افسانے سے زیادہ حیران کن سچائی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ایک پیچیدہ کہانی تھی اور ایسے ہی پیچیدہ ہمارے خواب ہیں، ٹکڑوں میں دیکھے ہوئے۔ عشروں ، جن کی آبیاری کرتے رہے۔ اس روشن کل کے خواب، جس کا سورج طلوع ہو کر بھی گرہن کے مستقل ہالے میں جھکڑا رہتا ہے۔ لاطینی امریکہ کے تخلیق کار کہانی بننے کے فن میں اتنے ہی یکتا تھے جتنے عثمانی سلطنت کے منی ایچر مصوری کے وہ بوڑھے فنکار جن کی آنکھوں کی روشنی بالاخر ایک دن بجھ جاتی ہے۔

یہ کہانی لاطینی امریکہ کے ایڈیلفو کسارس نے ’The Invention of Morel‘ کے نام سے 1940 میں لکھی تھی۔ ایک مفرور کی کہانی جو قانون سے بھاگ کر ایک متروک جزیرے میں پناہ گزین ہے۔ ایک دن آنکھ کھلی تو دیکھا کہ جزیرے پر کچھ سیاح موجود ہیں۔ کچھ دن چھپتے چھپاتے گزر گئے کہ سیاحوں کے بھیس میں کہیں خفیہ پولیس نہ ہو۔ سیاحوں کو لاتعلق دیکھا تو ہمت بڑھی اور ان کے سامنے آنا شروع کر دیا، خصوصاََ اس لڑکی Faustine کے سامنے جو روز ایک پہاڑ کے ٹیلے سے ڈوبتے سورج کو دیکھنے آتی تھی۔ مفرور کو محسوس ہوا جیسے وہ Faustine کو پسند کرنے لگا ہے۔ ایک دن، بالاخر وہ Faustine کے سامنے کھڑا ہوا۔ مشکل مگر یہ ہوئی کہ Faustine نے اس کی جانب مڑ کر دیکھا تک نہیں۔ دکھ کی گھڑیاں طویل ہو جاتیں اگر کچھ اور حادثات نہ ہوتے۔ پہلا حادثہ یہ ہوا کہ دیگر سیاحوں نے بھی اسے یکسر نظر انداز کر دیا تھا۔ دوسرا یہ کہ ایک دن اچانک سارے سیاح جزیرے سے غائب ہو گئے۔ ایک دن پھر وہی سیاح، وہی لڑکی اور وہی منظر۔ اور آخری حادثہ یوں ہوا کہ ایک دن ایک ہی آسمان پر ایک ہی وقت میں دو سورج طلوع ہو گئے۔

وقت کہانیوں کے بھید کھول دیتا ہے۔ مناظر بار بار خود کو دہرانے لگے تو اسے احساس ہوا کہ یہ تو تصاویر ہیں۔ دیر ہوئی جب سیاحوں کا یہ گروہ اس جزیرے پر آیا تھا۔ گروہ کے سربراہ Morel ، جو ایک زیرک آدمی تھا، نے ایک ایسی مشین بنائی تھی جس نے ان سب کی چلتی پھرتی تصاویر قید کر لی تھیں۔ اب وہ مشین بار بار یہ تصاویر اس جزیرے پر چلا رہی تھی جو بالکل حقیقت معلوم ہوتی تھیں( آج کے دور میں ورچول ریئلٹی سمجھ لیں)۔ کہانیوں کے اختتام ہمیشہ خوش کن نہیں ہوتے۔ اس کہانی کا اختتام بھی خوش کن نہیں ہے۔ انسانی حسرت کا ایسا مستقل موضوع جس کی تجدید عمر بھر ہوتی رہے گی۔

