صوبائی امیر جماعت اسلامی کا اے این پی کی قیادت کو بھارت جانے کا مشورہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 ہم برسوں سے بلکہ شاید صدیوں سے یہ سنتے چلے آرہے ہیں کہ سیاست میں حرف آخر نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔ آج کے حلیف کل کے حریف تو کل کے حلیف آج کےحریف بن سکتے ہیں۔ گذشتہ سینیٹ انتخابات میں فکری و نظریاتی دشمن (جماعت اسلامی اور اے این پی) ایک ہوگئے تھے اور شاید پہلی بار جماعت اسلامی کے صوبائی قائدین نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکز ‘باچاخان مرکز’ کا دورہ کیا۔  اس موقع پر ایک تصویر میری نظر سے گزری جس میں حلقہ این اے  08 مالاکنڈ (پرانا این اے 35) سے سابقہ ایم این اے بختیار معانی بھی نظر آرہے تھے۔

سوشل میڈیا پر ان سے کمنٹس پر گفتگو ہوئی تو انہوں نے مانا کہ باچاخان کی خدائی خدمتگار تحریک خالص دینی تحریک تھی۔ حالانکہ ہمارے گاؤں میں بچپن سے ان صاحبان نے یہی سوچ ڈالی ہے کہ باچاخان  سرخ کانگریسی ، پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف تھے۔جماعت اسلامی کےوفد کی باچاخان مرکز کے دورے کا مقصد سینیٹ انتخابات میں جماعت کے صوبائی امیر (مشتاق احمد خان) کو عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے ووٹ دینے اور انہیں کامیاب کرانے  پر شکریہ ادا کرنا تھا۔ پریس کانفرنس ہوئی، کچھ تنقید بھی ہوئی لیکن بات ختم اور سیاست ایک بار پھر شروع۔

سینیٹ کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہوگئی، ایم ایم اے کا اتحاد بن گیا اور مذکورہ سینیٹرصاحب چارسدہ پہنچ گئے۔ چارسدہ میں اپنے امیدوار کے لئے مہم چلاتے ہوئے صوبائی امیرجماعت اسلامی نے عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ‘تمہاری پرانی یاری اور دوستی بھارت کے ساتھ ہیں۔ مودی کو درخواست کرلیں کہ آپ کو دہلی یا لکھنو کی کوئی سیٹ دے دیں، اب چارسدہ میں آپ کو کوئی سیٹ ملنی والی نہیں’ ۔ یہ الفاظ حرف بہ حرف ایک ویڈیو کی شکل میں سوشل میڈیا کے کئی پیجز پر موجود ہیں۔ کئی اخبارات کی سرخیاں بھی بن گئیں لیکن کسی نے اس پر کان نہ دھرا اورنہ ہی عوامی نیشنل پارٹی کی جانب سے ان پر کوئی خاص ردعمل سامنے آیا ہے۔

پارلیمنٹ تک پہنچنے کے لئے مشتاق احمد خان صاحب کو عوامی نیشنل پارٹی کی حمایت درکار تھی تو اپنے نظریاتی اختلاف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ان کے مرکز جانے کو تیار تھے مگر آج چارسدہ میں پی کے 58 پر انتخابات ہورہے ہیں تو مشتاق صاحب (ایک مذہبی سیاسی جماعت کے صوبائی امیر ہوتے ہوئے) اسی پارٹی کی قیادت کو بھارت جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ یہ وہی مشتاق صاحب ہیں جو ایک تقریر کے دوران پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی چئیرمین بلاول بھٹوزرداری کے متعلق کہہ چکے ہیں کہ وہ مردوں کی نشست پر انتخاب لڑیں گے یا خواتین کے ؟

پاکستان میں مذہب کے نام پر ووٹ لینے کا سلسلہ اس بار کچھ زیادہ ہی نظر آرہا ہے  مگر جماعت اسلامی کی قیادت کی طرف سے انتخابات میں کامیابی کے دوسرے مطالب نکالے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق  انتخابات میں ایم ایم اے کی کامیابی امریکا کے دوستوں کے منہ پر طمانچہ ہوگا۔ انتخابات جیتنے کے صورت میں فلسطین، برما اور کشمیر میں جشن ہوگا۔ یہ ایک نیا نعرہ ہے جو شاید اس سے پہلے استعمال نہ کیا گیا ہو۔۔

ان نعروں کا فائدہ کتنا ہوگا یہ تو 25 جولائی کے بعد ہی بتایا جاسکتا ہے مگر اپنی کامیابی کے لئے دوسرے سیاسی جماعتوں کی قیادت پر بھارت نواز اور  امریکا نواز کے فتوے لگانے سے نفرتیں ہی بڑھیں گی۔ سیاسی فائدے کی خاطر کفر کے فتوے پہلے بھی لگ چکے ہیں لیکن اس کا کوئی فائدہ سامنے نہ آسکا، شاید اب یہ نیا طریقہ ہے کہ کس طرح آئندہ عام انتخابات میں مخالفین کو زیر کیا جاسکے۔ مقصد جو بھی ہو لیکن جماعت یا ایم ایم اے کے قائدین کو الفاظ کے چناؤ کا خیال رکھنا ہوگا، ایسا نہ ہو کہ بھارت نواز اور امریکا نواز ہونا ایک نیا ٹرینڈ بن جائے اور نفرتوں کا کاروبار پروان چڑھتا رہے۔ خدارا نفرتوں سے نفرت کیجئیے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •