والد مرحوم کے لیے 20 برس بعد لکھا گیا دوسرا مضمون

ہم نے سال 2010 میں ”رفتگان ملتان“ شائع کی تو اس کے لیے پہلا مضمون ”پہلا جنازہ“ کے نام سے تحریر کیا۔ یہ مضمون ہم نے اس کتاب کی اشاعت سے قبل ایک شام اپنے گھر کے ایک کمرے میں تنہا بیٹھ کر لکھا تھا اور جب ہم نے یہ جملہ لکھا: ” کون ہو گا جس نے میرے باپ کی موت کی خبر بنائی ہو گی؟“ تو بے اختیار ہماری آنکھیں چھلک گئیں۔ ہم نے آنکھیں پونچھ کر مضمون

Read more

بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف: ایٹمی پروگرام کے بانیوں پر کیا بیتی؟

ستائیس مئی 1998 کی رات ہم نے روزنامہ نوائے وقت کے دفتر میں جاگ کر گزاری تھی۔ جس طرح بارہ اکتوبر 1990 کو نواز شریف کی حکومت کے خاتمے سے حوالے سے نام ور افسانہ نگار اشفاق احمد نے بارہویں شریف کا نام دیا تھا اسی طرح ہم نے بھی ستائیس اکتوبر کے رت جگے کو ستائیسویں کی رات قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس مرتبہ ستائیسویں کی رات عیسوی کیلنڈر کے حساب سے آئی ہے۔ ایٹمی دھماکے

Read more

2024 ہماری تنہائی میں مزید اضافہ کر گیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ہر سال کی طرح 2024 بھی ہمیں بہت سے دکھ دے گیا۔ ان میں کچھ دکھ ذاتی اور کچھ اجتماعی ہیں۔ کچھ ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہماری زندگیوں کو خوب صورت بنایا اور کچھ ایسی ہیں جو قومی یا عالمی منظر نامے میں بہت اہمیت رکھتی تھیں۔ گزشتہ برس ہم نئے سال میں اپنے دوستوں امجد حیات سدوزئی، حسنین اصغر تبسم اور ارشاد امین کے بغیر داخل ہوئے تھے اور 2024 میں ہمیں

Read more

من کا اجلا: ناصر کالیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ہم سب ویسٹ انڈیز اور پاکستان کا میچ ”نوائے وقت“ کے نیوز روم میں دیکھ رہے تھے۔ فیصلہ کن لمحات تھے۔ سب سانس روکے ہوئے ایک ایک بال کا لطف لے رہے تھے۔ اس سناٹے میں ایک جملہ نیوز روم میں گونجا۔ ”شاہ جی ( عاشق علی فرخ ) کالا تو میں بھی ہوں لیکن یہ ب۔ چ تو بہت ہی کالے ہیں۔ قسم سے شاہ جی بہت ہی کالے ہیں۔ نہیں نہیں شاہ

Read more

سہیل اصغر: جو آدمی تھا ذرا وکھری ٹائپ کا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) یہ کم و بیش چالیس برس پرانی کہانی ہے۔ سال 1985ء اور مہینہ جون کا میں ملتان سے شمع ریل کار (جس کا نام بعد ازاں موسیٰ پاک ایکسپریس ہو گیا) پر لاہور جا رہا تھا ٹرین چونکہ ملتان سے ہی چلتی تھی اس لیے سیٹ بک کروانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ جیسے ہی ٹرین پلیٹ فارم پر آتی، ہم اپنے بیگ اٹھا کر اس میں سوار ہو جاتے اور کوئی

Read more

آہ! رانا نوشاد قاصر

گزشتہ روز ڈاکٹر اسلم انصاری کے تعزیتی ریفرنس میں شرکت کے لیے اپنے دفتر سے نکل ہی رہا تھا کہ واٹس ایپ پر ڈاکٹر علی اطہر کا پیغام موصول ہوا کہ رانا نوشاد قاصر دکھوں سے آزاد ہو گئے ہیں۔ دوستوں کو اس خبر سے آگاہ کرنا ضروری تھا تو میں نے فوری طور پر نوشاد قاصر صاحب کے انتقال کی خبر بنائی اور اسے اے پی پی کو جاری کر دیا اور ساتھ ہی یہ خبر ویب سائٹ گردوپیش

