بات پابندیوں سے نہیں بنتی

صحافی اور قلم کار اری ٹیرین صدر عیسٰی ایزافورکی کے ان جابرانہ اور غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف حرکت میں آئے تو جبر کا اژدھا (اری ٹیرئن صدر) ان کی طرف پلٹا اور انہیں ہڑپ کرنے لگا اس نے ایک صدارتی حکم جاری کیا کہ جو بھی صحافی یا قلم کار مخالفت کرے گا تو عدالتی کارروائی یا ٹرائل نہیں ہوگا بلکہ صرف سزا سنائی جائے گی اور وہ بھی سخت سزا۔ دو ہزار ایک میں اس نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی اور ملک بھر میں آزادی صحافت پر نہ صرف پابندی لگا دی گئی بلکہ ان اداروں سے وابستہ تقریبًا تمام صحافیوں کو جیلوں میں ٹھونس دیا گیا، جہاں بہت سے صحافی مار دیے گئے۔

Read more

جدید میڈیا کا میدان اور درپیش چیلنجز

عرب شاعر کا قبیلہ میدان میں اترا تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھا اور اپنے قبیلے کا قصیدہ پڑھا کہ ”ھماری تلواریں ہمیشہ دشمنوں کے خون سے سیراب ہوتی ہیں ہمارے پہاڑ وں کی بلند قامتیں اور صحراؤں کے چوڑے سینے ہمارے قبیلے کی فطرت کو واضح کرتی ہیں“ اس لئے میں نے پہلے بھی لکھا کہ قدیم عربوں میں شاعر قبیلوں اور معاشرے کا مرکزی نقطہ فکر ہوا کرتے تھے کیونکہ شعراء کو ذریعہ اظہار کی تمام قوّت میّسر تھی۔ جس میں ذہانت، الفاظ اور مجمع سرِ فہرست ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان معاشروں کی ذہنی تربیت اور اُٹھان اسی لافانی شاعری کے سائے میں پروان چڑھی جو اس معاشرے کا ایک اھم جز تھی، میں چونکہ اس دور کی عربی شاعری اور شاعر کو میڈیا کا ابتدائی زمانہ سمجھتا ہوں۔

اس لئے میرا خیال ہے کہ قوموں کی اجتماعی نفسیات اور روّیوں کی تشکیل میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم اور بنیادی ہوتا ہے، سو ہم زمانہ حال میں جب اپنے قومی روّیے میں تشّدد، اخلاقی گراوٹ، اقدار کی پامالی اور بہتان طرازی کے بڑھتے ہوئے تناسب کو شّدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں تو ان منفی عوامل کا کھوج ہمیں سب سے پہلے جدید میڈیا کے دروازے پر لا کھڑا کر دیتا ہے۔

Read more

محبوب شاہ کا خواب اور بوڑھے صوفی کی بات

محبوب شاہ ایک ادارے میں گزشتہ تیس سال سے کلاس فور کا ایک معمولی ملازم ہے۔ اور وہی زندگی گزار رہا ہے جو اس طرح کے لاکھوں لوگ اس مملکتِ خدادا میں گزارتے ہیں۔ اپنی غربت بے تحاشا مسائل اور بے بسی کے ساتھ محبوب کی بیٹیاں جوان ہوتی گئیں اور اس کے ناتواں کندھوں کا بوجھ بنتی گئیں۔

وہ اپنی بہت ہی معمولی تنخواہ پر بینک سے قرض پر قرض لیتا رہا اور بیٹیوں کو رُخصت کرتا رہا اس کا بال بال قرض میں جکڑتا گیا اور بینک کی چاندی ہوتی گئی اور جب یکم تاریخ آتی تو بینک اس کی پوری تنخواہ پر جھپٹ جاتا اور وہ خالی آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھ کر اپنی بے بسی بانٹتا رہتا۔

