معطل آدمی کے خواب

یادوں کے کینوس پر بچپن کی اس سرد رات کی موہوم سی تصویر اب بھی قائم ہے۔ باہر برف گر رہی تھی۔ اندر کمرے میں گھی کے کنستر سے بنی انگیٹھی جل رہی تھی جس کا پیندا کاٹا گیا تھا۔اس کے باوجود خنکی رگوں میں اتر کر خون جما دینے والی تھی۔کچی چھت کے شہتیر سے ایک تار لٹکی ہوئی تھی جس کا دوسرا سرا نانا  کے چہرے کے عین سامنے آنکڑا بنا کرختم ہو رہا تھا۔ اس آنکڑے سے مٹی

Read more

تالہ ۔ ۔ ۔ بندی

پیچیدہ امر یہ ہے کہ ہمارے ہاں سنجیدہ موضوعات پر مکالمے کی کوئی صورت موجود نہیں ہے۔ جو موضوعات یونیورسٹی کے کلاس روم میں لازمی علوم (Prerequisites) کے حصول کے بعد زیر بحث آنے چاہیں وہ سوشل میڈیا پر نہ صرف سطحی انداز میں زیر بحث آتے ہیں بلکہ زیر بحث آنے کے لئے بھی کسی حادثہ یا واقعہ کے منتظر ہوتے ہیں اور جونہی گرد بیٹھ جاتی ہے، مباحثے کے شرکاء کو کوئی نیا موضوع اپنی جانب راغب کر

Read more

کہانی، ناٹک اور تسلط کا جبر

کہانی بھیتر کا دروازہ ہے۔ میرا ماننا یہ ہے کہ کہانی، سچ سے زیادہ حقیقی ہوتی ہے۔ انفرادیت اور موضوعیت کی بحث میں الجھے بغیر مجھے یہ کہنے کوئی دو بدھا نہیں ہے کہ سچ، سیاہ اور سفید کی دہلیز پر تصور کا باڑ قائم کرنے کا نام ہے اور کہانی انسان کے انفرادی احساس کو فسانے اور تجرید میں بدل کر ایک ہمہ گیر اور عالمگیر انسانی تجربہ بناتا ہے۔ یوں زندگی اور معانی کے تال میل کی وسعت،

Read more

سیاست کو گالی کیوں بنایا گیا؟

سامنے کی حقیقت پر ذرا غور کیجیے کہ عمران خان نے زندگی بھر جم اور ایکسرسائز کے علاوہ کوئی مشقت نہیں دیکھی۔ ان کے اردگرد جتنے بھی سیلیبرٹیز اور سیاست دان جمع ہیں ان کا انقلاب تیز دھوپ میں خراب ہو جاتا ہے۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا دکھ 32 ڈگری میں اے سی کا بند ہونا ہے۔ خان صاحب خود بتاتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کے گھر درجن بھر پولیس والے گئے تو وہ دس دس

Read more

(قند مکرر) ماما قادر بمقابلہ حافظ شاکر اللہ گینڈا

ماما قادر سے تو اب ایک جہان واقف ہے البتہ حافظ شاکر اللہ گینڈا کا تعارف لازم ہے۔ حافظ صاحب، اسد محمد خان کے افسانے ’غصے کی نئی فصل‘ کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کے تعارف میں مصنف لکھتے ہیں، ’حافظ شاکر اللہ خان اچھا خاصا صاحب علم اور کم گو آدمی تھا، اس لئے اپنی بات اجمالاَ کہنا پسند کرتا تھا، چنانچہ اسے تفصیلات سے اور وقت ضائع کرنے سے الجھن ہوتی تھی‘ ۔ شاکر اللہ صاحب گینڈا پر

Read more

ایک غریب کی ہمیشہ کے لئے امیر کر دینے والی عید

بارہ سال پہلے کی بات ہے۔ پنڈی سے کوئٹہ آتے ہوئے رات کے دو بجے ٹرین روہڑی جنکشن پر رکی تھی۔ ہم لوگ چائے پینے نیچے اتر آئے تھے۔ ایک ٹی سٹال کے قریب ایک مفلوک الحال آدمی اپنے چھ سات سال کے بچے کے ساتھ کسی ٹرین کا انتظار کر رہا تھا۔ بیٹا باپ سے سرگوشیوں میں کچھ کہتا۔ مفلوک الحال باپ پہلے اسے دھتکارتا، پھر اسے پکڑ کر سینے لگاتا، ایک نگاہ ارد گرد دوڑاتا اور پھر آسمان

Read more

مصور کا آسمان ادھورا رہ گیا

 وسیم ایک چھلاوا تھا۔ ہم یار بیلی اسے ظالم ر نگ ساز کہتے تھے۔ ظالم اس کا تکیہ کلام تھا جو بالآخر دوستوں میں اس کا نام پڑ گیا ۔ کوئٹہ کی بولی میں ظالم ایک مفہوم میں بہت اچھا یا بہت خوبصورت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ وسیم کالج کے بعد مختلف گھروں وغیرہ میں رنگ و روغن کا کام کرتا تھا۔ ہماری پہلی ملاقات سائنس کالج میں تھرڈ ائیر کے فزکس کے کلاس میں ہوئی۔ شمس الخطاب صاحب

Read more

داعش اور دیوار گریہ سے لٹکتی بچیاں

اواخر سرما کی خنک راتیں گریہ شبنم کی امین ہیں۔تاحد نگاہ دھند کی چادر تنی ہوئی ہے۔ایک متانت بھری خاموشی ہے جو سانس لے رہی ہے۔ میز پر پڑے بدھا کے چھوٹے سے بے جان مجسمے جیسی خاموش رات۔ بلی کولینز اپنی نظم ’خاموشی‘ میں ایسی راتوں کی خاموشی نور تڑکے اپنے قلم سے توڑتا ہے۔ بدھا نے ہی کہا تھا ’ آزردہ دل پیار سے خاموش ہوتے ہیں۔بد آموز شفقت سے خاموش ہوتے ہیں۔جھوٹے سچ سے خاموش ہوتے ہیں‘۔

Read more

کابل میں آئس کریم ٹانگ کے بدلے ملتی ہے؟

عصمت نے کہا، آئس کریم کا سردی گرمی سے کیا تعلق؟ زوئے آئس کریم کھانے کے لئے ہم نے اپنا اماں کا چوڑیاں چرایا تھا۔ تم کو معلوم ہے ہم جنگل سے آیا ہے۔ عصمت ہمارے لئے چائے لایا تھا۔ یہ فروری کی یخ بستہ صبح تھی۔ فضا میں کوئلے کی باس رچی تھی۔ چہار شاخ نے برف کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ چہار شاخ سے آنی والی سرد ہوائیں رگوں میں خون جمانے دینے والی تھیں۔ ہم لوگ جناح

Read more

سماج کا کپڑا، چلغوزہ اور دو چینک چائے

ماما قادرکے سامنے سبز قہوے کا فنجان رکھا ہوا تھا اور ماما خم پہ خم انڈیلے جا رہے تھے۔عرض کیا ماما حال دو، گزشتہ آٹھ ماہ میں کیا کھویا کیا پایا؟ ماما نے آہستہ سے سر اٹھایا، ایک ابرو کو پینتالیس کے آکڑے پر لیگ سلپ کی طرح کیچنگ پوزیشن پر جمایا اور بولے، حال تو اچھا ہے مگر بہت عرصے سے ہم کو علم کا بدہضمی ہو گیا ہے۔عرض کیا ماما یہ علم کی بدہضمی والی اصطلاح پہلی بار

Read more

عجمان کی بسم اللہ جان

انشا جی نے کہا تھا ، ہم گھوم چکے بستی بن میں، اک آس کی پھانس لئے من میں۔ پھانس وہی ہے مگر قبول کرنے کا یارا نہیں۔ میں جس سماج کا باسی ہوں وہاں قدم قدم پر پاکی داماں کی گواہی لازم ہے۔ اپنے اپنے تقویٰ کا ایک بازار سجا ہے اور اس پر اجداد کی عظمت رفتہ کے گیت ہیں۔ پچھلے دنوں کسی نے باندی کے لباس کا ذکر چھیڑ دیا تھا، مانو قیامت آ گئی۔ ایسے میں

