند اچھے فیصلے

ان کالموں کے قارئین اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں کبھی عمران خان کی شخصیت اور سیاست سے متاثر نظرنہیں آیا کیونکہ آمریت پسند سیاست گالم گلوچ، بہتان طرازی، یو ٹرنز اور چور ڈاکو جیسا لہجہ اور سیاست مجھے اپنے اس بے بنیاد اور جذباتی سحر میں نہ جکڑ سکیجس نے کنٹینر کے ارد گرد ایک بے ثمر اور نتیجہ غافل غول کو اکٹھا کیا بلکہ میں ان لکھاریوں میں سے ایک تھا جنھوں نے اپنی پوری قوّت اور شّدت کے ساتھ اس بد رنگ سیاست کے خلاف اپنی آواز کو بلند رکھا اور ہمیشہ ہی بلند رکھا اس سلسلے میں کوئی حرصِ کرم یا خوفِ خمیازہ میرے قلم کا رُخ نہیں موڑ سکی بلکہ ہمیشہ وہی لکھا جو میرے ضمیر پر کبھی تنکے کے برابر بوجھ بھی نہ ڈال سکی۔سو اس مزاج اور قلم درازی کے باوجود بھی اگر اُمید کی ننھی ننھی کرنیں اس گھپ اندھیرے میں نظر آئیں تو بجائے اس کے کہ عمران دُشمنی میں اسے نظر انداز کیا جائے کیوں نہ اسے اُمید سحر کی پیامبری اور خوش امیدی کے سلیقے سے برتا جائے۔

Read more

کچھ بھی اتفاقاً نہیں ہوتا

فون کرنے والے اجنبی شخص نے بتایا کہ اس نے میری تحریریں پڑھیں اور کہیں سے میرا نمبر لے کر فون کیا وہ انکساری اور شائستگی کے ساتھ اسرار کر رہا تھا، کہ میں ان کے ساتھ چائے پی لوں وہ اپنی بزرگی کے باوجود بہت معصومیت کے ساتھ کہہ رہا تھا کہ میرا گھر آپ کے بالکل قریب ہے آپ کو زیادہ زحمت نہیں کرنا پڑے گی۔ بادل نخواستہ میں نے ان کی دعوت قبول کر لی اور دوسرے دن ان کے محل نما گھر میں ان کے سامنے بیٹھا تھا تھوڑی دیر بعد انواع و اقسام کی چیزیں ہمارے سامنے میزوں پر دھری ہوئی تھیں نوکر ادھر ادھر ٹہل رہے تھے لیکن اس سب کچھ کے با وجود میں محسوس کر رہا تھا کہ اس پر اپنی امارت کی بجائے ایک گہری لیکن آسودہ روحانیت کا غلبہ ہے اس نے اپنی کہانی شروع کی۔

Read more

کیا جنیوا معاہدہ صرف ابھینندن پر لگتا ہے، 71 سے قید سپاہی بنات خان پر نہیں؟

وہ اسی وطن کا بیٹا تھا اور اسی وطن کے لئے لڑ رہا تھا لیکن نصف صدی ہونے کو آئی اور کسی نے مڑ کر پوچھا بھی نہیں کہ وہ زندہ بھی ہے یا دُشمن ملک کے کسی جیل میں اپنوں سے دوری، بے گناہی اور بے وطنی کے عذاب جھیلتے جھیلتے اپنی آزادی کے خوابوں اور گھر لوٹنے کی حسرتوں سمیت مر گیا ہے۔ یہ ایک فوجی سپاہی بنات خان کی دلدوز کہانی ہے۔ بنات خان کا تعلق ضلع صوابی کے مشہور گاؤں پنج پیر سے تھا۔ چھ فٹ لمبا قد اور اسی طرح سُرخ و سفید رنگت جو ان علاقے کے لوگوں کا عمومی طور پر خاصا ہے ساٹھ کے عشرے میں جب وہ بائیس سال کا ایک خوبرُو نوجوان تھا وہ پاک فوج میں بحیثیت سپاہی بھرتی ہوا اب گاہے وہ چھٹی پر اپنے گاؤں آتا اور کبڈی کے میدان میں اُترتا تو تماشائی دنگ رہ جاتے کیونکہ ایسی جوانی اور ایسی طاقت بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔

Read more

جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی

یکم ستمبر 1939 ء کو جرمن فوج پولینڈ میں داخل ہوئی اور اسی دن اس جنگ کا آغاز ہوگیا۔ جسے ہم دوسری جنگِ عظیم کے نام سے جانتے ہیں، اور جس میں اکسٹھ ممالک نے حصّہ لیا (کل دُنیا کے % 80 ) جبکہ یہ جنگ چالیس ملکوں کی زمین پر لڑی گئی۔ جنگ کی تباہ کاری کا اندازہ اس سے لگائیں کہ صرف روس کے ستّر ہزار گاؤں اور بتیس ہزار کارخانے راکھ کا ڈھیر بن گئے تھے۔ چھ سال بعد یہ جنگ اختتام کو پہنچی تو ہیروشیما سے برلن اور لندن سے سٹالن گراڈ تک موت ہی موت تھی۔

