چار درویش اور ایک کچھوا

لڑکا کتابوں کی دکان میں داخل ہوا اور دکاندار سے کہنے لگا، کھچوے پر کوئی کتاب موجود ہے؟ دوکاندار نے نیچے کیبن میں کئی کتابیں کھنگالنے کے بعد سر اٹھا کر پوچھا، ”ہارڈ بیک آر پیپر بیک“؟ لڑکے نے سمجھتے نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا، ”آف کورس ہارڈ بیک ود فور کیوٹ لٹل لیگز“۔ اس…

Read more

لٹ خانہ سے لٹ خانہ تک

لٹ خانے سے میری نسبت تب کی ہے جب میں میکانگی روڈ پر گھوڑا ہسپتال کے پاس ایک ٹیوشن سینٹر میں غلط انگریزی پڑھاتا تھا جس کے عوض ماہانہ بارہ سو روپے تنخواہ لیتا تھا اور ایک عدد ذاتی چائنا سائیکل کا مالک تھا۔ میرے سر کے بال اس وقت بھی یوحنا عارف کے مکاشفے…

Read more

ویرانے میں میخانے کی زیارت

ہم گاؤں سے چلے تھے تو عزم کے سوا کچھ دیگر راہ سازی دستیاب نہ تھی۔ اب کہیے تو وہ بھی نہ رہی۔ اک زیست کا زیاں ہے تو کیے جاؤ میاں۔ راولپنڈی سٹیشن سے باہر نکلا تو قطار اندر قطار اپنے بھائی بندوں کی نسوار کی دکانیں اسیتادہ تھیں۔ گمان ہوا قندھاری بازار نکل آیا ہوں۔ اسلام آباد کے سنسان جنگلوں کی جو آس دل میں ساتھ لائے تھے، ان آبگینوں کو ایک ٹھیس سی لگی۔ پرواہ مگر کوئی نہ تھی۔ جس دیس سے میں چل کر آیا تھا وہاں کی ویران گلیاں میرے افلاس کی گواہ تھیں۔ صرف میں ہی نہیں وہ پورا سماج افلاس زدہ تھا۔ ایسے میں بوسیدگی سے سامنا ہونے میں کیا خوف۔ ایتھنز کے اجڑے نیم دائروی معبد خانوں کے احاطے میں کھڑا دیو جانس کلبی ہوتا تو کہتا کہ ہاں میرا ماضی اتنا پرشکوہ تھا کہ مجھے مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔

Read more

گرتا ہوا سپاہی، ماچس والی لڑکی اور خوابوں کی تلاش

رابرٹ کاپا 22 اکتوبر 1913 کو ہنگری میں ایک یہودی خاندان کے ہاں پیدا ہوا۔ یورپ میں تاریخ ایک بڑی کروٹ کے دہانے پر ہے۔ سول وار کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ کارل مارکس کی ’داس کیپٹل‘ پر نصف صدی بیت چکی ہے۔ یورپ میں کمیونزم پر مباحث جاری ہیں۔ نوجوان رابرٹ کاپا ان مباحث…

Read more

شام کے چپڑ جھن جھن اور سپڑ سن سن کی ویران قبریں

 رین ہارڈ ہایڈریچ ( Reinhard Heydrich) دوسری جنگ عظیم میں نازی فوج کے اعلی افسر تھے۔ رین ہارڈ کو ہولوکاسٹ کے معماروں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ رین ہارڈ ہی تھا جس کے بارے میں ہٹلر نے کہا تھا، ’ اس کے کلیجے میں لوہے کا دل ہے‘۔ 27 مئی 1942 کو رین ہارڈ…

Read more

کیا سیاسی کارکن قومی سلامتی کے دشمن ہیں؟

محترم وسعت االلہ خان نے قومی سلامتی پلس کے زیر عنوان لکھا تھا کہ، ’ وہ دن ہوا ہوئے جب قومی سلامتی کو لوگوں سے خطرہ تھا، آج لوگوں کو قومی سلامتی سے خطرہ ہے‘۔ خیال آیا کہ وطن عزیز کے تناظر میں قومی سلامتی کو دیکھا جائے کہ دراصل ہے یہ طوطی کس نقارخانے…

Read more

برف کی چادر میلی ہے

جب میں نے اسے پہلی بار دیکھا تو خوفزدہ ہونے کی بجائے شدید حیرت میں مبتلا ہوا تھا۔ میری عمر یہی کوئی آٹھ نو برس رہی ہو گی۔ یہ تو بعد لوگوں نے بتایا تھاکہ اسے پہلی بار دیکھنے پر خوفزدہ ہونا ایک فطری تقاضا تھا۔ اب معلوم نہیں اس عمر میں شعور فطری تقاضا…

Read more

بے غیرت خاموش ہیں

من میں درد کا سیل رواں بہنے کو ہو۔ وطن کی ہواﺅں میں چیختی آوازوں سے نشیمن کے تنکے سلگ اٹھنے کوہوں توایسے میں کیا کیجیے؟ وقار ملک کو فون کیجیے کہ فطرت کا نگار خانہ کھول کر جینے کی امید دلائے گا۔ فطرت اورمٹی کی محبت و نکہت ہر انسان میں کہیں نہ کہیں…

Read more

پپو یار تنگ نہ کر

  لکھنے کو ویسے تو ہزار موضوعات دستیاب ہوتے ہیں پر گاہے طبیعت پر ایک بے معنی سا گریز چھا جاتا ہے۔شہزاد احمد کے بقول، ’ہمارے شہر میں ہے وہ گریز کا عالم‘ کہ اس میں اظہار کے کم و بیش سارے قرینوں پر خواہی نا خواہی بندشوں کا بھی اثر ہے۔ اور دوسرا یہ…

Read more

مستقبل کا ایک امتحانی پرچہ

مردان کے تحصیل کاٹلنگ کے ایک پرائمری سکول کی ویڈیو اس وقت سوشل میڈیا پر گردش میں ہے۔ اس ویڈیو میں سکول کے بچے تقریب انعامات کے پروگرام میں ملک کی حکمران سیاسی جماعت، تحریک انصاف کا پارٹی ترانہ گا رہے ہیں۔ خبر یہ ہے کہ کھوئی برمول کے سرکاری سکول انتظامیہ نے اس تقریب…

Read more