Read more

ایک برستی شام میں کوؤں کی کہانی

دو کہانیاں ہیں۔ ایک کہانی تو بارش کی ہے اور دوسری کہانی کوؤں کی ہے۔ برستی بوندیں اسلام آباد ایسے خاموش شہر کی پہچان ہیں۔ دس سال پہلے جب اس شہر میں قدم رکھا تو پہلی یاد جو اب بھی ستاتی ہے وہ کچھ بھیگی بوندیں تھیں جو دسمبر کی ایک سرد رات میں گالوں اور پلکوں پر پڑی تھیں۔ مسافرت کے دن تھے۔ سینہ چاکان چمن سے ابھی کوئی شناسائی نہ تھی۔ وقت گزاری کے لئے ایف نائن پارک ایسی خاموش جگہ کا ایک بینچ تھا اور ہم تھے دوستو۔

امجد اسلام امجد کے فاصلوں کی صلیب توتھی مگر ’و ہ میرے نصیب کی بارشیں‘ کسی اور کی چھت پر نہیں برسیں بلکہ باربار وہ مدہم پھوار اپنے چہرے پر ہی محسوس کی۔ اسی بینچ کے پاس ایک ٹھیلہ تھا جس پر ایک کوا ہمیشہ بیٹھا رہتا تھا۔ پاس ہی ایک چھوٹی سی مصنوعی جھیل۔ تجربی اور استقرائی اصول کی گتھی پہلی بار اسی جھیل اور اس کوے سے سلجھی تھی۔

Read more

گرم انڈے، گڑ والا چائے، لچھادار پراٹھا اور ایک پلیٹ جمہوریت

کوئٹہ نے برف کی چادر اوڑھ لی۔ خوشا وہ دن یاد آئے جب دسمبر کی کنواری برف پر ننگے پیر چلتے تھے۔ ہاتھ پاﺅں کی انگلیوں میں پہلے درد اور پھر حدت پیدا ہوتی۔ زرخیز میدانوں سے دور، پہاڑ کے ہمسائے میں بسنے والے انسانوں کے لئے جاڑا صرف سختی کا موسم نہیں جبر کا تہوار بھی ہے۔ پہاڑی آدی واسیوں کے واسطے آگ جلانے کا سامان، پیٹ بھرنے کے سامان جتنا مقدس ہوتا ہے۔ چار دیواری سے بے نیاز

Read more

میں بوسیدہ دیواریں پینٹ کرنا چاہتا ہوں

وسیم چھلاوے نے کہا تھا کہ ’ یہ جو پینٹنگ ہے یہ کینوس پر نہیں بنی۔ یہ میری چھوٹی بہن کے اسکول کی چادرہے۔ اس نے اس سال میٹرک کیا تو ابا نے اسکول سے اٹھا دیا۔ اس نے اپنے اسکول کی چادر کو کلف لگا کر میرے لئے کینوس کے کپڑے میں بدل دیا۔ یہ درخت نہیں ہیں، یہ میرے درد ہیں جو میں اپنے بہن کی چادر پر اتار دیے ہیں۔ جانے تم نے ’’ رافٹ آف میڈوسا‘‘

Read more

تھم گیا شورِ سلاسل کٹ گئی زنجیر پا

اگست 1980 کے یہی اداس دن تھے جب نذیر عباسی کسی ٹارچر سیل میں اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ ان سے بہت پہلے حسن ناصر اس قافلے کے پہلے سالار تھے، جنہیں شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں شہید کیا گیا۔ اگست کے دکھ، حسن ناصر کی زندگی کے سوکھتے پیڑ سے آیا، کہ اگست ہی میں بابڑہ کے مقام پر 600 نہتے کارکنوں کو شہید کیا گیا۔ ہماری سیاسی تاریخ دُکھوں سے مزین ہے۔ اس راہ میں جالب

Read more

رباب کے بول اور نیلے گدھے کا سچ

لوک گیتوں کے ساتھ رباب کی دھیمی دھن من کے پیالے میں شہد کی حلاوت گھول دیتی ہے۔ دھیمے سرتال میں سارنگ چرواہے کا وہ نغمہ آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے جو رگوں میں دوڑنے والے خون کو میٹھا شہد بنا دیتا تھا۔ سارنگ رباب کے آخری تار پر انگلی یوں ہی بے خیالی میں ہلاتا اور پھر دھمیے سر میں نغمہ اٹھاتا۔ کہا اس دلربا نے۔ اس دل خانہ خراب میں اک انجان سی کسک ہے۔ میں