Read more

اسلم انصاری: وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے ہونے سے ہم خود کومعتبر سمجھتے ہیں۔ وہ مسلسل کام کرتے ہیں، انتھک محنت کرتے ہیں۔ وہ کوئی شارٹ کٹ اختیار کرنے کی بجائے اپنی محنت کے بل بوتے پر آگے بڑھتے ہیں۔ وہ اپنی شہرت کے لیے کسی ادبی مرکز کے محتاج نہیں ہوتے ہوتے۔ کسی بڑے شہر میں ہجرت کرنے کی بجائے اپنی دھرتی اور اپنی جنم بھومی کو اپنا مسکن اور اپنی پہچان

Read more

مشتاق شیدا: قراۃ العین حیدر کے شیدائی کی آٹھویں برسی

مشتاق شیدا صاحب کو میں 1982 سے مختلف تقریبات میں باقاعدگی سے شرکت کرتے دیکھتا تھا۔ ان کے ساتھ سرسری ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن یہ محض سلام دعا تک محدود رہیں۔ وہ بنیادی طور پر وکالت کے پیشے کے ساتھ منسلک تھے اور ان کے پاس بہت ساری کہانیاں تھیں، بہت سی باتیں تھیں جو بعد کے دنوں میں ان کے ساتھ ملاقاتوں میں زیر بحث آتی تھیں۔ مشتاق شیدا صاحب کے ساتھ میری باقاعدہ ملاقاتوں کا سلسلہ اس زمانے

Read more

رزاق شاہد کھلے آسمان سے آٹھویں آسمان تک

ہمارے سروں پر سات آسمانوں کا بار کیا کم تھا کہ رزاق شاہد آٹھواں آسمان بھی اٹھا لائے۔ اور یہ وہ آسمان ہے جو ہم پر کبھی عذاب نہیں بھیجتا، ہمارے دکھوں کو کم کرتا اور زخموں پر مرہم رکھتا ہے۔ رزاق شاہد کے ساتھ میری ایک یا دو مختصر ملاقاتیں ہیں لیکن ان ملاقاتوں کے نقش اتنے گہرے ہیں کہ میں انہیں ہمیشہ اپنے دل کے قریب سمجھتا ہوں۔ خوبصورتی ان کی تحریروں کی یہ ہے کہ ان میں

Read more

قمر رضا شہزاد کے نواح میں

قمر رضا کے ساتھ میری رفاقت کئی عشروں پر محیط ہے۔ میں نے اپنی کتاب ”وابستگانِ ملتان“ ملتان میں قمر رضا شہزاد کی ملتان آمد پر لکھا تھا کہ پانچ ہزار سال پرانا شہر ملتان آباد ہی قمر رضا شہزاد کے لیے کیا تھا کہ وہ آئے اور یہاں بسرام کرے۔ قمر رضا شہزاد نے ملتان کو اپنا مسکن تو کوئی کم و بیش پندرہ برس قبل بنایا لیکن وہ پہلے بھی تو میرے نواح میں رہتا تھا۔ ہم نے

Read more

مصباح نوید، غلام معاشرہ اور غلام گردشیں

مجید امجد کے شہر ساہیوال کے ساتھ میری وابستگی کوئی 45 برس پر محیط ہے۔ 1978 میں جب میں نے مختلف اخبارات و جرائد میں اپنی غزلیں بھیجنا شروع کیں تو انہی دنوں جعفر شیرازی صاحب سے بھی رابطہ ہوا۔ وہ خط و کتابت کا زمانہ تھا اور اخبارات میں قلم کاروں کی تخلیقات کے ساتھ ان کے پتے بھی شائع کیے جاتے تھے۔ سو شیرازی صاحب کے ساتھ قلمی دوستی کا آغاز ہوا۔ شیرازی صاحب اسی زمانے میں ڈپٹی