ایسے ہی دنوں میں ایک دن وہ بھی آیا، جب روزے ختم ہونے کو تھے اور عید سر پر کھڑی تھی۔ دفتر کے ملازمین اپنی اپنی تنخواہیں لے کر سودا سلف لینے نکل رہے تھے تو محبوب گہری سوچوں میں غرق کمرے کے ایک کونے میں اکیلا بیٹھا اپنی چادر کے پلُو سے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔

Read more

مجھے معلوم تھا تم آؤ گے

اُنّیس سو بیس کے لگ بھگ جب تُرکی اپنی بقاء کی آخری اور فیصلہ کن جنگ لڑ رہا تھا، تو ایک دن ترک فوج کے ایک میجر اپنے دو سپاہیوں کے ساتھ دشمن کے نرغے میں آگیا۔ اور شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔ میجر اور ایک سپاہی نے بھاگ کر مورچے میں پناہ لی، جبکہ ان…

Read more

اخباری وارداتیں اور حقائق کی گمشدگی

مارشل لاء حکومت کے صوبائی گورنر جو ایک سرونگ جنرل بھی تھے نے نوجوان کپتان کو ستائش بھری نظروں سے دیکھا اور اسے اپنا اے ڈی سی بننے کی ”پیشکش“ کی کپتان نے پیشکش کو والد کے مشورے سے ”مشروط“ کیا لیکن دوسرے دن والد نے جنرل کے خاندان پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا تم اس پر چھتری تانے کیسے لگو گے۔ سو دوسرے دن جنرل کو پیغام دیا گیا کہ پیشکش مسترد کردی گئی ہے۔

یہ ایک مشہور کالم نگار کے کالم کا ایک حصہّ تھا، جو کئی سال پہلے ایک قومی روزنامے میں چھپا اورجس جس صاحب عقل نے پڑھا تو سر پیٹ کر رہ گیا کہ وہ کون سی فوج ہے جس میں ایک جنرل کپتان سے درخواست کرتا ہے اور پھر حقارت کے ساتھ اسے مسترد بھی کیا جاتا ہے۔ کیونکہ پوری دنیا میں رائج دستور ہے کہ فوج میں سخت ڈسپلن کے ساتھ حکم اور تعمیل کا سلسلہ ہی چلتا ہے۔ پیشکش، والد، مشورہ اور خاندانی حوالہ نہیں چلتے۔

Read more

ساہیوال واقعہ اور خون خاک نشیناں

بس یوں ہوا کہ ایک چھوٹے سے خاندان نے نئے نویلے کپڑے پہنے۔ بچوں کو نہلا دُھلا کر تیار کیا اپنی استعداد کے مطابق حاصل کی گئی چھوٹی سی سوزوکی کار میں بیٹھے اور پنجاب کی ایک تحصیل بورے والا میں اپنے عزیزوں کے ہاں شادی میں شرکت کے لئے روانہ ہوئے لیکن پھر یوں…

Read more

ثاقب نثار اور تاریخ کا کٹہرا

ثاقب نثار تاریخ کا حصہ بن گئے لیکن تاریخ اس پر اور اس کے عدالتی کردار پر سوال اٹھاتی رہے گی۔ تاریخ پوچھتی رہے گی کہ ایک منتخب وزیراعظم کو ایک ایسے جرم میں کیوں ایوان اقتدار سے نکالا جو اس پر ثابت بھی نہ کر سکے۔ تاریخ یہ پوچھتی رہے گی کہ آپ ایک مخصوص جماعت کے لئے ایک جج کی بجائے ایک مخالف سیاسی ورکر سے بھی کم تر سطح پر کیوں اور کیسے چلے گئے؟

تاریخ پوچھتی رہے گی کہ آپ بد ترین ڈکٹیٹر پرویزمشرف کو کٹہرے میں کیوں کھڑا نہ کر سکے اور کیوں یہ نہ پوچھ سکے کہ دس سال تک اس ملک کی تقدیر سے کھیلنے کا حق آپ کو کس نے دیا تھا؟ آپ ان پر سکون گلی کوچوں میں دہشت گردی والی پراسرار جنگ کیوں اور کہاں سے لے کر آئے جس نے گلی گلی میں خون کی بارش بر سا دی۔ جب کہ اس کے بر عکس عوام کے منتخب وزیر اعظم اور اراکین پارلیمان کے لئے آپ فرعون بنے ہوئے تھے