Read more

این آر او کیا چیز تھی؟

آتش نے کیا خوب کہا تھا، ”بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا“۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ مینار پاکستان جلسے کے بعد جب موجودہ حکومتی جماعت کو طاقت کے سرچشموں سے شہہ ملی ہے تب سے این آر او این آر او کا شور جاری ہے۔ یہ شور انہوں نے اس وقت بھی مچا رکھا تھا جب انہوں نے 126 دن تک سڑکیں بلاک کیے رکھیں، پارلیمان کو معطل کرنے کی کوشش کی، پی ٹی وی پر حملہ کیا، پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے توڑے، سپریم کورٹ کی دیوراوں کو دھوبی گھاٹ بنایا، سول نافرمانی جیسی غیر آئینی کال دی، عوام کو منی لانڈرنگ کی دعوت دی اور ’جب آئے گا عمران سب کی جان‘ کے پس منظر میں مسکراتے ہوئے بجلی کے بل جلائے۔

Read more

چار درویش اور ایک کچھوا

لڑکا کتابوں کی دکان میں داخل ہوا اور دکاندار سے کہنے لگا، کھچوے پر کوئی کتاب موجود ہے؟ دوکاندار نے نیچے کیبن میں کئی کتابیں کھنگالنے کے بعد سر اٹھا کر پوچھا، ”ہارڈ بیک آر پیپر بیک“؟ لڑکے نے سمجھتے نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا، ”آف کورس ہارڈ بیک ود فور کیوٹ لٹل لیگز“۔ اس کو مطلوبہ کتاب مہیا کی گئی تو میری باری آئی۔ عرض کیا حضور مجھے بھی وہ کھچوے والی کتاب دیجیے۔ دکاندار نے شرارتاَ مسکرا کو

Read more

لٹ خانہ سے لٹ خانہ تک

لٹ خانے سے میری نسبت تب کی ہے جب میں میکانگی روڈ پر گھوڑا ہسپتال کے پاس ایک ٹیوشن سینٹر میں غلط انگریزی پڑھاتا تھا جس کے عوض ماہانہ بارہ سو روپے تنخواہ لیتا تھا اور ایک عدد ذاتی چائنا سائیکل کا مالک تھا۔ میرے سر کے بال اس وقت بھی یوحنا عارف کے مکاشفے میں مذکور شخص کی طرح برف کی مانند سفید تھے، فرق بس اتنا کہ وقت کی بھٹی میں تپنے کے باوجود میرے پیر خالص پیتل

Read more

ویرانے میں میخانے کی زیارت

ہم گاؤں سے چلے تھے تو عزم کے سوا کچھ دیگر راہ سازی دستیاب نہ تھی۔ اب کہیے تو وہ بھی نہ رہی۔ اک زیست کا زیاں ہے تو کیے جاؤ میاں۔ راولپنڈی سٹیشن سے باہر نکلا تو قطار اندر قطار اپنے بھائی بندوں کی نسوار کی دکانیں اسیتادہ تھیں۔ گمان ہوا قندھاری بازار نکل آیا ہوں۔ اسلام آباد کے سنسان جنگلوں کی جو آس دل میں ساتھ لائے تھے، ان آبگینوں کو ایک ٹھیس سی لگی۔ پرواہ مگر کوئی نہ تھی۔ جس دیس سے میں چل کر آیا تھا وہاں کی ویران گلیاں میرے افلاس کی گواہ تھیں۔ صرف میں ہی نہیں وہ پورا سماج افلاس زدہ تھا۔ ایسے میں بوسیدگی سے سامنا ہونے میں کیا خوف۔ ایتھنز کے اجڑے نیم دائروی معبد خانوں کے احاطے میں کھڑا دیو جانس کلبی ہوتا تو کہتا کہ ہاں میرا ماضی اتنا پرشکوہ تھا کہ مجھے مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔

Read more

گرتا ہوا سپاہی، ماچس والی لڑکی اور خوابوں کی تلاش

رابرٹ کاپا 22 اکتوبر 1913 کو ہنگری میں ایک یہودی خاندان کے ہاں پیدا ہوا۔ یورپ میں تاریخ ایک بڑی کروٹ کے دہانے پر ہے۔ سول وار کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ کارل مارکس کی ’داس کیپٹل‘ پر نصف صدی بیت چکی ہے۔ یورپ میں کمیونزم پر مباحث جاری ہیں۔ نوجوان رابرٹ کاپا ان مباحث میں شریک ہے۔ اٹھارہ سال کی عمر میں رابرٹ پر کمیونزم کے ساتھ ہمدردی کا الزام لگتا ہے۔ رابرٹ کاپا ہنگری چھوڑ کر برلن کا

Read more

شام کے چپڑ جھن جھن اور سپڑ سن سن کی ویران قبریں

 رین ہارڈ ہایڈریچ ( Reinhard Heydrich) دوسری جنگ عظیم میں نازی فوج کے اعلی افسر تھے۔ رین ہارڈ کو ہولوکاسٹ کے معماروں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ رین ہارڈ ہی تھا جس کے بارے میں ہٹلر نے کہا تھا، ’ اس کے کلیجے میں لوہے کا دل ہے‘۔ 27 مئی 1942 کو رین ہارڈ پرموجود ہ چیک رپبلک میں پراگ کے ایک گاﺅں Lidice کے قریب چیکوسلواکیہ کے جلاوطن حکومت کی ایما پر چیکوسلواکین فوجیوں نے حملہ کیا۔ اس

Read more

کیا سیاسی کارکن قومی سلامتی کے دشمن ہیں؟

محترم وسعت االلہ خان نے قومی سلامتی پلس کے زیر عنوان لکھا تھا کہ، ’ وہ دن ہوا ہوئے جب قومی سلامتی کو لوگوں سے خطرہ تھا، آج لوگوں کو قومی سلامتی سے خطرہ ہے‘۔ خیال آیا کہ وطن عزیز کے تناظر میں قومی سلامتی کو دیکھا جائے کہ دراصل ہے یہ طوطی کس نقارخانے سے نغمہ سرا ہے؟ نیز اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے کہ کیا ہم قومی سلامتی کے مخالف ہیں؟ قومی سلامتی ایسے مبہم استعارے

Read more

برف کی چادر میلی ہے

جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو خوفزدہ ہونے کی بجائے شدید حیرت میں مبتلا ہوا تھا۔ میری عمر یہی کوئی آٹھ نو برس رہی ہو گی۔ یہ تو بعد لوگوں نے بتایا تھاکہ اسے پہلی بار دیکھنے پر خوفزدہ ہونا ایک فطری تقاضا تھا۔ اب معلوم نہیں اس عمر میں شعور فطری تقاضا سمجھنے سے غافل تھا یا میرا جبلی وجود فطرت سے بغاوت پر آمادہ تھا۔ بابو پاگل تھا۔ ایک مکمل پاگل جو ہمہ وقت ایک پتھر

Read more

بے غیرت خاموش ہیں

من میں درد کا سیل رواں بہنے کو ہو۔ وطن کی ہواﺅں میں چیختی آوازوں سے نشیمن کے تنکے سلگ اٹھنے کوہوں توایسے میں کیا کیجیے؟ وقار ملک کو فون کیجیے کہ فطرت کا نگار خانہ کھول کر جینے کی امید دلائے گا۔ فطرت اورمٹی کی محبت و نکہت ہر انسان میں کہیں نہ کہیں پائی جاتی ہے وقار مگر شمال کی محبت کا استعارہ ہے۔ وقار کہے گا، ’چلیں اسلام آباد کے روز گارڈن کے کسی ویران بینچ پر

Read more

پپو یار تنگ نہ کر

  لکھنے کو ویسے تو ہزار موضوعات دستیاب ہوتے ہیں پر گاہے طبیعت پر ایک بے معنی سا گریز چھا جاتا ہے۔شہزاد احمد کے بقول، ’ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم‘ کہ اس میں اظہار کے کم و بیش سارے قرینوں پر خواہی نا خواہی بندشوں کا بھی اثر ہے۔ اور دوسرا یہ کہ بعض اوقات سماج میں موجود طبقات کی چیزوں کو عمومی کلیت میں دیکھنے کا رجحان بھی اظہار کے قرینے مشکل بنا دیتے ہیں۔ ایک