Read more

اجمل سراج: اک زمانہ چھن گیا

موت نے ہم پر بہت سے وار کیے، ہمارے بہت سے پیارے ہم سے چھینے، اور ہم نے اس کے ہر وار کو اپنے سینے پر جھیلا بلکہ سینے سے لگا کر بھی رکھا۔ لیکن اس مرتبہ تو موت نے ایک بار پھر ہم سے ہمارا پورا عہد اور پورا زمانہ ہی چھین لیا، جیسے اطہر ناسک کے ساتھ میرا ایک زمانہ ختم ہو گیا جس میں میری لڑکپن کی بہت سی آوارگی شامل تھی اور جس میں میرے لاہور

Read more

آلودہ معاشرہ اور ماحولیاتی تناظر میں ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کی تحقیقی کاوش

ڈاکٹر اشرف جاوید ملک کو میں اس زمانے سے جانتا ہوں جب میں نے 1999 میں روزنامہ نیا دن کے اجراء کے لیے نوائے وقت کو دوسری مرتبہ خیر باد کہا تھا۔ اشرف جاوید پہلی بار اسی اخبار کے ساتھ صحافی کے طور پر منسلک ہوئے تھے۔ ان دنوں وہ ملتان کے مضافاتی گاؤں میں رہتے تھے اور بہت مشکل حالات سے گزر رہے تھے۔ نیا دن میں انہیں معمولی تنخواہ ملتی تھی۔ اخبار کی سرکولیشن بہت اچھی لیکن مالی

Read more

اقبال ارشد کے غم کا فسانہ اور کہانی کا آخری کردار

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ابھی ان کی بینائی ختم نہیں ہوئی تھی۔ ابھی ان کے قہقہے دور تک سنائی دیتے تھے۔ لیکن ان کے قہقہے تو ان کی بینائی ختم ہونے کے بعد بھی سنائی دیتے رہے کہ قہقہے بصارت کے محتاج تو نہیں ہوتے۔ جب میں نے انہیں پہلی بار بابا ہوٹل میں دیکھا۔ اس وقت ابھی انہوں نے اپنے بیٹے عدنان کی جدائی کا صدمہ نہیں جھیلا تھا۔ ابھی برادران اقبال نے انہیں ان کے مکان

Read more

امین راجپوت : زرگر گھرانے کا کندن کیسے خاک میں ملا؟

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) یہ 1987ء یا 88ء کا زمانہ تھا جب ہم نے امین خان کو بابا ہوٹل میں مقبول بخاری مرحوم کے ساتھ دیکھا تھا۔ مقبول بخاری اس زمانے میں بزنس ریکارڈر سے منسلک تھے اور بابا ہوٹل کے قریب صمد پلازہ میں ان کا دفتر تھا۔ مقبول بخاری امین خان کو اپنا شاگرد کہتے تھے لیکن امین خان ہمیشہ مجھ سے ان کی شکایت ہی کرتا تھا۔ یہ اس کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ بابا

Read more

کارواں بک سینٹر سے شنگریلا چوک تک: تصویر کہانی (11)

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) صدر بازار ملتان میں محبوب بیکری والے چوک میں جہاں کبھی کارواں بک سینٹر ہوتا تھا اس کے اوپر دو یا تین منزلہ فلیٹ ہیں۔ ان فلیٹوں میں 1973۔74 کے زمانے میں ہم اکثر جاتے تھے۔ فلیٹوں پر جانے کا راستہ کارواں بک سینٹر کی عقبی گلی سے تھا جہاں اب منیر ٹی سٹال ہے اور رات کو کسی لمحے جب چائے پینے کو جی چاہے تو ہم اسی ٹی سٹال کا رخ کرتے

Read more

ایٹمی دھماکوں کی بریکنگ نیوز: ستائیسویں کی رات جو ہم نے جاگ کر گزاری

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) ستائیس مئی کی 1998 کی رات ہم نے روزنامہ نوائے وقت کے دفتر میں جاگ کر گزاری تھی۔ جس طرح بارہ اکتوبر 1990 کو نواز شریف کی حکومت کے خاتمے سے حوالے سے اشفاق احمد نے بارہویں شریف کا نام دیا تھا اسی طرح ہم نے بھی ستائیس اکتوبر کے رت جگے کو ستائیسویں کی رات قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ اس مرتبہ ستائیسویں کی رات عیسوی کیلنڈر کے حساب سے آئی