جنگ شروع کرنے والے اٹلی کے مسولینی کو اپنے ہی عوام نے 28 اپریل 1945 ء کو اٹلی میں مار دیا جبکہ دو دن بعد یعنی 30 اپریل کو اس کے ساتھی جرمنی کے ہٹلر نے بھی خودکشی کر لی لیکن تب تک پانچ کروڑ افراد مارے جا چکے تھے اور دُنیا کے ایک بڑے حصّے خصوصًا یورپ سے دھواں اُٹھ رہا تھا اور سوگواروں کی تعداد لاشوں سے بھی کم رہ گئی تھی۔

Read more

وہ ریاست مدینہ اور یہ ریاست مدینہ

تاریخ پر طویل بحث کی بجائے چلیں ہم ریاستِ مدینہ کا ذکر صرف حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت تک محدود کرتے ہیں جو انسانی تاریخ کی بہترین انتظامی سیاسی اور فوجی اصلاحات کا ایک زریّں دور ہے، لیکن سب سے پہلے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ مثالی ریاست تب وجود میں آئی جب ریاست کے سربراہ نے اپنے آپ کو وی آئی پی سٹیٹس اور پروٹوکول سے الگ کرکے عوام میں شامل کر لیا اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں تھا کہ انتظامی گرفت پر اثر پڑا بلکہ عام لوگوں کے مسائل سے شناسائی اور قریبی رابطے نے خلیفہ کے منصب کو کہیں زیادہ اعتماد اور وقار بخشا جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ انتہائی سخت لیکن شاندار فیصلے کرنے کی پوزیشن میں آئے، اور اس کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ عوام (رعایا) کو اپنے حاکم کے اخلاص، ایمانداری، تدبّر اور تعمیر وترّقی کے وژن پر ذرہ برابر شبہ بھی نہیں رہا تھا۔

Read more

بات پابندیوں سے نہیں بنتی

صحافی اور قلم کار اری ٹیرین صدر عیسٰی ایزافورکی کے ان جابرانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف حرکت میں آئے تو جبر کا اژدھا (اری ٹیرئن صدر) ان کی طرف پلٹا اور انہیں ہڑپ کرنے لگا اس نے ایک صدارتی حکم جاری کیا کہ جو بھی صحافی یا قلم کار مخالفت کرے گا تو عدالتی کارروائی یا ٹرائل نہیں ہوگا بلکہ صرف سزا سنائی جائے گی اور وہ بھی سخت سزا۔ دو ہزار ایک میں اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور ملک بھر میں آزادی صحافت پر نہ صرف پابندی لگا دی گئی بلکہ ان اداروں سے وابستہ تقریبًا تمام صحافیوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا، جہاں بہت سے صحافی مار دیے گئے۔

Read more

جدید میڈیا کا میدان اور درپیش چیلنجز

عرب شاعر کا قبیلہ میدان میں اترا تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھا اور اپنے قبیلے کا قصیدہ پڑھا کہ ”ھماری تلواریں ہمیشہ دشمنوں کے خون سے سیراب ہوتی ہیں ہمارے پہاڑ وں کی بلند قامتیں اور صحراؤں کے چوڑے سینے ہمارے قبیلے کی فطرت کو واضح کرتی ہیں“ اس لئے میں نے پہلے بھی لکھا کہ قدیم عربوں میں شاعر قبیلوں اور معاشرے کا مرکزی نقطہ فکر ہوا کرتے تھے کیونکہ شعراء کو ذریعہ اظہار کی تمام قوّت میّسر تھی۔ جس میں ذہانت، الفاظ اور مجمع سرِ فہرست ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں کی ذہنی تربیت اور اُٹھان اسی لافانی شاعری کے سائے میں پروان چڑھی جو اس معاشرے کا ایک اھم جز تھی، میں چونکہ اس دور کی عربی شاعری اور شاعر کو میڈیا کا ابتدائی زمانہ سمجھتا ہوں۔

اس لئے میرا خیال ہے کہ قوموں کی اجتماعی نفسیات اور روّیوں کی تشکیل میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم اور بنیادی ہوتا ہے، سو ہم زمانہ حال میں جب اپنے قومی روّیے میں تشّدد، اخلاقی گراوٹ، اقدار کی پامالی اور بہتان طرازی کے بڑھتے ہوئے تناسب کو شّدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں تو ان منفی عوامل کا کھوج ہمیں سب سے پہلے جدید میڈیا کے دروازے پر لا کھڑا کر دیتا ہے۔

Read more