Read more

مستقبل کا ایک امتحانی پرچہ

مردان کے تحصیل کاٹلنگ کے ایک پرائمری سکول کی ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر گردش میں ہے۔ اس ویڈیو میں سکول کے بچے تقریب انعامات کے پروگرام میں ملک کی حکمران سیاسی جماعت، تحریک انصاف کا پارٹی ترانہ گا رہے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ کھوئی برمول کے سرکاری سکول انتظامیہ نے اس تقریب کے لئے تحریک انصاف کے ایک ایم پی اے کو مدعو کر رکھا تھا جن کے سامنے بچوں نے ’ تبدیلی آئی رے‘ پیش کیا۔

Read more

غزالاں تم تو واقف ہو، نہ جنوں رہا نہ پری رہی

یہ ہسپتال کا ویٹنگ ایریا تھا۔ میری بالکل ساتھ والی کرسی پر ایک نوجوان بیٹھا تھا۔ اس کے بعد والی کرسی پر ان کی قدرے زیادہ بوڑھی والدہ بیٹھی تھیں۔ ان کے بعد ایک نوجوان لڑکی بیٹھی ہوئی تھی۔ گفتگو سے اندازہ ہوا کہ لڑکی اسلام آباد میں ہی رہتی ہیں۔ سی ایس ایس کا امتحان پاس کر چکی ہیں اور سائیکلوجیکل ٹیسٹ کی منتظر ہیں۔ لڑکا والدہ کو غالباً راولپنڈی یا کم از کم گوجر خان سے لے کر آیا ہے۔ ابھی ان کا نمبر نہیں آیا تو انتظار میں ہیں اور آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔

لڑکا لڑکی سے پوچھتا ہے، آپ کا سی ایس ایس کرنے کے بعد کس گروپ جانے کا ارادہ ہے؟
لڑکی: میں پولیس میں جانا چاہتی ہوں۔

لڑکا، : کیوں؟ فارن سروس اچھا نہیں ہے؟
لڑکی: بس میرا پیشن (passion ) ہے پولیس میں جانا۔

Read more

قہوے کا فلسفہ، سیکولرازم کا کفر اور دانش کا جنازہ

بہت سے عام دنوں کی طرح یہ بھی ایک عام دن تھا۔ کچھ دوست احباب چائے کی محفل پر جمع ہوئے اور ملکی سیاست پر بات شروع ہوئی۔ بات بڑھتے بڑھتے سیاسیات سے فلسفے کی حدود میں داخل ہو گئی۔ ایسے میں ایک معزز دوست نے ایک باریک نکتہ بیان کیا۔ فرمانے لگے ’ سیکولرازم اصل میں دہریت کا نام ہے ’ ایک اور دوست جو فلسفے اور سیاسیات سے تھوڑا بہت شغف رکھتے ہیں، انہوں نے پوچھا، یہ بتائیں

Read more

پنجابی بزدل نہیں اور پٹھان چور نہیں

بھائی صاحب۔ عرض یہ ہے کہ لفظ پنجابی، بلوچ، سندھی، پٹھان اور اس قبیل کے دیگر الفاظ کو ہمارے ہاں بہت سطحی انداز میں مجموعی تناظر میں غلط اور ایک دوسرے سے کم تر اور برتر کے معنوں میں برتا جاتا ہے اس لئے چند باتوں کی تفصیل جان لینا ضروری ہے۔ آپ کو شاید معلوم ہو گا کہ اس ملک میں دس کروڑ سے زیادہ لوگ ناخواندہ ہیں۔ کثیر ثقاقتی تناظر میں رویے ناخواندگی میں پروان چڑھتے ہیں۔ ناخواندہ

Read more

نانا نفرت نہیں کرتے تھے!

 نانا جی کسی اور ہی دنیا کے باسی تھے۔ شاید اس دنیا کی خوبصورتی بیان کرنے کے لئے معروف استعاروں سے کچھ زیادہ کی ضرورت ہے۔ خوبصورت، حسین ، تابناک، خواب ناک اور رنگوں سے مزین جیسے استعارے اپنے مفاہیم میں تو اپنے قد کے برابر ہیں مگر نانا کی دنیا میں بونے ہیں۔ معلوم نہیں آپ کے ساتھ ایسا ہوتا ہے یا نہیں مگر میرے ساتھ بہت بار ایسا ہوتا ہے کہ خیال کو مقید کرنے کے لئے لفظ