Read more

بریکنگ نیوز: راجیو گاندھی کا قتل اور ملک صفدر کی بے نیازی

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) اب تک ہم نے آپ کو جن سنسنی خیز خبروں (بریکنگ نیوز) کا احوال سنایا ان میں سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کی خبر بھی شامل ہے۔ اندراگاندھی کو 31 اکتوبر 1984ء کو قتل کیا گیا تھا اور ان دنوں میں روزنامہ نوائے ملتان کے ساتھ وابستہ تھا۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ ابھی اطلاعات کی ترسیل میں برق رفتاری نہیں آئی تھی میڈیا پر سرکاری کنٹرول تھا اور اندرا گاندھی کے

Read more

بہت خوبصورت امی جان اور ان کے بہت سے دکھ

ماں کسی کی بھی ہو ہمیشہ خوبصورت ہوتی ہے اور ہمیشہ دکھ جھیلنے کے لیے ہی اس دنیا میں ‌آتی ہے۔ شاکر کی امی تو بہت خوبصورت تھیں ‌اور اسی لیے بہت سے دکھ جھیل کر آج اس جنت کی طرف روانہ ہو گئیں جو ان کے قدموں کے نیچے تھی۔ میں نے امی کو پہلی بار کالج کے زمانے میں دیکھا تھا۔ شاید 1981 کے ستمبر اکتوبر کی بات ہو گی جب یہ فیملی خونی برج سے چاہ بوہڑ

Read more

کریم منزل اور میرا بچپن

2010ء میں روزنامہ جنگ کے میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے میں نے ملتان کے طرز تعمیر اور ایسی عمارتوں پر فیچر لکھوائے جو قیام پاکستان سے پہلے تعمیر ہوئیں اور جن پر ہندو طرز تعمیر کے اثرات تھے۔ ایسی عمارتیں آج بھی ملتان کے مختلف مقامات پر موجود ہیں لیکن ان دنوں ان کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ فوری طور پر اس حوالے سے جو عمارتیں ذہن میں آئیں ان میں بوہڑ گیٹ، اندرون نواں شہر اور صدر بازار سے

Read more

سپریم کورٹ کا سجدہ سہو اور بھٹو صاحب کی جھلک دیکھنے والا بچہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 6 مارچ کو بالآخر سجدہ سہو کرتے ہوئے یہ تسلیم کر لیا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو ان کے خلاف مقدمہ قتل میں فری ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا (یعنی انہیں انصاف نہیں ملا) فیصلے کے بعد سے یہ بات زیربحث ہے کہ کیا عدالت عظمی کی جانب سے اس اعتراف کے بعد اس نقصان کی تلافی ہو جائے گی جو کم وبیش 45 برس قبل بھٹو صاحب کی پھانسی کے نتیجے

Read more

غضنفر شاہی، ماہ صیام اور عمران خان

آج مجھے غضنفر شاہی یاد آ رہے ہیں ایک تو اس لیے کہ ان کی دوسری برسی ہے اور پھر ایک وجہ یہ کہ ان کی برسی اس مرتبہ بھی رمضان المبارک میں آئی۔ رمضان ایک خاص موقع ہے اور ایسے خاص مواقع پر اپنے ہی شدت سے یاد آتے ہیں۔ وہ لوگ جن کے ساتھ آپ نے خوبصورت لمحات گزارے ہوتے ہیں۔ جن کے ساتھ آپ کے دکھ اور خوشیاں سانجھی ہوتی ہیں اور وہ لوگ جو آپ کے

