میں بوسیدہ دیواریں پینٹ کرنا چاہتا ہوں

وسیم چھلاوے نے کہا تھا کہ ’ یہ جو پینٹنگ ہے یہ کینوس پر نہیں بنی۔ یہ میری چھوٹی بہن کے اسکول کی چادرہے۔ اس نے اس سال میٹرک کیا تو ابا نے اسکول سے اٹھا دیا۔ اس نے اپنے اسکول کی چادر کو کلف لگا کر میرے لئے کینوس کے کپڑے میں بدل دیا۔…

Read more

تھم گیا شورِ سلاسل کٹ گئی زنجیر پا

اگست 1980 کے یہی اداس دن تھے جب نذیر عباسی کسی ٹارچر سیل میں اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ ان سے بہت پہلے حسن ناصر اس قافلے کے پہلے سالار تھے، جنہیں شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں شہید کیا گیا۔ اگست کے دکھ، حسن ناصر کی زندگی کے سوکھتے پیڑ سے آیا، کہ…

Read more

رباب کے بول اور نیلے گدھے کا سچ

لوک گیتوں کے ساتھ رباب کی دھیمی دھن من کے پیالے میں شہد کی حلاوت گھول دیتی ہے۔ دھیمے سرتال میں سارنگ چرواہے کا وہ نغمہ آج بھی لفظ بہ لفظ یاد ہے جو رگوں میں دوڑنے والے خون کو میٹھا شہد بنا دیتا تھا۔ سارنگ رباب کے آخری تار پر انگلی یوں ہی بے…

Read more

این آر او کیا چیز تھی؟

آتش نے کیا خوب کہا تھا، ”بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا“۔ جب سے یہ حکومت آئی ہے یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ مینار پاکستان جلسے کے بعد جب موجودہ حکومتی جماعت کو طاقت کے سرچشموں سے شہہ ملی ہے تب سے این آر او این آر او کا شور جاری ہے۔ یہ شور انہوں نے اس وقت بھی مچا رکھا تھا جب انہوں نے 126 دن تک سڑکیں بلاک کیے رکھیں، پارلیمان کو معطل کرنے کی کوشش کی، پی ٹی وی پر حملہ کیا، پارلیمنٹ ہاؤس کے جنگلے توڑے، سپریم کورٹ کی دیوراوں کو دھوبی گھاٹ بنایا، سول نافرمانی جیسی غیر آئینی کال دی، عوام کو منی لانڈرنگ کی دعوت دی اور ’جب آئے گا عمران سب کی جان‘ کے پس منظر میں مسکراتے ہوئے بجلی کے بل جلائے۔

Read more

چار درویش اور ایک کچھوا

لڑکا کتابوں کی دکان میں داخل ہوا اور دکاندار سے کہنے لگا، کھچوے پر کوئی کتاب موجود ہے؟ دوکاندار نے نیچے کیبن میں کئی کتابیں کھنگالنے کے بعد سر اٹھا کر پوچھا، ”ہارڈ بیک آر پیپر بیک“؟ لڑکے نے سمجھتے نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا، ”آف کورس ہارڈ بیک ود فور کیوٹ لٹل لیگز“۔ اس…

Read more

لٹ خانہ سے لٹ خانہ تک

لٹ خانے سے میری نسبت تب کی ہے جب میں میکانگی روڈ پر گھوڑا ہسپتال کے پاس ایک ٹیوشن سینٹر میں غلط انگریزی پڑھاتا تھا جس کے عوض ماہانہ بارہ سو روپے تنخواہ لیتا تھا اور ایک عدد ذاتی چائنا سائیکل کا مالک تھا۔ میرے سر کے بال اس وقت بھی یوحنا عارف کے مکاشفے…

Read more

ویرانے میں میخانے کی زیارت

ہم گاؤں سے چلے تھے تو عزم کے سوا کچھ دیگر راہ سازی دستیاب نہ تھی۔ اب کہیے تو وہ بھی نہ رہی۔ اک زیست کا زیاں ہے تو کیے جاؤ میاں۔ راولپنڈی سٹیشن سے باہر نکلا تو قطار اندر قطار اپنے بھائی بندوں کی نسوار کی دکانیں اسیتادہ تھیں۔ گمان ہوا قندھاری بازار نکل آیا ہوں۔ اسلام آباد کے سنسان جنگلوں کی جو آس دل میں ساتھ لائے تھے، ان آبگینوں کو ایک ٹھیس سی لگی۔ پرواہ مگر کوئی نہ تھی۔ جس دیس سے میں چل کر آیا تھا وہاں کی ویران گلیاں میرے افلاس کی گواہ تھیں۔ صرف میں ہی نہیں وہ پورا سماج افلاس زدہ تھا۔ ایسے میں بوسیدگی سے سامنا ہونے میں کیا خوف۔ ایتھنز کے اجڑے نیم دائروی معبد خانوں کے احاطے میں کھڑا دیو جانس کلبی ہوتا تو کہتا کہ ہاں میرا ماضی اتنا پرشکوہ تھا کہ مجھے مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔

Read more

گرتا ہوا سپاہی، ماچس والی لڑکی اور خوابوں کی تلاش

رابرٹ کاپا 22 اکتوبر 1913 کو ہنگری میں ایک یہودی خاندان کے ہاں پیدا ہوا۔ یورپ میں تاریخ ایک بڑی کروٹ کے دہانے پر ہے۔ سول وار کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ کارل مارکس کی ’داس کیپٹل‘ پر نصف صدی بیت چکی ہے۔ یورپ میں کمیونزم پر مباحث جاری ہیں۔ نوجوان رابرٹ کاپا ان مباحث…

Read more

شام کے چپڑ جھن جھن اور سپڑ سن سن کی ویران قبریں

 رین ہارڈ ہایڈریچ ( Reinhard Heydrich) دوسری جنگ عظیم میں نازی فوج کے اعلی افسر تھے۔ رین ہارڈ کو ہولوکاسٹ کے معماروں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ یہ رین ہارڈ ہی تھا جس کے بارے میں ہٹلر نے کہا تھا، ’ اس کے کلیجے میں لوہے کا دل ہے‘۔ 27 مئی 1942 کو رین ہارڈ…

Read more

کیا سیاسی کارکن قومی سلامتی کے دشمن ہیں؟

محترم وسعت االلہ خان نے قومی سلامتی پلس کے زیر عنوان لکھا تھا کہ، ’ وہ دن ہوا ہوئے جب قومی سلامتی کو لوگوں سے خطرہ تھا، آج لوگوں کو قومی سلامتی سے خطرہ ہے‘۔ خیال آیا کہ وطن عزیز کے تناظر میں قومی سلامتی کو دیکھا جائے کہ دراصل ہے یہ طوطی کس نقارخانے…

Read more