Read more

بانکے کبوتر، کولھو کا بیل اور نیل کنٹھ

سولہویں صدی کا ابتدائی دور ہے۔ یورپ نشاة ثانیہ کے کشمکش سے نبرد آزما ہے۔ پاپائیت اپنی بقا کی آخری سانسوں پر ہے۔ لیونارڈو داونچی مونا لیزا کی مسکراہٹ تخلیق کر چکا ہے۔ ’دی لاسٹ سوپر‘ میں یسوع مسیح کی آخری ضیافت کی منظر کشی ہو چکی ہے۔ جس میں یسوع مسیح اپنے حواریوں سے پوچھتا ہے کہ تم میں سے کون ہو گا جو مجھے دھوکا دے گا۔ اڑنے والی مشین کا خاکہ بن چکا ہے۔ ہاتھ کی اناٹومی

Read more

آسٹریلیا کا ٹیگور اور ایٹمی جنگ

کریم آباد میں رکنے کا ارادہ نہیں تھا مگر رک گئے۔ ہنزہ میں سیاحوں کے غول اترے ہوئے تھے۔ ہوٹلوں میں جگہ نہیں تھی مگر نظیم اللہ بیگ موجود تھا۔ نظیم موجود ہو تو ہنزہ میں چھت ڈھونڈنا اپنے گھر جانے جیسا ہے۔ دور اندر گلیوں میں ایک سنسان سا مکان تھا جسے ابھی ہوٹل بنے بس چند ہی دن گزرے تھے۔ ہال میں داخل ہوئے تو ٹیبلیں بتا رہی تھیں وہی ڈائننگ ہال بھی ہے۔ فرش پر نیا نیا

Read more

رنگوں کی کمپلین ہے صاب

بٹورا گلیشیئر کے دھانے پر دوستوں کے منتظر وقار ملک، رات کے گھپ اندھیرے میں بتاتے رہے کہ بٹورا جھیل کیسے دکھتی ہے؟ غالباً ہاتھ سے اشارے بھی کیے ہوں گے جو میں نہیں دیکھ سکا۔ اب ایسا اندھیر بھی نہیں مچا تھا کہ موبائل کی روشنی میں ایک دوسرے کو دیکھ نہ پاتے مگر مشکل یہ تھی کہ حاشر ابن ارشاد شفاف آسمان میں ستاروں کی کہکشاؤں کو کیمرے کے پردے پر اتارنا چاہتے تھے، سو اس اندھیرے میں

Read more

ایک زرداری سب پہ بھاری

عرض کیا کہ کھیل اب بھی زرداری صاحب کے ہاتھ میں ہے تو احباب نے بندوں کی گنتی شروع کر دی۔ مسئلہ حکومت بنانے کا نہیں ہے بلکہ حکومت چلانے کا ہے۔ بظاہر پاکستان پیپلز پارٹی نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ عمران خان سادہ اکثریت حاصل کر لیں گے مگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ پہلی تو سادہ اکثریت حاصل کرنا بہت مشکل ہے اور

Read more

افسانے سے زیادہ حیران کن سچائی

یہ ایک پیچیدہ کہانی تھی اور ایسے ہی پیچیدہ ہمارے خواب ہیں، ٹکڑوں میں دیکھے ہوئے۔ عشروں ، جن کی آبیاری کرتے رہے۔ اس روشن کل کے خواب، جس کا سورج طلوع ہو کر بھی گرہن کے مستقل ہالے میں جھکڑا رہتا ہے۔ لاطینی امریکہ کے تخلیق کار کہانی بننے کے فن میں اتنے ہی یکتا تھے جتنے عثمانی سلطنت کے منی ایچر مصوری کے وہ بوڑھے فنکار جن کی آنکھوں کی روشنی بالاخر ایک دن بجھ جاتی ہے۔ یہ

Read more

مہان قبیلے کی کہانی، رازوں کی بوسیدہ کتاب اور خاموشی

بوڑھا بھکشو بیس راتوں کی مسافت کے بعد بہادروں کی اس بستی میں پہنچا تھا۔ یہاں کے مرد چوڑے شانوں والے تھے۔ طلسمی کہانیوں کے شہزادوں جیسے، جو بڑے قد والے گھوڑوں کی سواری کرتے تھے۔لمبے چغے، ریشمی دستار اور کمر سے چمکدار تلواریں باندھ کر رکھنے والے۔ اپنے وطن سے چلتے وقت بھکشو کے پاس ایک چھوٹی سی پوٹلی تھی۔ زاد راہ کے علاوہ جس میں ایک بوسیدہ کتاب تھی ، زندگی کے راز وں والی کتاب۔ سفر کے