Read more

خوشی آئین میں لکھی ہوئی دفعات جیسی ہے

(خوشی کے عالمی دن پر لکھی نظم) ہمیں یہ حکم آیا ہے کہ ہم خوش خوش نظر آئیں سو ہم بھی مان لیتے ہیں کہ ہم خوش ہیں، بہت خوش ہیں ‌ جو سب کہتے ہیں ‌وہ سب جھوٹ ہے، ہم مان لیتے ہیں ہمیں تسلیم ہے اب آپ نے جو کچھ بھی فرمایا، وہی سچ ہے یہ جتنی لُوٹ ہے، سچ ہے یہاں جو جھوٹ ہے سچ ہے ہمیں تسلیم ہے صاحب بہت تعظیم ہے صاحب اگرچہ رائیگانی ہے،

Read more

خالد مسعود خان اور افغان جہاد کے ثمرات

اگر آپ اسے جملہ معترضہ نہ سمجھیں تو میں یہ کہنے کی جسارت کروں گا کہ ہمیں افغان جہاد کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس کے نتیجے میں اردو ادب کو خالد مسعود جیسا مزاحیہ شاعر دستیاب ہوا۔ افغان جہاد میں کم از کم ہمیں تو خیر کا یہی ایک پہلو دکھائی دیا۔ اس جہاد نے یوں تو احمد شاہ مسعود اور مولانا اظہر مسعود جیسے جنگجو بھی پیدا کیے مگر ان مسعود برادران میں ہمیں برادر عزیز خالد

Read more

اس برس تو میں ہوں

اس برس تو میں ہوں تم سے لڑتا، جھگڑتا، کبھی مسکراتا کبھی قہقہوں میں سبھی غم اڑاتا تمہیں یہ بتاتا کہ پچھلے برس کس نے کب کس طرح سال نو پر مجھے فون پر wish کیا تھا کہ پچھلے برس ہم کسے کب ملے تھے کہاں چائے پی اور یونہی بے ارادہ کہاں تک گئے تھے کہ پچھلے برس کون کب تک جیا تھا کہاں کس گلی تک تو وہ ساتھ تھا اور کہاں گم ہوا تھا اس برس تو

Read more

ملتان کے سات اخبارات کے ابتدائی دنوں کی کہانیاں

رضی الدین رضی کی یاد نگاری صحافتی زندگی کے حوالے سے اپنی یادوں کو قلمبند کرنے بیٹھا تو گویا دبستاں کھل گیا۔ کون سی خبر کب بنائی؟ کس ادارے میں کس کے ساتھ کام کیا؟ کس نے کتنی تن خواہ ہضم کی؟ کون اب کس حال میں ہے؟ اور کون اب حال میں ہے نہ مستقبل میں صرف ماضی بن چکا ہے؟ ایک ایسا ماضی جو ہمیں ناسٹلجیا میں لے جاتا ہے اور معطر رکھتا ہے۔ خیالوں کے اسی تسلسل

Read more

امجد حیات کے پرسے کا انتظار

امجد حیات جب تک حیات تھا مجھے دکھ کے لمحوں میں پرسہ دیتا تھا۔ رانا اعجاز کی وفات ہو، اقبال ارشد، حسین سحر، طاہر اوپل یا کسی اور عزیز کی امجد حیات کا فون دکھ کے ان لمحوں میں ضرور آتا تھا۔ مجھے یاد ہے امجد اسلام امجد کی وفات پر بھی امجد حیات نے مجھے تعزیت کے لیے فون کیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ بس رضی یہ دوسرا امجد بھی جانے والا ہے۔

Read more

بیس ستمبر 1996ء: مرتضی بھٹو کے قتل کی بریکنگ نیوز

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) جس بریکنگ نیوز کی میں آج کہانی سنا رہا ہوں۔ یہ اس پراسرار قتل کی ہے جس کی گتھی آج تک نہیں سلجھ سکی۔ اور یہ قتل سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو کے صاحبزادے اور سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے بھائی مرتضی بھٹو کا تھا۔ قتل بھی اس دور میں ہوا جب بہن وزارت عظمی کے منصب پر فائز تھی اور جن لوگوں نے مرتضی کو گولیاں سے چھلنی کیا