تاریخ یہ بھی پوچھتی رہے گی کہ راؤ انوار اور احسان اللہ احسان جیسے خونخوارقاتلوں تک قانون کی پہنچ کیونکر ناممکن ہو گئی تھی اور وہ سرعام دندناتے پھر رہے تھے۔

Read more

پختونوں کا میڈیائی مزاج اور زرد صحافت کی پہچان

پختون قوم ہمیشہ فطری طور پر میڈیا کے بہت قریب ہوتی ہے کیونکہ حجرہ یہاں کی سماجی زندگی کا نہ صرف اہم ترین حصّہ رہا بلکہ یہاں کی اجتماعی دانش بھی اسی مرکز سے پھوٹتی رہی۔ حُجرے کی یہی مرکزیت ہی تھی جس نے پختونوں کے مزاج میں با خبری اور خبر تک رسائی کا رنگ بھرا۔ آگے چل کر یہی مزاج جدید دنیا اور میڈیائی ارتقاء سے ہم آہنگ ہونے لگا۔

ہماری نسل سے ذرا اُدھر ریڈیو نہ صرف حجرے کی سب سے اونچی طاق پر پہنچ گیا تھا بلکہ اسی ریڈیو کے سامنے کثرت کے ساتھ لوگ (خصوصًا بزرگ ) بھی نظر آنے لگے تھے اور یہی وہ وقت تھا جب خبریت کا مزاج رکھنے والی قوم کے سامنے خبر کا دائرہ پھیلنے لگا۔

Read more

نایاب لوگوں کو لے جانے والے دو ہزار اٹھارہ کو کون سا نام دیں

یقینًا ہر سال رخصت ہوتے ہوتے بہت سے ایسے لوگوں کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے جن کی جدائی ہمیں مار ڈالتی ہے، لیکن 2018 ء اس حوالے سے بہت سفاک اور بے رحم سال رہا کیونکہ جاتے جاتے وہ کچھ ایسے لوگوں کو بھی لے گیا جو ایک مردہ اور تاریک معاشرے میں کم از کم ایک دیپ تو جلاتے رہے۔

سیاست، انسانی حقوق، اور فن وادب سے وابستہ ان لوگوں کی فتوحات گننے کے بجائے ان کی جدوجھد اور کمٹمنٹ اور اپنے کام سے عقیدت کی حد تک محبت ہی کو پیمانہ بنا کر تجزیہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ رخصت ہوتے ہوئے سال نے ہمیں کن نا یاب ہیروں سے محروم کیا۔

Read more

انصاف اور صرف انصاف

تقریبًا ڈھائی ہزار سال قبل چین کا عظیم فلسفی اور مفکّر کنفیوشس اپنے پیروکاروں کے ساتھ ایک جنگلی علاقے سے گزرا، تو ایک خاتون اپنی جھونپڑی کے دروازے پر اکیلی بیھٹی ملی۔ کنفیوشس خاتون کو دیکھ کر اپنا گھوڑا اس کے پاس لے گیا اور پوچھا کہ تمھارے ساتھ اس گھر میں اور کون رہتا ہے؟

خاتون نے جواب دیا کہ میرا شوہر اور میرا بیٹا میرے ساتھ تھے لیکن اب دونوں اس دُنیا میں نہیں رہے۔
کیوں؟ کیا ہوا ان کو؟

خاتون کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور کہا اس علاقے کے چیتے بہت خونخوار ہیں چند سال پہلے وہ میرے شوہر کو چیڑ پھاڑ کر کھا گئے۔ اور ایک سال پہلے یہی حادثہ میرے اکلوتے بیٹے کے ساتھ بھی پیش آیا۔

Read more