Read more

نقشے پر چرن جیت سنگھ کا لہو پھیل گیا ہے

میں نہیں جانتا کہ چرن جیت سنگھ ساگر کون تھے۔ اب جان کر کرنا بھی کیا ہے۔ایک ہی ملاقات تھی۔ پاکستان کے اقلیتوں کے چند نمائندہ افراد کی ایک نشست میں ملاقات ہوئی تھی۔ نشست کیا تھی بس دکھوں کی پوٹلیاں تھیں جو انہوں نے اپنے کاندھوں پر لاد رکھی تھیں۔ اس گفتگو میں جہاں ان کے دیگر کئی تکالیف کا نوحہ تھا وہاں ان کے لہجے کی اذیت ناقابل بیان تھی۔ ’ ہمارا وطن، ہمارا پاکستان، ہمارا دیس، ہماری

Read more

جب سوڈو جنسی جذبہ بیدار ہوتا ہے

حکیم واجد علی ہر فن مولا ہیں۔ حکمت البتہ شوق کے لئے فرماتے ہیں۔ حکیم صاحب کی حکمت نابغہ روزگار سائنسدان آغا وقار اور اس قبیل کے دیگر آزاد منش سوڈو سائنسدانوں کی سائنس جیسی ہے۔آغا وقار صاحب پانی سے گاڑی چلا سکتے ہیں۔ پروفیسر فرید اختر صاحب کشش ثقل کا انکار کر سکتے ہیں۔ سوڈو سائنسدان آئن سٹائن کی ریلیٹیوٹی تھیوری سے واقعہ معراج ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جبکہ حکیم واجد علی کیلے، سونف اور پپیتے

Read more

منظور پشتین ، غداری اور ماں جیسی ریاست

معلوم نہیں نظریاتی ریاست کے کیا خدوخال ہوتے ہیں اور ایسی ریاست کن اصولوں پر چلتی ہے؟اور یہ بھی کہ براعظم یوٹوپیا کے بعد ایسی ریاست کہاں پائی جاتی ہے؟ تاہم یہ معلوم ہے کہ ریاست میں جہاں بھی جبر کا راج ہوتا ہے، شہری کو باربار حب الوطنی نامی ایک ایسے ترازو میںتلنا پڑتا ہے جس کے باٹ انسانی گوشت پوست سے ہمیشہ بھاری رہتے ہیں۔ کیلیفورنیا کی گلیوں میں مارے جانے والے ریڈ انڈینر ہوں، ماسکو کی گلیوں

Read more

گوبر کی خوشبو اور پوٹھوہاری موٹے

برادرم وقار احمد ملک نے لائل پوری موٹے کو معاف کرنے یا نہ کی صلاح مانگی ہے جب ان کی جیب میں ستر روپے تھے اور لائل پوری موٹے نے دھوکے سے کیک کھلا کر ان کے پیسے لوٹے تھے۔ بھائی وقار ملک! ابھی ٹھہرو، اس لائل پوری موٹے کو معاف نہ کرنا۔ میں ذرا پیسوں کی ایک داستان سنا لوں۔ کوئٹہ میں ہم نے کبھی پتلون نہیں پہنی تھی سوائے این سی سی کی وردی کے۔ اسلام آباد پہنچے

Read more

معطل آدمی کے خواب

یادوں کے کینوس پر بچپن کی اس سرد رات کی موہوم سی تصویر اب بھی قائم ہے۔ باہر برف گر رہی تھی۔ اندر کمرے میں گھی کے کنستر سے بنی انگیٹھی جل رہی تھی جس کا پیندا کاٹا گیا تھا۔اس کے باوجود خنکی رگوں میں اتر کر خون جما دینے والی تھی۔کچی چھت کے شہتیر سے ایک تار لٹکی ہوئی تھی جس کا دوسرا سرا نانا کے چہرے کے عین سامنے آنکڑا بنا کرختم ہو رہا تھا۔ اس آنکڑے سے

Read more