Read more

مبارک قاضی: بلوچستان کے خدائے سخن تھے

نامور مزاحمتی شاعر مبارک قاضی کے انتقال کے بعد ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تو بلوچستان کے میر تقی میر تھے۔ جیسے ہم اردو کے مزاحمتی شاعروں میں فیض، فراز اور جالب سے محبت کرتے ہیں بلوچستان کے عوام اسی طرح مبارک قاضی کو مبارک سمجھتے تھے۔ کسی اور کی تو بات ہی چھوڑیں میں جو شعر و ادب اور صحافت سے جڑا رہتا ہوں اور خود کو باخبر بھی سمجھتا ہوں، مجھے بھی آج ان کے انتقال کے بعد

Read more

جلتی ہوئی بریکنگ نیوز اور 110 منزلہ قبرستان کی کہانی

رضی الدین رضی کی یاد نگاری یہ 110 منزلہ قبرستان کا منظر تھا، قبرستان کی ہر منزل میں زندہ لوگ تھے جنہیں کچھ دیر بعد نعشوں میں تبدیل ہونا تھا۔ یہ لوگ بے بسی کے عالم میں کھڑکیوں سے جھانکتے تھے اور کھڑکیوں کے نیچے آگ تھی۔ وہ آگ سے بچنے کے لئے کھڑکیوں سے چھلانگ لگاتے تھے اور زمین سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جاتے تھے۔ گویا آگ سے بچنے والوں کو بھی موت سے کوئی نہ بچا

Read more

پانچ جولائی 1977ء: پہلی بریکنگ نیوز

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) میں ان دنوں ساتویں جماعت کا طالب علم تھا۔ پی این اے کی تحریک کی وجہ سے مارچ میں ہونے والے امتحانات ملتوی کر دیے گئے تھے اور ہم سب کو سابقہ کارکردگی کی بنیاد پر اگلی جماعتوں میں بھیج دیا گیا تھا۔ پانچ جولائی کی صبح مارشل لا نافذ کیا گیا تو مجھے اس خبر کا آٹھ نو بجے کے بعد علم ہوا تھا۔ میرے دادا نو ستاروں (پی این اے) کے حامی

Read more

اندرا گاندھی کا قتل: جب میں نے پہلا ضمیمہ تیار کیا

(رضی الدین رضی کی یاد نگاری) مارچ 1983 ءمیں جب میں نے روزنامہ سنگ میل سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا تو ان دنوں بھارت میں سکھوں کی تحریک عروج پر تھی اور اسے خالصتان کی تحریک کا نام دیا گیا تھا۔ بھارت کا کہنا تھا کہ اس تحریک کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے اور جنرل ضیا کی فوجی حکومت خالصتان تحریک کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا اس تحریک کی قیادت کر رہے

Read more

پرویز مشرف اور ان کے جھنڈے کی حمایت میں

آپ کل سے سوشل میڈیا پر سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کی موت کے بعد ان کے خلاف بلا وجہ کی مہم دیکھ رہے ہیں۔ ان کے حامی بھی بہت ہیں اور مخالف بھی۔ خود میں اب سے کچھ دیر پہلے تک ان کا شدید مخالف تھا اور ایک آئین شکن کو پاکستان میں پورے اعزاز کے ساتھ دفن کیے جانے کے حق میں نہیں تھا۔ پھر مجھے ایک بھلے مانس نے سمجھایا کہ میں مشرف صاحب کی مخالفت ترک

Read more

ڈاکٹر اختر شمار لاہور سے ملتان کی خوشبو بھی لے گئے

ڈاکٹر اختر شمار کی زندگی میں میں نے ان کا جو خاکہ لکھا وہ میری کتاب ”آدھا سچ“ میں موجود ہے یہ خاکہ میں نے 30 برس قبل 10 اگست 1992 ء کو تحریر کیا تھا اور جب 8 اگست 2022 ء کو اختر شمار کا انتقال ہوا تو مجھے سب سے پہلے وہی خاکہ یاد آیا اور یہ بھی خیال آیا کہ وقت کس طرح گردش میں رہتا ہے اور ایک ہی مہینہ کم وبیش ایک جیسی تاریخوں کے