ایڈیلفو کسارس، خورخے لوئیس بورخیس کا دوست تھا۔ ایک ایسی ہی پیچیدہ کہانی The Circular Ruins کے نام سے بورخیس نے بھی لکھی تھی جس کا ترجمہ مرشدی عاصم بخشی نے ’ دائروی کھنڈرات‘ کے نام سے کیا تھا۔ وہ خاموش طبع آدمی جو جنوب سے آیا تھا اور ان دائروی کھنڈرات میں سو کر خواب دیکھنا چاہتا تھا اور خوابوں کے ٹکڑوں میں ایک خوش نما تصوراتی نوجوان تخلیق کرنا چاہتا تھا۔ ایسا نوجوان جو آگ میں نہ جل سکے۔ کیسا خوش کن تصور ہے اور تخلیق کا کیسا بے پایاں کرب موجود ہے، ملاحظہ کیجیے۔

” اس نے خوا ب میں ایک دل کو دیکھا۔ ایک گرم، سرگرم، خفیہ دل جو کسی بند مٹھی جتنا بڑا تھا، ایک یاقوتی رنگ کی شے جو کسی دھندلے سے انسانی جسم میں تھی جو ابھی تک بے چہرہ اور بے جنس تھا، یہی منظر وہ انتھک محبت سے چودہ روشن راتوں تک دیکھتا رہا۔ ہر رات وہ مزید وضاحت اور یقین کے ساتھ اسے دیکھتا۔ اس نے اسے ہرگز نہ چھوا بلکہ صرف دیکھتا رہا، مشاہدے میں مصروف رہا، شاید آنکھوں سے اس کی نوک پلک سنوارتا رہا، اس کو تصور کرتا رہا، اس کو کئی زاویوں اور فاصلوں سے بسر کیا۔ چودھویں رات اس نے پہلے اپنی انگشتِ شہادت سے شش شریان پر ہلکی سی ضرب لگائی، پھر اندر اور باہر سے پورے دل پر۔ اور اس کے معائنے نے اس کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ اگلی رات وہ ارادتاً نہ سویا، اب اس نے دل کو تصور میں رکھ کر کام شروع کیا ، سماوی دیوتا کا نام لیا اور بنیادی اعضاءمیں سے ایک اور کو خواب میں دیکھنا شروع ہو گیا۔ سال کے اختتام سے پہلے وہ ڈھانچے اور پلکوں تک پہنچ چکا تھا“۔

مارک ٹوین نے کیسا نپا تلا جملہ کہا تھا ’ Truth is stranger than fiction‘۔ ہمارے اجداد دائروی کھنڈرات کے باسی نہیں تھے مگر انہوں نے اپنے بچوں کی آزاد سانسوں کے لئے چند خواب دیکھے تھے۔ انسان کی آزادی کے خواب، جبر کے خاتمے کے خواب۔ دیکھیے ہم بھی کسی متروک جزیرے کے سیاح نہیں ہیں مگر ہماری مٹی پر گزشتہ سات عشروں سے وہی ایک ہی منظر بار بار چلتا رہتا ہے۔ Morel کی چلتی پھرتی فلم کا منظر جو بار بار وہی تصاویر دکھاتا ہے۔ انہی لباسوں میں انہی چہروں کے ساتھ۔ بچپن میں سنتے تھے کہ دنیا کے گناہوں سے عاجز آ کر سورج روز طلوع ہونے سے انکار کر دیتا ہے، پھر فرشتے اسے زنجیروں میں جکڑ کر طلوع ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔

ہماری مٹی پر سات عشروں سے آزادی کا سورج طلوع ہونے کی جدوجہد میں ہے۔ جس دن ہمارا سورج طلوع ہو جاتا ہے، فرشتے متروک جزیرے کی طرح ایک دوسرے گرہن زدہ سورج میں زنجیریں ڈال کر زبردستی ہمارے آسمان پر طلوع کر دیتے ہیں۔ جبر کی اس تیز روشنی نے منی ایچر مصوری کے ان بوڑھے فنکاروں کی طرح ہمارے اجداد کے آنکھوں کی روشنیاں چھین لیں۔ ہم سات عشروں سے اپنی زمین پر ایک ہی سورج کے طلوع کے منتظر ہیں۔ فرشتوں کو خبر ہو کہ ہم نے مگر خواب دیکھنے نہیں چھوڑے۔ ہماری آنکھیں بند ہوتی ہیں تو ہمیں خوابوں میں اب بھی یاقوتی رنگ کے بے شمار دل دھڑکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 181 posts and counting.See all posts by zafarullah