ایک برستی شام میں کوؤں کی کہانی

دو کہانیاں ہیں۔ ایک کہانی تو بارش کی ہے اور دوسری کہانی کوؤں کی ہے۔ برستی بوندیں اسلام آباد ایسے خاموش شہر کی پہچان ہیں۔ دس سال پہلے جب اس شہر میں قدم رکھا تو پہلی یاد جو اب بھی ستاتی ہے وہ کچھ بھیگی بوندیں تھیں جو دسمبر کی ایک سرد رات میں گالوں اور پلکوں پر پڑی تھیں۔ مسافرت کے دن تھے۔ سینہ چاکان چمن سے ابھی کوئی شناسائی نہ تھی۔ وقت گزاری کے لئے ایف نائن پارک ایسی خاموش جگہ کا ایک بینچ تھا اور ہم تھے دوستو۔

امجد اسلام امجد کے فاصلوں کی صلیب توتھی مگر ’و ہ میرے نصیب کی بارشیں‘ کسی اور کی چھت پر نہیں برسیں بلکہ باربار وہ مدہم پھوار اپنے چہرے پر ہی محسوس کی۔ اسی بینچ کے پاس ایک ٹھیلہ تھا جس پر ایک کوا ہمیشہ بیٹھا رہتا تھا۔ پاس ہی ایک چھوٹی سی مصنوعی جھیل۔ تجربی اور استقرائی اصول کی گتھی پہلی بار اسی جھیل اور اس کوے سے سلجھی تھی۔

Read more

ماما قادر بمقابلہ حافظ شاکر اللہ گینڈا

ماما قادر سے تو اب ایک جہان واقف ہے البتہ حافظ شاکر اللہ گینڈا کا تعارف لازم ہے۔ حافظ صاحب، اسد محمد خان کے افسانے ’غصے کی نئی فصل‘ کے مرکزی کردار ہیں۔ ان کے تعارف میں مصنف لکھتے ہیں، ’حافظ شاکر اللہ خان اچھا خاصا صاحب علم اور کم گو آدمی تھا، اس لئے…

Read more

گرم انڈے، گڑ والا چائے، لچھادار پراٹھا اور ایک پلیٹ جمہوریت

کوئٹہ نے برف کی چادر اوڑھ لی۔ خوشا وہ دن یاد آئے جب دسمبر کی کنواری برف پر ننگے پیر چلتے تھے۔ ہاتھ پاﺅں کی انگلیوں میں پہلے درد اور پھر حدت پیدا ہوتی۔ زرخیز میدانوں سے دور، پہاڑ کے ہمسائے میں بسنے والے انسانوں کے لئے جاڑا صرف سختی کا موسم نہیں جبر کا…

Read more

میں بوسیدہ دیواریں پینٹ کرنا چاہتا ہوں

وسیم چھلاوے نے کہا تھا کہ ’ یہ جو پینٹنگ ہے یہ کینوس پر نہیں بنی۔ یہ میری چھوٹی بہن کے اسکول کی چادرہے۔ اس نے اس سال میٹرک کیا تو ابا نے اسکول سے اٹھا دیا۔ اس نے اپنے اسکول کی چادر کو کلف لگا کر میرے لئے کینوس کے کپڑے میں بدل دیا۔…

Read more

تھم گیا شورِ سلاسل کٹ گئی زنجیر پا

اگست 1980 کے یہی اداس دن تھے جب نذیر عباسی کسی ٹارچر سیل میں اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ ان سے بہت پہلے حسن ناصر اس قافلے کے پہلے سالار تھے، جنہیں شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں شہید کیا گیا۔ اگست کے دکھ، حسن ناصر کی زندگی کے سوکھتے پیڑ سے آیا، کہ…

Read more

رباب کے بول اور نیلے گدھے کا سچ

لوک گیتوں کے ساتھ رباب کی دھیمی دھن من کے پیالے میں شہد کی حلاوت گھول دیتی ہے۔ دھیمے سرتال میں سارنگ چرواہے کا وہ نغمہ آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے جو رگوں میں دوڑنے والے خون کو میٹھا شہد بنا دیتا تھا۔ سارنگ رباب کے آخری تار پر انگلی یوں ہی بے…

Read more

این آر او کیا چیز تھی؟

آتش نے کیا خوب کہا تھا، ”بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا“۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ مینار پاکستان جلسے کے بعد جب موجودہ حکومتی جماعت کو طاقت کے سرچشموں سے شہہ ملی ہے تب سے این آر او این آر او کا شور جاری ہے۔ یہ شور انہوں نے اس وقت بھی مچا رکھا تھا جب انہوں نے 126 دن تک سڑکیں بلاک کیے رکھیں، پارلیمان کو معطل کرنے کی کوشش کی، پی ٹی وی پر حملہ کیا، پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے توڑے، سپریم کورٹ کی دیوراوں کو دھوبی گھاٹ بنایا، سول نافرمانی جیسی غیر آئینی کال دی، عوام کو منی لانڈرنگ کی دعوت دی اور ’جب آئے گا عمران سب کی جان‘ کے پس منظر میں مسکراتے ہوئے بجلی کے بل جلائے۔

Read more

چار درویش اور ایک کچھوا

لڑکا کتابوں کی دکان میں داخل ہوا اور دکاندار سے کہنے لگا، کھچوے پر کوئی کتاب موجود ہے؟ دوکاندار نے نیچے کیبن میں کئی کتابیں کھنگالنے کے بعد سر اٹھا کر پوچھا، ”ہارڈ بیک آر پیپر بیک“؟ لڑکے نے سمجھتے نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا، ”آف کورس ہارڈ بیک ود فور کیوٹ لٹل لیگز“۔ اس…

Read more

لٹ خانہ سے لٹ خانہ تک

لٹ خانے سے میری نسبت تب کی ہے جب میں میکانگی روڈ پر گھوڑا ہسپتال کے پاس ایک ٹیوشن سینٹر میں غلط انگریزی پڑھاتا تھا جس کے عوض ماہانہ بارہ سو روپے تنخواہ لیتا تھا اور ایک عدد ذاتی چائنا سائیکل کا مالک تھا۔ میرے سر کے بال اس وقت بھی یوحنا عارف کے مکاشفے…

Read more

ویرانے میں میخانے کی زیارت

ہم گاؤں سے چلے تھے تو عزم کے سوا کچھ دیگر راہ سازی دستیاب نہ تھی۔ اب کہیے تو وہ بھی نہ رہی۔ اک زیست کا زیاں ہے تو کیے جاؤ میاں۔ راولپنڈی سٹیشن سے باہر نکلا تو قطار اندر قطار اپنے بھائی بندوں کی نسوار کی دکانیں اسیتادہ تھیں۔ گمان ہوا قندھاری بازار نکل آیا ہوں۔ اسلام آباد کے سنسان جنگلوں کی جو آس دل میں ساتھ لائے تھے، ان آبگینوں کو ایک ٹھیس سی لگی۔ پرواہ مگر کوئی نہ تھی۔ جس دیس سے میں چل کر آیا تھا وہاں کی ویران گلیاں میرے افلاس کی گواہ تھیں۔ صرف میں ہی نہیں وہ پورا سماج افلاس زدہ تھا۔ ایسے میں بوسیدگی سے سامنا ہونے میں کیا خوف۔ ایتھنز کے اجڑے نیم دائروی معبد خانوں کے احاطے میں کھڑا دیو جانس کلبی ہوتا تو کہتا کہ ہاں میرا ماضی اتنا پرشکوہ تھا کہ مجھے مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔

Read more