Read more

دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کا ہر شہر والٹن کیمپ کا منظر پیش کر رہا ہے: رزاق شاہد

ملتان: (اے پی پی): معروف دانشور اور ماہر تعلیم رزاق شاہد نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کے مشرقی کنارے کا ہر شہر والٹن کیمپ کامنظرپیش کر رہا ہے۔ اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ انسان ہمیشہ سے آندھیوں،طوفانوں اور سیلابوں سے نبردآزماہے اورہم بھی اسی تجربے سے گزررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تین روز قبل راجن پور کو بچانے کے لیے فاضل پور اور اس سے ملحقہ علاقوں کو ڈبو دیاگیا۔ ہم ہمیشہ سے

Read more

عمران خان کا انجام اور مستقبل

موجودہ سیاسی صورت حال میں ہم (بقول نصرت جاوید) جس اندھی نفرت اور عقیدت کا شکار ہوئے ہیں اس نے معاشرے کو دو انتہاؤں میں تقسیم کر دیا ہے، عمران خان فیکٹر اب ایک حقیقت بن چکا ہے اور جن دوستوں کا خیال ہے کہ یہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائے گا وہ شاید غلط فہمی کا شکار ہیں، میرے خیال میں عمران خان نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا اور جس طرح ہماری اور ہم

Read more

12 مئی 2007: کراچی کا قتل عام اور پرویز مشرف کے مکے

اقتدار کا کھیل ہمیشہ سے موت کا کھیل بھی رہا ہے۔ وطن عزیز میں یہ دونوں کھیل ہمیشہ سے کھیلے جارہے ہیں۔ کھلاڑی البتہ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ ایسا ہی کھیل آج سے 14 برس قبل 12 مئی 2007ء کو کراچی میں کھیلا گیاتھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ موت کا یہ کھیل کھیلنے والے کھلاڑی تو آج بھی موجود ہیں، لیکن 12 مئی 2007ء کے اس المیے کو ان کھلاڑیوں نے اور شاید خود ہم نے بھی فراموش

Read more

دسمبر، عرش صدیقی کی یاد ، اور اذیت کے عشرے

بعض لمحے زندگی کے ایسے ہوتے ہیں جو کسی خاص یاد کے ساتھ وابستہ ہو جاتے ہیں۔ کوئی خاص لمحہ، کوئی تاریخ، دن یا مہینہ، کوئی نہ کوئی ایسی خوشگوار یاد ہوتی ہے کہ جو آپ کو اس مخصوص دن یا مہینے کے ساتھ جوڑ دیتی ہے۔ کوئی ایسا واقعہ ہوتا ہے جو کہیں نہ کہیں تعلق جوڑ رہا ہوتا ہے۔ کوئی ایسا موسم ہوتا ہے کہ جس میں تپتی دوپہر میں بھی ہوا ٹھنڈی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہ

Read more

ریاستی دہشت گردی : معلوم اور نامعلوم کی کہانی

اجازت ہو اور جان کی امان ملے تو یہ سوال پوچھنے میں کوئی حرج نہیں کہ کیا ریاست مدینہ میں بھی معصوم بچوں کے والدین کو ان کے سامنے اسی طرح بے دردی سے قتل کیا جاتا تھا جیسے ہماری ریاست میں کیا گیا؟ اور کیا ریاست مدینہ میں بھی ریاستی دہشت گردی کی گنجائش ہوتی ہے؟ یہ سوال بھی پوچھنا چاہیئے کہ والدین کو اپنے سامنے قتل ہوتا دیکھنے اور ان کی لاشوں کی ویڈیوز بنتے ہوئے دیکھنے کے

