اقتدار کی کرسی، پیر، فقیر اور مزار۔۔۔


آج کل ہمارے آپ کے سب کے لیکن نوجوانوں کے خاص کر، محبوب لیڈر عمران خان اور ان کی تیسری اہلیہ بشریٰ (جو کہ پنکی بیگم کے نام سے مشہور ہیں) کی پاکپتن میں معروف صوفی بزرگ حضرت بابا فرید گنج شکر کے مزار پر حاضری کی خبریں گرم ہیں۔ بہشتی دروازے کے فرش پر بوسہ نے ہر ٹی وی چینل اور سوشل میڈیا پر طوفان برپا کر دیا ہے۔

خان صاحب کی بیگم کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ تعویز گنڈوں اور چلوں کے علاوہ قسمت کا حال روحانی طریقوں سے جاننے پر عبور رکھتی ہیں۔

عمران خان کی شادی بھی کہا جاتا ہے کہ پنکی کی ان کرامات کا نتیجہ ہے انہوں نے اپنے پہلے شوہر سے طلاق لیکر خان صاحب سے شادی کی۔ انہیں یقین ہے کہ ان سے شادی کر کے خان صاحب وزیر اعظم اور وہ خاتون اول بن جایں گی۔

صحافت میں طویل عرصہ گزارنے اور اسی کی دہائی کے وسط سے اب تک ہونے والے تمام عام انتخابات کی رپورٹنگ کرنے کے علاوہ میں نے تعلیم بھی سیاسیات میں حاصل کی اور یہی پڑھا کہ جمہوریت میں اقتدار کا حصول عوام کے ووٹ سے حاصل کیا جاتا ہے اور کیا جانا چاہے۔ عمران خان بھی سیاسیات میں آکسفورڈ سے فارغ التحصیل ہیں پر انہیں نہ جانے یہ بات کیوں سمجھ نہیں آئی کہ اقتدار کے حصول کے لیے ووٹ کے لئے عوام سے رابطہ مضبوط کرنے کے بجایے پیروں فقیرروں اور مزاروں کی طرف چل پڑے۔

میرا اس بات پر پختہ یقین ہے کہ مذہبی ذمہ داری اور طور طریقے ہر فرد کا اپنا عمل ہے، اقتدار کے حصول کے لئے یہ وقتی رویے تشویش پیدا کرتے ہیں کیوں کہ ایک سیاست دان، کھلاڑی، جج اور دانشور پورے معاشرے کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ماضی میں بھی ہمارے سیاسی رہنما اقتدار کے حصول کے لئے پیروں فقروں اور مزارات پر حاضری دیتے رہے۔ جنرل ضیاءالحق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مسلک کے دیو بندی تھے پر وہ بھی نجومیوں سے مشاورت کرتے تھے۔ بہاولپور میں کے حادثہ میں مرنے سے پہلے انہیں ایک نجومی نے منع کیا تھا کہ ان تاریخوں میں گھر سے باہر نہ نکلیں جب چار آٹھ اکٹھے ہو جائیں ۔ آ ٹھ اگست 1988 کو ضیا نے اپنی کوئی مصروفیت رکھی ھی نہیں۔ پر انہیں معلوم نہیں تھا کہ علم الاعداد میں جمع تفریق بھی ہو تی ہے۔ سو سترہ اگست کو چار آٹھ مل گیے اور جنرل صاحب گیارہ سال اقتدار کر کے اللہ کو پیارے ہو گیے۔

نواز شریف نوے کے عام انتخابات سے پہلے مانسہرہ کے ایک ایسے پیر کے پاس گئے جو دیوانہ بابا دھنکا شریف کہلاتے تھے۔۔ وہ اپنے پاس آنے والے تمام VVIP مریدوں کی ڈنڈے سے پٹائی کیا کرتے تھے ۔ میاں صاحب نے مار کھا کر نوے کے انتخات کا معرکہ مارا۔ حالانکہ جنرل اسد درانی نے نوے کے انتخابات میں دھاندلی کا بھانڈہ پھوڑ کر جرمنی کی سفارت حاصل کی تھی۔

بے نظیر بھٹو شہید نے جب دیکھا کہ دیوانہ بابا نے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ دلا دی ہے، 1993 کے انتخابات سے پہلے وہ بھی ان کے پاس پہنچ گیں اور کہا جاتا ہے کہ بابا جی سے لاٹھیاں کھائیں۔

نواز شریف نے بابا جی کے گاؤں کو بجلی فراہم کی جبکہ بی بی نے وہاں اپنی آمد و رفت جاری رکھنے کے لئے سڑک تعمیر کروائی۔

بے نظیر بھٹو اسلام آباد کے چک شہزاد میں ایک ملتانی بابا کے پاس جا کر ان کے قدموں میں بیٹھ جایا کرتی تھیں اور اقتدار کے حصول اور طوالت کے لئے دعا کرواتی تھیں۔ جبکہ لاہور کے بی بی پاک دامن کے دربار پر حاضری بھی ضرور دیا کرتی تھیں۔ پرویز مشرف بھی ایک ڈوگر صاحب سے جن کا اصل نام ذوالفقار ہے روحانی مشاورت کرتے تھے۔ جب ان پر خودکش حملے ہوے تو انہوں نے صدقے دینے کا مشورہ دیا۔

بے نظیر بھٹو جب پہلی حکومت میں واشنگٹن گئیں تو اس دوران بھی اپنے ساتھ ایک پیر کو لے کر گئی تھیں۔

بی بی کی شہادت کے بعد جب دو ہزار آٹھ میں آصف زرداری صدر بنے تو ایوان صدر میں گوجرانوالہ کے ایک پیر نے مستقل ڈیرہ ڈال لیا۔ پیر اعجاز ہر بیرونی دورے پر آصف زرداری کے ساتھ ہوتے تھے بلکہ وہ پہاڑوں سے دور رہنے اور سمندر کنارے رہنے کا مشورہ بھی دیا کرتے تھے خاص کر جب زرداری اور فوج میں میمو گیٹ پر ٹھن گئی تو مشکل سے نکلنے کے لئے پیر اعجاز نے انہیں پہاڑوں سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔

میں نے پیر اعجاز کو کئی بار اہم عہدوں پر فائز اعلیٰ افسروں اور وزیروں کو ہدایات دیتے ہوئے دیکھا۔

ہم اب اکیسویں صدی میں داخل ہو چکے ہیں پر ہمارے لیڈر آج بھی سترہویں صدی میں گھوم رہے ہیں۔ بجائے اس کے کہ عوام سے رابطہ مضبوط کریں وہ پیروں فقیروں اور مزاروں پر حا ضریاں دے کر اقتدار کے حصول میں لگے ہیں۔

Facebook Comments HS