ضیا شاہد کی آڈیو اصلی یا نقلی؟
اسی اخبارمیں ایک اور خبر میں بتایا گیا کہ ماضی میں بھی بعض لوگ مشہور شخصیات کی پیروڈی کر چکے ہیں۔ دنیا بھر میں مذہبی، سیاسی رہنماؤں کے آڈیوز وائرل ہو کر بعدازاں جعلی ثابت ہوئے۔ خبر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ضیا الحق کے دور میں ایک فنکار نے چوہدری نظام دین کی آواز میں ایک آڈیو بنا کر پورے ملک میں پھیلا دی تھی جو بعد ازاں جعلی ثابت ہوئی اور مرزا سلطان عرف نظام دین نے ایک پریس کانفرنس میں تردید کی تھی کہ یہ آواز میری نہیں۔ ان ساری خبروں نے ہمارے اس شک کو یقین میں بدل دیا کہ ضیا شاہد کے بارے میں یہ غیراخلاقی آڈیو جعلی ہے اور اس کے ذریعے ان کے حاسدین انہیں بدنام کرنا چاہتے ہیں۔
ضیا صاحب کے خلاف ایسی ایک سازش اس سے پہلے بھی ہوئی تھی۔ اداکارہ ریما کے خلاف جب روزنامہ خبریں میں مہم شروع ہوئی تو انہوں نے پریس کانفرنس میں الزام عائد کیاتھا کہ ایک اخبار کا ایڈیٹرمجھے بلاتا تھا میں نہیں گئی تو میرے خلاف لکھا جا رہا ہے۔ ضیا شاہد نے بعد ازاں اداکارہ ریما کو خبریں کا کالم نگار بنا دیا۔ تاہم ایک انٹرویو میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف اداکارہ ریما سے بیان روزنامہ جنگ کے عاشق چوہدری نے دلوایا تھا۔ تاہم بعدازاں ریما کے ساتھ ضیا شاہد صاحب کی صلح ہوگئی۔
محترم ضیا شاہد کی یہ آڈیو ہمیں توجہ کے ساتھ اس وقت سننا پڑی جب ہماری توجہ صائمہ ملک صاحبہ کے ایک کالم ”بیوٹی پارلر اور بڈھے ٹھرکیوں کا نیا دھندا“ کی جانب سے مبذول کرائی گئی۔ یہ کالم کئی روز سے ہمارے سامنے آ رہا تھا لیکن چونکہ موضوع کا ہم سے تعلق نہیں تھا اس لیے ہم نے اس کالم کو پڑھنا مناسب نہ سمجھا۔ ہمیں بتایاگیا کہ آڈیو میں جو خاتون ضیا صاحب سے فرمائش کررہی ہے کہ میرا بھی خبریں کی لکھاری کے طورپر اپنے اخبار میں انٹرویو شائع کردیں اس نے اس کالم کے ذریعے یہ اعتراف کیا ہے کہ جو آڈیو وائرل ہوئی وہ میری گفتگو ہے۔ صائمہ ملک لکھتی ہیں ”میں نے ان صاحب کا نمبر لیا اور رابطہ کیا۔ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ اس کے لئے مجھے کتنا نیچے گرنا پڑا وہ ایک زخم ہے جو میں ہمیشہ یاد رکھوں گی۔ مجھے اس بندے کی ہر لغو گفتگو بڑے تحمل سے سننا پڑی۔ کوئی اور موقع ہوتا تو شاید میں اسے مار ہی ڈالتی۔ میں نے اس شیطان کا اعتماد جیتا اور اس کے ساتھ فون پر اور ملاقات کر کے تفصیلات حاصل کیں۔ “
یہاں تک بھی ہمیں یقین نہیں تھا کہ صائمہ ملک جس کا ذکر کررہی ہیں وہ ضیا شاہد ہیں۔ اسی کالم میں وہ لکھتی ہیں ”ان سب بیوروکریٹس، بزنس پرسنز اور کلیدی شخص تک پہنچ چکی ہوں جو اس مافیا کاحصہ ہیں۔ مگر میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ 75سالہ بوڑھا صحافی جو آٹھ منزلہ عمارت میں بیٹھ کر ملک کا نامور میڈیا ٹائیکون کہلاتا ہے میں اس کا نام کیسے لکھوں۔ جس ملک میں جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنانا قانون خریدنے والوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے وہاں میرے بیان کی کیا حیثیت ہو گی کسی عدالت میں۔ “
اصل کہانی کیا ہے اس کا سراغ لگانے کا مطالبہ خود ضیا شاہد صاحب بھی کررہے ہیں۔ وہ اپنے اخبار میں مطالبہ کرچکے ہیں کہ ایف آئی اے کے ذریعے اس جعلی آڈیو کی تحقیقات کرائی جائے۔ ضیا شاہد جس آڈیو کو جعلی کہتے ہیں اور جس کے بارے میں مجھ سمیت بیشتر صحافیوں کا یہ خیال تھا کہ وہ صحافیوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے اس آڈیو کے بارے میں اگر صائمہ ملک دعوی کرتی ہیں کہ یہ ان کی گفتگو ہے تو پھر اس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ معلوم ہونا چاہیے کہ وہ 75سالہ صحافی اگر ضیا شاہد نہیں تو پھر کون تھا۔ فی زمانہ کسی بھی آڈیو کی فورنزک لیب تصدیق کوئی مشکل کام نہیں اور لاہور کی فورنزک لیب تو ویسے بھی کارکردگی میں بہت مشہور ہے۔۔ چیف جسٹس آف پاکستان اگر بزنس ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف کارروائی کرسکتے ہیں تو ہمیں یہ مقدمہ ان کی عدالت میں لے کرجانا چاہیے۔ اے پی این ایس، سی پی این ای، پی ایف یوجے سمیت اخباری مالکان اور صحافیوں کی تمام تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع پر مجرمانہ خاموشی اختیارکرنے کی بجائے محترم ضیا شاہد کا بھرپور ساتھ دیں۔ انہیں تنہا نہ چھوڑیں اور اس جعلی آڈیو کو بے نقاب کرکے صحافت پر لگنے والے اس دھبے کو صاف کیا جائے۔
بشکریہ: گردوپیش، ملتان

