والد مرحوم کے لیے 20 برس بعد لکھا گیا دوسرا مضمون
ہم نے سال 2010 میں ”رفتگان ملتان“ شائع کی تو اس کے لیے پہلا مضمون ”پہلا جنازہ“ کے نام سے تحریر کیا۔ یہ مضمون ہم نے اس کتاب کی اشاعت سے قبل ایک شام اپنے گھر کے ایک کمرے میں تنہا بیٹھ کر لکھا تھا اور جب ہم نے یہ جملہ لکھا: ” کون ہو گا جس نے میرے باپ کی موت کی خبر بنائی ہو گی؟“ تو بے اختیار ہماری آنکھیں چھلک گئیں۔ ہم نے آنکھیں پونچھ کر مضمون
Read more















