جمیل نقش سے ایک ملاقات

کراچی اور نوے کی دہائی کے اوائل سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں جن کچھ بہت اچھی اور کچھ تلخ یا دیں ہیں، کیوں کہ نوے کے اوائل میں کراچی ایک بہت مشکل دور سے گزر رہا تھا۔ کراچی میں ہر طرف خوف کا عالم ہوا کرتا تھا کیو آن کہ لسانی جھگڑے عروج پر تھے اسنائپر فائرنگ عام تھی۔ رپورٹر کی حیثیت سے روز شام کو ایدھی کی ہیلپ لائن پر فون کیا کرتا تھا کہ آج شہر کی کیا صورتحال ہے، آگے سے جواب ملتا کہ سر آج کا اسکور دس رہا یا بارہ رہا۔ یعنی شہر میں دس یا بارہ افراد موت کی گھاٹ اتار دیے گئے۔لیکن انہی تلخ یادوں میں جو یاد گار اور ہمیشہ ذہن میں تازہ رہ جانے والی یادیں ہیں ان میں سر فہرست ممتاز مصور جمیل نقش سے ایک طویل ملاقات بھی شامل ہے جو ان کے گھر کراچی کے علاقے بلوچ کالونی میں ہوئے۔ میری ہی ٹی وی کے ساتھی اقبال جمیل جن کے نقش صاحب سگے خالو تھے ایک دن مجھے ان کے گھر لے گئے۔ گھر میں ان کے کمرے میں ہرطرف بڑی بڑی پینٹنگز آویزاں تھیں جن میں کیلیگرافی، فیگیوریٹو آرٹ، پرندوں خاص کر کبوتر۔ اور زندگی کو انہوں نے خوبصورتی سے کینوس پر اتارا ہوا تھا۔

Read more

بھارتی پائلٹ کی رہائی سے دبئی کی اسلامی کانفرنس تک

گزشتہ دو تین ہفتوں سے پاکستان سے لیکر بھارت تک خطے میں جنگی ماحول ہے۔ اس کا آغاز مقبوضہ کشمیر میں پلوامہ میں بھارتی فوج کے بڑے قافلے پر ایک خود کش حملے کے بعد سے ہوا جس میں چالیس بھارتی سیکورٹی اہلکار مار دیے گئے۔ یہ حملہ بھی بھارت کے قبضے میں کشمیر میں…

Read more

پولیس کیسے ٹھیک ہو؟

تقسیم ہند و پاک کے وقت اور ایک طویل عرصہ بعد تک پاکستان بھر میں چاہے وہ سندھ کی ہو یا پنجاب کی پولیس ، یا پھر خیبر پختون خواہ کی ہو یا بلوچستان کی پولیس رائج قوانین کو اختیار کیا کرتی تھیں. اور کوشش ہوتی تھی کہ جرم ختم ہو، مجرموں کی سرکوبی ہو،…

Read more

پیپلز پارٹی کا المیہ اور سندھ کی سیاست

سندھ کی سیاست میں ایک بار پھر سے ہلچل ہے، طوفان کی سی کیفیت ہے اور یہ بھی خبر گرم ہے کہ وہاں گورنر راج دستک دے رہا ہے، گو کہ تحریک انصاف کے وہاں گورنر اس بات کی تردید کر چکے ہیں کہ سندھ میں گورنر راج لگانے کا کوئی پلان نہیں۔ سندھ میں…

Read more

امریکا اور اس کی سیاہ فہرست

پورا ملک ابھی اس خبر کی خوشی سے سنبھلا ہی نہ تھا کہ ”امریکا، افغانستان میں امن کے قیام کے لئے پاکستان کی مدد چاہتا ہے“، اس کے صرف ایک ہفتے بعد ہی ایک دوسری خبر نے دھماکا کر ڈالا۔ یہ خبر بھی امریکا سے ملی۔ خبر کیا تھی کہ امریکا کو پاکستان میں اقلیتوں…

Read more

کرکٹ کے تین کھلاڑی اور امن کی خواہش

کرکٹ سے مقبولیت حاصل کرنے والے عمران خان کرکٹ میں کامیابی کے فوری بعد جب انیس سو بانوے میں وطن واپس آئے تو کسی کو یہ شائبہ بھی نہ تھا کہ وہ سیاست میں کود جائیں گے بلکہ انہوں نے اپنی وکٹری سپیچ میں صرف اپنے ماں کے نام پر شوکت خانم ہسپتال قائم کرنا اپنا مشن قرار دیا تھا جو انہوں نے حاصل کر کے دکھایا۔

سیاست کے بارے میں شاید اس وقت انہوں نے کبھی سوچا نہ تھا، ہاں انیس سو چھیانوے میں جب بینظیر بھٹو کی دوسری حکومت کے آخری دنوں میں نواز شریف کے دوبارہ حکومت سمبھالنے کے چرچے شروع ہوئے تو عمران خان بھی تحریک انصاف بنا کر سیاست میں کود پڑے۔ اور لوگوں کو انصاف، غربت کا خاتمہ، موروثی سیاست کو قبر میں دفنا دینے کا نعرہ بلند کیا اور میدان میں کود پڑے۔

ستانوے کے انتخابات جن میں سب کو پتہ تھا کہ میاں محمد نواز شریف کو بھاری میڈیٹ دے کر پھر سے حکومت حوالے کی جانی ہے، اور

Read more

حسین نقی اور انصاف کا دوہرا معیار

آج کل سوشل میڈیا ہو یا پھر ابلاغ کے دوسرے ذرائع، ایک ہی نام زیر گردش ہے اور وہ نام عظمت، عزت و استقامت کا نشان حسین نقی صاحب کا نام ہے۔ میڈیا سے وابستہ یا جمہوریت کے لئے جدوجہد کرنے والے، میڈیا کی آزادی، شہری اور بنیادی حقوق، سیاسی جماعتیں ہوں یا عوامی ادبی…

Read more

مہنگائی کا سونامی اور آئی ایم ایف کا رخ ۔۔۔۔

غضب کیا جو تیرے دعوے پر اعتبار کیا، جی ہاں غضب ہی تو ہے، کہ ووٹرز یہ سن کر کپتان عمران خان کے پیچھے چل پڑے کہ وہ بھیک کا کشکول ہمیشہ ہمیشہ کے لئے توڑ دیں گے، وہ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکل باہر کریں گے، وہ ملک کو ایسا ملک بنا…

Read more

صحافی بھی ہوئے غدار…

صحافت کے لئے ضیا الحق کے بعد گزشتہ پانچ سال بد ترین دور تھا اور اس میں، صحافت پر نت نئے انہونے طریقوں سے حملے کے گئے۔ کچھ حملے اندر سے یعنی صحافی نما کالی بھیڑوں سے جو ہر میڈیا ہاؤس میں پائی جاتی ہیں کی طرف سے کیے گیے۔ جبکہ کچھ قانون کے رکھوالوں…

Read more

یونیورسٹیاں اہم یا بنیادی تعلیم؟

نیا پاکستان کا نعرہ بلند ہوا اور ہماری پوری قوم نہیں تو آدھی نے لبیک کہا کہ چلو اب پرانے پاکستان سے دل اکتا گیا ہے، سو نیا پاکستان کا نعرہ بلند کرنے والوں کا ساتھ دیں۔ خیر یہ بھی اب دھندلا گیا ہے کہ عوام نے تبدیلی کا ساتھ دیا بھی یا نہیں، کیوں…

Read more