Read more

ان سرخوں کا یہی انجام ہونا چاہیئے

کچھ روایات چند لوگوں اور کچھ خاندانوں سے منسوب ہوجاتی ہیں۔ کچھ رتبے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہوتے ہیں۔ اور ہم ایسے لوگوں کی شہادتوں پر یہ کہہ کر خود کوتسلی دیتے ہیں اور ان کے خاندان کو پرسہ دیتے ہیں کہ آپ کا بیٹا، آپ کافرزند اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یا اپنے بزرگوں کی روایات کو نبھاتے ہوئے اس منصب پر فائز ہو گیا ہے جسے شہادت کا منصب کہتے ہیں اور شہیدوں کو

Read more

کسی بھی فیصلے پر لوگ اب حیراں نہیں ہوتے

جب فیصلہ ایک ہی چل رہا ہے اور 70 برس سے صرف جج ہی تبدیل ہو رہے ہیں تو کسی بھی فیصلے پر نہ حیران ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ملال کی کوئی گنجائش ہے۔ آپ جو سمجھ رہے ہیں ہم وہ بات ہی نہیں کر رہے اور ہم جو بات کر رہے ہیں وہ تو آپ سمجھ ہی نہیں رہے۔ اور آپ کو سمجھنا بھی نہیں چاہیے۔ باتیں سمجھ آنا شروع ہو جائیں تو زندگی اجیرن ہو جاتی

Read more

ضیا شاہد کی آڈیو اصلی یا نقلی؟

ضیا شاہد اردو صحافت کا ایک معتبر نام ہے۔ ایک ایسی ہستی کہ جن کی صحافتی خدمات نصف صدی سے زیادہ پر محیط ہیں۔ ایک کارکن صحافی کی حیثیت سے انہوں نے بہت کم عمری میں عملی زندگی کا آغاز کیا۔ مختلف اخبارات وجرائد میں کام کے دوران انہیں نامور صحافیوں کی رفاقت میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ ایک رپورٹر، کالم نگار، ایڈیٹر، میگزین ایڈیٹر کی حیثیت سے ضیا شاہد نے بہت سی نئی روایات قائم کیں۔ انہوں نے

Read more

زعیم قادری اور جمال لغاری کا زعم

دو تین روز سے مختلف محفلو ں میں محترم زعیم قادری اور سردار جمال خان لغاری کا زعم گفتگو کا موضوع ہے۔ یہ وہی زعیم قادری ہیں جو شریف خاندان کی بدعنوانیوں کابھرپور دفاع کیا کرتے تھے۔ پنجاب مسلم لیگ کے عہدیدار اور پارٹی ترجمان کی حیثیت سے نوازشریف، شہبازشریف سمیت پورے خاندان کا پوری یکسوئی اور خشوع وخضوع کے ساتھ دفاع کرنا زعیم قادری صاحب کے فرائض منصبی میں شامل تھا۔ ہم تو آج تک اسی غلط فہمی میں

Read more

مزاحمتی مزاح نگار کے لئے چند مسکراہٹیں

ہنسانے والا جب چلا جائے اور ایک بھرپور زندگی گزار کر جائے۔ ایک پورے عہد کو اپنے نام کر کے جائے تو اس کے رخصت ہونے پر رونا ہرگز نہیں چاہیے۔ یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ہنسانے والا رلا گیا۔ اور یہ بھی نہیں کہنا چاہیے کہ عہد یوسفی ختم ہو گیا۔ بدقسمتی سے ہم بھیڑ چال کے زمانے میں زندہ ہیں اور بھیڑ چال بھی وہ کہ جس میں بہت سے بھیڑیوں نے بھیڑوں کی کھال اوڑھ رکھی ہے۔

Read more

شبنم ڈکیتی کیس، فاروق بندیال اور پی ٹی آئی

بدنام زمانہ شبنم گینگ ریپ کیس کے مرکزی ملزم فاروق بندیال کی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اور بنی گالہ میں عمران خان کے ساتھ ان کی ملاقات کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد 40 سال پرانا وہ مقدمہ ایک بار پھر زیر بحث آ گیا جو 1978ء میں شہ سرخیوں میں آیا تھا۔ فاروق بندیال ایک ٹرانسپورٹر ہیں اور ان کا تعلق خوشاب سے ہے۔ ماضی میں سیاسی حوالے سے ان کا نام کبھی بھی سننے

Read more