حلقہ پی بی 51 گوادر اور این اے 272 گوادر

اس حلقے کی اہمیت سے تو انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس حلقے کے لوگ آج بھی زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم چلے آرہے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے خدشات اور تحفظات بڑھنے کے ساتھ ساتھ مایوسی کی طرف گامزن ہیں۔ یہاں سے منتخب عوامی نمائندوں نے کبھی بھی اس حلقے کے بہتری کے لئے کوئی ایسی اقدام نہیں اٹھایا ہے جو کہ ان کی بہتر کارکردگی دکھانے میں مدد دے۔ اب الیکشن کے موقع پر ایک بار پھر ایک درجن سے زائد امیدوار میدان اتر چکے ہیں۔
ان میں سابقہ ایم پی اے میر حمل کلمتی، نیشنل پارٹی کے امیدوار اشرف حسین، بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار اور سابق ایم این اے میر یعقوب بزنجو قابل ذکر ہیں۔ جبکہ گوادر کم لسبیلہ نیشنل اسمبلی کے لئے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سردار اختر مینگل، جام کمال خان عالیانی، پرنس علی احمد الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ لسبیلہ کو گوادر سے حال ہی کے نئے حلقہ بندیوں کے موقع پر ملایا ہے۔ لسبیلہ کے سابق عوامی نمائندوں اور موجودہ انتخابی امیدواروں کی کارکردگی گوادر کے سابقہ امیدواروں سے کافی بہتر رہا ہے۔ جس سے یہ یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ متوقع الیکشن میں کامیابی حاصل کریں گے۔
گوادر میں سابق ایم پی اے اور سابق ایم این اے کا تعلق سردار اختر مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی سے رہا ہے، انہوں نے اپنے دور میں گوادر کے عام ووٹر کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے۔ جس کے باعث عام آدمی مسائل کا شکار ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اس وقت گوادر ضلع میں پانی کی بحران اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کے ماہی گیروں کو سمندر میں گجہ اور ٹرالنگ مافیا کا سامنا علاوہ ازیں بیروزگاری بھی یہاں کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ انہی سیاسی پنڈتوں نے سفارش کلچر متعارف کرا کر عام شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
اب سابقہ عوامی نمائندوں کی مایوس کن کارکردگی کی بنیاد پر نئے چہروں سے عام آدمی زیادہ پرامید نظر آتی ہے۔ حلقہ پی بی 51 گوادر سے سابقہ ایم پی اے میر حمل کلمتی کے مقابلے میں نیشنل پارٹی کے امیدوار اشرف حسین اور بلوچستان عوامی پارٹی باپ کے امیدوار میر یعقوب بزنجو کو زیادہ پسند کیا جارہا ہے۔ کیونکہ عام لوگوں کی یہ توقعات ہیں کہ وہ الیکشن جیت کر عوام کی حق نمائندگی بہتر انداز میں ادا کریں گے۔ یعقوب بزنجو جو کہ اس سے قبل بھی ایم این اے رہ چکا ہے، اس وقت کی کارکردگی پر نظر دوڑائی جائے تو اتنی اچھی نہیں ہے۔ تاہم لوگوں کو ان کی پارٹی باپ سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں۔
اشرف حسین جو کہ خود گوادر شہر سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اس علاقے اور عام آدمی کے بنیادی مسائل سے زیادہ واقفیت رکھتے ہیں۔ وہ انتہائی ہمدرد اور غریب پرور شخصیت کے مالک ہیں۔ اب یہ دیکھنا ہے کہ اس حلقے کی سیٹ کون جیت کر حق نمائندگی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی۔ محنت کش طبقہ اور مقامی ماہی گیروں کی توجہ فلحال نیشنل پارٹی کے امیدوار اشرف حسین کی طرف ہے۔ کیونکہ اسے آج تک نمائندگی کی شرف حاصل نہیں ہوئی ہے، اس لئے ان سے زیادہ توقعات وابستہ ہیں۔

